بلاگ

گمشدہ کارڈ

Dr Ch Abrar Majid

میں جب بھی اپنے قومی شناختی کارڈ کو دیکھتا ہوں تو مجھے حیرت بھی ہوتی ہے اور ندامت بھی۔ ہمارے شناختی کارڈ کی پشت کا تقریباً آدھا حصہ ایک جملے کی مستقل ملکیت بن چکا ہے : ”گمشدہ کارڈ ملنے پر قریبی لیٹر باکس میں ڈال دیں“ ۔ حالانکہ اب وہ لیٹر باکس ہی ختم ہو چکے ہیں۔ ان کے خاتمے میں اگرچہ جدید ٹیکنالوجی کا کردار ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ وہ اس سے بھی پہلے ختم ہو چکے تھے اور ان کی جگہ پرائیویٹ کورئیر کمپنیوں نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر سنبھال لی تھی، جس کی بنیادی وجہ ڈاکخانے کے نظام کی نا اہلی تھی۔

آج نادرا کے پاس اتنا ڈیٹا موجود ہے کہ اس پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، مگر اسے ایک بارکوڈ کے پیچھے چھپا کر عوام سے مخفی بنا دیا گیا ہے۔ تاہم باخبر لوگ جانتے ہیں کہ ہماری شناخت کس حد تک محفوظ یا قابلِ استعمال بن چکی ہے۔ ویسے گزارش یہ بھی تھی کہ اگر اس ڈیٹا میں سے کچھ معلومات (مثلاً بلڈ گروپ وغیرہ) کارڈ پر ظاہر کر دی جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اور اگر اس حصے کو اپنے بڑوں کے تخیلات کے لیے ہی محفوظ رکھنا ہے، تو اس پر بابائے قوم کے زریں ارشادات۔ اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط۔ ہی درج کر دیے جائیں۔

اگر ہم اس علامتی فرمانبرداری کو قائم ہی رکھنا چاہتے ہیں، تو عالمی سطح پر اس کی ترویج کر کے بے حسی کے مقابلوں میں کوئی ایوارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے یا گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں اس ’کارِ عجب‘ کا اندراج کروایا جا سکتا ہے۔ دوسرے زاویے سے سوچیں تو اس کا مثبت امیج یوں عام کیا جا سکتا ہے کہ ہم اپنے شناختی کارڈ کے بارے میں اتنے محتاط ہیں کہ اس پر ایمرجنسی کی صورت میں ہدایت درج کر رکھی ہے۔ امید ہے دنیا کے دانشور بھی ہماری اس سوچ پر حیران رہ جائیں گے۔

اگر پچھلے اناسی ( 79 ) سالوں سے جاری اس گردان کا جائزہ لیں، تو اب اس سے ہمارا قومی تشخص بھی مسخ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم کس قدر ایماندار اور فرض شناس ہیں کہ اگر راستے میں کسی کا شناختی کارڈ مل جائے تو اس کا کیا کرنا ہے۔ ہماری اس فرض شناسی کی گواہی عدالتوں میں روزانہ کی بنیاد پر جعل سازی کے مقدمات اور تھانوں میں درج رپورٹوں سے لگائی جا سکتی ہے۔ اسی لیے ہمیں ہدایت کی جاتی ہے کہ شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی دیتے وقت اس پر استعمال کا مقصد کراس لائنوں کے درمیان درج کریں۔

مگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی ہم فوٹو کاپیوں کے استعمال سے جان نہیں چھڑا سکے، کیونکہ ہماری گھٹی میں دستاویزات کی تصدیق (اٹیسٹیشن) اور فوٹو کاپیاں کروا کر کلرک شاہی کا نظام چلانے کی عادت شامل ہے۔ اگر ہم یہ عادت چھوڑ دیں گے تو مسائل پیدا کرنے کی ہماری قومی نفسیات کا اظہار کیسے ہو گا؟

ویسے کارڈ کی گمشدگی کی صورت میں تو نادرا کو خوش ہونا چاہیے، کیونکہ اب صرف ترمیم کی فیس 2500 روپے ہو چکی ہے۔ دوسری طرف کارڈ کی گمشدگی پر پولیس رپورٹ کا طریقہ کار تھانیداروں کی جیبیں گرم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے، جس کے اعداد و شمار کا اندازہ لگانا پولیس کی ’نیک نامی‘ کو عام کرنے کے مترادف ہو گا۔

نادرا نے اب ’پاک آئی ڈی‘ (Pak ID) کے نام سے ایک موبائل ایپ بھی بنا دی ہے اور ان کی ویب سائٹ پر ہدایات درج ہیں : ”اگر آپ کا یا کسی جاننے والے کا کارڈ گم ہو گیا ہے، تو اب لیٹر باکس کے بھروسے بیٹھنے کے بجائے نادرا کی Pak ID موبائل ایپ کے ذریعے آن لائن ری پرنٹ کی درخواست دیں۔“ نادرا کے مطابق اس کی نارمل فیس 400، ارجنٹ 1100 اور ایگزیکٹو 2150 روپے ہے۔

چاہیے تو یہ تھا کہ کارڈ پر لیٹر باکس والی روایتی ہدایت درج کرنے کے بجائے یہی مفید معلومات فراہم کر دی جاتیں، جسے نادرا والے خود بھی اب بے فائدہ اور فضول سمجھتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، روزانہ آنے والی لاکھوں درخواستوں میں سے 15 سے 20 فیصد دوبارہ اجرا (Re۔ issue) کی ہوتی ہیں، جن میں بڑی تعداد گمشدہ کارڈز کی ہی ہوتی ہے۔

آخر میں، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر میرے محسوسات غلط ہیں تو اس فقرے کی حکمت سے مجھے بھی باخبر کر دیا جائے، اور اگر صاحبِ اختیار کے ذہنوں میں بھی اس کی کوئی حکمت موجود نہیں، تو اس پر غور ضرور کیا جائے۔ یہ ہماری ایک قومی شناخت ہے، اسے دیکھ کر عالمی سطح پر کیا تاثر ابھرتا ہو گا؟

نادرا یوں تو اپنے نظام کے دنیا کا بہترین نظام ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر حال یہ ہے کہ کارڈ پر معلومات کی بھر مار کے باوجود گمشدگی کا داغ ختم نہیں کر سکا، جو ہمارے قومی شعور کی گمشدگی کا پتا دیتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کا جدید ترین نظام بھی نافذ کر لیا جائے، جب تک قومیں شعوری طور پر تیار نہ ہوں، کوئی نظام شناخت نہیں بدل سکتا۔ نظام ہمیشہ شعور، نظم و ضبط اور اعلیٰ اخلاقیات رکھنے والی اقوام کو فائدہ دیتے ہیں، محض نظام کی تبدیلی کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو نہیں۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW