میری ہمسفر کے نام۔ ایک اعترافِ محبت

زندگی میں بعض کتابیں صرف کہانیاں نہیں سناتیں بلکہ انسان کے دل میں ہمیشہ کے لیے ایک احساس چھوڑ جاتی ہیں۔ ہمارے کالج کے زمانے میں انٹرمیڈیٹ کے انگلش نصاب میں جیمز ہلٹن کا شہرۂ آفاق ناول Goodbye, Mr Chips شامل تھا۔ اگرچہ آج اس ناول کی بہت سی تفصیلات ذہن میں نہیں رہیں، لیکن مسٹر چپس کے اپنی اہلیہ کیتھرین کے بارے میں جذبات آج بھی یاد ہیں۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ جب تک کیتھرین ان کے ساتھ ہے، انہیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ اس کی محبت، رفاقت اور موجودگی ہی ان کے لیے دنیا کی سب سے بڑی دولت تھی۔ اس کے بعد دنیا کی آسائشیں، شہرت اور مادی کامیابیاں سب ثانوی حیثیت اختیار کر گئی تھیں۔
الحمدللہ، اپنی ازدواجی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے بھی یہی احساس ہوتا ہے۔ میرے لیے میری رفیقۂ حیات اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی رفاقت، محبت اور اعتماد میرے لیے ہر مادی آسائش سے بڑھ کر ہے۔ ہماری شادی کو تقریباً بارہ سال ہو چکے ہیں۔ ان برسوں میں ہم نے خوشیوں، آزمائشوں، کامیابیوں اور مشکلات کا سفر ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر طے کیا ہے۔ معمولی سی نوک جھونک ہر گھر میں ہوتی ہے، لیکن کبھی کوئی ایسی رنجش پیدا نہیں ہوئی جس نے ہمارے تعلق کی بنیادوں کو ہلا دیا ہو۔ اس پر میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں، کم ہے۔
چند روز قبل پاکستان ٹوڈے میں اسلام آباد کی فیملی کورٹس سے متعلق ایک رپورٹ پڑھنے کا موقع ملا۔ اس کے مطابق دارالحکومت میں روزانہ سینکڑوں خاندانی مقدمات دائر ہو رہے ہیں، جن میں طلاق، خلع، نان و نفقہ، بچوں کی تحویل اور دیگر ازدواجی تنازعات شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض قانونی مقدمات نہیں بلکہ بکھرتے ہوئے گھروں، پریشان بچوں اور ٹوٹتے ہوئے اعتماد کی داستان بھی ہیں۔ ان مقدمات کی وجوہات میں معاشی مشکلات، بے روزگاری، منشیات، عدم برداشت اور باہمی اختلافات نمایاں ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے شادی کو ایک مقدس رشتہ کم اور ایک سماجی یا معاشی منصوبہ زیادہ بنا دیا ہے۔ نمود و نمائش، غیر حقیقی توقعات، انا، ضد اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی خواہش نے اس خوبصورت رشتے کی مٹھاس کم کر دی ہے۔
قرآن مجید میاں بیوی کے تعلق کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے :
”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔“ (سورۃ الروم: 21 )
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ شادی کا اصل مقصد صرف ایک ساتھ رہنا نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے سکون، محبت اور رحمت بن جانا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
”وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔“ (سورۃ البقرہ: 187 )
لباس انسان کی حفاظت کرتا ہے، اس کے عیب چھپاتا ہے اور اسے زینت بخشتا ہے۔ یہی رشتہ میاں بیوی کا بھی ہونا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے محافظ، رازدار اور سہارا بنیں، نہ کہ ایک دوسرے کے ناقد اور مخالف۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔“ (جامع ترمذی)
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ کسی انسان کی اصل عظمت اس کے عہدے، دولت یا شہرت سے نہیں بلکہ اس کے گھر کے اندر اس کے اخلاق سے پہچانی جاتی ہے۔
میری اپنی شادی میں بھی ارینج اور پسند، دونوں عناصر موجود تھے۔ تعلیم، عمر، تجربے اور ذہنی پختگی کے اعتبار سے شاید ہماری مطابقت بہت کم تھی، لیکن باہمی احترام، اعتماد اور برداشت نے ان تمام فرقوں کو کبھی مسئلہ نہیں بننے دیا۔ اگر آج ہمارے عزیز و اقارب ہمیں ایک خوشحال جوڑا سمجھتے ہیں تو اس میں میری اہلیہ کا کردار بہت نمایاں ہے۔
میری طبیعت نسبتاً جذباتی اور کبھی کبھار غصے والی رہی ہے، لیکن انہوں نے ہمیشہ معاملہ فہمی سے کام لیا۔ انہوں نے کبھی اختلاف کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا، نہ ہی تلخ لہجے سے جواب دیا۔ اکثر ان کی خاموشی، مسکراہٹ یا نرم گفتگو وہ کام کر جاتی ہے جو لمبی بحثیں بھی نہیں کر سکتیں۔ اس سے مجھے بھی اپنی اصلاح کا موقع ملا اور گھر کا ماحول ہمیشہ خوشگوار رہا۔
شادی کے فوراً بعد جب انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی تو میں نے پوری خوشی سے ان کا ایک اچھی نجی یونیورسٹی میں داخلہ کروایا۔ میری ہمیشہ یہی سوچ رہی کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی ترقی کا راستہ بنیں، رکاوٹ نہیں۔ جب ایک شریکِ حیات آگے بڑھتا ہے تو دراصل پورا خاندان آگے بڑھتا ہے۔
ہماری کوشش رہی کہ بچوں کی تربیت صرف کتابوں تک محدود نہ رہے۔ ہم نے انہیں پاکستان کے مختلف علاقوں کی سیر کروائی تاکہ وہ مختلف ثقافتوں، زبانوں اور لوگوں کو سمجھ سکیں۔ میرا یقین ہے کہ وسیع مشاہدہ انسان کو برداشت، احترام اور مثبت سوچ سکھاتا ہے۔
میری اہلیہ کی سب سے بڑی خوبی ان کی سادگی، عاجزی اور تعلق نبھانے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے ہمیشہ میرے والدین اور خاندان کے بزرگوں کی خدمت کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔ میری مرحوم والدہ انہیں اپنی بیٹیوں کی طرح چاہتی تھیں، اور یہ ان کی خدمت، احترام اور محبت کا ہی نتیجہ تھا۔ انہوں نے کبھی رشتوں کو نفع و نقصان کے ترازو میں نہیں تولا بلکہ ہمیشہ محبت کو ترجیح دی۔
گھر کے معاملات میں بھی وہ اعتدال پسند ہیں۔ فضول خرچی سے بچتی ہیں، بچت کو اہمیت دیتی ہیں اور کبھی غیر ضروری مطالبات نہیں کرتیں۔ میرے معمولی سے تحفے پر بھی ان کی خوشی میرے لیے کسی قیمتی انعام سے کم نہیں ہوتی۔ انہوں نے ہمیشہ میرے آرام اور بچوں کی خوشی کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھا۔ یہی ایثار کسی بھی گھر کو گھر بناتا ہے۔
میں بھی پوری کوشش کرتا ہوں کہ میری وجہ سے انہیں کبھی دکھ نہ پہنچے۔ اگر مصروفیات کی وجہ سے گھر آنے میں دیر ہو جائے تو انہیں اعتماد کے ساتھ آگاہ کرتا ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ کامیاب شادی کی بنیاد محبت کے ساتھ ساتھ اعتماد اور کھلی گفتگو پر بھی قائم ہوتی ہے۔
آج جب معاشرے میں طلاقوں اور خاندانی تنازعات میں اضافہ ہو رہا ہے تو شاید ہمیں نئے فلسفے ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ پرانی اقدار کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے ؛ برداشت، معافی، احترام، شکرگزاری، قناعت اور ایک دوسرے کی خامیوں سے درگزر کرنا۔ کوئی بھی انسان کامل نہیں ہوتا، لیکن دو مخلص انسان ایک خوبصورت گھر ضرور بنا سکتے ہیں۔
میری نظر میں کامیاب شادی کے چند بنیادی اصول یہ ہیں : اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق، ایک دوسرے کا احترام، اختلاف میں بھی شائستگی، انا کے بجائے محبت کو ترجیح دینا، مالی معاملات میں اعتدال، بچوں کی مشترکہ تربیت، خاندانوں کا احترام، اور ہر حال میں شکرگزاری۔
آخر میں میں اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے ایسی رفیقۂ حیات عطا فرمائی جو صرف میری شریکِ زندگی ہی نہیں بلکہ میری بہترین دوست، میرے بچوں کی بہترین ماں، میرے دکھ سکھ کی ساتھی اور میرے گھر کے سکون کا سبب ہیں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری رفاقت کو ہمیشہ محبت، رحمت اور برکت کے سائے میں قائم رکھے، ہمیں ایک دوسرے کے لیے باعثِ سکون بنائے، ہماری اولاد کو نیک، صالح اور باکردار بنائے، اور ہر گھر کو محبت، اعتماد اور رحمت کا گہوارہ بنا دے۔ آمین۔
اگر اس تحریر سے کوئی نوجوان یا شادی شدہ جوڑا یہ سیکھ سکے کہ ایک کامیاب ازدواجی زندگی دولت، شہرت یا ظاہری آسائشوں سے نہیں بلکہ محبت، برداشت، احترام اور ایثار سے بنتی ہے، تو یہی میرے لیے اس تحریر کا سب سے بڑا انعام ہو گا۔
