میرے مطابق

“انسانی رزمیہ: ”گرم جنگلوں نے میرے لئے بازو پھیلا دیے

zafar mansoor

ڈاکٹر جواز جعفری کی اساطیری نظم انسانی رزمیہ: ”گرم جنگلوں نے میرے لئے بازو پھیلا دیے“ اپنے اندر ایک جہان معنی رکھتی ہے۔ یہ نظم تاریخی تناظر میں انسانی ارتقاء کی وہ داستان ہے جو زمان و مکان سے ماورا صدیوں کی انسانی رزمیہ تاریخ تک پھیلی ہوئی ہے اور یہی اس نظم کی وہ خصوصیت ہے جو اسے اردو کی اساطیری شاعری میں ایک ممتاز تخلیقی مقام عطا کرتی ہے۔

اس نظم میں ایک طرف امیزون کی ترائی میں پڑاؤ کے دوران گرم جنگل شاعر کے لئے اپنے بازو پھیلاتے ہیں تو دوسری طرف خوشگوار بدن کی مہک سے جنگل مہکنے لگتا ہے۔ جواز جعفری کی یہ نظم ہمیں ایک طرف انسانی زندگی کے تاریخی زوال اور بے سمت منزل کی طرف رواں انسانی معاشرے کے المناک پہلو سے روشناس کراتی ہے اور دوسری طرف نظم میں خوشبو دار بدن سے جنگل کے مہکنے کا استعارہ انسانی زندگی میں محبت اور امید کی وہ کرن ہے جو انسانی معاشرے میں نفرت، گھٹن، شدت پسندی اور عدم برداشت کے ماحول میں منفی سوچ کا شکار افراد اور گروہوں کے لئے مثبت سوچ اور رجائیت سے معطر ایک لا زوال پیغام ہے۔ یہ نظم صدیوں پر محیط انسانی مابعدالطبیعاتی سوچ، نفسیاتی ردعمل اور باطنی احساسات اور شعوری آگہی پر مبنی زندہ اور متحرک نظم ہے جو فرد۔ واحد کے انفرادی تجربہ کی سطح سے بلند ہو کر معاشرے کے اجتماع کی نمائندہ شاعری بن جاتی ہے اور یوں پوری نسل۔ انسانی کی داستان کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ نظم میں انسانی زندگی کی باطنی اور خارجی کائنات کا رزمیہ، جو انسانی معاشرے کا ایک المناک پہلو ہے، انتہائی فنکارانہ تخلیقی وفور کے ساتھ بیان ہوا ہے اور یوں یہ نظم انفرادی انسانی تجربات سے اجتماعیت تک کا سفر طے کرتی ہوئی، خود کلامی کے انداز میں قاری سے گفتگو کرتی ہوئی، صدیوں پر پھیلے انسانی رزمیہ کی داستان بیان کرتی چلی گئی ہے۔

مجھے اپنی طرف آتے دیکھ کر
گرم جنگلوں نے میرے لئے بازو پھیلا دیے
میں نے امیزون کی ترائی میں پڑاؤ ڈالا
اس خوشبودار بدن کی مہک سے
جنگل مہکنے لگا
میرے ہمعصر
میرے قدموں کے نشان گنتے رہ گئے
میرا دایاں ہاتھ
اس خوش بدن کے گداز شانے پر
اور بایاں
جنوبی انتہاؤں کو چھونے لگا
میں نے تھکن کو تہہ کر کے ایک طرف رکھا
اور سوئے ہوئے رستوں کو بیداری دان کی
میں نے اجنبی پرندوں سے
خوش کلامیاں کیں
اور خوش خرام دریاؤں کے ہمراہ بہتا ہوا
زمین کے آخری کنارے سے جا لگا

ہر اہم نظم کا ایک اپنا الگ تخلیقی وجود ہوتا ہے۔ ایک زندہ اور متحرک وجود، جس کی بنیاد اس نظم کے موضوعاتی تنوع کے علاوہ اس کے اسلوب اور منفرد کرافٹ پر استوار ہوتا ہے۔ مذکورہ نظم میں موضوعات کی تازہ کاری، منفرد اسلوب، خیال اور بیان کی ندرت کے سبب قاری پر یکے بعد دیگرے اسرار۔ ذات و کائنات کے در وا ہوتے چلے جاتے ہیں اور یوں یہ نظم نہ صرف انفرادی تجربہ کو اجتماعی تجربہ میں منتقل کرتی چلی جاتی ہے بلکہ اپنے منفرد اور توانا شعری لحن کے طفیل بے پایاں شعری حسن اور معیار کی انتہاؤں تک رسائی حاصل کر نے میں بھی کامیاب رہتی ہے۔

ڈاکٹر جواز جعفری کے شعری ہنر کی بدولت نظم میں ایک ایسی انفرادیت اور وجدانی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جس سے شاعر کے خیال کی وسعت کا پھیلاؤ ’زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہو کر زمانوں تک پھیلتا چلا گیا ہے۔

اس نظم میں خوشبو دار وجود رکھنے والی عورت زندگی کے تحرک کا استعارہ ہے اور اس کے جسم سے پھوٹنے اور پورے جنگل میں پھیل جانے والی مہک روح و جسم سے پھوٹنے والی مسرت آمیز زندگی کا خوبصورت تلازمہ ہے۔ اس نظم کے پس منظر میں ایک گہری فلسفیانہ تمثیل ہے جب کہ اس کے پیش منظر میں ایک متحرک تصویری منظر نامہ رواں ہے جو دراصل انسانی زندگی کا وہ رزمیہ ہے جس سے حقیقی طور پر انسانی زندگی عبارت ہے۔ اس نظم کی خصوصیت اس کی بے ساختگی اور دھیمے پن اور فنکارانہ انداز سے آگے بڑھنے کا بے مثل تخلیقی عمل ہے۔ جواز جعفری کے ہاں اپنی بات کو انتہائی موثر اور بھر پور انداز میں ایک منفرد سلیقہ سے کہنے کا جو ہنر پایا جاتا ہے وہ ان کی شاعری میں ایک ایسا بھر پور تاثر اور فکری معنویت پیدا کر دیتا ہے کہ ان کی شاعری کی قرات انسانی حواس پر سحرناک اثرات مرتب کرتی چلی جاتی ہے۔ یہی اعلیٰ شاعری کی وہ خصوصیت ہے جو اسے فرد کی داستان سے ایک اجتماعی انسانی داستان بنا کر آفاقی قدروں سے ہمکنار کر دیتی ہے۔ حیرت، استعجاب اور سوال کرنے کی فطرت، خواب دیکھنے اور خواب کی تعبیر تلاش کرنے کا عمل، شاعر کے تخلیقی وجود کے پھیلاؤ کو لا متناہی بنا دیتا ہے اور یوں اس کا ایک ہاتھ خوشبو دار وجود کے کندھے پر اور دوسرا جنوب کی انتہاؤں تک پہنچ جاتا ہے جہاں انسانی زندگی، انسانی رزمیے کا روپ اختیار کر لیتی ہے اور انسانی سرگرمیاں زرد موسموں کا شکار ہو جاتی ہیں۔

جواز جعفری کی شعری کائنات کے اس بے انت منظر نامے میں ازل سے عہد۔ موجود تک کے جانے کتنے انسانی رزمیے انسانی رزم گاہوں میں رزق خاک ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

ڈاکٹر جواز جعفری کے ہاں صدیوں پر پھیلے اس انسانی رزمیہ کا بیان ایک وسیع تر پیش منظر اور پس منظر کے ساتھ ہمیں حیرتوں اور خوابوں کے ایسے جہان میں لے جاتا جہاں نیستی اور نابودگی ہر سمت پھیلی ہوئی ہے۔ یہ دراصل ایک وسیع تر انسانی رزمیہ کے پس منظر کے اظہاریہ کا پیش منظر ہے۔

ڈاکٹر جواز جعفری کے ہاں صدیوں پر محیط انسانی رزمیہ کا یہ بیان ہمیں تاریخ کی ان طویل راہداریوں میں لے جاتا ہے جہاں جگہ جگہ انسانی خون بکھرا ہوا ہے اور ان گنت پا مال جہانوں سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے۔ یہ نظم انسانی زندگی کی ٹوٹ پھوٹ کے شکار انسانی معاشرت کا ایک المناک رزمیہ ہے۔

کشتی اور تحریر
کی ایجاد سے پہلے
میں نے آدھی دنیا
نابود کر دی
میرے ہمعصر
منظر سے غائب ہونے لگے
میں نے نابودگی کی لہر
چاروں اور پھیلا دی

ڈاکٹر جواز جعفری اپنی بے مثال فکری، تکنیکی اور لسانی گرفت اور پیرائیہ اظہار کی بدولت ایک ایسی بے مثال نظم تخلیق کرنے میں کامیاب رہے ہیں جس میں صدیوں پر پھیلے انسانی رزمیہ کو تشبیہات و استعارات کی مدد سے ایک مختصر نظم میں اس طور سمو دیا گیا ہے جیسے قطرے میں سمندر سمو دیا جائے۔ نظم میں کائناتی حسن اور انسانی فطرت کی جمالیاتی کیفیات کچھ اس طور باہم مربوط ہو گئی ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر نے اپنی ذات کو کائنات کی وسعتوں میں گم اور عناصر فطرت سے ہم آہنگ کر دیا ہے اور یوں وہ زمانی اور مکانی قیود سے آزاد ہو کر قرنوں پر محیط زمانوں سے مخاطب ہے اور اساطیری عناصر اور رومانی رویوں کی روحانی اور جمالی معنویت جیسے فلسفیانہ اور تاریخی سوالات سے نبرد آزما ہے۔ نظم میں خوشبودار رومانوی وجود ایک رومانوی رویے کے اظہار کی علامت بن کر صدائے حریت کے گہرے فکری رویے کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ یوں پوری نظم میں ایک رومانوی رویہ فکری عمل کے ساتھ مربوط نظر آتا ہے جو نظم کی مجموعی فضاء کو ایک خوشگوار رومانوی اور فکری بیانیہ میں تبدیل کر دیتا ہے۔

ہاتھی نما سرمئی پرندے
دیو ہیکل سرخ اونٹ
اور اڑنے والے ست رنگے گھوڑے
ہمارے استقبال کے لیے موجود تھے
یہ زمین پر ان کی زندگی کے
آخری دن تھے
اندھیرا پھیلا
تو میرے پہلو میں کھڑی گلابی عورت کے بدن سے
چراغ پھوٹ پڑے
اسے اپنے بستر کے کنارے دیکھ کر
میں نے اپنی بنجر رات کو آواز دی
ہم نے شکستہ چراغ کی لو میں اپنے عکس
دیوار پہ دیکھے
دیوار اس کے عکس کو پا کر چہکنے لگی
اس عورت کے پاؤں کے درمیان
زمانے ابل پڑے

محولہ بالا تنقیدی جائزہ کی روشنی میں ہم بلا خوف تردید یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ڈاکٹر جواز جعفری کی مذکورہ اساطیری نظم انسانی رزمیہ: ”گرم جنگلوں نے میرے لئے بازو پھیلا دیے“ اردو کے بلند پایہ تخلیقی شعری ادب میں ایک قابل قدر اضافہ ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW