میرے مطابق

ٹھل میر رکن: بدھ مت کا اہم آثار

Aziz Kingrani

ٹھل سندھی زبان میں اسٹوپا (Stupa) کو کہتے ہیں۔ اسٹوپا بدھ مت کی عبادت گاہ ہے۔ بدھ مت سندھ کے علاوہ گندھارا تہذیب کے علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ موریہ خاندان کے اشوکا یا اسوکا کے دور میں سندھ میں بدھ مت بڑے پیمانے پر پھیلا۔ سندھ میں ساتویں صدی عیسوی تک بدھ مت عروج پر تھا۔ کچھ محققین 11 صدی عیسوی تک بدھ مت سندھ میں رہا۔ اس وجہ سے سندھ میں سیکڑوں ٹھل تعمیر کیے گئے جن میں ٹھل میر رکن منفرد اور اہم ہے۔

ٹھل میر رکن موجود ضلع بینظیر آباد (نواب شاہ) کی تحصیل سکرنڈ کے شہر دولت پور صفن سے مشرق۔جنوب میں 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ٹھل میر رکڻ پر یہ نام کیسے پڑا اس سلسلے میں کوئی مستند تاریخ یا کوئی باوثوق روایت نہیں ملتی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح سندھ میں دوسرے ٹھلوں پر اسلامی دور میں قریبی گاؤں کے ناموں کے لحاظ سے ٹھلوں پر نام پڑے۔ سندھ میں کچھ گاؤں کے نام ہی ٹھل ہیں۔ اسی طرح اس ٹھل پر بھی میر رکن نامی شخص کے لحاظ سے ٹھل میر رکن کہلایا ہو گا۔ سندھ میں رُک ذات بھی ہے اور رُکن گاؤن اور علاقوں کے نام بھی ہیں۔

Thul Mir Rukan

مورخین کا خیال ہے کہ کشان دور سے پہلے 200 صدی ق۔ م سے 1100 عیسوی کے درمیان سندھ میں دوسرے ٹھلوں کے ساتھ ٹھل میر رکن تعمیر ہوا۔ لیکن اس کی طرز تعمیر دوسرے ٹھلوں اسٹوپا کی تعمیر سے منفرد ہے۔ سندھ میں یہ واحد اسٹوپا ہے جسے کسی حد تک مکمل اسٹوپا کہا جا سکتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا سندھیانا کے مطابق، مسٹر گِبس (Gibbs) لکھتے ہیں کہ ”یہ کھنڈر دور سے ہی دل کش اور دل موہ لینے والے نظر آتے ہیں، ریلوے لائن کے قریب واقع ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ دیگر اسٹوپاؤں کے ٹیلوں کی اینٹوں اور پتھروں کی طرح اس اسٹوپا کی اینٹیں بھی ریلوے لائن بچھانے میں ٹھیکے داروں نے استعمال کی ہوں گی۔ اس ٹیلے کی مضبوط اور گول ساخت ہے جو آہستہ آہستہ اوپر کی جانب پتلی ہوتی جاتی ہے اور اس کی بلندی تقریباً 60 فٹ ہے۔

ٹھل کی بیرونی ساخت عمدہ پکی اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس ٹیلے کی تعمیر میں مربع بنیادوں کی تین قطاریں ہیں جو ایک دوسرے کے اوپر نیچے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے نیچے پورا بالائی حصہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا جس کی مرمت محکمۂ ثقافت سندھ نے کرائی ہے۔ اس ٹیلے کے چاروں طرف اب بھی بنیادوں کے کچھ حصے زمین کی سطح سے نیچے محفوظ نظر آتے ہیں۔ ان بنیادوں کے اوپر تاج اور تاج کے اوپر کارنیس لگائے گئے ہیں، جو سب خوب صورت تراشی ہوئی اینٹوں سے بنائے گئے ہیں، جن پر گل کاری اور دیگر اقسام کی نقش و نگاری کی گئی ہے۔ بنیادوں پر لگے تاج میں استعمال ہونے والی اینٹیں سانچوں میں ڈھالی گئی نہیں بلکہ تراشی ہوئی ہیں، جن کے کنارے آج بھی تیز اور باریک ہیں۔ اسی ایک ہی قطار کے کام میں کہیں بہترین قسم کی گل کاری والی اینٹیں سانچوں میں ڈھالی ہوئی بھی نظر آتی ہیں۔ بنیادوں کے گرد اینٹوں اور مٹی کا ڈھیر ہے جو زمین سے دس فٹ اونچا ہے اور اسٹوپا کی بنیادوں سے جڑا ہوا ہے۔

یہاں سے مہاتما گوتم بدھ کی کئی پکی ہوئی مورتیاں ملتی رہی ہیں۔ ایک مقامی انجینئر نے کھدائی کرواتے ہوئے بدھ کی کئی مورتیاں دریافت کی تھیں، جن میں مہاتما بدھ کی پیدائش کا منظر دکھایا گیا تھا۔ ایک مورتی میں وہ اپنی ماں کے پہلو میں درخت کے نیچے لیٹے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ دوسری مورتی میں وہ نیند میں سوئی ہوئی اپنی اہلیہ کو الوداع کہہ رہے ہیں۔ یہ پکی مٹی کی مورتیاں زیادہ مہارت سے ڈھالی ہوئی تھیں اور ان کا سائز 6 یا 7 انچ مربع تھا۔

Thul Mir Rukan repaired

مسٹر جی۔ گِبس، مسٹر بارٹل فریئر اور مسٹر شاسٹوئرٹ کے ساتھ اس اسٹوپا کی کھدائی کے لیے آئے تھے، جسے انہوں نے ”رُکّن کا ٹھل“ لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے پہلے ہی بنیاد صاف کرنے کے لیے آدمی بھیج دیے تھے جو نیچے سرنگیں کھودتے گئے تاکہ تبرک تک پہنچ سکیں۔ شام کے وقت میں ایک عام سیڑھی کے ذریعے ٹیلے کے اوپر چڑھنے میں کامیاب ہوا اور دیکھا کہ لوگوں نے آٹھ فٹ گہری کھدائی کر لی تھی۔ 27 فروری 1852 ء کو ہم نے ٹیلے کے قریب کیمپ لگایا اور مزدور بغیر کسی چیز کے ملے نیچے کی سطح تک پہنچ چکے تھے۔ یہ ٹھل مربع طرز کا ایک عام نمونے کا تھا۔ اس میں استعمال ہونے والے پتھر دور دراز علاقوں سے لائے گئے تھے۔ جب مربع بنیادیں ظاہر ہوئیں تو ان کے ہر ایک پہلو کی پیمائش 66 فٹ تھی۔

سندھ گزٹئیر کے صفحہ نمبر 638 پر درج ہے کہ اس ٹیلے کی کھدائی جنرل جان جیکب کی نگرانی میں ہوئی تھی۔ اس زمانے میں وہ سندھ کے قائم مقام کمشنر تھے، مگر انہیں یہاں سے کوئی خاص دلچسپی کی چیز حاصل نہ ہوئی۔ اس ٹھل میں بیرونی جانب سے ایک متوازی سرنگ بھی کھودی گئی تھی۔ تقریباً 1978ء میں سکرنڈ کے ادیبوں کو اس اسٹوپا کے بالائی حصے سے گری ہوئی ایک اینٹ ملی تھی جس پر بدھ کی تصویر کندہ تھی۔ یہ اینٹ کئی برسوں تک سکرنڈ کی ایک لائبریری میں محفوظ رہی، لیکن رفتہ رفتہ اسے تھور لگتا گیا۔ بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ ٹھل سندھ میں بدھ مت کا ایک اہم آثار ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
عارف احمد
عارف احمد
7 months ago

good info

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW