کولی کا آئینہ: میں وہی ہوں جو تم سمجھتے ہو؟

ہم وہی ہیں جو ہمیں لگتا ہے کہ دوسرے ہمیں سمجھتے ہیں۔ چارلس ہارٹن کولی کا ایک نہایت گہرا سماجی نظریہ ہے جسے ”Looking۔ Glass Self“ یعنی ”آئینے میں دکھائی دینے والی ذات“ کہا جا سکتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق انسان اپنی شخصیت اور اپنی قدر و قیمت کا تصور صرف اپنے اندر سے نہیں بناتا، بلکہ اس بات سے بھی متاثر ہوتا ہے کہ اسے لگتا ہے دوسرے لوگ اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، انسان اپنے آپ کو ایک ایسے آئینے میں دیکھتا ہے جو دراصل دوسرے انسانوں کی نگاہوں، رویوں، تبصروں اور توقعات سے بنا ہوتا ہے۔
کولی سے منسوب مشہور جملہ ہے :
”میں وہ نہیں ہوں جو میں اپنے بارے میں سوچتا ہوں، نہ وہ جو تم میرے بارے میں سوچتے ہو؛ میں وہ ہوں جو میں سمجھتا ہوں کہ تم میرے بارے میں سوچتے ہو۔“
یہ خیال بظاہر سادہ ہے، لیکن اگر اسے غور سے دیکھا جائے تو یہ ہماری روزمرہ زندگی، خاندانی تعلقات، دفتری ماحول، سیاست، سوشل میڈیا اور حتیٰ کہ ہماری کامیابی اور ناکامی کے تصور تک کو سمجھنے کی ایک طاقتور کنجی بن جاتا ہے۔ بچپن ہی سے انسان دوسروں کی نظروں میں اپنا عکس دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ اگر ایک بچے کو بار بار کہا جائے کہ وہ ذہین ہے، باصلاحیت ہے اور محنت کر سکتا ہے تو اس کے اندر اعتماد پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر اسے مسلسل ناکام، نکما یا دوسروں سے کمتر کہا جائے تو وہ رفتہ رفتہ اپنے بارے میں بھی یہی تصور قائم کر سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کبھی کبھی دوسرے لوگ حقیقت میں ہمارے بارے میں ایسا نہیں سوچ رہے ہوتے، مگر ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہمیں کمتر سمجھتے ہیں، اور ہم اسی تصور کے مطابق اپنا رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔
مثلاً ایک طالب علم کلاس میں سوال پوچھنے سے ڈرتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اگر اس نے غلط سوال کر دیا تو باقی طلبہ اس کا مذاق اڑائیں گے۔ ممکن ہے حقیقت میں کوئی اس کا مذاق نہ اڑائے، لیکن اس کا تصور اسے خاموش رہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یوں وہ دوسروں کی حقیقی رائے سے زیادہ دوسروں کی متوقع رائے کا قیدی بن جاتا ہے۔ یہی صورتحال بالغ زندگی میں بھی جاری رہتی ہے۔ بہت سے لوگ اپنی پسند کے مطابق کپڑے نہیں پہنتے بلکہ اس لیے پہنتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ کئی نوجوان اپنے کیریئر کا انتخاب اپنی صلاحیت اور دلچسپی کے بجائے خاندان اور معاشرے کی توقعات کے مطابق کرتے ہیں۔ بعض لوگ ایک ایسی شادی، ملازمت یا طرزِ زندگی جاری رکھتے ہیں جس میں وہ خوش نہیں ہوتے، صرف اس خوف سے کہ معاشرہ انہیں ناکام سمجھ لے گا۔
ہمارے معاشرے میں ”لوگ کیا کہیں گے؟“ شاید کولی کے نظریے کی سب سے عام عملی مثال ہے۔ آج سوشل میڈیا نے اس ”آئینے“ کو کئی گنا بڑا کر دیا ہے۔ پہلے انسان چند درجن یا چند سو لوگوں کی رائے سے متاثر ہوتا تھا، آج وہ بیک وقت ہزاروں لوگوں کی نگاہوں کا تصور کرتا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز نے انسان کو مسلسل ایک ایسے ماحول میں رکھ دیا ہے جہاں ہر شخص اپنی زندگی دوسروں کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ یہاں ایک عجیب تضاد پیدا ہوتا ہے۔ ہم اپنی زندگی دوسروں کو دکھانے کے لیے جیتے ہیں اور پھر دوسروں کی زندگی دیکھ کر اپنی زندگی کا موازنہ کرنے لگتے ہیں۔
کسی کی نئی گاڑی دیکھ کر ہمیں اپنی پرانی گاڑی معمولی لگنے لگتی ہے۔ کسی کی بیرونِ ملک سیر کی تصاویر دیکھ کر اپنی زندگی پھیکی محسوس ہونے لگتی ہے۔ کسی کی ترقی کی پوسٹ دیکھ کر ہمیں اپنی کامیابیاں بھی کم نظر آنے لگتی ہیں۔ حالانکہ ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ تصویر کے پیچھے اس شخص کی حقیقی زندگی کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اکثر زندگی نہیں بلکہ زندگی کا منتخب کردہ نمونہ دکھایا جاتا ہے۔
یہاں کولی کے نظریے کا ایک اہم تنقیدی پہلو سامنے آتا ہے : اگر ہماری ذات دوسروں کے تصور سے بہت زیادہ تشکیل پانے لگے تو ہم اپنی اصل شخصیت کھو سکتے ہیں۔
ایک شخص اگر ہر فیصلہ اس بنیاد پر کرے کہ لوگ اسے کیسے دیکھیں گے تو بظاہر کامیاب ہونے کے باوجود اندر سے غیر مطمئن رہ سکتا ہے۔ وہ اچھا گھر بناتا ہے تاکہ لوگ متاثر ہوں، مہنگی گاڑی خریدتا ہے تاکہ سماجی حیثیت ظاہر ہو، عہدے کو اپنی شناخت بنا لیتا ہے اور بعض اوقات نیکی بھی اس لیے کرتا ہے کہ لوگ اسے نیک سمجھیں۔ یہ مسئلہ صرف فرد تک محدود نہیں۔ ہماری سیاست میں بھی اس کے اثرات نمایاں ہیں۔ بہت سے لوگ پالیسی یا کارکردگی کے بجائے اس بنیاد پر سیاسی موقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کا گروہ انہیں کس نظر سے دیکھے گا۔ نتیجتاً انسان کبھی کبھی حقیقت کے بجائے اپنے گروہی آئینے کا دفاع کرنے لگتا ہے۔ اگر اس کا پسندیدہ سیاسی رہنما غلطی کرے تو وہ اسے تسلیم کرنے کے بجائے اس غلطی کا دفاع شروع کر دیتا ہے، کیونکہ اسے خوف ہوتا ہے کہ شاید ایسا کرنے سے اس کے اپنے لوگ اسے غدار، کمزور یا مخالف سمجھیں گے۔
دفتری زندگی میں بھی یہی نفسیات کام کرتی ہے۔ بعض افسر فیصلے اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ ان کے ماتحت یا اعلیٰ افسر انہیں کیسے دیکھیں گے۔ بعض ملازمین اپنی رائے اس لیے نہیں دیتے کہ کہیں باس ناراض نہ ہو جائے۔ یوں اداروں میں ایک ایسا ماحول پیدا ہو سکتا ہے جہاں لوگ حقیقت بیان کرنے کے بجائے وہ بات کرتے ہیں جو انہیں لگتا ہے کہ دوسرے سننا چاہتے ہیں۔ لیکن کولی کے نظریے کو یہ سمجھ کر قبول نہیں کیا جا سکتا کہ انسان مکمل طور پر دوسروں کی رائے کا غلام ہے۔ انسان میں خود احتسابی، شعور اور تنقیدی سوچ کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہو گا کہ دوسروں کی رائے کو سنیں، مگر اپنی شناخت اس کے حوالے نہ کریں۔
ایک متوازن انسان یہ جانتا ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف آراء رکھتے ہیں، اور ان تمام آراء کو خوش کرنا ممکن نہیں۔ آج جو شخص آپ کی تعریف کر رہا ہے، کل وہ تنقید بھی کر سکتا ہے۔ اگر ہماری خودی ہر تعریف سے بلند اور ہر تنقید سے پست ہوتی رہے تو ہماری شخصیت کبھی مستحکم نہیں ہو سکتی۔ اصل آزادی شاید یہی ہے کہ انسان دوسروں کے آئینے کو دیکھے ضرور، مگر اپنی اصل شکل پہچاننے کے لیے صرف اسی آئینے پر انحصار نہ کرے۔
کولی کا نظریہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہماری شخصیت کا کتنا حصہ واقعی ہمارا اپنا ہے اور کتنا حصہ معاشرے، خاندان، دوستوں، اداروں اور سوشل میڈیا نے ہمارے اندر تشکیل دیا ہے۔ شاید سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ”لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟“ بلکہ یہ ہے کہ:
”اگر دنیا کے لوگ میرے بارے میں کچھ بھی نہ سوچیں تو میں اپنی زندگی کس طرح گزارنا چاہوں گا؟“
یہ سوال ہمیں معاشرتی آئینے سے نکال کر خود شناسی کی طرف لے جاتا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان پہلی بار دوسروں کی نظر سے نہیں، بلکہ اپنی حقیقت کی نظر سے خود کو دیکھنا شروع کرتا ہے۔
