میرے مطابق

الوداع پاپا جان! ایک عہد کا خاتمہ

ایک بلند پایہ شاعر اور انصاف کا متلاشی خاموش ہو گیا۔ میرے والدِ محترم، پروفیسر قاضی عارف حسین ایڈووکیٹ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک بلند پایہ شاعر، بااصول انسان اور صبر و استقامت کا پیکر تھے۔ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ انصاف کے حصول کی نذر ہو گیا۔ وہ 30 سال تک عدالتوں کی راہداریوں میں انصاف کی تلاش میں سرگرداں رہے، اور بالآخر عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ تو دیا، مگر افسوس کہ اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوسکا اگر ہمارا عدالتی نظام بروقت انصاف فراہم کرتا، تو آج قاضی عارف حسین صاحب کا شمار ملک کے صفِ اول کے شعراء میں ہوتا۔ مگر نظامِ عدل کی سستی نے نہ صرف ان کا وقت چھینا، بلکہ اردو ادب کو بھی ایک بہترین تخلیق کار سے محروم کر دیا۔

ان کی شاعرانہ صلاحیتیں اس طویل قانونی جنگ کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں سکونِ ابدی عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ والد صاحب کی تمام لغزشوں کو معاف فرمائے، ان کی برسوں کی بے چینی کو قبر میں سکون میں بدل دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

30 سال کا صبر۔ انصاف کی جیت۔ مگر زندگی ہار گئی۔

کاش کہ یہ نظام آپ کی قدر کر پاتا اور آپ کا قلم عدالتوں کے چکروں کے بجائے ادب کی آبیاری کرتا۔ آپ کی جدوجہد ہمارے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ انہوں نے اپنے آخری وقت میں بھی قلم سے اپنا رشتہ جوڑے رکھا۔ ایک شاعر کے لیے اس کے آخری اشعار اس کی زندگی کا نچوڑ ہوتے ہیں

ان کی زندگی صبر اور استقامت کی ایک داستان تھی۔ کاش کہ ہمارا عدالتی نظام اتنا بے حس نہ ہوتا، تو وہ اپنی بے پناہ شاعرانہ صلاحیتوں سے اردو ادب کو کئی شاہکار دے کر جاتے۔

اپنی وفات سے چند روز قبل، 19 جنوری کو انہوں نے اپنے لرزتے ہاتھوں سے زندگی کے آخری اشعار تحریر کیے۔ یہ اشعار محض الفاظ نہیں، بلکہ ان کے اس تمام سفر، کرب اور ان کے بلند پایہ ذوقِ سخن کی آخری یادگار ہیں۔ ان کے لکھے ہوئے وہ آخری حروف آج ہمارے پاس ان کی امانت اور ان کی زندگی کا خلاصہ ہیں۔

یہ اشعار پڑھ کر دل بھر آیا۔ مدینہ منورہ کی تڑپ اور نصیب بدلنے کی یہ دعا ان کے پاکیزہ جذبات کی عکاس ہے۔ سبحان اللہ، کتنا خوبصورت کلام کاش کہ ہمارا عدالتی نظام انہیں بروقت انصاف دے پاتا، تو اردو ادب ان سے اور بھی بہت کچھ پاتا۔ پروفیسر قاضی عارف حسین صرف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ اردو ادب کے ایک عظیم محسن بھی تھے۔ انہوں نے نامور شاعر سبطِ علی صبا کے مجموعہ کلام ”طشتِ مراد“ کو نہ صرف شائع کیا بلکہ اسے دنیا بھر میں روشناس کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی ادب پروری کی ایک مثال وہ مشہورِ زمانہ سبطِ علی صبا شعر بھی ہے جو ان کی اپنی زندگی کی عکاسی بھی کرتا رہا:

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

وفات سے چند روز قبل، 19 جنوری کو انہوں نے اپنے لرزتے ہاتھوں سے ڈائری پر زندگی کے آخری اشعار لکھے، جو اب ہماری زندگی کا کل سرمایہ ہیں :

دور سے جب مدینہ نظر آئے گا
زندگی کا قرینہ بدل جائے گا
پوری میری تمنا بھی ہو جائے گی
پھر تو میرا نصیب بدل جائے گا

کتنی عجیب بات ہے کہ یہاں وہ زمینی عدالتوں سے اپنے نصیب کی تبدیلی کا انتظار کرتے رہے، لیکن ان کی روح مدینے کے والی ﷺ کے دربار کی منتظر تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کے ان آخری الفاظ کی لاج رکھے، ان کے نصیب کو جنت الفردوس میں بدل دے اور انہیں اپنے حبیب ﷺ کے جوار میں جگہ عطا فرمائے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Kamran Sarfaraz Baig
Kamran Sarfaraz Baig
6 months ago

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہقاضی عارف حسین صاحب کے درجات بلند فرمائے- آمین

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW