حنا جاوید کا قتل ایک اور خبر، ایک اور عدد؟

حنا جاوید کا قتل کسی ایک واقعے یا فرد کے عمل تک محدود نہیں ؛ یہ خواتین کے خلاف جاری صنفی تشدد کا حصہ ہے جس کی جڑیں ہمارے پدرشاہانہ سماجی ڈھانچے میں پیوست ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم عورتوں کے قتل کو محض الگ الگ فوجداری مقدمات کے طور پر دیکھنے کے بجائے انہیں فیمیسائڈ، عورت دشمنی اور صنفی طاقت کے وسیع تر تناظر میں سمجھیں۔ ہم عموماً ایسے واقعات کے بعد ایک ہی سوال پوچھتے ہیں : قاتل کون ہے؟ یہ سوال ضروری ہے، لیکن کافی نہیں۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا ہو گا کہ عورت کو کنٹرول کرنے، اس کی مرضی کو مسترد کرنے اور اس کی جان لینے کا تصور کہاں سے آتا ہے ؛ تشدد کے ابتدائی اشاروں کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے ؛ اور وہ سماجی و ریاستی ڈھانچے کہاں ہیں جو عورت کو تحفظ فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ راولپنڈی میں حنا جاوید کا بہیمانہ قتل بھی انہیں سوالات کی نشاندہی کرتا ہے۔ حنا اپنے گھر میں مردہ پائی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور گردن کے گرد تار لپٹی ہوئی تھی۔ پولیس نے ان کے شوہر اور ایک گھریلو ملازم کو حراست میں لیا ہے، جبکہ تفتیش جاری ہے تاہم، اس مقدمے کی قانونی تفصیلات سے آگے ایک حقیقت ہمیں نظر انداز نہیں کرنی چاہیے : عورت کے لیے خطرہ صرف باہر کی دنیا نہیں ؛ بعض اوقات وہ اسی جگہ موجود ہوتا ہے جسے معاشرہ اس کی محفوظ پناہ گاہ سمجھتا ہے۔
بچوں کے تحفظ، خصوصاً جنسی تشدد کے خلاف کام کرنے والی ایک معروف تنظیم ساحل کی سالانہ رپورٹ خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کی سنگینی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، ساحل کے مطابق 2024 میں جنوری سے نومبر تک 81 قومی اور علاقائی اخبارات کی نگرانی کے دوران خواتین کے خلاف تشدد کے 5,253 رپورٹ شدہ واقعات سامنے آئے۔ ان میں 1,373 قتل، 954 اغوا، 685 تشدد اور 611 ریپ کے واقعات شامل تھے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں ؛ یہ ان واقعات کا دستاویزی ثبوت ہیں جو ہمارے معاشرے میں مسلسل رونما ہو رہے ہیں۔ اور چونکہ بہت سے واقعات سماجی دباؤ، بدنامی کے خوف، خاندانی مداخلت یا انصاف تک محدود رسائی کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہوتے، اس لیے دستیاب اعداد و شمار کو مسئلے کی مکمل تصویر نہیں سمجھنا چاہیے۔
اسی تناظر میں فیمیسائڈ کا تصور محض ”قتل“ کی قانونی اصطلاح سے آگے بڑھ کر اس تشدد کی صنفی نوعیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ بعض اوقات خواتین کو صرف عورت ہونے کی بنیاد پر، پدرشاہی توقعات سے انحراف کرنے یا کسی مرد کے اختیار کو چیلنج کرنے کے نتیجے میں انتہائی تشدد یا موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے پیچھے عورت دشمنی کا وہ رویہ ہو سکتا ہے جو عورت کو کمتر، تابع یا مرد کی ملکیت سمجھتا ہے۔ یہ ذہنیت ہمیشہ کھلے ہوئے نفرت انگیز الفاظ میں ظاہر نہیں ہوتی۔ کبھی یہ ”غیرت“ کے نام پر سامنے آتی ہے، کبھی شوہر کے ”حق“ کے طور پر، کبھی خاندان کی عزت کے تحفظ کے نام پر، اور کبھی عورت کے اپنے فیصلے کو اس کی ”غلطی“ قرار دے کر۔
مسلسل نگرانی، دھمکیاں، مالی پابندیاں، عورت کو دوستوں اور خاندان سے الگ کرنا، اس کے فون اور نقل و حرکت پر کنٹرول، اس کی ملازمت یا لباس پر فیصلے مسلط کرنا یہ سب محض گھریلو اختلافات نہیں۔ یہ طاقت اور کنٹرول کے ایسے رویے ہیں جو وقت کے ساتھ شدید تشدد کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ معاشرہ ان رویوں کو اکثر محبت، فکر، غیرت یا شوہر کے اختیار کے طور پر قبول کر لیتا ہے۔ جب کنٹرول کو معمول سمجھ لیا جائے تو تشدد کے لیے راستہ پہلے ہی ہموار ہو چکا ہوتا ہے۔ اسی لیے پدرشاہی کو صرف اس وقت چیلنج کرنا کافی نہیں جب عورت پر ہاتھ اٹھایا جائے یا اس کی جان لے لی جائے۔ ہمیں ان سماجی رویوں کو بھی چیلنج کرنا ہو گا جو مرد کو اختیار اور عورت کو اطاعت کی تربیت دیتے ہیں۔ یوں مسئلہ صرف یہ نہیں رہتا کہ ایک فرد نے جرم کیا؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایک سماجی نظام عورت پر اختیار کو کس طرح جائز قرار دیتا ہے
صنفی تشدد کے حالیہ واقعات اس تصور کی نفی کرتے ہیں کہ خواتین کے خلاف تشدد صرف غریب، غیر تعلیم یافتہ یا دیہی خاندانوں میں ہوتا ہے۔ عورتیں ہر طبقے میں قتل ہو رہی ہیں۔ محنت کش اور غریب خواتین بھی، متوسط طبقے کی خواتین بھی، تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر خودمختار خواتین بھی، اور مراعات یافتہ خاندانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی۔ نور مقدم کا قتل اس مفروضے کو توڑنے والی نمایاں مثال تھا۔ ایک مراعات یافتہ خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون کا اسلام آباد کے پوش علاقے میں قتل یہ واضح کرتا ہے کہ دولت، تعلیم اور سماجی حیثیت عورت کو پدرشاہی تشدد سے خود بخود محفوظ نہیں کرتیں۔ طبقاتی فرق اہم ہے، کیونکہ مختلف طبقوں کی خواتین کو تشدد سے نکلنے اور انصاف حاصل کرنے کے وسائل یکساں دستیاب نہیں ہوتے۔ لیکن عورت پر اختیار اور ملکیت کا پدرشاہی تصور طبقاتی حدود سے ماورا دکھائی دیتا ہے۔
یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ پدرشاہی کا ایک اہم ہتھیار صرف تشدد نہیں بلکہ خاموشی مسلط کرنا ہے۔ عورت تشدد کے خلاف بولے تو کہا جاتا ہے کہ گھر کی بات باہر کیوں لے گئی۔ رشتہ ختم کرے تو اسے خودغرض یا بے صبر قرار دیا جاتا ہے۔ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرے تو اس کے کردار، لباس اور نیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ یہ رویہ عورت کے خلاف تشدد کو مزید تقویت دیتا ہے، کیونکہ جب معاشرہ متاثرہ عورت کے کردار پر بحث کرنے لگے اور تشدد کرنے والے کے عمل کو پسِ منظر میں ڈال دے تو جواب دہی کا رخ ہی بدل جاتا ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کے بعد بعد ہمارا فوری ردعمل اکثر لڑکیوں کو مزید محتاط رہنے کی ہدایت تک محدود رہتا ہے : رات کو باہر نہ نکلو، اکیلی مت جاؤ، اجنبیوں سے دور رہو، اپنے لباس کا خیال رکھو۔ یہ احتیاطیں اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہیں، مگر اگر ہماری پوری حکمت عملی صرف لڑکیوں کے رویے کو محدود کرنے تک رہ جائے تو ہم اصل ذمہ دار سے توجہ ہٹا دیتے ہیں۔ ہمیں لڑکوں کی تربیت بدلنی ہوگی۔ انہیں سکھانا ہو گا کہ عورت کسی کی ملکیت نہیں ؛ محبت کنٹرول کا نام نہیں ؛ ”نہیں“ کا مطلب نہیں ؛ غصہ تشدد کا جواز نہیں ؛ رضامندی بنیادی اصول ہے ؛ اور عورت کے جسم، لباس، ملازمت، دوستوں، فون اور زندگی پر اس کی اپنی خودمختاری ہے۔ لڑکوں کو جذبات کا اظہار، اختلاف برداشت کرنا، ہمدردی، احترام اور دوسروں کی حدود کا خیال رکھنا سکھانا ہو گا۔ ہمیں بیٹیوں کو دنیا سے ڈرانے کے بجائے بیٹوں کو ذمہ دار انسان بنانا ہو گا۔ اس تبدیلی میں خاندان کا کردار بھی بنیادی ہے۔ اگر بیٹی خوف کا اظہار کرے تو اس کی بات سنی جائے۔ اگر بچی کسی بالغ شخص کے بارے میں شکایت کرے تو اسے خاموش نہ کرایا جائے۔ اگر کسی عورت کو مسلسل دھمکیاں یا تشدد کا سامنا ہو تو اسے ”برداشت“ یا ”سمجھوتے“ کا مشورہ دینے کے بجائے تحفظ فراہم کیا جائے۔
ریاست کی ذمہ داری اس سے بھی آگے ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد کو معمول کے فوجداری واقعات سمجھنے کے بجائے اسے صنفی تشدد کے ایک مسلسل بحران کے طور پر دیکھنا ہو گا۔ پولیس اور عدالتی نظام کو فوری، غیر جانب دار کارروائی یقینی بنانی ہوگی۔ خطرے میں موجود خواتین کے لیے فوری تحفظ، محفوظ پناہ گاہیں، قانونی امداد، طبی سہولت اور نفسیاتی معاونت دستیاب ہونی چاہیے۔ خاص طور پر ایسی شکایات جن میں پہلے سے دھمکیاں، مسلسل ہراسانی یا گھریلو تشدد موجود ہو، انہیں معمولی خاندانی تنازع سمجھنے کے بجائے معاملے کو سنجیدگی سے لینا جان بچا سکتا ہے۔
حنا جاوید کے لیے انصاف کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ان کے قتل کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دار تفتیش ہو اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ لیکن اگر ہم ہر قتل کے بعد صرف قاتل کی سزا کا مطالبہ کر کے آگے بڑھ جائیں تو ہم اس مسئلے کی ساختی نوعیت کو نظر انداز کر دیں گے اس لیے ہمیں ایک ساتھ کئی محاذوں پر کام کرنا ہو گا: عورتوں کی معاشی اور سماجی خودمختاری، موثر قانونی تحفظ، ریاستی اداروں کی جواب دہی، تشدد کی ابتدائی علامات پر فوری کارروائی، خاندانوں کی حساسیت، اور سب سے بڑھ کر لڑکوں اور مردوں کی تربیت میں بنیادی تبدیلی۔ حنا جاوید کا نام صرف ایک اور خبر، ایک اور مقدمہ یا ایک اور عدد نہیں یہ قتل سماج کے لیے اہم سوال ہے کہ ہم عورتوں کے اگلے قتل سے پہلے کیا بدلیں گے؟
