میرے مطابق

اردو بطور دفتری زبان: ریاست، شناخت اور عملی نفاذ کا سوال

Intikhab Ulfat

ڈاکٹر تہمینہ عباس کی کتاب ”اردو بطور دفتری زبان: ارتقائی و تحقیقی مطالعہ“ بظاہر ایک ایسے موضوع پر ہے جسے محض انتظامی یا تدریسی نوعیت کا سمجھا جا سکتا ہے، لیکن مطالعے کے ساتھ واضح ہوتا ہے کہ اس کا دائرہ دفتری خطوط، مراسلات اور سرکاری اصطلاحات سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہ کتاب اردو کے انتظامی کردار کو تاریخ، تعلیم، آئین، ریاست، قومی شناخت اور حکمرانی کے تناظر میں دیکھتی ہے۔ یہی وسعت اسے زبان کے ایک محدود مطالعے سے نکال کر پاکستان میں ریاست اور شہری کے تعلق پر ایک سنجیدہ علمی بحث کا حصہ بنا دیتی ہے۔

زبان کسی معاشرے میں صرف اظہار اور روزمرہ رابطے کا وسیلہ نہیں ہوتی۔ اس کی حقیقی قوت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ تعلیم، تحقیق، قانون، عدالت، معیشت اور ریاستی انتظام کی زبان بھی بن سکے۔ پاکستان میں اردو رابطے، ادب، صحافت، ذرائع ابلاغ اور سیاسی گفتگو کی ایک موثر زبان ہے، لیکن سرکاری دفاتر میں پہنچتے ہی اس کی حیثیت بڑی حد تک ثانوی ہو جاتی ہے۔ فائل، نوٹ، سمری، سرکاری مراسلت اور اعلیٰ انتظامی دستاویزات میں انگریزی کی بالادستی اب بھی قائم ہے۔ ڈاکٹر تہمینہ عباس کی تحقیق اسی تضاد کو تاریخی شواہد اور عملی مثالوں کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔

کتاب کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ مصنفہ دفتری اردو کی تاریخ کو قیام پاکستان سے شروع نہیں کرتیں۔ وہ برصغیر کے مختلف خطوں، ریاستوں اور اداروں میں اردو کے انتظامی استعمال کا سراغ لگاتی ہیں۔ حیدرآباد دکن، پنجاب، بہاولپور، بلوچستان، کشمیر، سندھ، سابق صوبہ سرحد، چترال اور گلگت بلتستان سے لے کر فوج اور پولیس جیسے اداروں تک اردو کے دفتری استعمال کی مثالیں یہ واضح کرتی ہیں کہ اردو کو انتظامی زبان بنانے کا تصور محض ایک بعد از قیام پاکستان خواہش نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک قابلِ ذکر تاریخی تجربہ موجود ہے۔

یہ تاریخی جائزہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان میں قومی زبان کی بحث عموماً دو انتہاؤں کے درمیان گھومتی رہتی ہے۔ ایک طرف اردو کے حق میں جذباتی تقاریر اور قومی نعروں کی فراوانی ہے، دوسری طرف یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جدید ریاست، سائنس، انتظامیہ اور اعلیٰ تعلیم اردو میں چل ہی نہیں سکتے۔ ایک تحقیقی کتاب کی ذمہ داری ان دونوں رویوں سے الگ ہو کر شواہد سامنے لانا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر تہمینہ عباس کا کام بڑی حد تک یہی کرتا ہے : وہ سوال کو جذبات کی بجائے تاریخی تجربے، علمی روایت اور انتظامی امکانات کی سطح پر لے آتی ہیں۔

کتاب کا ایک اہم حصہ اردو کے بطور ذریعۂ تعلیم تاریخی سفر سے متعلق ہے۔ فورٹ ولیم کالج، اسکول بک سوسائٹی کلکتہ، دہلی کالج، انجمن پنجاب، اورینٹل کالج لاہور، علی گڑھ، دارالمصنفین اعظم گڑھ، جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے اداروں کے حوالے اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ اردو کو علمی زبان بنانے کی کوششیں نئی نہیں۔ مختلف ادوار میں طب، سائنس، فلسفہ، انجینئرنگ اور دوسرے علوم کے تراجم اور تدریسی مواد اردو میں تیار کیے گئے۔

یہاں کتاب ایک ایسا سوال پیدا کرتی ہے جو موجودہ دور میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ اگر محدود وسائل کے زمانے میں علمی اصطلاحات تشکیل دی جا سکتی تھیں، کتابیں تیار ہو سکتی تھیں اور جدید علوم اردو کے ذریعے منتقل کیے جا سکتے تھے تو آج کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ڈیجیٹل لغات، فوری ترجمے اور مصنوعی ذہانت کی موجودگی میں ہم اردو کے علمی اور انتظامی استعمال کو اتنا دشوار کیوں سمجھتے ہیں؟ مسئلہ شاید زبان کی داخلی صلاحیت سے زیادہ ادارہ جاتی ترجیحات، پالیسی کے تسلسل اور عملی ارادے کا ہے۔

کتاب کا آئینی اور قانونی پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ اردو کا نفاذ محض ادیبوں یا اہلِ زبان کا مطالبہ نہیں بلکہ پاکستان کے آئینی اور انتظامی ڈھانچے سے وابستہ مسئلہ بھی ہے۔ آئینی دفعات اور عدالتی فیصلوں کے حوالے اس بنیادی سوال کو سامنے لاتے ہیں کہ اگر قومی زبان کے نفاذ کے لیے قانونی بنیاد موجود ہے تو پھر کئی دہائیوں بعد بھی عملی پیش رفت محدود کیوں ہے؟

یہیں کتاب کا ایک اہم عملی نکتہ سامنے آتا ہے : زبانیں محض قراردادوں، اعلانات اور عدالتی احکامات سے نافذ نہیں ہوتیں۔ کسی زبان کو انتظامی نظام کا حصہ بنانے کے لیے سرکاری اہلکاروں کی تربیت، متفقہ اصطلاحات، مستند لغات، معیاری طرزِ تحریر، موثر ترجمہ اور دفتری طریقۂ کار میں مناسب تبدیلی درکار ہوتی ہے۔ اگر اردو میں کام کرنا ایک سرکاری ملازم کے لیے مشکل، اضافی یا غیر مانوس ذمہ داری بن جائے تو محض حکم جاری کر دینے سے نفاذ کامیاب نہیں ہو سکتا۔

اسی لیے کتاب کا وہ حصہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے جس میں دفتری نظام اور عملی مراسلت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ دفتر کی بنیادی تعریف سے شروع ہو کر دفتری خط و کتابت، مسودہ نویسی، حوالہ، کیفیت نگاری، فائل پر کارروائی، املا، لغت اور مختصر نویسی جیسے پہلوؤں کی وضاحت کتاب کو محض نظری تحقیق نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے ایک عملی رہنما بھی بناتی ہے۔

دفتری زبان کا بنیادی مقصد شہری اور ریاست کے درمیان واضح رابطہ ہونا چاہیے۔ اچھی سرکاری زبان وہ ہے جو صحت، اختصار اور وضاحت کے ساتھ اپنا مفہوم منتقل کرے۔ اگر انگریزی کے کسی مشکل سرکاری متن کا لفظ بہ لفظ اردو ترجمہ ایسی زبان میں کر دیا جائے جسے عام اردو خواں بھی سمجھنے سے قاصر ہو تو اسے اردو کا کامیاب نفاذ نہیں کہا جا سکتا۔ زبان کو عوام کے قریب لانے کی کوشش اگر اسے مزید اجنبی بنا دے تو مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔

یہ نکتہ پاکستان میں اردو کے نفاذ کی بحث کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ اردو کی خدمت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر انگریزی اصطلاح کے لیے ایسا ثقیل فارسی یا عربی مترادف تراشا جائے جسے سمجھنے کے لیے دوبارہ انگریزی لفظ کی طرف رجوع کرنا پڑے۔ دفتری اردو کو باوقار ضرور ہونا چاہیے، مگر اس کے ساتھ سادہ، مانوس اور قابلِ فہم بھی۔ زبان کی کامیابی لغت میں محفوظ ہونے سے نہیں بلکہ مسلسل اور موثر استعمال سے طے ہوتی ہے۔

کتاب میں دفتری اصطلاحات اور مختلف نوعیت کی سرکاری مراسلت کا بیان اس اعتبار سے مفید ہے کہ یہ نفاذ کے مسئلے کو محض نظری سطح پر نہیں چھوڑتا۔ سرکاری خط، نیم سرکاری خط، یادداشت، گشتی مراسلہ، حکم نامہ، دفتری حکم، اعلان، اطلاع، کیفیت نوٹ اور اعلامیہ جیسے مختلف اسالیب کی وضاحت، نیز دفتری خطوط کے نمونے اور اصطلاحات کی فرہنگ، بالخصوص طلبہ، اساتذہ، سرکاری اہلکاروں اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والوں کے لیے عملی افادیت رکھتی ہے۔

زبان کی بحث کا ایک سماجی پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں انگریزی محض ایک عالمی زبان نہیں بلکہ سماجی طاقت، اعلیٰ تعلیم، ملازمت اور افسر شاہی تک رسائی کا وسیلہ بھی بن چکی ہے۔ نتیجتاً کئی باصلاحیت نوجوان صرف اس لیے مواقع کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں کہ ان کی انگریزی ان کی علمی یا ذہنی صلاحیت کے برابر مضبوط نہیں ہوتی۔ اس صورت حال کا حل یقیناً انگریزی کو ترک کرنا نہیں۔ موجودہ دنیا میں انگریزی سیکھنا علمی اور پیشہ ورانہ ضرورت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انگریزی سے واقفیت کے ساتھ اپنی قومی زبان کو بھی تعلیم، علم اور حکمرانی میں مناسب مقام دیا جا سکتا ہے؟ ایک متوازن معاشرہ دونوں کام بیک وقت کر سکتا ہے۔

اس کتاب کی بڑی خوبی یہی ہے کہ یہ اردو کا مقدمہ محض جذباتی بنیادوں پر نہیں لڑتی۔ تاریخی مواد، ادارہ جاتی مثالیں، تعلیمی تجربات اور دفتری طریقۂ کار کی تفصیلات اسے ایک ایسی تحقیق بناتی ہیں جو طلبہ کو تاریخ، محققین کو حوالہ اور انتظامی نظام سے وابستہ افراد کو عملی مواد فراہم کرتی ہے۔

تاہم ہر اہم تحقیقی کام کی طرح یہ کتاب بھی آگے کے لیے نئے سوالات چھوڑتی ہے۔ سرکاری دفتر تیزی سے کاغذی فائل سے ای گورننس، ای میل، آن لائن پورٹل، ڈیجیٹل دستخط، موبائل ایپلی کیشن اور مصنوعی ذہانت کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ اس لیے اب دفتری اردو کا مستقبل صرف فائل، نوٹ اور خط تک محدود نہیں رہا۔ یونی کوڈ، سرکاری ویب سائٹس، خودکار ترجمہ، ڈیجیٹل فارم، مصنوعی ذہانت اور شہریوں کو اردو میں آن لائن معلومات کی فراہمی آنے والے برسوں میں اس موضوع کا ناگزیر حصہ ہوں گے۔ کتاب کے کسی آئندہ ایڈیشن میں ان موضوعات کی شمولیت اس تحقیق کو عصرِ حاضر کے ڈیجیٹل تقاضوں سے مزید موثر انداز میں مربوط کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر تہمینہ عباس کی اس تصنیف کو جمیل جالبی ادبی ایوارڈ سے نوازا جانا اس اعتبار سے بھی معنی خیز ہے کہ ڈاکٹر جمیل جالبی کا نام اردو زبان، لغت، تحقیق، تہذیب اور ادبی تاریخ کی ایک ممتاز روایت سے وابستہ ہے۔ کسی ایسی کتاب کا اس اعزاز کے لیے منتخب ہونا جو اردو کے عملی، انتظامی اور قومی کردار پر تحقیق کرتی ہے، موضوع کی علمی اہمیت کا اعتراف بھی ہے۔

البتہ کسی علمی کتاب کی اصل کامیابی ایوارڈ پر ختم نہیں ہوتی۔ اہم بات یہ ہے کہ اس نوعیت کی تحقیقات جامعات اور کتب خانوں کی الماریوں تک محدود نہ رہیں بلکہ پالیسی سازوں، سرکاری تربیتی اداروں، نصاب مرتب کرنے والوں اور انتظامی افسران تک پہنچیں۔ اردو کے نفاذ کا مطالبہ نسبتاً آسان ہے ؛ اس کے لیے مطلوب تاریخی، قانونی، تعلیمی اور انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ ڈاکٹر تہمینہ عباس کی کتاب اسی مشکل مگر ضروری مرحلے پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔

”اردو بطور دفتری زبان: ارتقائی و تحقیقی مطالعہ“ محض ایک زبان کی کتاب نہیں بلکہ ریاست، شہری اور ابلاغ کے تعلق پر غور کرنے کی دعوت ہے۔ یہ ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے رکھتی ہے کہ جس زبان میں کروڑوں پاکستانی اپنے خیالات بیان کرتے، سیاسی گفتگو کرتے، ادب تخلیق کرتے اور اپنے روزمرہ معاملات انجام دیتے ہیں، کیا وہی زبان ریاست اور شہری کے درمیان رسمی رابطے کا موثر وسیلہ بھی بن سکتی ہے؟

اس سوال کا جواب صرف اہلِ ادب یا ماہرینِ زبان کے پاس نہیں۔ اسے جامعات، عدالتوں، افسر شاہی، حکومت، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور پالیسی سازوں کو مل کر دینا ہو گا۔ ڈاکٹر تہمینہ عباس کی کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ اس نے اردو کے دفتری استعمال کی بحث کو خواہش اور نعرے سے نکال کر تاریخ، تحقیق اور عملی امکان کی سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہی اس کتاب کی اصل علمی قدر ہے اور شاید یہی اس کا سب سے اہم پیغام بھی۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW