کالم۔

وزیر ڈیوڑھی کا دہن پھر بگڑا

wajahat masood

 1941 کی مردم شماری کے مطابق متحدہ صوبہ جات (یو پی) میں مسلم آبادی 15فیصد تھی لیکن تعلقہ داری پر مسلمان زمینداروں کی اجارہ داری تھی۔ انہیں جدید تجارت ، صنعت کاری سے تعلق نہیں تھا۔ ہندو ساہوکاروں نے اٹھارہویں صدی ہی میں سٹاک ایکسچینج ، بینک اور کارخانے قائم کر لیے تھے۔ مسلم اشرافیہ مشاعرے اور مجرے کے درمیان معلق تھی۔ چودھری خلیق الزمان دسمبر 1889 میں لکھنو کے زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے تعلیم پائی۔ 1937 تک کانگرس کا حصہ رہے۔ پھر مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1946 کے انتخابات میں دستور ساز اسمبلی کے رکن اور قائد حزب اختلاف منتخب ہوئے۔ 9 دسمبر 1946 کو ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرنے والے رہنماﺅں میں چوہدری خلیق الزمان بھی شامل تھے۔ قائداعظم نے چودھری خلیق الزمان کو ہندوستان میں بچ رہنے والے ساڑھے تین کروڑ مسلمانوں کی رہنمائی سونپی تھی لیکن چودھری صاحب چپکے سے کراچی آئے اور ایک آنہ فی گز کے بھاﺅ پر وسیع و عریض اراضی خرید کر ہندوستان واپس چلے گئے۔چودھری صاحب نے اپنی کتاب Pathway to Pakistan میں 7 اگست 1947 کو مسلمان سرکاری افسروں کے ساتھ قائداعظم کی ملاقات کے بارے میں چند کٹیلے جملے درج کیے جن کے ردعمل میں سید ریاض حسن نے ’پاکستان ناگزیر تھا‘ میں پورا باب باندھا۔ چودھری صاحب کا کلیدی ارشاد تھا کہ ’ہندوستانی مسلمانوں کو بھارتی حکومت سے وفاداری کی تلقین کر کے قائداعظم نے ہندوستان چھوڑنے سے پہلے ہی دو قومی نظریہ ترک کر دیا ‘۔ چوہدری صاحب کو ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار کی فکر نہیں تھی۔ ان کے ارادے کچھ اور تھے۔ وہ نومبر 1947 میں ایک چارٹر جہاز میں بیٹھ کر خاموشی سے کراچی چلے آئے۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ آپ کے منہ میں کے دانت ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔ مشرقی پاکستان کے گورنر بنے۔ انڈونیشیا میں سفیر رہے۔ کنونشن لیگ میں رونمائی دی۔ اس قیادت کو بعد ازاں ڈاک کے ٹکٹوں پر تحریک پاکستان میں رہنمائی کی سند عطا کی گئی۔ کراچی کا یہ زمانہ طالب نقوی اور ہاشم رضا کی ’انتظام کاری‘ سے عبارت ہے۔ پاکستان کی افسر شاہی پر تعلیم یافتہ مہاجرطبقے کی بالادستی 5جنوری 1964کو کراچی میں فرزند ایوب گوہر ایوب کی دراز دستی پر ختم ہوئی جب اردو بولنے والوں کو فاطمہ جناح کی حمایت کی سزا دی گئی، کمشنر کراچی روئیداد خان نے دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی تاہم فوجی اقتدار میں دفعہ 144 فرمان آمریت کے تابع ہوتی ہے۔ اردو بولنے والوں کو پہلی بار پاکستان میں اپنی بے بال و پری کا احساس ہوا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال ان دنوں پمز اسلام آباد کے سانحے پر تنقید کی زد میں ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق انہوں نے نوزائیدہ بچوں کے زندہ جل مرنے پر وزیراعظم کو استعفیٰ پیش کیا تھا جو بوجوہ مسترد ہو گیا۔ تاہم بعد ازاں مصطفی کمال نے ہسپتال میں مرنے والے ایک بچے کی ماں کی چیخ و پکار کو ڈرامہ قرار دیا اور صحافیوں سے بحث و تکرار کی۔ خواتین سے بدزبانی مصطفی کمال کی شخصیت کا خاصہ رہی ہے۔ کراچی کے میئر تھے تب بھی ہسپتال ہی میں ایک خاتون کے ساتھ زبان درازی کی تھی۔ پرویز مشرف کی شہ پر 12مئی 2007 کو کراچی میں چالیس لاشیں گرائی گئیں، صحافتی اداروں پر حملے کیے گئے تھے اور چھ وکیل اپنے چیمبروں میں زندہ جلا دیے گئے تو مصطفی کمال کراچی کے میئر تھے۔ بہاری مہاجر گھرانے میں پیدا ہونے والے مصطفی کمال نے نائن زیرو میں نچلے درجے کی خدمات سے سیاست شروع کی۔ تب ضیاالحق اور ان کے عالی دماغ رفقا پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی جیسی مضبوط آوازوں کو کمزور کرنے کے لیے ایم کیو ایم کی آبیاری کر رہے تھے۔ ایم کیو ایم نے کراچی میں بھتہ خوری ، اغوا برائے تاوان ، سرکاری زمینوں کی چائنہ کٹنگ اور بے وسیلہ شہریوں کی جائیدادوں پر زبردستی قبضے کی روایت قائم کی۔ مخالفین کو عقوبت خانوں میں قتل کر کے بند بوریوں میں سڑکوں پر پھینکنے کا سلسلہ شروع کیا۔ کراچی کے دس ہزار سے زائد شہری ایم کیو ایم کی منظم غنڈہ گردی کی نذر ہوئے۔

پاکستانی فوج کے میجر کلیم نے بھی 1991 میں ایم کیو ایم کے ہاتھوں اغوا اور تشدد کا تجربہ کیا۔ جون 1992میں لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر نے آپریشن کلین اپ شروع کیا تو چودھری نثار علی خان کی آہ و زاری تاریخ کا حصہ ہے۔ 1995 میں نصیراللہ بابر نے کارروائی کی تو ردعمل میں کراچی پولیس کے سینکڑوں اہلکار قتل کیے گئے۔ کراچی کی معیشت ڈوب گئی اور تیزی سے ترقی کرتا ساحلی شہر کچی بستی میں بدل گیا۔ مصطفی کمال مشرف آمریت میں صوبائی کابینہ کے رکن بنے تھے۔ اکتوبر 2005 سے 2010 تک کراچی کے میئر رہے۔ مصطفی کمال کے اپنے بیان کے مطابق کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے آصف زرداری نے رقوم فراہم کی تھیں۔ 2009 میں مصطفی کمال کے خلاف محمود آباد میں 82ایکڑ سرکاری زمین غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کا مقدمہ درج ہوا جس میں مصطفی کمال پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ثابت ہوا۔ 2013 کے انتخابات کے بعد الطاف حسین نے ایم کیو ایم کی کراچی قیادت سے جواب دہی چاہی تو مصطفی کمال بھی معتوب ٹھہرے۔ وہ اسی تنازع میں اگست 2013میں پاکستان چھوڑ کر دبئی گئے جہاں ملک ریاض (حال اشتہاری ملزم) کے کاروباری منصوبوں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ مارچ 2016 میں مصطفی کمال نے پاکستان آکر پاک سرزمین پارٹی کی بنیاد رکھی تو پراجیکٹ عمران کے خدوخال میں رنگ بھرا جا چکا تھا۔ تب پاکستان میں نادیدہ سیاسی سرپرستی کا پیمانہ ٹیلی ویژن سکرین پر پریس کانفرنس کا دورانیہ تھا۔ بیس برس تک الطاف حسین کے دست راست رہنے والے مصطفی کمال کو کبھی الطاف بھائی کی غداری نظر آئی اور نہ بھارتی ادارے ’را‘ سے گٹھ جوڑ کا علم ہوا۔ ستمبر 2012 میں کراچی کے بلدیہ ٹاﺅن کی ٹیکسٹائل فیکٹری میں آتش زنی سے 258 مزدور زندہ جل گئے۔ فروری 2015 میں رینجرز نے انکشاف کیا کہ بلدیہ ٹاﺅن فیکٹری کی آگ ایم کیو ایم کی بھتہ خوری کا شاخسانہ تھی۔ 2012 میں مصطفی کمال کراچی ہی میں تھے لیکن منقار زیر پر رہے۔ اگست 2016 میں ان پر اچانک انکشاف ہوا کہ الطاف حسین غدار وطن ہیں۔ نیز انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ اتحاد میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کی تصدیق بھی کی۔ اسلام آباد میں ایک غمزدہ ماں سے مصطفی کمال کی مبتذل گفتگو نہایت افسوس ناک ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ مصطفی کمال دہن بگڑنے کی روایت رکھتے ہیں۔ اس زمین کے زن و فرزند پر پاکستان بنانے والوں کی اولاد کی بدکلامی برداشت کرنا تاریخ کا قرض ہے۔گلے شکوے کی جا نہیں۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
عارف احمد
عارف احمد
7 hours ago

بھائی آپ کا صابن سلو ہوگیا ہے
حالیہ بڑے کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن حادثے میں ایم کیو ایم یا اسکے راہ نماؤں کا کوئی ہاتھ نہیں تھا
باقی کمال کی بدتمیزیاں اپنی جگہ 2009 میں کراچی پر متحدہ کے دشمن پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نازل ہوچکی تھی
کورٹ میں اپنے سائیں بیٹھے تھے
پھر مصطفی کدال کیا وجاہت مسعود پر 100 ایکڑ اراضی کا الزام ثابت ہوسکتا تھا
دلہن وہی جو پیا من بھائے

Last edited 7 hours ago by عارف احمد
خلیق سلطان
خلیق سلطان
2 hours ago

پمز ہسپتال کے سانحہ کے ذمہ داران میں اولین ذمہ دار تو ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو چلڈرن وارڈ کے انچارج اس وقت ڈیوٹی پر مامور سٹاف ہی ہیں ۔ چونکہ ہم نے کسی کو بھی سزا نہیں دینی ہوتی اس لئے وزیر اعظم وزیر صحت وغیرہ وغیرہ پر ذمہ داری ڈال دیتے ہیں مگر متعلقہ افراد اپنی جگہ پر موجود رہتے ہیں ۔

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW