پاکستان میں نئے صوبوں کا مسئلہ: سندھ کی ممکنہ تقسیم اور وفاق کے مستقبل کا سوال
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام پر بحث کوئی نیا موضوع نہیں ہے، لیکن حالیہ عرصے میں یہ سوال غیر معمولی سیاسی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ سندھ کو بھی دو یا دو سے زیادہ انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی تجاویز وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔ ان تجاویز کو سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر کبھی انتظامی اصلاحات، کبھی بہتر طرزِ حکمرانی، اور کبھی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے نام پر پیش کیا گیا ہے، لیکن خصوصاً سندھ کے حوالے سے یہ بحث محض انتظامی اصلاحات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے پاکستان کے وفاقی ڈھانچے، قومی سوال، آئینی معاہدے، صوبائی خودمختاری اور ریاستی طاقت کے مراکز کے کردار سے متعلق بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سندھ کے سیاسی، علمی اور سماجی حلقوں کا ایک بڑا حصہ ایسی تجاویز کو صرف انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ وفاقی معاہدے میں بنیادی مداخلت تصور کرتا ہے۔ ان کے نزدیک اگر کسی تاریخی صوبے کی جغرافیائی وحدت کو اس کے عوام کی واضح رضامندی کے بغیر تبدیل کیا گیا تو یہ نہ صرف آئین کی وفاقی روح کو کمزور کرے گا بلکہ پاکستان کی مختلف قومیتوں کے درمیان قائم سیاسی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچائے گا۔
اس بحث کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے واقعی وفاق مزید مضبوط ہو گا، یا اس کے برعکس قومی تضادات، سیاسی بے اعتمادی اور مرکز و صوبوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا؟ خصوصاً اگر سندھ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سیاسی، آئینی، معاشی اور قومی نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ کیا ایسا اقدام پاکستان کو زیادہ مستحکم بنائے گا یا پھر وفاق کے بنیادی فلسفے کو ہی کمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے؟
سندھ کے بارے میں موجود خدشات اس لیے بھی زیادہ حساس ہیں کہ پاکستان کا قیام کسی وحدانی (Unitary) ریاست کے طور پر نہیں، بلکہ مختلف تاریخی صوبوں، خطوں اور قومیتوں کی وفاقی شراکت کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔ 23 مارچ 1940 ء کی قراردادِ لاہور میں مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے خودمختار وفاقی اکائیوں کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ متعدد آئینی ماہرین اور سیاسی مؤرخین کی رائے ہے کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) اپنی تاریخی، جغرافیائی اور سیاسی شناخت برقرار رکھتے ہوئے پاکستان میں شامل ہوئے تھے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق ان صوبوں کی تاریخی وحدت وفاقی معاہدے کا بنیادی حصہ تھی، جسے کسی ایک فریق کی سیاسی خواہش یا محض انتظامی سہولت کی بنیاد پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کے قیام کے بعد سب سے بڑا آئینی بحران اُس وقت پیدا ہوا جب وفاقی اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے مرکزیت (Centralization) کو ترجیح دی گئی۔ 1955 ء کا ون یونٹ منصوبہ اس کی نمایاں مثال ہے، جس کے تحت مغربی پاکستان کے تمام صوبوں کو زبردستی ایک انتظامی اکائی میں ضم کر دیا گیا۔ اس تجربے نے نہ صرف چھوٹے صوبوں میں بے اعتمادی کو جنم دیا بلکہ بالآخر مشرقی پاکستان میں بھی وفاق کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھانے کا ایک اہم سبب بنا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ تجربہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وفاقی نوعیت کے مسائل کو انتظامی احکامات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے سیاسی اتفاقِ رائے کے ذریعے حل کرنا ہی ایک پائیدار اور موثر راستہ ہے۔
نئے صوبوں کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی، شہری آبادی میں اضافہ، انتظامی پیچیدگیاں اور ترقیاتی ضروریات چھوٹی انتظامی اکائیوں کے قیام کا تقاضا کرتی ہیں۔ دنیا کے متعدد وفاقی ممالک، جیسے ہندوستان، نائجیریا، ایتھوپیا اور دیگر ریاستوں میں وقتاً فوقتاً نئے صوبے یا ریاستیں قائم کی گئی ہیں۔ یہ دلیل بظاہر معقول معلوم ہوتی ہے، لیکن پاکستان کے مخصوص تاریخی، قومی اور سیاسی حالات کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف انتظامی بنیادوں پر ایسی پالیسی اختیار کرنا مسئلے کا مکمل حل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں صوبے محض انتظامی اکائیاں یا جغرافیائی حد بندیاں نہیں، بلکہ تاریخی قومیتوں، زبانوں، ثقافتوں اور سیاسی شناختوں کے نمائندہ بھی ہیں۔ اس لیے اگر انتظامی کارکردگی کے نام پر قومی شناخت کو کمزور کیا گیا تو ایسا اقدام وفاق کے لیے فائدہ مند ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
سندھ کو تقسیم کرنے کے بارے میں سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ ایسے اقدام سے سندھ کے عوام میں محرومی، بے اعتمادی اور سیاسی عدمِ تحفظ کے احساسات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ وفاقی نظام کا استحکام صرف آئینی اختیارات پر منحصر نہیں ہوتا، بلکہ رضاکارانہ سیاسی شراکت، باہمی اعتماد اور انصاف پر بھی قائم ہوتا ہے۔ جب کسی وفاقی اکائی کو یہ محسوس ہو کہ اس کی تاریخی حیثیت، وسائل یا آئینی اختیارات سے متعلق فیصلے اس کی سیاسی مرضی کے بغیر کیے جا رہے ہیں، تو وفاقی تعلقات میں دراڑیں پیدا ہونا ایک فطری امر بن جاتا ہے۔ سندھ کے حوالے سے ایک اور اہم پہلو معاشی نوعیت کا ہے۔ پاکستان کی سمندری تجارت، بندرگاہیں، قدرتی گیس، کوئلہ، توانائی کے منصوبے، صنعتی مراکز اور قومی محصولات (National Revenue) کا ایک بڑا حصہ سندھ سے وابستہ ہے۔ ایسی صورتِ حال میں اگر صوبے کی تقسیم سیاسی تنازع کے ماحول میں کی گئی، تو وسائل کی تقسیم، پانی کے حقوق، بندرگاہوں کے انتظام، قدرتی وسائل کی ملکیت، این ایف سی ایوارڈ، شہری و دیہی نمائندگی اور انتظامی اختیارات جیسے معاملات پر نئے اور زیادہ پیچیدہ تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ یہ تنازعات صرف سندھ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے وفاقی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس بحث کا ایک اور نہایت اہم پہلو پاکستان میں ریاستی طاقت کے ڈھانچے سے متعلق ہے۔ متعدد سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں مرکزی ریاستی اداروں نے ہمیشہ مضبوط وفاق کے بجائے مضبوط مرکز کو ترجیح دی ہے۔ ان کے مطابق، جب بھی صوبائی خودمختاری میں وسعت آنے لگتی ہے تو کسی نہ کسی صورت میں انتظامی یا سیاسی مرکزیت کو دوبارہ فروغ دینے کی کوششیں سامنے آتی ہیں۔ اسی تناظر میں بعض سیاسی تجزیہ نگار نئے صوبوں کے بارے میں جاری بحث کو بھی ریاستی طاقت کے مرکزی ڈھانچے سے جوڑتے ہیں۔ عائشہ صدیقہ نے اپنی معروف کتاب Military Inc۔ : Inside Pakistan ’s Military Economy میں یہ استدلال پیش کیا ہے کہ پاکستان میں فوج محض ایک دفاعی ادارہ نہیں رہی، بلکہ وقت کے ساتھ ایک ایسے بڑے معاشی ادارے کی صورت اختیار کر چکی ہے جس کے مفادات زمین، صنعت، ہاؤسنگ، تجارت اور معیشت کے متعدد دیگر شعبوں تک پھیل چکے ہیں۔ بعض سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ اگر انتظامی اکائیوں کی تعداد میں اضافہ ہو اور سیاسی قوت مزید منتشر ہو جائے، تو غیر سول مرکزی اداروں کے لیے اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اسی نقطۂ نظر کی بنیاد پر بعض حلقے یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ پاکستان میں نئے صوبوں کا مسئلہ اسی وسیع تر سیاسی حکمتِ عملی کے تحت ابھارا گیا ہے۔
تنقیدی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ ملک کے تقریباً ہر آئینی بحران کو انتظامی یا سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھا گیا، حالانکہ ان بحرانوں کی بنیاد میں سیاسی نمائندگی، وفاقی انصاف اور قومی اعتماد سے متعلق بنیادی سوالات موجود تھے۔ بنگلہ دیش کا قیام، بلوچستان میں بار بار جنم لینے والے بحران، ون یونٹ کی ناکامی، اور بالآخر اٹھارہویں آئینی ترمیم تک پہنچنے والی طویل جدوجہد اس حقیقت کے واضح شواہد ہیں کہ وفاق طاقت کے زور پر نہیں، بلکہ سیاسی مساوات، صوبائی احترام اور آئینی اعتماد کی بنیاد پر ہی مستحکم رہ سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں اگر سندھ کو تقسیم کرنے کی کوئی بھی کوشش سیاسی اتفاقِ رائے، عوامی رضامندی اور وفاقی مفاہمت کے بغیر کی جاتی ہے، تو وہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں رہے گی، بلکہ پاکستان کے وفاقی فلسفے سے متعلق ایک بنیادی سیاسی بحران کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ ایسا اقدام چھوٹے صوبوں میں اس تاثر کو مزید تقویت دے سکتا ہے کہ وفاق ان کی تاریخی حیثیت، قومی شناخت اور آئینی حقوق کو مستقل اور محفوظ تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہے۔ اس نوعیت کی بے اعتمادی طویل المدت تناظر میں وفاق کے لیے ان خطرات سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے جنہیں ختم کرنے کے نام پر اس قسم کی تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔
لہٰذا پاکستان کے استحکام، قومی یکجہتی اور وفاقی مستقبل کا تقاضا یہ ہے کہ نئے صوبوں کے بارے میں کسی بھی بحث کو محض انتظامی سہولت کے محدود دائرے میں نہ دیکھا جائے، بلکہ اسے آئین، وفاقیت، قومی سوال، تاریخی حقائق اور جمہوری رضامندی کے وسیع تناظر میں پرکھا جائے۔ اگر ریاست واقعی وفاق کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تو اس کا راستہ تاریخی صوبوں، جو مختلف قومیتوں کے تاریخی وطن بھی ہیں، کو کمزور کرنے سے نہیں، بلکہ 1973 ء کے آئین کی وفاقی روح، اٹھارہویں آئینی ترمیم، صوبائی خودمختاری، مضبوط مقامی حکومتوں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر مکمل اور موثر عمل درآمد سے ہو کر گزرتا ہے۔ ایک مضبوط وفاق ہمیشہ مضبوط صوبوں کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے، نہ کہ کمزور صوبوں کے ذریعے۔
