کالم۔

پاکستان۔ سسٹم کی خرابی یا نیت کا فتور

ali ahmad jan

قومی ریاست کا تصور اتنا پرانا نہیں۔ یہ جدیدیت کے ساتھ ہی ظہور پذیر ہوا جب قبائلیت اور جاگیردارانہ سماج کے خاتمے کا آغاز ہوا۔ اس سے قبل طاقت کی بنیاد پر زمین اور لوگوں پر حکومت کی جاتی تھی جس میں لوگوں کی خود مختاری، حق خود ارادیت اور آزادی کا کوئی تصور نہیں تھا۔

ایک جدید قومی ریاست سرزمین، آبادی، خود مختار حکومت، اور مشترکہ قومی شناخت کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے، جس میں خود مختاری اور حق خود ارادیت پر زور دیا جاتا ہے۔ حکمرانی ایک ضابطے اور قانون کے تحت ہوتی ہے۔ اس کی ابتدا ویسٹ فالیا کے 1648 ء کے امن معاہدے سے ہوئی جس نے علاقائی خود مختاری کا اصول قائم کیا۔ انقلابِ فرانس اور صنعتی انقلاب نے اس تصور کو مزید توانائی بخشی، اور عالمگیر جنگوں کے بعد نوآبادیاتی نظام کے خاتمے پر یہ تصور دنیا بھر میں پھیل گیا۔ ایک قومی ریاست کی بنیاد ایک مخصوص علاقے پر کھڑی ہوتی ہے جہاں فیصلہ سازی کا اختیار عوام کو حاصل ہوتا ہے، جو ریاست کے اندرونی اور بیرونی امور میں آزادانہ فیصلے کرتے ہیں اور سب کو یکساں انصاف ملتا ہے۔ قومی ریاست کا تصور ریاستی امور میں عوام کی شرکت سے ہی مکمل ہوتا ہے، جو جمہوری نظامِ حکومت کو تشکیل دیتا ہے۔

ہمارے ہاں بھی دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح طاقت کے زور پر حکومت کی جاتی تھی۔ مغل اور دیگر مقامی شخصی حکمران تیر اور تلوار کی طاقت کی بنیاد پر قابض تھے، اور جب انگریز بندوق اور بارود لے کر آئے تو وہ ان سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئے۔ شخصی حکومت حکمران سے وفاداری کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے، اور یہی اصول انگریزوں نے بھی اپنایا۔ فرق صرف یہ تھا کہ انگریزوں نے ایک کمپنی بنائی تھی جو مال و دولت کو برطانیہ لے جانے اور شراکت داروں میں تقسیم کرنے کی ایک قانونی مجبوری کے تحت کام کرتی تھی۔ برصغیر کے عوام پر کمپنی بہادر سے وفاداری لازم تھی، اور بعد میں جب یہی کمپنی تاجِ برطانیہ نے سنبھال لی تو وفاداری تاجِ برطانیہ سے مشروط ہو گئی۔

انگریزوں کے خلاف مزاحمت بھی مغلوب حکمرانوں نے ہی کی۔ عوامی حقِ حکمرانی کے کسی تصور کی غیر موجودگی میں، اس مزاحمت میں شامل ہونے والے عام لوگ بھی حقِ حاکمیت انہی حکمرانوں کا سمجھتے تھے۔ آج بھی ہماری تاریخ انگریز استعمار کے مقابلے میں بہادر شاہ ظفر اور ٹیپو سلطان سمیت مقامی راجاؤں اور سلاطین کو ہی جائز حکمران سمجھتی ہے، جبکہ یہ حکمران اپنے مذہب، قبیلے یا ذات برادری سے باہر کے افراد کے ساتھ انگریز استعمار سے کہیں زیادہ متعصب اور جابر تھے۔

ہمارے ہاں بنیادی حقوق کا تصور بھی مغرب کی نشاۃِ ثانیہ کے ساتھ ہی آیا۔ جب مغرب میں صنعتی انقلاب کے ساتھ دورِ جدیدیت کا آغاز ہوا تو بادشاہ اور مذہب کے اختیار پر سوال اٹھے، اور عوامی حق اور یکساں انصاف کے تصور نے جنم لیا۔ برصغیر میں 1860 ء میں لوگوں کو حقِ انجمن سازی ملا، اور بعد میں اپنے امور چلانے کے لیے بلدیاتی اداروں میں منتخب نمائندوں کو شامل کیا گیا۔ انجمن سازی اور بلدیاتی انتخابات نے جمہوریت کی راہ ہموار کی اور منتخب صوبائی یا ریاستی ادارے وجود میں آئے۔ یہ سب مقامی مزاحمت سے زیادہ برطانوی پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی کا نتیجہ تھا۔

جب ہندوستان کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر دو قومی ریاستوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ ہوا تو بنگال اور پنجاب کو بھی مشرقی اور مغربی حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ بمبئی سے الگ ہونے کے بعد سندھ واحد صوبہ تھا جس کی اسمبلی نے قراردادِ پاکستان پاس کر کے ایک نئے ملک کی تشکیل کی راہ ہموار کی۔ بلوچستان (ریاست قلات) بعد میں اس میں شامل ہوئی، جبکہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں باقاعدہ ریفرنڈم کے ذریعے لوگوں کی رائے لی گئی۔ بہ الفاظ دیگر، بنگال اور پنجاب کی تقسیم، سرحد کے ریفرنڈم اور سندھ اسمبلی کی قرارداد نے پاکستان نامی ملک کو تشکیل دیا۔ آزادی کے بعد 1975 ء تک ہندوستان اور پاکستان میں ایسی کئی ریاستوں کا ادغام ہوتا رہا جو اس سے قبل اپنی الگ شناخت اور حیثیت رکھتی تھیں، جن میں بہاولپور، سوات، قلات، ہنزہ، نگر اور چترال سمیت کئی چھوٹی بڑی ریاستیں پاکستان کی جغرافیائی حدود میں شامل کی گئیں۔

پاکستان بننے کے بعد ایک قومی ریاست کی تشکیل کے لیے درکار مشترکہ زمین تو حاصل کر لی گئی، مگر ایک مشترکہ نصب العین کا تصور دھندلا رہا۔ قیامِ پاکستان کے لیے دیا گیا قومی ریاست کا مذہبی تصور، اور جدید ریاست کے لیے لازم یکساں انصاف و قانون کے درمیان تصادم نے دونوں میں سے کسی کو بھی مکمل طور پر نافذ نہ ہونے دیا۔ بانیِ پاکستان کی 11 اگست کی تقریر اور قیامِ پاکستان کی جدوجہد کے دوران اپنائے گئے سابقہ موقف کے درمیان واضح تفریق نے قائدِ اعظم کی اس تقریر کو ”سنسر“ کر دیا، جو آج تک ہے یا نہیں ہے کے ابہام کا شکار ہے۔

جدید قومی ریاست کی ایک لازمی شرط، یعنی قانون کی حکمرانی، پر بھی تمام شہریوں کے لیے یکساں قانون اور مسلمانوں کے لیے بنائے گئے ملک میں ایک الگ مذہبی تصورِ ریاست کے درمیان تضاد نے ملک کو 24 سال یعنی 1971 ء تک ایسا مستقل اور متفقہ آئین نہ دیا جو تمام شہریوں کو یکساں قانونی حیثیت دیتا، حالانکہ اس دوران 1956 ء اور 1962 ء کے دو آئین بن چکے تھے جو بعد ازاں مارشل لاء کے ذریعے معطل کر دیے گئے۔ بنگال، جو مسلمانوں کے ایک علیحدہ ملک کی تحریک کا مرکز تھا، اس وقت تک ملک سے الگ ہو چکا تھا، اور اس عرصے میں حکمرانی طاقت کی بنیاد پر ہی کی جاتی رہی۔ باقی ماندہ ملک میں جب ایک متفقہ آئین دیا گیا تو اس میں ملک کی مذہبی شناخت کے بعد مزید ترمیم کر کے، ایک ہی مذہب کے ایک مخصوص گروہ کے حوالے سے، جدید قومی ریاست کے اس آفاقی اصول سے انکار کیا گیا جو تمام شہریوں کے لیے یکساں قانون کا تقاضا کرتا ہے۔

قومی ریاست کے لئے عوام کو فیصلہ سازی کا اختیار کی بنیاد یورپ میں بتدریج پڑی۔ برطانیہ میں 1688 ء کے انقلاب اور 1689 ء کے بل آف رائٹس کے بعد بادشاہ اپنے انتظامی اور قانونی اختیارات سے الگ ہو کر آئینی بادشاہت پر گزارہ کرنے پر مجبور ہوا، اور بعد ازاں انقلابِ فرانس نے عوامی حاکمیت کے اسی تصور کو یورپ بھر میں مزید تقویت دی۔ ہمارے ہاں روزِ اول سے ہی عوام کے ہاتھ میں اختیارات دینے سے انکار کیا گیا۔ کبھی مذہبی توضیح لائی گئی اور کبھی ثقافتی۔ ملک کے دو حصوں میں مزید تقسیم ہونے کے بعد ایک آئین بنا کر اقتدار کو عوامی منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں دینے کا بندوبست کیا گیا۔ مگر صرف تین سال بعد ہی منتخب اسمبلی اور اس کو پیدا کرنے والا آئین دونوں ایک طاقتور کے ہاتھ میں پکڑی بندوق کا تاب نہ لاسکے۔ گیارہ سال کی جدوجہد کے بعد ایک بار پھر ٹوٹے پھوٹے آئین کو بحال کیا گیا تو پھر بندوق کا سامنا ہوا۔ پھر جدوجہد ہوئی اور آئین تو بحال ہوا مگر اس کا نام کوئی نہیں لیتا۔ کسی دفتر میں آئین کی کتاب نہیں ملتی جو پاکستان نام کی جدید قومی ریاست کی عوام کو اقتدار میں شریک کرنے کا واحد راستہ بتاتا ہے۔ ہمیشہ اداروں کی بات ہوتی ہے اشخاص کی بات ہوتی ہے مگر کوئی آئین کا ذکر نہیں کرتا۔ لگتا ہے اس جدید قومی ریاست کے آئین ہونے اور نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔

نظام کی ناکامی دراصل اس نظام کو تشکیل دینے والے فریم ورک یعنی آئین کی ناکامی ہے جس پر عمل کرنا کبھی حکمران اشرافیہ کا ارادہ ہی نہیں تھا۔ آئین پر عمل کرنے کا مطلب قانون کی حکمرانی اور یکساں انصاف اور عوام کی اقتدار میں شراکت جیسی جدید ریاست کے لئے لازم شرائط پر عمل کرنا ہے۔ خود کو بہادر شاہ ظفر اور ٹیپو سلطان کی وارث سمجھنے والی اشرافیہ نے 1947 سے ہی شراکت اقتدار کی ہر شرط سے انکار کیا ہے۔ آئین سے انکار، پھر آئین کی بار بار معطلی، آئین میں توڑ پھوڑ اور پھر اس کو عضو معطل بنائے رکھنا یہ سب آئین کی نہیں سسٹم کی ناکامی ہے۔

آج دنیا دورِ جدیدیت سے آگے نکل کر ما بعد جدیدیت کے دور میں ہے، جس میں یورپ کے ”قومی سوال“ پر بنائے گئے ممالک کی سرحدیں اب دھندلانے لگی ہیں۔ یورپ ایک کرنسی اور مشترکہ منڈی و شناخت پر عمل پیرا ہے۔ دوسری طرف ایشیا میں بھی مشترکہ دفاع اور تجارتی راہداریوں کا تصور پنپ رہا ہے۔ ایسے میں 1947 ء کے دورِ جدید میں بننے والے نظریاتی ملک پاکستان کو بھی ما بعد جدیدیت کے دور میں ابھرنے والے جدید ریاستی تصورات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ دورِ جدیدیت کی منفرد نظریاتی ریاست، اور ما بعد جدیدیت کے مشترکہ مفادات و شناخت کے تصور کے درمیان یہ تصادم جاری رہے گا۔ یہ تصادم ایک بار پھر کسی بڑے حادثے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

Facebook Comments Box

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW