کینیڈا میں سکھ گھرانے کی شادی کے مہمانان خصوصی
بھوگیوالیوں کا ٹریکٹر، ننھی ملٹری جیپ اور رانگلے پلنگ

سڑک کے دوسری جانب کھڑے لمبے فلیٹ بیڈ پلیٹ فارم والے ٹرک ٹرالر کا لمبا تختہ خالی ہونے کو تھا جب ہماری نظر پڑی۔ باہر آ کر دیکھا تو ایک گھر چھوڑ سکھ ہمسایہ گھرانے کے گیراج کے باہر ڈرائیو وے پہ دو روز سے لگے سفید ٹینٹ کے ارد گرد رونق اور چہل پہل چالو ہو چکی تھی۔ ٹینٹ کے اندر کرسیاں میز سج چکے تھے باہر ٹینٹ کے ساتھ اور سڑک کے ساتھ تین عدد بہت خوبصورت رانگلے پلنگ بچھائے جا چکے تھے جن کے پائے ہی وہی پرانے زمانے کے لکڑی کے خراد پر بنائے گئے اور رنگ کیے گئے لگ رہے تھے۔ رنگ برنگ انتہائی باریک بان سے بڑھیا ذوق دکھاتے اعلیٰ دل کش ڈیزائن میں بُنے یہ پلنگ، پرانے زمانے کے بچیوں کے جہیز، وڈیروں چوہدریوں کے ڈیرے اور چوپال کی یادیں تازہ کر گئے۔
ساتھ ہی کھڑے بالکل نواں نکور لگتے اسی کی دہائی کے ماڈل کا فورڈ چھتیس سو ٹریکٹر اور اس کے پیچھے دوسری جنگ عظیم کے دور کی چھوٹی سی زمین سے لگتی انتہائی بڑھیا تزئین شدہ ونٹیج جیپ بھی سجی کھڑی دیکھی تو بے اختیار ان کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ ٹریکٹر پر خصوصی نمبر پلیٹ تھی۔ ”بھوگی والیے“ بھوگیوال مالیر کوٹلہ ضلع کا گاؤں ہے۔ ہم یہی سمجھے کہ چونکہ ہمارے ہمسایوں کے خاندان کا ایک زرعی فارم بھی بڑے رقبہ پہ ہے۔ تو یہ ٹریکڑ وہیں سے آیا ہو گا۔ مگر اس کی چمک دمک اور ماڈل اچنبھے میں ڈال چکا تھا۔
ہمارے ہمسائے اس سردار گھرانے میں بیٹی کی شادی کی تیاریاں چند روز سے جاری تھیں۔ خالی اور تازہ رنگ کیا گیا گیراج ایک بڑے کمرشل کچن کا روپ دھار گیا تھا۔ اس کے سامنے ٹینٹ اسے مہمانوں کے کھانے والی نشست گاہ میں تبدیل کر چکا تھا۔ عزیز و اقارب کی کاریں شام سے پہلے آنا شروع ہوتیں۔ اور کار سے برآمد ہونے والے مہمانوں کے ہاتھوں میں کچھ نہ کچھ، بڑے دیگچے، تسلے، کڑاہیاں، گیس والے بھاری چولہے اور دیگر برتن ساتھ آئے نظر آتے۔ اور سارا دن بڑی بوڑھیاں، جوان وہاں ان مہمانوں کا کھانا بناتیں۔ کڑاہیوں اور دیگچوں میں نمکین اور میٹھی ٹانگری، شکر پارے، نمک پارے مٹھؔی ( م پہ زبر ) بوندی جلیبیاں وغیرہ تلی جاتی نظر آتیں۔ ہر آنے والا گویا مہمان بن کر نہیں، گھر والوں کی مدد کرنے آیا ہو۔ پھر شام ڈھلے دو ملحقہ گھروں کے پچھلے صحنوں کی درمیانی دیوار کا حصہ ہٹا ایک بڑا پنڈال بنے صحن سے ڈھولکی کی تھاپ اور شادی کے صدیوں سے چلے آتے لوک دیہاتی پنجابی گیتوں پر ڈانس یا اونچی آواز میں پنجابی بھنگڑا جدید موسیقی پہ بھنگڑے کا شور چلتا۔
آج ”جاگا“ کی رات تھی۔ مہندی سمجھ لیں۔ اور ہمارا گھرانا بھی مدعو تھا۔ گھروں میں جاگا اور دو روز بعد گوردوارہ صاحب میں گرو گرنتھ صاحب ( مقدس کتاب ) کے سامنے ماتھا ٹیکنے اور اس کے گرد گرد دولہا دلہن کا ایک دوسرے کا دامن تھام اس مقدس کتاب کی بانی پڑھے جانے کے دوران چکر لگا شادی کی گرہ مکمل ہونے کے بعد گوردوارہ کے لنگر ہی سے کھانا کھانا۔ اور اسی شام کسی شادی ہال میں ولیمہ کی طرز کی تقریب، یہ دو ہی دن ہوتے ہیں جہاں بارات یا ولیمہ کی طرح دونوں گھرانوں کے پورے مہمان شریک ہوتے ہیں۔ ورنہ صرف قریبی رشتہ دار یا تعلق والے۔
دوپہر سے قبل ایک مطبخ ٹرک آ پہنچا۔ بڑی سے وین کے اندر پورا کھانے پکانے کا انتظام اور چھت سے باہر نکلتی دھواں نکالنے والی چمنی جس میں ماحولیاتی آلودگی دور کرنے کی مشینری نصب تھی اور دھواں نظر نہیں آتا تھا۔ پنجابی کھانا دعوتوں شادیوں پہ موقع پہ آ کر پکانے اور تازہ گرما گرم پیش کرنے کے یہ موبائل کچن یہاں کے پنجابی کلچر کا خاصہ بن چکے ہیں۔ دوپہر ہو چکی تھی اور مہمان آنا شروع تھے۔ استقبال کرتے ہی مہمانوں کو گیراج میں لے جایا جا رہا تھا جہاں میزوں کی قطار پر کچن سے گرما گرم کھانا بھی آ رہا تھا اور پچھلے دو تین دن میں اسی گیراج میں پکی یا بازار سے خرید لائی پنجابی دیہاتی مٹھائی، برفی، بیسن، لڈو جلیبی، گلاب جامن وغیرہ بھی موجود تھے۔ اور مشروب خاص بھی۔ مہمان آتے کھانا لے میزوں پہ آ کھاتے، کچھ گپ شپ لگاتے اور پینے پلانے سے فارغ ہو بعض اجازت لے نکلتے جاتے۔ قریبی عزیز رکے رہتے۔ ہمارے لئے یہ دلچسپ چیز تھی۔ اور ہم وطن عزیز میں کھانا کھلنے کی بھگدڑ کے سواد کے لئے اداس ہو رہے تھے۔
اب موبائل کچن کے نزدیک ایک بالکل نئی چمکتی رولز رائس کھلی چھت والی کار اور ایک بھاری موٹر سائیکل کا اضافہ ہو چکا تھا اور حاضرین کی توجہ کا مرکز تھا۔
اصل تقریبات شام پانچ بجے کے بعد تھیں اور ہمیں یہی وقت دیا گیا تھا۔ کھانے پینے کے اوپر بیان کردہ مراحل سے گزر ہم باہر کھڑے گپ شپ میں لگے اور خواتین پچھواڑے میں خواتین کے ٹینٹ میں شریک محفل ہو گئیں۔ گھر کا دروازہ کھلا اور پیلے دوپٹے کے سائبان کے نیچے دلہن اور اس کی سہیلیاں خالص سکھ کلچر کے اونچی آواز کے میوزک پر لُڈی ڈالتے پچھواڑے خواتین کی محفل میں چلی گئیں۔ ہمیں بھی بلاوا آیا۔ ایک سائبان کے نیچے خواتین مہندی کی تقریب منا رہی تھیں اور مرد بھی دائرہ بنائے کھڑے تھے۔ دوسرے سائبان میں مردوں کی کھانے پینے، پینے کے شغل کے ساتھ گپ شپ کی محفل جاری تھی۔ یہ پوری تقریب بالکل پاکستانی شادیوں کی طرح ہی تھی۔
رات دس بجے کے قریب اجازت لے گھر کا رخ کیا تو کچھ اور تیاریاں ہوتی نظر آئیں۔ ایک بڑے سے پک اپ ٹرک کے ڈالے پر بجلی کا جنریٹر لادا جا رہا تھا۔ لاؤڈ سپیکر، لائٹیں۔ مووی کیمرے فٹ کیے جا رہے تھے اور لیپ ٹاپ سیٹ کیے جا رہے تھے۔ گویا دلہن والے جلوس بنا چکر لگانے کا پروگرام شروع کرنے والے تھے۔ تھوڑی دیر بعد سب شرکائے شادی باہر نکلنے شروع ہوئے۔ سب سے آگے رنگ برنگے مخصوص لباس میں پروفیشنل بھنگڑا گروپ شور مچاتا بھنگڑا ڈال رہا تھا۔ اس کے بعد آتش بازی کرنے والے جوان تھے۔ پھر پک اپ ٹرک اپنے فرائض نبھاتا اور پک اپ ٹرک کے پیچھے دلہن اس کی سہیلیوں اور خواتین کی ٹولی تھی۔ فُل اونچی آواز میں بھنگڑے کے گانے پک اپ میں شروع ہوئے۔ دلہن کے سر پر راجستھانی انداز کی اوپر نیچے چار گھڑولیاں ( چھوٹے گھڑے ) تھے ایک سہیلی بھی یہ اٹھائے تھی۔ پورے بازو میں رنگ برنگے چُوڑے، راجستھانی لباس اور گھڑے سر پہ رکھے کلاسیکل ڈانس انڈین فلموں میں دیکھے تھے۔
حیران تھے کہ کینیڈا کے ماحول میں پلی بڑھی ماڈرن لڑکی نے یہ کس طرح سنبھالے اور بیلنس میں رکھے ہیں۔ اب دلہن سمیت سب خواتین پورے جوش سے اونچی آواز میں گانوں پر ناچتی جا رہی تھیں۔ اور ساتھ ہی رنگین روشنیاں اور دھوئیں شروع ہوئے۔ رج کے آتش بازی شروع تھی اور فضا روشنیوں کے دائروں اڑتے ستاروں اور پھلجھڑیوں کے شعلوں کے، آتش بازی کے دھوئیں اور بو سے نا قابل برداشت ہوتی گئی۔ دلہن سامنے سے گزری تو نئے زمانے کے نئے حربوں سے پرانے زمانے کو لوٹا لانے کا انکشاف ہوا۔ چاروں گھڑے بالکل ہلکے وزن کی پلاسٹک سے بنا ایک ہی ٹکڑا تھا اور نیچے باریک سی سوٹی کے اوپر فٹ تھا۔ دلہن ایک ہاتھ سے سوٹی تھامے گھڑے سر پر رکھنے کے انداز میں پکڑ والہانہ سب کے ساتھ ناچتی گاتی جا رہی تھی۔ خواتین کے جلوس کے پیچھے فورڈ ٹریکٹر چل رہا تھا اور بچے مڈگارڈوں بیٹھے پاکستان کے نظارے پیش کر رہے تھے۔ اب پیچھے مرد ناچتے بھنگڑا ڈالتے رونق لگائے جا رہے تھے ان کے پیچھے وہ ٹیڈی جیپ تھی اور آخر میں موٹر سائیکل اور رولز رائس کار۔ دھواں آلود فضا نا قابل برداشت تھی۔ سو ہم گھر کے اندر آ گئے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کھڑکی سے جھانک لیا جاتا۔ ایک ڈیڑھ فرلانگ کا چکر ایک گھنٹے سے زائد وقت میں پورا کر کے جلوس واپس آ پہنچا اور یوں ”جاگا“ کی یہ تقریب ختم ہوئی۔ تاہم بھنگڑے اور اونچے ڈھول سے رات ایک بجے کے بعد جان چھوٹی۔
ضمناً عرض ہے کہ قانونی طور پر دو تین سال سے آتش بازی پہ مکمل پابندی ہے اور ماحول مخالف تقریبات پر بھی۔ مگر چونکہ ساٹھ فیصد سکھ گھرانے یہاں ہیں اس لئے شکایت کوئی نہیں لگاتا۔ تاہم جوانوں نے ٹریفک بند نہیں ہونے دی اور رستہ بناتے رہے۔
ایک دن بعد گوردوراہ میں شادی اور شام شادی ہال کی تقریب میں ہم تو کہیں اور مدعو ہونے کی وجہ سے شرکت نہ کرنے کی اجازت لے چکے تھے۔ تاہم تین چار مرتبہ ان بہت ہی دلچسپ تقریبات میں شرکت کر چکے تھے۔ صبح نو بجے کے قریب ہی دلہا دلہن کے خاندان گوردوارہ کے باہر میدان میں جمع ہونا شروع ہوتے ہیں۔ دولہا عموماً پرانے سکھ راجاؤں کے انداز میں بہت ہی اعلیٰ شیروانی پاجامہ روایتی پگڑی قسم کے چمکتے رنگوں میں ملبوس، تلوار، کرپان، کڑا ( سکھوں کے مذہبی شعار ) میں ملبوس کاروں کے جلوس میں پہنچتے ہیں۔ ( چند سال قبل ایک ویڈیو میں بریمپٹن شہر میں ان دنوں یک دم مقبول ہونے والے الیکٹرک دو پہیہ ”ہوور بورڈ“ پہ سوار سہرا باندھے دولہا اور ساتھیوں کو شہر کی گلیوں میں ایسے ہی بارات کے جلوس میں جاتا دکھایا گیا تھا۔ گویا جدت اور ندرت بھی ساتھ چلتی ہے۔ ) بند وین میں بہت رعب دار لگتا بہت شان دکھاتا سجاوٹ سے مزین گھوڑا آتا ہے اور ”ویر میرا گھوڑی چڑھیا“ اور باگ پکڑائی قسم کی روایتی رسمیں ادا ہوتی ہیں۔ اس دوران صرف ڈھول کی تھاپ پر پُرجوش بھنگڑا چالو رہتا ہے۔ اب باقاعدہ بارات کی طرح گوردوارہ میں داخلہ ہوتا ہے اور گورو گرنتھ صاحب ( سکھوں کی مذہبی مقدس کتاب جو کئی قیمتی مرصع رومالوں سے ڈھکی سٹیج کے سامنے احترام سے رکھی ہوتی ہے ) کے پاٹھ والے ہال میں داخل ہوتا ہے۔ سب سے پہلے دولہا گورو گرنتھ صاحب کے سامنے ادب سے ماتھا ٹیک کے ( سجدہ کر کے ) قریب پڑے صندوق میں نذرانے کے نوٹ ڈال سامنے مؤدب بیٹھ جاتا ہے پھر باراتی قطار میں آتے یہی عمل دہراتے اپنی جگہوں پہ جا بیٹھتے ہیں۔ سر ڈھکا ہونا اور جوتے باہر اتارنا لازم ہیں۔ اس دوران مقدس کتاب ادب سے کھولی جاتی ہے اور ایک مذہبی مہنتوں کا گروپ بیٹھ کے باری باری پاٹھ ( تلاوت ) کرتا جاتا ہے۔ اب دلہن ادب سے چلتی آتی اسی طرح ماتھا ٹیک دولہا کے پہلو میں بیٹھ جاتی ہے۔ تقریب شروع ہوتی ہے دولہا دلہن کے دوپٹہ کا پلؔو تھام پھیرے لگائے جاتے ہیں نکاح کے وعظ کی طرح وعظ و نصائح کے بعد گورو گرنتھ صاحب کی بانی پڑھتے تقریب ختم اور سلامی کی رسم ختم ہوتے ہی دولہا دلہن اور مہمان لنگر والے ہال میں جا سادہ سا لنگر کا کھانا کھاتے یا بغیر کھائے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔
شام کی دعوت شادی ہال کی رنگا رنگ بہت ہی دلچسپ تقریب ہوتی ہے۔ مہمانوں کے آ جانے کے بعد بڑا دروازہ کھلتا ہے اور دولہا کے دادا دادی یا جو بھی بزرگ ترین خاندان کا ہو، بھنگڑا ڈالتے داخل ہوتے ہیں اور حاضرین کھڑے ہو تالیاں سیٹیاں بجاتے ساتھ دیتے ہیں۔ اس کے بعد دولہا کے باقی رشتہ دار اور پھر دوست احباب حفظ مراتب کی ترتیب میں یکے بعد دیگرے بھنگڑا ڈالتے داخل ہوتے ہیں۔ شادی شدہ لوگ جوڑوں میں اور غیر شادی شدہ اکٹھے گروپ میں۔ اب یہی عمل دلہن کے رشتہ داروں کی باری پہ ہوتا ہے لاؤڈ سپیکر اور بڑی سکرینوں پہ ہر آنے والے کا تعارف اور دلچسپ تبصرے کیے جاتے ہیں۔ سب سے آخر میں دلہا دلہن سب سے زیادہ جوش سے بھنگڑا یا لڈی ڈانس کرتے آتے ہیں۔ استقبال شور شرابا اور کرسیاں اٹھا لہرا کے ہوتا ہے۔ جوڑا ہال کے وسط میں بنے ڈانس فلور پہ پہنچتے ہی شرکاء کے موسیقی پر ڈانس شروع ہو جاتے۔ اس کے بعد کی تقریبات وداعی سمیت تقریباً اسی رنگ کی ہیں جو پاک و ہند میں آج کل عمومی رائج ہیں۔ احباب رشتہ دار ایک سے بڑھ کر ایک قیمتی اور شاندار کاریں جیپیں موٹر سائیکل لے کے آتے ہیں۔ خواہ کرایہ پہ لائیں۔
یہ راز اس وقت کھلا جب ہفتہ بھر بعد ہی چند گھر دور ایک اور گھر لڑکی کی شادی کی تقریب میں ”جاگا“ کے دن وہی فورڈ ٹریکٹر وہی جیپ وہی رانگلے پلنگ اور دو لیمبرگینی کاریں کھڑی دیکھیں۔ تب پتہ چلا کہ بینڈ باجہ بارات قسم شادی کی تمام تقریبات کا انتظام کرنے والے کاروبار میں اب عام مروج کاروبار کی طرح اپنی ٹوہر دکھانے والوں کے لئے یہ ٹریکٹر قیمتی کاریں رانگلے پلنگ اور دیگر بے شمار نمائشی چیزوں کو کرائے پہ دینے پہنچانے لے جانے کے کام کا اضافہ ہو چکا ہے۔
اس شادی میں آئے ٹریکٹر اور رانگلے پلنگوں میں ہماری اتنی خصوصی دلچسپی بھی بے وجہ نہیں بلکہ کچھ دلچسپ نفسیاتی پرانے زمانے کی فلمیں آنکھوں کے سامنے چلانے والی تھی۔ بہتر تہتر برس قبل ہمارے والد مرحوم نے سیالکوٹ رام تلائی کے ساتھ آرہ مشین اور خرادوں پر کھیلوں کے سامان پلنگوں کے پائے اور دیگر اشیاء بنانے والے کارخانے میں شراکت داری کی تھی اور اس میں پلنگوں کے رانگلے پائے بھی بنتے تھے۔ سکول سے واپس آتے فیکٹری پہ رکتے ہم سب سے زیادہ انہماک سے یہی پائے رنگ ہوتے اور ماہرین کو دیکھتے۔ ایک ہی بندہ بغیر کسی مشینی آلہ کے محض اپنی مہارت سے مختلف رنگوں سے لکیریں ڈالتا لہریے ڈیزائن اس طرح خراد پہ گھومتے پائے پہ بناتا کہ عقل دنگ رہ جاتی۔ کہ کیسے محض ہاتھ کی مہارت سے بنے دس بیس پائے اکٹھے رکھ کے پورے غور سے دیکھتے اور پیمائش کرتے بھی سر مو فرق نہ نکال سکتا۔ اور جب بھی وہ وقت یاد آتا ہے تو چند خرادیوں کے چہرے سامنے آ مسکرانے لگتے ہیں۔
فورڈ ٹریکٹر اچنبھے میں اس لئے ڈال گیا کہ ہم فیصل آباد میں آٹو پارٹس کا کاروبار کرتے بہت سے پرزے اس فورڈ چھتیس سو ٹریکٹر کے بھی فروخت کرتے۔ اور اسی بیاسی ماڈل کے انگلینڈ کے ساختہ اس ماڈل کا کینیڈا میں کیا کام۔ گویا خصوصی انڈیا ہی سے منگوایا گیا تھا۔
کینیڈا میں رہتے ہم بہت سے مذاہب کی یا بین المذاہب یا معاشروں کی شادیوں یا تقریبات میں یا خود شرکت کر چکے ہیں یا بچے یا دوست احباب شریک ہو اپنے تجربے بتاتے ہیں۔ ہر مذہب کے شرکاء آپس میں اتنے پیار محبت اور اپنائیت سے ملتے اور رسومات وغیرہ کا فلسفہ بیان کرتے مل بیٹھتے ہیں اور گپ شپ کرتے ہیں ( قانون بھی معمولی تک کسی بھی رنگ کی عصبیت اور نفرت برداشت نہیں کرتا ) کہ یہاں کے معاشرہ کو اصل اسلامی روح ( سوائے معاشرتی تعلقات وغیرہ کے ) میں ڈھال لیا گیا ہے، کاش پاکستان اسی رنگ میں رنگے، اور اختلاف رائے اختلاف عقائد کے باوجود مل جل کے رہنا سکھایا جائے اور رہنا سیکھا جائے۔
