آئینہ بردار: دنیا کو کون سا آئینہ دکھایا جاتا ہے، اور کون طے کرتا ہے کہ کیا دکھائی دے؟
26 اور 27 اگست 2026 کی درمیانی رات تھی۔ میں سو نہیں رہی تھی۔ یا شاید یوں کہنا زیادہ درست ہے کہ میں نیند اور بیداری، سینیٹی اور اِن سینیٹی کے درمیان کہیں معلق تھی، کسی پینڈولم کی طرح۔ اِنسومنیا تھا۔ میرا اِنسومنیا شاید مولانا رومی والا ہے :
با تو کہ ہستم، شب تا صبح بیدارم
بی تو کہ ہستم، خوابم نمی برد
خدا را شکر برای این دو بیخوابی
و تفاوت میانشان
لیکن اس رات معاملہ کچھ اور تھا۔ انسٹاگرام پر چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ریپ، ابیوز اور ایکسپلوئٹیشن کی کہانیاں تھیں۔ ایک کے بعد دوسری، پھر تیسری۔ میں انہیں دیکھتی رہی، پڑھتی رہی اور ہر نئی کہانی کے ساتھ میرے اندر کوئی بہت پرانا دروازہ کھلتا رہا۔
پھر مجھے احساس ہوا کہ میرے کمرے میں میں اکیلی نہیں ہوں۔ میرے ساتھ ایک بارہ سال کی بچی بھی بیٹھی ہے۔ وہ بھی میں ہی تھی۔ چالیس برس سے زیادہ عرصے سے رکے ہوئے آنسو شاید اسی رات اپنا راستہ ڈھونڈ رہے تھے۔
میں 58 برس کی ہوں اور اس رات میں نے اپنی بارہ سالہ ذات سے پہلی بار کوئی سوال نہیں کیا۔ نہ یہ کہ تم نے بتایا کیوں نہیں، نہ یہ کہ تم نے چیخا کیوں نہیں، نہ یہ کہ تم نے مزاحمت کیوں نہیں کی، نہ یہ کہ تم نے اتنے برس خاموشی کیوں اختیار کی۔
میں نے اپنے آپ سے صرف ایک جملہ کہا: مائی ینگَر سیلف ڈز ناٹ نیڈ ٹو بی اِنٹروگیٹڈ بائی مائی 58 ائر اولڈ سیلف۔
میری بارہ سالہ ذات کو میری 58 سالہ ذات کی تفتیش کی ضرورت نہیں۔ وہ ایک بچی تھی۔ اسے سوال نہیں چاہیے تھے۔ اسے یقین چاہیے تھا۔ اور شاید پہلی بار مجھے سمجھ آیا کہ مجھے اس سے جواب نہیں مانگنا، مجھے اس کے ساتھ بیٹھنا ہے۔ پتا نہیں کیوں، اسی رات انکل قمر جمیل بھی یاد آئے۔ ان کا انتقال 27 اگست 2000 کو ہوا تھا۔
آج سے 26 برس پہلے، تقریباً اسی تاریخ کے آس پاس، ایک شاعر اور مصور، جنہیں میں ہمیشہ ایک بہت اچھی روح کے طور پر یاد کرتی ہوں، دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ وہ میرے ابّو جان کے دوست تھے۔ میری مختصر، غیر معروف ادبی زندگی میں بھی ان کا ایک خاص مقام رہا۔ انہوں نے میرے نثری نظموں کے مجموعے ”مجھے محبت سے ڈر لگتا ہے“ کا دیباچہ لکھا تھا۔ وہ خود نثری نظم کے اہم ابتدائی شاعروں میں سے تھے اور اس صنف کے دفاع، اس کی ساخت اور فہم کے بارے میں بھی لکھتے رہے۔ لیکن یہ تحریر قمر جمیل کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے۔
شاید اسی لیے کہ اسی رات ان کی یاد ایک اور راستے سے میرے پاس آئی۔ ایک نہایت محترم، صاحبِ مطالعہ قاری نے میری فیس بک وال پر شعر پوسٹ کیا تھا:
خواب میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں، اس کا دکھانا مشکل ہے
آئینے میں پھول کھلا ہے، ہاتھ لگانا مشکل ہے
(قمر جمیل)
وہ قاری میری کچھ اردو اور انگریزی تحریریں پڑھتے رہے تھے۔ میرے معمولی سے لکھنے کے سفر کو جس توجہ اور جستجو سے انھوں نے پڑھا اور پرکھا، وہ میرے لیے ہمیشہ باعثِ احترام اور حیرت بھی رہا۔ انہوں نے مجھے ایک وومن رائٹس ایکٹوسٹ کے طور پر بھی یاد کیا اور اپنے خوب صورت الفاظ میں میری تحریروں اور میرے کام کے لیے تحسین کا اظہار کیا تھا۔
انہی کے الفاظ میں ایک استعارہ آیا تھا: آئینہ بردار۔
میں نے وہ استعارہ ان سے اجازت لیے بغیر اٹھا لیا ہے۔ شاید کچھ لفظ ہمارے ہاتھ میں آنے کے بعد ہمارے نہیں رہتے۔ وہ اپنی الگ زندگی شروع کر دیتے ہیں۔ مجھے اس وقت کیا معلوم تھا کہ آئینہ بردار کا یہ لفظ مجھے ایک ایسی جگہ لے جائے گا جہاں جانے سے میں چالیس برس سے زیادہ عرصے سے گریز کر رہی تھی۔
میرے باپ اور انکل قمر جمیل کے ساتھ ایک تیسرا شخص بھی اسی چھوٹی سی ادبی اور سماجی دنیا کا حصہ تھا۔ وہ بھی میرے ابّو کا دوست تھا اور اسے بھی میں انکل ہی کہتی تھی۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں میری کہانی مشکل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جس شخص نے مجھے ابیوز کیا وہ کوئی اجنبی نہیں تھا۔ وہ ایسا آدمی نہیں تھا جسے دیکھ کر فوراً خطرے کی گھنٹی بج جائے۔ وہ تعلیم یافتہ تھا، ذہین تھا، سول سرونٹ تھا، شاعر تھا، کامیاب تھا، مہذب اور باوقار سمجھا جاتا تھا اور سب سے بڑھ کر، وہ ٹرسٹڈ تھا۔ وہ میرے باپ کا دوست تھا۔
میں تقریباً بارہ برس کی تھی اور شاید اپنے قد و قامت اور وقت سے پہلے بڑے دکھائی دینے کی وجہ سے عمر سے کچھ بڑی لگتی تھی۔ جو کچھ میرے ساتھ ہوا، وہ بارہ برس کی عمر سے تقریباً سولہ برس کی عمر تک کسی نہ کسی صورت جاری رہا۔ میں نے اس کا نام برسوں اپنے اندر رکھا، لیکن صفحے پر نہیں لکھا۔
میرے بچپن کا اسلام آباد آج کے اسلام آباد جیسا نہیں تھا۔ میلوڈی سینما سے پہچانے جانے والے سِوک سینٹر کے آس پاس ہمارا ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میری فوٹوگرافک یادداشت اور میرا اکیلا پن ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔ اب میں بوڑھی ہو رہی ہوں اور کبھی کبھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں ڈیمنشیا میری یہ یادداشت بھی نہ نگل لے۔
شاید اسی لیے اس رات مجھے وہ گھر یاد آیا۔ وہ چھوٹا سا گھر جہاں کبھی کبھی لوگ آئے اور چلے گئے، جہاں اتنی گنجائش بھی نہیں تھی کہ میں چیخوں اور در و دیوار سلامت رہیں۔
وہ آدمی آتا رہا اور میں خاموش رہی۔ یہ جملہ لکھنا شاید چالیس برس سے زیادہ عرصے تک ممکن نہیں تھا۔
لیکن خاموشی رضامندی نہیں تھی۔ خاموشی آزادی بھی نہیں تھی۔ خاموشی ایک بچے کی بقا تھی۔ اس عمر میں آپ کے پاس وہ الفاظ نہیں ہوتے جن سے آپ کہہ سکیں کہ ایک بالغ شخص کیا کر رہا ہے، کیوں کر رہا ہے اور آپ کو اس کے خلاف کیا کرنا چاہیے۔
آپ صرف اپنے اندر سمٹ سکتے ہیں۔ اور شاید میں بھی وہیں سمٹ گئی تھی۔ آج میں اپنی بارہ سالہ ذات کو اس لیے معاف نہیں کر رہی کہ اسے کسی معافی کی ضرورت تھی۔ میں صرف یہ تسلیم کر رہی ہوں کہ وہ قصوروار نہیں تھی۔
اور شاید مجھے اپنے بارے میں ایک اور بات بھی تسلیم کرنی چاہیے۔ میں نے اپنا کانفیڈنس کھویا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ لوگ مجھے کانفیڈنٹ اور بہادر سمجھتے ہیں۔ شاید میں بہت سی جگہوں پر واقعی ایسی ہی نظر آتی ہوں۔ اپنے کام، اپنی آواز اور اپنی ایکٹوسٹ زندگی میں بھی میں نے خود کو بار بار مضبوط دکھایا ہے۔
لیکن اس تجربے کے باوجود میں لوگوں کے بارے میں اتنی سکیپٹیکل نہیں ہوئی جتنی شاید ہو سکتی تھی۔ اور پھر بھی مجھے لوگوں سے ڈر لگتا ہے۔ یہ ایک عجیب سا تضاد ہے جسے میں آج تک پوری طرح سمجھ نہیں سکی۔ اپنی ولنریبیلٹی دکھانا بھی مجھے نہیں آتا اور اسے چھپانا بھی نہیں آتا۔
شاید اسی لیے جب کبھی کسی سے بات کرتے ہوئے مجھے محسوس ہو کہ میں کچھ زیادہ آگے نکل آئی ہوں، کہ گفتگو میرے اندر کے کسی کری ایٹو انٹیریئر تک پہنچنے لگی ہے اور وہاں کسی پرانی دیوار میں باریک سی دراڑ پڑنے لگی ہے، تو مجھے اچانک لگتا ہے کہ مجھے وہاں سے واپس آ جانا چاہیے۔
کبھی کبھی تو یہ خیال بھی آنے لگتا ہے کہ مجھے وہ گفتگو وہیں ختم کر دینی چاہیے۔ جیسے پیچھے ہٹ جانا ہی اپنی حفاظت کا واحد طریقہ ہو۔ مجھے نہیں معلوم یہ احتیاط ہے، خوف ہے یا کسی بہت پرانی خاموشی کی باقی ماندہ عادت۔
شاید تینوں کچھ کچھ ہیں۔
میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ جس عورت کو لوگ مضبوط سمجھتے ہیں، اس کے اندر ایک ایسی بچی بھی ہے جو آج تک یہ سیکھ رہی ہے کہ ہر قربت خطرہ نہیں ہوتی، ہر اعتماد کی قیمت نہیں دینی پڑتی اور ہر بار اپنے اندر کے دروازے بند کر لینا بھی حفاظت نہیں ہوتی۔
وہ شخص 2013 میں مر گیا۔ اور اس کی موت کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میں اکیلی نہیں تھی۔ دوسرے خاندانوں کی بچیوں کے بارے میں بھی ایسی باتیں سامنے آئیں۔ یہ جاننا میرے لیے اپنے ماضی کو دوسری مرتبہ دریافت کرنے جیسا تھا۔
پہلے میں صرف یہ جانتی تھی کہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا۔ اب مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ شاید میں اکیلی نہیں تھی۔ اور پھر سوال بدل گیا۔
اگر ایک شخص نے ایک سے زیادہ بچیوں کو گروم کیا، ابیوز کیا، تو اسے پہچانا کیوں نہیں گیا؟
ہم نے اسے دیکھا کیوں نہیں؟ یا شاید ہم نے اسے دیکھا، مگر وہی دیکھا جو دیکھنے کے لیے ہمیں دکھایا گیا تھا۔
ایک کامیاب سرکاری افسر، ایک تعلیم یافتہ آدمی، ایک شاعر، ایک مہذب شخص، ایک دوست، ایک ریسپیکٹ ایبل آدمی۔
شاید اسی لیے آج جب میں کسی چھوٹی بچی کے ریپ، سیکسوئل ابیوز یا ایکسپلوئٹیشن کی خبر دیکھتی ہوں تو مجھے صرف اس بچی کا دکھ نہیں ہوتا۔ میرے اندر وہ بارہ سالہ بچی بھی جاگ جاتی ہے۔ اور میرے اندر ایک بات بہت زور سے اٹھتی ہے :
ابیوزرز ہمیشہ ابیوزرز جیسے نظر نہیں آتے۔ وہ تعلیم یافتہ ہو سکتے ہیں، ذہین ہو سکتے ہیں، کامیاب ہو سکتے ہیں، شائستہ ہو سکتے ہیں، ادبی دنیا کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ لوگ ان کی گفتگو، ذہانت، علم اور شخصیت سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ وہ خاندانوں کے ٹرسٹڈ دوست بھی ہو سکتے ہیں۔ اور ہاں، وہ شاعر بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ شاعری کے خلاف بات نہیں۔ یہ تعلیم کے خلاف بھی بات نہیں۔ یہ صرف ہمارے اس خطرناک مفروضے کے خلاف ہے کہ تعلیم، ذہانت، پیشہ، شہرت یا ثقافت انسان کے کردار کی ضمانت ہیں۔ نہیں۔ یہ چیزیں کسی انسان کو پریڈیٹر ہونے سے محفوظ نہیں کرتیں۔
تو پھر سوال ہے : اب کیوں؟
کیونکہ ماضی ہمیشہ ماضی نہیں رہتا۔ وہ کسی نئی خبر کے ساتھ واپس آ سکتا ہے، کسی نئی بچی کی کہانی کے ساتھ، کسی ماں کے روتے ہوئے چہرے کے ساتھ، کسی ایسے شخص کی تصویر کے ساتھ جس کے بارے میں لوگ کہہ رہے ہوں :
”یہ تو بہت شریف آدمی تھا۔“ ”یہ تو بہت پڑھا لکھا تھا۔“ ”اس کے بارے میں کسی نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔“
”یہ تو ہمارے خاندان کا اپنا تھا۔“ اور میں ہر بار سوچتی ہوں :ریسپیکٹ ایبلٹی اور سیفٹی ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
ہمیں بچوں کو صرف بڑوں کا احترام کرنا نہیں سکھانا۔ ہمیں انہیں یہ بھی سکھانا ہو گا کہ ان کے جسم کی حدود ہیں، ان کا ”نہیں“ کہنا جائز ہے، اور اگر کوئی ٹرسٹڈ شخص ان حدود کو توڑے تو وہ بول سکتے ہیں۔
اور جب وہ بولیں تو سب سے پہلا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے :
”تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟“
اور پھر آئینہ۔ شاید اسی لیے اس رات وہ شعر اور ان معتبر قاری کا دیا ہوا لفظ میرے اندر ایک دوسرے سے جڑ گئے۔ آئینہ صرف وہ نہیں جو ہمیں دکھاتا ہے۔
آئینہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ہم نے کس طرف دیکھنے کا انتخاب کیا۔ ہم لوگوں کو اکثر وہی دیکھتے ہیں جو پہلے سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ کسی شخص کی ڈگری ہمیں اس کا کردار دکھانے لگتی ہے۔ اس کا عہدہ ہمیں اس کی شرافت دکھانے لگتا ہے۔ اس کی شاعری ہمیں اس کی انسانیت کا ثبوت لگنے لگتی ہے۔ اس کی نرم گفتگو ہمیں اس کی اخلاقیات کی ضمانت محسوس ہوتی ہے۔ اور اس کی سماجی حیثیت ہمیں اس کے بارے میں سوال کرنے سے روک دیتی ہے۔
اور شاید یہی سب سے خطرناک آئینہ ہے۔ وہ آئینہ جس میں انسان کا چہرہ صاف دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اعمال نہیں۔
آئینہ بردار صرف آئینہ اٹھائے نہیں پھرتا۔ کبھی کبھی وہ یہ بھی طے کرتا ہے کہ آئینہ کس طرف موڑا جائے، دنیا کو کون سا چہرہ دکھایا جائے، کون سی حقیقت دکھائی جائے اور کون سی حقیقت پردے کے پیچھے رہ جائے۔
میں نے چالیس برس سے زیادہ عرصے تک ایک حقیقت اپنے اندر چھپا کر رکھی۔ آج بھی میں اس شخص کا نام نہیں لکھ رہی۔ شاید اس لیے کہ اب اس کا نام اس کہانی کا سب سے اہم حصہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ایک بارہ سالہ بچی کے ساتھ کیا ہوا۔
اہم بات یہ ہے کہ وہ بچی چالیس برس سے زیادہ عرصے بعد بھی ایک اگست کی رات میرے کمرے میں میرے ساتھ موجود تھی۔
اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس رات میں نے اس سے تفتیش نہیں کی۔
میں اس کے پاس بیٹھ گئی۔ ہم نے باتیں کیں۔ باتوں کے ڈرافٹس بنائے اور انہیں جلا دیا۔
پھر میں نے اس راکھ سے لپٹ کر روٹی رہی۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ وہ بچی بہت چیخی تھی۔ بس اس کی آواز باہر نہیں نکلی تھی۔
میں نے پہلی بار شاید اسے وہی کہا جو اسے بہت پہلے سننا چاہیے تھا: میں تم پر یقین کرتی ہوں۔ تمہاری غلطی نہیں تھی۔ تم دیر سے نہیں آئیں۔
اور شاید چالیس برس سے زیادہ عرصے بعد پہلی بار آئینہ میری طرف نہیں، اس بچی کی طرف تھا۔




2013 میں تو اسلام آباد میں ضیا جالندھری کا انتقال ہوا تھا ؟
عارف احمد صاحب، میں نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ مذکورہ شخص کا انتقال اسلام آباد میں ہوا۔ افسوس کہ آپ نے پوری تحریر کے ادبی، فکری اور انسانی نکات کو نظرانداز کرکے صرف ایک “دلچسپ” پہلو پکڑ لیا۔ شاید پوری تحریر پڑھنے کے بجائے آپ کی توجہ صرف گپ شپ والے حصے پر رہی۔
ایڈمن سے بھی گزارش ہے کہ ایسے تبصرے کو moderate کیا جائے۔ میں نے یہ تحریر ایک ادبی نہیں بلکہ intellectual اور human rights risk لیتے ہوئے لکھی ہے۔ کم از کم اتنی حساسیت ضرور ہونی چاہیے کہ تحریر کے اصل انسانی اور فکری مدعا کو ایک غیر متعلقہ قیاس اور گپ شپ میں تبدیل نہ کیا جائے۔