کاچھو اور ماچھکو کے ناموں کی قدامت

میں نے اپنے مضامین اور کتب میں کاچھو کے نام کی لغت کے مطابق تشریح اور اس کا تجزیہ کیا ہے۔ لفظ کاچھو، سندھی زبان کے ”کَچھ“ سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی ”بغل“ کے ہیں۔ کیرتھر پہاڑی سلسلے کے بغل میں یا کنارے واقع صحرائی زمین کو روایتی طور پر کاچھو کہا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح بدھ مت کی مذہبی متوں کی پالی زبان کی لغات میں بھی کَچَھ یعنی بغل (Kacch / Kaccho) ہے۔ اس کے معنی ”بغل“ کے ساتھ ساتھ ”نچلی، نرم، دلدلی زمین، صحرائی، میدان“ کے بھی ملتے ہیں جو دریا کے کناروں کے ساتھ واقع ہوتی ہے۔ دوسرے لحاظ سے، کاچھو/ کچو کا خطہ نرم، نچلا اور کیچڑ آلود علاقہ ہے۔
مزید وضاحت کے ساتھ، یہ اصطلاح سندھ دریا کے مغربی کنارے اور کیرتھر کے مرکزی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع اس میدانی علاقے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو دریا کے سیلاب اور پہاڑوں سے بہنے والے پانی کی ندیوں کی وجہ سے زیرِ آب یا دلدلی ہو جاتا ہے۔ تاریخی طور پر دریائے سندھ کے مغربی کنارے سے پہاڑی سلسلے تک دو علاقے تھے ایک کچو (دریا کا کنارہ) دوسرے علاقے کو کاچھو کہا جاتا تھا۔ 1932 میں بیراجوں اور نہری نظام کی تعمیر کے بعد اس خطے کو مقامی طور پر تین حصوں میں نام دیا گیا:
کچو (دریا کنارے زمین)
پکو (بیراج یا نہروں کے ذریعے ترقی یافتہ زمین)
اور کیرتھر کے کنارے واقع صحرائی علاقہ، جو بدستور کاچھو کہلاتا رہا۔
بدھ مت کی لغات میں لفظ ماچھکو (Machhako) کو اکثر ”مچھلی“ کے معنی میں بیان کیا گیا ہے، جو دراصل ایک غلط فہمی معلوم ہوتی ہے۔ پالی لغات میں مچھلی کے لیے الفاظ مِنَ (دراوڑی اور پروٹو۔ دراوڑی زبانوں کا لفظ) اور مچھی (Macchi) استعمال موجود ہیں۔ سندھی یا اردو زبان میں لفظ مچھکو کی ادائیگی ماچھکو کے طور پر ہو گی۔ ابتدائی انگریز اور بدھ مت کے لغت نویس کاچھو اور ماچھکو کی علاقائی معنویت سے ناواقف تھے۔ اس لیے انہوں نے مغالطے سے کام لیا۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع ماچھکو میں سولنگی برادری خود کو ماچھی سولنگی کہتی ہے۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ماچھکو کا ایک برتن بیچنے والا میرے گاؤں آیا اور دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ اس کی برادری یا قبیلے کا نام ماچھی سولنگی ہے۔ میں نے اسے واضح کیا کہ درست ذات، برادری، یا قبیلے کا نام صرف سولنگی یا سولنکی ہے۔
اس سے قبل میں نے کاچھو کی قدامت کو کلہوڑا دور تک ثابت کیا تھا، جس کی بنیاد کلہوڑا عہد کے شاعر شاہ عنایت رضوی نصرپوری کے اس شعر پر ہے :
”نسریو نصیر، کاچھو کوڑی (چھاتی) میں کری۔“
تاہم کاچھو (سندھ میں ) اور ماچھکو (پنجاب، پاکستان میں ) کے ناموں کی اب قدامت کو کم از کم 500 قبل مسیح تک لے جانا چاہیے، یعنی وہ دور جب گوتم بدھ نے اپنی تعلیمات پیش کیں۔ ان کے دھرم میں کاچھو اور ماچھاکو کا ذکر ملتا ہے، جو ان کی ہدایت کے مطابق پالی زبان میں، جو عام لوگوں کی بول چال کی زبان تھی اور اس میں قلم بند کیا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ نام بدھ دھرم کے عہد سے بھی پہلے رائج ہوں۔
