کالم۔

مصنوعی ذہانت کے دور میں مذہب کا مستقبل

ali ahmad jan

پچھلے کالم کا اختتام ایک سوال پر ہوا تھا جو دراصل کسی سادہ جواب کا محتاج نہیں : اگر ہر فرد اپنی ذات کا خود مختار راہنما بن جائے تو منظم مذہبی اجتماعیت کس سراب کا نام رہ جائے گی؟ یہ سوال، غور کیا جائے تو، عقیدے کے مابعد الطبیعیاتی دعوؤں سے کم اور اُس سماجی عمارت سے زیادہ متعلق ہے جسے انسان نے صدیوں کی محنت سے اپنے گرد تعمیر کیا، ایک ایسی عمارت جو برادری، اخلاقی ضابطے، اور معنویت کی تلاش جیسی نفسیاتی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرتی رہی۔ آج جب مصنوعی ذہانت، ورچوئل رئیلٹی اور الگورتھم کی مثلث ہمارے عہد پر سایہ فگن ہے، تو یہ عمارت اپنی بنیادوں سے ہلتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ سطور اسی ہلچل کا ایک غیر جانبدار خاکہ کھینچنے کی کاوش ہیں، نہ مذہب کی وکالت میں اور نہ اس کی تردید میں، بلکہ محض ایک سماجی مظہر کے تجزیے کے طور پر۔

سب سے پہلی اور شاید سب سے چونکا دینے والی تبدیلی مصنوعی ذہانت کی اُس خاموش مداخلت میں پنہاں ہے جو اب مذہبی رہنمائی کے روایتی دائرے میں سرایت کر چکی ہے۔ آج ایسے چیٹ بوٹس دستیاب ہیں جو آنکھ جھپکتے ہی قرآن، حدیث، بائبل یا گیتا کا حوالہ پیش کر دیتے ہیں ؛ کچھ ایپس نے تو باقاعدہ ”اے آئی مفتی“ اور ”ڈیجیٹل پادری“ جیسے کردار تراش لیے ہیں۔ ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں لوگ نکاح، طلاق، وراثت، یا کسی اور فقہی مسئلے کی تحقیق کے لیے کسی زندہ عالم کے دروازے کی بجائے اپنی ہتھیلی میں دبے الگورتھم سے رجوع کریں۔ یہ سہولت، خاص طور پر دور دراز بستیوں کے مکینوں کے لیے، ایک عملی نعمت ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر اس نعمت کے دامن میں ایک بنیادی سوال بھی پوشیدہ ہے : مصنوعی ذہانت کسی جیتی جاگتی روایت کا حصہ نہیں، نہ کسی برادری کی جواب دہی کی پابند ہے، وہ محض اعداد و شمار کے انبار سے جواب کشید کرتی ہے۔ جب مذہبی پیشوائی ایسے وجود سے ملنے لگے جس کا کوئی سماجی تعلق، کوئی جواب دہی نہ ہو، تو وہ اجتماعی ضابطہ جو مذہب صدیوں سے فراہم کرتا رہا، کس زمین پر قائم رہے گا؟

دوسری تبدیلی ورچوئل رئیلٹی اور میٹاورس کے روپ میں نمودار ہو رہی ہے۔ کورونا کی وبا نے دنیا کو پہلی بار وہ منظر دکھایا جب نمازِ جمعہ، اتوار کی عبادت اور ستسنگ، سب اسکرینوں کے پار منتقل ہو گئے۔ یہ ایک اضطراری اقدام تھا، مگر جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، ہنگامی تدابیر خاموشی سے مستقل رجحانات کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ اب کچھ ادارے مستقل طور پر ورچوئل عبادت گاہیں متعارف کروا رہے ہیں، ایسی فضائیں جہاں دنیا کے کونے کونے سے لوگ اپنے ڈیجیٹل پیکر کے ذریعے صف بستہ ہو سکیں، یا کسی مجازی معبد میں گھنٹی کی جھنکار سن سکیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک ڈیجیٹل ہیولے کا دوسرے ڈیجیٹل ہیولے سے جڑنا، وہی سماجی تعلق اور اجتماعی یگانگت پیدا کر سکتا ہے جو خونِ گرم رکھنے والے اجسام کی حقیقی موجودگی سے پھوٹتی ہے؟ تحقیق بتاتی ہے کہ آمنے سامنے کی برادری کے کچھ نفسیاتی ثمرات آسانی سے نقل پذیر نہیں ہو سکتے، مگر جو نسل گہوارے ہی سے آن لائن دنیا کی گود میں پروان چڑھی ہے، اس کے لیے شاید یہ سرحد اتنی نمایاں نہ رہے۔

تیسری تبدیلی الگورتھم کی مزید گہری اور مکارانہ گرفت ہے۔ آج بھی الگورتھم ہی طے کرتا ہے کہ کون سا مواد ہماری نگاہ کے سامنے آئے، مگر مستقبل میں یہ گرفت مزید ذاتی، مزید خفیہ اور مزید مہلک ہو جائے گی۔ یہ ہماری نفسیات کی نبض پر ہاتھ رکھ کر، ہمارے خدشات اور کمزوریوں کو بھانپ کر، ہمیں وہی مذہبی مواد دکھائے گا جو ہمیں دیر تک اسکرین کی اسیری میں جکڑے رکھے، چاہے وہ متوازن یا مستند ہو یا نہ ہو۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہر فرد اپنے مخصوص ”عقیدتی حباب“ میں مقید ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں ایک ہی عمومی عقیدے کے دو ماننے والوں کے تجربات اس قدر مختلف ہوں گے کہ ان کے مابین مکالمہ ایک ناممکن خواب بن جائے۔ انتہا پسندی، جو آج بھی الگورتھم کی دستِ نگر ہے، مستقبل میں مزید فروغ پائے گی، کیونکہ متنازع اور مشتعل کرنے والا مواد ہمیشہ زیادہ توجہ کا سامان بنتا ہے۔ یہ کسی عقیدے کی داخلی خرابی نہیں بلکہ ایک ٹیکنالوجی کے ڈیزائن کا نتیجہ ہے، جو کسی بھی نظریے، مذہبی ہو یا سیاسی، پر یکساں طور پر اثرانداز ہوتا ہے۔

چوتھی تبدیلی ایک متضاد اور دلچسپ رجحان کی صورت میں سر اٹھا رہی ہے۔ مشاہدہ بتاتا ہے کہ سوشل میڈیا کے شور و غوغا سے تھکے ہوئے بعض نوجوان، دانستہ طور پر روایتی، سست رفتار اور اجتماعی مذہبی سرگرمیوں کی سمت لوٹ رہے ہیں۔ یہ رجحان ضروری نہیں کہ عقیدے کی صداقت کا اظہار ہو، اسے سماجی نفسیات کے اس اصول سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ انسان کو تعلق، رسم اور برادری کی طلب رہتی ہے، خواہ اس کا سرچشمہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی۔ مغرب میں راہب خانوں کی طرف نوجوانوں کا بڑھتا میلان، مشرق میں صوفی مجالس کی رونق، اور دنیا بھر میں ”ڈیجیٹل دیٹوکس“ کے سلسلوں کی مقبولیت، اسی بنیادی طلب کی مختلف صورتیں ہیں۔ یہ ایک عجیب و غریب تضاد ہے : جس ٹیکنالوجی نے مذہبی تجربے کو سطحی اور تیز رفتار بنایا، وہی اب لوگوں کو گہرائی اور خاموشی کی جستجو پر مجبور کر رہی ہے۔

پانچویں تبدیلی مذہبی اداروں کے ڈھانچے میں رونما ہوگی۔ روایتی سلسلہ مراتب، مفتی، پادری، پنڈت، ربی، کا اثر و رسوخ مزید کمزور تو ہو گا، مگر مکمل انہدام سے بچ جائے گا۔ اس کی جگہ ایک نیا طبقہ جنم لے چکا ہے : ”مائیکرو انفلوئنسرز آف فیتھ“ ، ایسے افراد جن کے پاس کوئی روایتی سند نہیں مگر جو کسی مخصوص موضوع، مثلاً نوجوانوں کی ذہنی صحت اور دین، یا صنفی مساوات اور مذہب، پر چند ہزار پرجوش پیروکاروں کا حلقہ رکھتے ہیں۔ مذہبی اختیار، جو کبھی ایک مرکز کے گرد گھومتا تھا، اب بکھر کر ہزاروں چھوٹے چھوٹے دائروں میں تقسیم ہو رہا ہے۔ یہ منظرنامہ کسی کے لیے آزادی کی نوید ہے تو کسی کے لیے سماجی ہم آہنگی کے زوال کا پیش خیمہ۔

چھٹی تبدیلی نسلی تفاوت کی صورت میں نمایاں ہوگی۔ جو نسل مکمل طور پر ڈیجیٹل فضا میں آنکھ کھولتی ہے، جسے کچھ لوگ ”جنریشن الفا“ کا نام دیتے ہیں، اُس کے لیے مذہب اور ٹیکنالوجی کے مابین کوئی خط امتیاز باقی نہیں رہے گا۔ کسی زندہ عالم کی رائے اور کسی مصنوعی ذہانت کی رائے میں فرق شاید اُس کے نزدیک اتنا اہم نہ رہے جتنا پرانی نسل کے لیے تھا۔ یہ نسل مذہب کو ایک قسم کے ”مواد“ کے طور پر دیکھے گی، قابلِ ترمیم، قابلِ اشتراک، اور ذاتی مزاج کے سانچے میں ڈھالنے کے قابل۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان میں معنویت کی تلاش مفقود ہوگی، بلکہ یہ کہ اس تلاش کی ہیئت پہلے سے یکسر مختلف ہوگی، زیادہ ذاتی، زیادہ منتخب، اور کم ادارہ جاتی۔

ساتویں اور شاید سب سے بنیادی تبدیلی یہ ہوگی کہ ”مستند معلومات“ اور ”مقبول رائے“ کے مابین دھندلی ہوتی سرحد کو دوبارہ متعین کرنے کی سعی شروع ہو جائے گی۔ جس طرح انیسویں صدی میں پرنٹنگ پریس کے سیلاب کے بعد کاپی رائٹ اور تصدیق شدہ اشاعت کے نظام وجود میں آئے، اسی طرح آنے والے برسوں میں مذہبی اور غیر مذہبی دونوں طرح کے ادارے ایک نیا نظام تشکیل دینے پر مجبور ہوں گے جو ڈیجیٹل دنیا میں ”مستند“ اور ”غیر مستند“ کے مابین ایک واضح لکیر کھینچ سکے۔ تصدیق شدہ فتویٰ ایپس، سند یافتہ علماء کے ڈیجیٹل بیج، اور مستند تراجم کے ڈیٹا بیس، یہ سب اسی سست مگر ناگزیر سفر کے ابتدائی نقوش ہیں۔

تو پھر مذہب کا مستقبل کس صورت میں طلوع ہو گا؟ غالب گمان یہی ہے کہ ایک ہی وقت میں تین دھارے بیک وقت بہیں گے۔ ایک دھارا مکمل طور پر ڈیجیٹل، الگورتھم زدہ اور ذاتی نوعیت کا ہو گا، جو ہر صارف کے مزاج کے مطابق اپنی شکل بدلتا رہے گا۔ دوسرا دھارا مزاحمت کی علامت بنے گا، وہ لوگ جو دانستہ ٹیکنالوجی سے کنارہ کش ہو کر روایتی، اجتماعی اور سست رفتار عبادت کی آغوش میں لوٹیں گے۔ اور تیسرا، ایک درمیانی راہ ہوگی، وہ ادارے اور افراد جو ٹیکنالوجی کو رد کیے بغیر اسے سوچ سمجھ کر بروئے کار لائیں گے، بالکل اُسی طرح جیسے آج بعض علماء یوٹیوب کے میدان میں سطحی مقبولیت کی دوڑ سے بے نیاز رہ کر تفصیلی تعلیم دے رہے ہیں۔

ایک بات مگر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے : ایک ہی عقیدے کے ماننے والوں میں تنوع کی یہ خلیج مزید گہری ہوتی جائے گی۔ جو لوگ الگورتھم کے سیلاب میں بہہ نکلیں گے، وہ اُن سے قطعی مختلف ہوں گے جو مزاحمت کی دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں گے، اور یہ دونوں اُن سے بھی جدا ہوں گے جو اس ٹیکنالوجی کو سوچ سمجھ کر بروئے کار لائیں گے۔ جس طرح مصنوعی ذہانت کے بعد سماجی زندگی کے بیشتر شعبے پہلے جیسے نہیں رہیں گے، اسی طرح مذہب بھی، بطور سماجی ادارہ، اپنی سابقہ ہیئت میں باقی نہیں رہے گا۔ ہم سب اسی عظیم تبدیلی کے دہانے پر کھڑے ہیں، اور فی الحال صرف اندازوں سے تیر چلا رہے ہیں۔

پرنٹنگ پریس کے پانچ سو برس بعد مذہبی اداروں نے اپنا مرکزی اختیار تو گنوایا، مگر بطور سماجی مظہر مذہب معدوم نہیں ہوا۔ شاید سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے طوفان کے بعد بھی یہی نمونہ دہرایا جائے گا، مرکزیت کا خاتمہ، یکسانیت کا خاتمہ، مگر ایک سماجی ادارے کے طور پر مذہب کا کسی نہ کسی شکل میں زندہ رہنا۔ اس کا سبب کوئی مابعد الطبیعیاتی حقیقت نہیں بلکہ وہ نفسیاتی اور سماجی تشنگی ہے جو انسانوں میں معنی، برادری اور تسلسل کی تلاش کی صورت میں صدیوں سے موجود رہی ہے، اور جسے تاریخ میں مذہب نے ایک منظم ڈھانچہ فراہم کیا۔ ٹیکنالوجی وسیلہ بدل سکتی ہے، رفتار بدل سکتی ہے، مگر انسان کے باطن میں موجود وہ خلا، جسے مذہب صدیوں سے پُر کرنے کی سعی کرتا رہا، شاید اتنی آسانی سے معدوم نہ ہو۔

آخری بات یہ کہ مستقبل کا اصل امتحان ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسان کا انتخاب ہو گا۔ ٹیکنالوجی بجائے خود نہ نیک ہے نہ بد، محض ایک زبردست آلہ ہے۔ یہ فیصلہ ہمیشہ انسان کی دہلیز پر آ کر رکے گا کہ وہ اس آلے کو تعمیری سماجی مقاصد کی خدمت میں لگائے یا تقسیم اور انتہا پسندی کو ہوا دینے دے۔ آنے والی چند دہائیاں یہی طے کریں گی کہ یہ فیصلہ کس دانش اور کس بصیرت سے کیا گیا۔

Facebook Comments Box

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW