بلاگ

آپریشن تھیٹر کا میز، ایجنسیاں، جبڑا کھولے مگرمچھ۔ روداد پتؔے کی سرجری کی

sheikh laeeq ahmad

آپریشن تھیٹر پہنچ ابھی ٹیبل پہ لیٹے ہی تھے کہ چاروں طرف ایپرن باندھے ماسک پہنے کھڑے ڈاکٹر، نرسیں اور عملہ ہمارے ہاتھ پاؤں باندھنا شروع ہو گئے۔ بائیں کروٹ لیٹ بایاں بازو بھی کندھے سے پیچھے لے جانے کا حکم ملا۔ ایک صاحب پیچھے ہاتھ باندھ رہے تو دوسرے ٹخنوں سے ذرا اونچے ٹانگیں بیلٹ میں قید کر چکے تھے اور میز کے دونوں طرف لگے کنڈوں میں سے بیلٹ گزار پنڈلیوں، رانوں اور کولہوں کو بھی پابند سلاسل کر رہے تھے۔ سر ذرا اونچا کرنے کا حکم ملا تو تھوڑا گھماتے ماحول کا جائزہ لینے کا موقع مل گیا۔ چاروں طرف کمپیوٹر، لائٹیں، سکرینیں۔ اوپر کرکٹ گراؤنڈ کی فلڈ لائٹ قسم کی بڑی سی گھومنے حرکت کرنے والی لائٹ۔ لگتا تو آپریشن تھیٹر ہی ہے۔ ہم دل میں کہہ رہے تھے۔ پیشانی پہ ایک پٹی سی رکھ دبایا گیا تو لگا جیسے کیل ٹھونکے جا رہے ہیں۔ ادھر باندھنے والے بازوؤں، چھاتی، کولہوں ٹانگوں پہ بٹن والی ٹیپیں لگا ساتھ تاروں کو منسلک کرنے لگے جو سٹینڈ پہ لگے چھوٹی سکرین والے آپریٹس اور دوسرے کمپیوٹرز کو جا رہی تھیں۔ سامنے کھڑے ڈاکٹر صاحب نے سر اونچا کرتے منہ کھول ان کے ہاتھ میں پکڑے پیالے کا پورا محلول غٹاغٹ حلق سے اتار جانے کا حکم دیا۔ نیلے رنگ کا سخت کڑوا گاڑھا محلول۔ اور ساتھ ہی منہ پورا کھلوا جبڑا پورا کھلا رکھنے والا جبڑا ٹھونس دیا۔

یہی وہ لمحہ تھا جب دماغ نے پلٹا کھانا شروع کیا اور ایسے لگا کہ یہ تو وہی پیالہ ہے جو ہمارے سقراط صاحب کو دیا گیا تھا۔ ہم تو اس وقت ابن صفی کے کرنل فریدی یا ایکس ٹو قسم کی ٹیم کے قبضہ میں ٹارچر سیل میں پہنچے ہوئے ہیں اور پتہ نہیں کھلے جبڑے سے ہاتھ ڈال ”پیٹ پھاڑ کے بھی سب کچھ نکال لانے“ کی مشق ہے یا را، موساد، گسٹاپو وغیرہ کا بندہ قبضہ میں سمجھا جا چکا ہے۔ انیستھیزیا کے ڈاکٹر ہمارے پیٹ اور سینے پہ مرہم کی مالش کرنا شروع تھے اور ہماری کھلتی بند ہوتی آنکھیں ایک ڈاکٹر کو کیپٹن خاور اور نرس کو جولیانا فٹزواٹر سمجھتے اپنے سے ہونے والے سلوک کے متعلق سوچ رہے تھے۔ کہ کیا ہونے کو ہے۔ ڈھیلا پڑتے سُن ہوتے جسم کی خوابیدگی میں ہم چالیس سال قبل گھومے مادام تساؤ لندن کے اندھیرے ہال میں پرانے زمانے کے عقوبت خانوں میں آزماتے ”پیار کی جپھی“ ڈالنے والے آلات اور مشینیں اور ایجادات کی نمائش گاہ میں پہنچ گئے تھے۔ ایذا رسانی، سزا دیتی یا تفتیشی کام کرتی مشینوں کو دیکھ سوچ رہے تھے کہ کون سی ”کڑکؔی“ میں ہماری ہڈیاں چرچرائیں گی۔ ڈاکٹر صاحب کا ہاتھ فلڈ لائٹ کو آن کر کے نیچے لا رہا تھا، دوسرے ڈاکٹر چیک کر رہے تھے کہ ابھی کتنی دیر میں یہ بے ہوش ہو گا اور لائٹ کو نیچے کھینچتے دیکھ ہم کچھ زیادہ غنودگی میں شاید چند سیکنڈ میں سیدھے اس ڈراؤنے ناول یا کہانی کے اس دہلا دینے والے منظر تک پہنچ گئے جس میں ایک سرائے میں رکے بہت مالدار مسافر کو ابھی مکمل بیہوش نہ ہوئے اچانک جاگتے چھت سے نوکیلی سلاخیں لگا ایک بڑا تختہ نیچے آتا نظر آیا تھا۔ اور بر وقت بچ نکلا تھا۔ فلڈ لائٹ کی لائٹس نوکیلی سلاخیں بنی نیچے آ رہی تھیں۔ ہمارا ذہن ماؤف ہوتا جا رہا تھا۔ اس کے بعد ہمیں نہیں پتہ ہم پہ کیا بیتی۔

ہوش میں آئے تو ہم آپریشن تھیٹر کے سامنے ریکوری روم میں تھے اور وہی جولیانا فٹزواٹر لگتی خوبصورت مہربان خاتون ہم سے ہمارا حال چال پوچھ تسلی دے خدمت میں مصروف جوس اور سہارا دے نرم لذیذ بسکٹ کھلا رہی تھی۔ کرنل فریدی اور ایکس ٹو اور ان کی ٹیم یاد کر کے ہنسی آ رہی تھا۔ کہ ان کی بجائے بیٹا سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ سامنے دیوار پہ لگا کلاک بتا رہا تھا کہ آپریشن تھیٹر میں پہنچنے سے اب تک کوئی ایک گھنٹہ ہی لگا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر صاحب خود موجود اور چیک اپ کرتے، تسلی دیتے آئندہ کے لائحۂ عمل کے متعلق سمجھا رہے تھے۔ وہ بتا رہے تھے کہ ہمارے پتؔے سے نکل بالکل چھوٹی سی پتھری لبلبہ کی تہوں میں جا چھپی تھی۔ جس نے ہمیں پیٹ کا وہ درد چکھایا کہ زندگی میں پہلی بار چیخیں نکلیں۔ ہمارے پرانے مرض دل، دل کے اوپر جلد میں گھسائی گئی آئی سی ڈی (پیس میکر) ، عمر اور دیگر عوارض کی بنا پر ٹیسٹ کرنے والی بہت سی مشینوں سے ہمیں گزارا نہ جا سکتا تھا، اس لئے بہت عرق ریزی کے بعد اس پتھری کی موجودگی کے اصل مقام کا پتہ چلا تھا اور اس کو نکالنے کے لئے بھی بہت خصوصی طریق کار اور احتیاط سے ڈاکٹروں اور سرجنوں کے بورڈ نے طریق کار طے کیا تھا اور اس کے لئے بجائے سرجری اینڈو سکوپی قسم کی تکنیک استعمال کی گئی تھی۔ گلے میں سے پائپ گزار کیمرہ اور اوزاروں سے کھنگالتے پتھری تک پہنچ اسے ویکیوم پمپ سے کھینچ نکالا گیا تھا۔ ( پروسیجر سے دو تین روز قبل بھی وارڈ ڈاکٹر ہم کو سب بتا سمجھا چکے تھے ) ۔ اب پتا بہت سوج چکا تھا جس کا نکالنا لازم سمجھا گیا ہے مگر ایک دو ماہ ریسٹ اور تمام عوارض کے ماہرین ڈاکٹروں سے کلیئرنس اور مشورہ لے سرجری کے طریق کار اور تاریخ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دو گھنٹہ بعد ہمیں گھر جانے کی اجازت مل چکی تھی۔

اٹھارہ برس بعد تین ہفتے پاکستان میں قیام ( جاتے ہی سموگ کی نوازش ہوتے زیادہ تر گھر ہی میں خود کو قید رکھتے ) کے بعد گزشتہ وسط نومبر میں واپسی ہوئی، تو ”چہار چیز تحفۂ است پاکستان“ یعنی سموگ، سموک، پولیشن اور چولی کے آگے کے ترقی یافتہ ستھرا پنجاب کے ساتھ چولی کے پیچھے نظر انداز شدہ اصلی پنجاب میں پھیلی غلاظت گندگی ”کی عطا کردہ نعمتیں تین چار معروف امراض ہمارے ساتھ واپس لائیں تھیں۔ ( ممکن ہے ہمارے بڑھاپے اور اس کے عوارض کے مقناطیس نے بھی کچھ زیادہ ہی سینے سے لگا ٹھنڈ ڈالی ہو ) ۔ چوتھے پانچویں روز شدید قبض اور ناقابل برداشت پیٹ درد نے ہسپتال کے چکر لگوانا شروع کیے اور پھر دس روز ہسپتال مین داخل رہ اس چھوٹی سی پتھری نجات کی کی کہانی مکمل ہو اب اگلے مرحلے کے لئے تیاری کا وقفہ تھا۔ ہمیں لگے ہر مرض کے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے کلینک اور ان کروائے ٹیسٹوں کے بعد آپریشن کے قابل ہونے کے سرٹیفیکیٹ کا دور تھا۔

تین ماہ گزر چکے تھے۔ کوئی تین ہفتہ قبل ہسپتال بلا کے سرجن ڈاکٹر اروڑہ نے ہمیں سرجری کے طریق کار، ہماری عمر اور عوارض کے پیش نظر احتیاط کے خصوصی انتظامات۔ لیپرو سکوپی سے پتا نکالنے کے طریق کار اور ہمارے محترم پتے کے زیادہ ناراض ہو پھول کے کُپؔا بنے ہونے کی صورت میں چیرا لگا نارمل سرجری کی طرف جانے کی ضرورت پڑ سکنے کے امکان کا بھی ذکر کیا تھا۔ اور تیاری کے مراحل سے گزر آج پھر ہم آپریشن تھیٹر کی میز پر سیدھے دراز تھے۔ بتایا جا رہا تھا کہ ایک میز پر بوسٹن پیسیفک کمپنی کا ماہر ہمارے دل سے جُڑی اپنی کمپنی کی بنی آئی سی ڈی ( کثیرالمقاصد پیس میکر ) کو مانیٹر کرنے براجمان ہے تو دوسرے میز پہ شعبۂ امراض دل کا نمائندہ نالہ ہائے دل کی فریاد اوپر کنٹرول روم میں پہنچانے رہتے کو بیٹھا ہے۔ اب کچھ تو اس لئے کہ سرجری ٹیبل پہ اس طرح سادہ سیدھے انداز میں لیٹ باندھے جانے اور باقی کارروائی کے ہم دہائیوں سے بھگتتے عادی مجرم کی طرح عادی ہو چکے تھے اور کچھ پاکستان سے واپس آئے چار ماہ ہو چکے تھے اس لئے ہمیں کرنل فریدی، ایکس ٹو، جولیانا فٹزواٹر کی بجائے ہندوستانی پنجابی سرجن، کینیڈین انستھیزیسٹ، چینی، فلپائنی، اور دوسر ملکوں کی نرسیں اور عملہ کے افراد ماسک کے اندر بھی مسکراتے لگتے چہرے گھیرے تھے۔ بیہوشی کا دردیلا ٹیکہ لگتے نیند کی وادی میں کھونے اور دوبارہ ریکوری روم میں آنکھیں کھلنے میں کوئی پچپن منٹ کا وقت سامنے لگا کلاک بتا رہا تھا، اور سوچنے کے قابل ہوتے ہم حساب لگا رہے تھے کہ سرجن اروڑہ کی مہارت کا دورانیہ تو بیس پچیس منٹ سے کم کا رہا ہو گا۔ ڈاکٹر اروڑہ بتا رہے تھے کہ شکر خدا سرجری کا ہر مرحلہ بخیر و خوبی لیپروسکوپی سے ہی تسلی بخش طور پر طے ہو گیا تھا۔ عموماً دو تین گھنٹہ بعد گھر جانے کے لئے ڈسچارج کر دیا جاتا ہے مگر ہمیں احتیاطی خصوصی نگہداشت کی ضرورت کے تحت ایک رات نگہداشت والے کمرے میں گزارنی ہے۔

آملیٹ انڈے، سیریل، سیب کے جوس، اور ایپل پائی، چائے کے ہسپتال سے ملے چسکے دار ناشتہ کے بعد ذرا نقاہت دور ہوئی تو ایپرن ہٹا سرجری والی جگہ کا دیدار کرنے کو جی چاہا۔ اسے دیکھتے ہی ہم جھٹکا کھاتے بیہوش ہونے والے ہو گئے۔ ہمیں چھت سے چرخی کے ذریعہ نیچے آتا تختہ اور اس کے نیچے لگی چار نوکیلی سلاخیں نیچے آ چار جگہ پیٹ میں سوراخ کرتی محسوس ہونے لگیں۔ ہلکا سا قہقہہ لگاتے ہم چار جگہ کراس میں چھوٹی چھوٹی ٹیپ نما پٹیوں کو ملاحظہ فرما رہے تھے جو سینے کے درمیان پسلیوں کے نیچے، ناف کے اوپر اور کچھ فاصلے پر دائیں طرف اوپر اور نیچے کیے گئے سوراخوں پہ لگی تھیں۔

صبح سوادی بھاری ناشتہ کے تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر صاحب کی دستخط شدہ ڈسچارج شیٹ پکڑے ہم کار کی نشست کچھ لمبی کر بیٹھے گھر کو جا رہے تھے۔ اچانک خیال آیا کہ یہ لیپروسکوپک سرجری، وہ بھی ان چھوٹے چھوٹے سوراخوں میں سے بندے کا پتا ہی نکال باہر کرنے کی، بھلا ہوتے کیسی ہے۔ فون پکڑ یوٹیوب ویڈیو سے درخواست کر ڈالی۔ اینیمیٹڈ وڈیو سامنے تھی۔ ہمیں تین جگہ سے جلد کے سوراخوں سے داخل کی گئی ٹیوبیں کینیڈا کے باریک خوبصورت سانپوں کی طرح بل کھاتی پتؔے کے جوڑ ڈھونڈتی نظر آ رہی تھیں۔ چوتھے بڑے سوراخ سے نکلے بڑھتے سانپ کی پھنکار سے پتا غبارے کی طرح پھول رہا تھا۔ اب دو سانپوں کے سرے مگرمچھ کی طرح جبڑا کھولے نوکیلے دانت استعمال کرتے پتے جی کی سرے کی آنت کاٹ چکے تھے۔ ایک سانپ اپنے شکار کو اژدہا کی طرح منہ پھلا سانس واپس کھینچ نگلنے کے منظر کی طرح پورا پتہ دھیرے دھیرے ہڑپ کرتا جا رہا تھا۔ مگرمچھ کے جبڑے کاٹے گئے سروں کو علیحدہ علیحدہ اپنے جبڑے میں دبا مشینی پریس کی طرح مکمل بند کر کے پھر باریک نالیاں بن آہستہ آہستہ باہر کھینچے جا رہے تھے۔

منظر تبدیل ہوتا جا رہا تھا اور ہم موجودہ دور کی ہردم ترقی کرتے رنگ بدلتے آگے بڑھتی ٹیکنالوجی اور اس کو جنم دینے والے دماغوں کے ذہن رسا کا سوچ رہے تھے۔ مگر سب سے زیادہ حیرانی دسیوں گنا بڑی کر کے دکھائی جانے ویڈیو میں بہت خوف ناک اور ڈراؤنے شکار کی تلاش میں بڑھتے مگرمچھوں کے خوف ناک کھلے جبڑوں کی طرح لگتے پلاس زنبور اور دیگر آلات سرجری ان باریک ٹیوبوں سے گزار کر ان سے کام لینے کا طریقہ دیکھ ہوئی۔

گیراج کے اندر داخل ہو چکی کار کا دروازہ کھولا جا چکا تھا۔ منفی بارہ سنٹی گریڈ اور یخ ٹھنڈی چلتی ہلکی ہوا ہمیں ابن صفی کی ایجنسیوں، کرنل فریدی، ایکس ٹو، جولیانا فٹزواٹر اور کیپٹن خاور وغیرہ کے چنگل سے چھڑا اور مگرمچھوں کے جبڑوں کی کارگردگی کی اصلیت اس ڈیڑھ منٹ کی ویڈیو میں دکھا گئی تھی۔ ہم موجودہ سائنسی ترقی کے کرشمے اور ان کو اپنی مہارت سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچاتے، ساتھ ہی نئی راہیں تلاش کرتے چلے جاتے ان سب دماغوں کے لئے شکرانے کے فقرات اور راستہ بھر خدا تعالی کے حضور اسی کی سکھائی دعاؤں کا ورد کرتے رہے تھے۔ ہم کار سے باہر آچکے تھا۔ بیٹے کے ہاتھ کا سہارا لئے اہل خانہ کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو دیکھتے گھر کے اندر کی طرف بڑھ رہے تھے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW