بلاگ

جھیل کنارے ایک سریلی شام: ونود بھردواج، ناشاد رضا جونپوری کے سروں کے سنگ

sheikh laeeq ahmad

برٹش کولمبیا شمالی علاقے کے لئے دارالحکومت کا اعزاز رکھتے اُس وقت کوئی ساٹھ ہزار آبادی والے چاروں طرف پہاڑیوں سے گھری اس پیالہ نما وادی میں واقع شہر پرنس جارج کی یہ شام بہت خوب صورت تھی۔ ہر طرف جنگل، سبزہ، پھول اور اونچی نیچی بل کھاتی سڑکوں سے گزرتے، سانپ کی طرح بل کھاتے چمکتے پانی والے فریزر دریا کا نظارہ ایسے میں عجب بہار دکھا ہماری تھکاوٹ کے احساس کو ختم کر چکا تھا۔ چند منٹ بعد مقامی کمیونیٹی سنٹر کے چھوٹے سے ہال کے باہر ہندوستانی و پاکستانی، شکل سے ہی خاصے پڑھے لکھے نظر آتے خواتین و حضرات پہ مشتمل استقبالیہ کمیٹی کے ارکان سے ہمارا داماد اور بیٹی ہمارا تعارف کرا رہے تھے۔ گرم جوش استقبال۔ ہم وہاں اس شام ہندوستانی پاکستانی کلچرل گروپ کی محفل کے مہمان تھے۔ وینکوور سے آئے موسیقی کے مہان فن کار ونود بھردواج نے آج کی محفل میں رنگ جمانا تھا۔

جولائی 2011 کی اسی صبح جہاز کے وینکوور کے ہوائی اڈے سے اڑان بھرتے ہی نیچے سرسبز پہاڑوں کی چوٹیاں اور جنگلات سے ڈھکی ڈھلوانیں اور گھاٹیوں کے درمیان بل کھاتی سڑکیں، دور نیچے چمکتی لکیروں کی طرح لگتا فریزر دریا اور پھر اس کے ساتھ بچھی ریل کی پٹری پہ بل کھاتی بہت لمبی مال گاڑی کا پر فسوں نظارہ سامنے تھا۔ پہاڑی علاقے سے نکل ہر سو گھنے جنگلات کے درمیان سے گزرتی کچی سڑکیں، لکڑی کے اونچے بجلی کی تاریں لئے کھمبے اور دور دور پھیلے جنگلوں کے درمیان خالی جگہ پہ زرعی فارم یا چھوٹی جھیلوں کا حسن اس صاف موسم میں آنکھوں میں ٹھنڈک اور دل کو سرور سے بھر رہا تھا۔ ہم سو کلومیٹر نصف قطر کے دائرہ میں موجود کوئی سولہ سو کے لگ بھگ چھوٹی بڑی جھیلوں میں گھرے شہر پرنس جارج کی طرف بڑھ رہے تھے

کوئی دو گھنٹہ بعد ہم ایک بہت ہی خوبصورت نظارہ دکھاتی چاروں طرف پہاڑی چٹانوں کے دامن اونچی نیچی راہیں دکھاتی پیالہ نما وادی کے ایک سرے پہ چوٹی پر واقعہ اپنی بیٹی کے گھر پہنچ چکے تھے۔ اور پھر پچھواڑے بالکل چوٹی کے اوپر بنی بارہ دری میں بیٹھ کھانا وہیں لانے کی فرمائش کر رہے تھے کہ نیچے وادی کا نظارہ کہیں بادل کہیں دھند اور کہیں دھوپ لئے ہمیں اپنے سحر میں ڈبو چکا تھا۔ ہمارے ٹورنٹو سے ونی پیگ آ ایک ہفتہ کے لگ بھگ بھرپور موجیں اڑا وہاں سے و ینکوور اور اگلی فلائٹ سے پرنس جارج کے تھکا دینے والے سفر کے باوجود بچوں نے ہمارے ذوق کو جانتے اس پروگرام کے لئے رجسٹریشن کرا رکھی تھی۔

چند لمحے بعد پرنس جارج آ کے آباد ہونے والے تارکین وطن کی رہنمائی کے محکمہ کی انچارج نفیس خاتون بلجیت آنٹی، ہال کے اندر ہمارا تعارف شرکاء سے کرا رہی تھیں۔ پنجابی پٹیالہ شلوار اور دوسرے لباس، رنگ برنگی ساڑھیاں، پاکستانی شلوار قمیض، گجراتی مدراسی اور مغربی لباسوں میں چہکتی خواتین اور احباب گرم جوشی سے مل رہے تھے۔ ایک ہی خاندان کے افراد کی طرح۔ آئر لینڈ سے نقل مکانی کر کے یہاں آباد ہونے والے ہمارے داماد ڈاکٹر شہزاد اور بیٹی خولہ کے علاوہ یہاں آ بسے ہندوستانی پاکستانی ڈاکٹر انجینئر اور دیگر پیشوں سے منسلک چنیدہ خاندان اکٹھے ایک جگہ موجود تھے۔ ہمارا تعارف رنگ برنگی لُنگی، سرخ قمیض اور کندھے پہ جوگیا رنگ کا پٹکا رکھے ساٹھا پاٹھا لگتے ونود بھردواج سے بھی بطور ان کے گائیک اور موسیقار ہونے کے کروایا گیا۔

Screenshot

محفل شروع تھی۔ مجلس کے مقامی شرکاء کلاسیکل ڈانس موسیقی یا آواز کا جادو جگانا شروع ہو گئے ایک سے بڑھ کر ایک۔ جنوبی افریقہ سے آئے لاہور کے ڈاکٹر ظفر اقبال نے محمد رفیع کی آواز میں ہی ان کے گیت سنا محفل کو گرما دیا۔ ایک صاحب مکیش کا رنگ پیش کر رہے تھے تو ایک خاتون لتا اور سدھا ملہوترا کا روپ سامنے لائے تھیں محفل ونود بھردواج کی تھی۔ سٹیج پہ ہارمونیم، طبلہ، ستار، بانسری وغیرہ آلات تھے۔ انہوں نے بھجن شروع کیا۔ ہارمونیم خود چلا رہے تھے۔ بتایا، ان کا اپنا لکھا ہوا ہے۔ اس کے بعد غزل شروع کی خالص اردو زبان اور یو پی کا لہجہ۔ ان کی اپنی لکھی ہوئی۔

اب وہ کلاسیکل موسیقی پہ آ گئے۔ پہلے تعارف کراتے پس منظر بتاتے۔ بھگت کبیر کے دوہے، امیر خسرو کے رنگ۔ پچھلی تین صدیوں کے مہان کلاکاروں کے شہ پاروں کی ادائیگی اسی انداز و آواز میں۔ مقامی شرکاء میں سے ایک دو کی سنگت۔ مگر ہر آلۂ موسیقی کی ان کی مہارت نا قابل بیان۔ کبھی کسی شہرۂ عالم ہندو کا اور کبھی مسلم۔ بڑے غلام علی خاں۔ استاد امیر خاں، پنڈت بھیم چند جوشی، جگجیت سنگھ، غلام علی، امانت علی خاں، بڑے فتح علی خان، مہدی حسن وغیرہ۔ کبھی ستار پہ کبھی ہارمونیم اور کبھی طبلہ بھی خود۔ کبھی اپنی غزل یا نظم، یا پھر استاد شعرا کا کلام۔ ایک عجیب سحر تھا۔ تھوڑے تھوڑے وقفے بعد شرکاء محفل بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے۔ وہ ترتیب سے موسیقی کا دو تین صدیوں کا سفر، ساتھ ادوار اور فن کار کا تعارف کراتے دو تین گھنٹے میں سامعین و ناظرین کو کرا چکے تھے۔ مشروبات و سنیکس کے وقفے میں ہم ونود بھردواج سے گپ کرتے۔

کھانے کے لئے وقفہ کیا گیا تو ہمیں ان سے کھل کے بات چیت کا موقع مل گیا۔ اپنی ایک غزل سناتے ایک دو شعروں پہ ان کی آواز کا درد بڑھا اور آنکھوں میں نمی محسوس ہوئی تھی۔ اس کا ذکر کرتے جب منہ سے نکلا ”اندازہ ہے آپ کے ساتھ بھی کبھی کچھ کچھ ہو چکا“ ایک لمحہ کے لئے اداس سی مسکراہٹ۔ مگر کچھ دوستی کچھ بے تکلفی کا ماحول بن گیا۔ جب ان کے اردو لہجہ، صاف اصل اردو الفاظ اور کلام کی تعریف کی تو ایک حیران کن ناقابل یقین انکشاف بھی تھا اور تفصیلی تعارف بھی۔

تقسیم ہند سے کچھ دیر قبل ہی پیدا ہونے والے ونود بھردواج کے باپ، لاہور کے ریلوے ہسپتال کے ڈاکٹر گیان چند بھردواج مہاجر ہو جنوب مشرقی اُتر پردیش کے قدیم شہر جونپور کے ریلوے ہسپتال میں متعین ہوئے۔ یوں ونود کی پرورش یوپی، اردو اور بھوج پوری تہذیب کا امتزاج بنی۔ مسوری سے سکول کالج کے بعد 1969 میں جونپور سے بس کوئی اسی کلومیٹر دور ہندوؤں کے مقدس شہر بنارس میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ میں ماسٹر کرتے عملی زندگی میں آئے۔ زندگی کے اسی دور میں ورلڈ بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے منصوبوں میں انڈیا کے علاوہ گیانا، یمن، منگولیا اور برازیل میں خدمات انجام دیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کینیڈا آ بسے اور برٹش کولمبیا کے دارالحکومت وکٹوریہ میں انجینئرنگ سے متعلقہ کمپنی کھولے بیٹھے ہیں۔ وہ اپنا تعارف کرا رہے تھے اور ہم سوچ رہے تھے کہ اتنا خشک شعبہ اور اتنی رنگین اور اتنی فن کار ہر فن مولا قدرت کی عطا کردہ صلاحیتوں سے مالا مال شخصیت۔ اس پس منظر کے ساتھ ان کے من کی دھن انہیں شہر شہر سے بلاوا آنے پہ حاضرین کے علاوہ خود اپنی روح کی پیاس اور فن کے مظاہرہ کا سبب تھی۔ بات پھر ان کے صاف اور خالص لکھنوی اردو لہجہ و الفاظ کا ذکر چھڑا تو چہرے کے عجیب تاثرات کے ساتھ ان کا انکشاف ہمارے لئے دھماکہ اور منہ کھلا کا کھلا رہ جانے کا سبب بن چکا تھا۔ وہ بتا رہے تھے کہ ان کے شہر جونپور اور گرد و نواح کے ادبی حلقوں میں ان کی شہرت اور تعارف ونود بھردواج، شاعر، بھجن لکھنے گانے والے موسیقار، ہارمونیم، ستار اور بانسری کے سُروں سے مست کرنے والے ونود بھردواج کے نام سے نہیں۔ ایک اعلیٰ مرثیہ گو، مرثیہ لکھنے والے اردو کے معروف صاحب کتاب شاعر اور مشاعروں کی جان ناشاد رضا جونپوری کے نام سے تھی۔ یعنی ایک روپ ونود بھردواج اور دوسرا ناشاد رضا جونپوری کا تھا اور ان کے کہنے کے مطابق خود ان کو ناشاد رضا جونپوری والے فن، خصوصاً مرثیہ لکھنے اور پڑھنے والے، کے اظہار میں زیادہ روحانی سرور ملتا ہے۔ تاہم موجودہ محفل نہ مرثیہ گوئی کے ماحول والی تھی نہ مشاعرہ کے دربار والی۔

محفل دوبارہ رنگ پہ آ چکی تھی۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے شرکاء میں سے اکیلے یا گروپ گانے علاقائی لوک گیت، یا صرف موسیقی یا ڈانڈیا اور کلاسیکل ڈانسز کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ مگر ونود بھردواج میں شاید ناشاد رضا کی روح کا اثر بھی سما گیا تھا۔ اب وہ ہارمونیم بجاتے اپنے کلام سے محظوظ کر رہے تھے، کبھی ستار پکڑ آنکھیں موندے خود میں ڈوبے دھنیں بکھیر رہے تھے۔ کبھی صرف طبلہ پہ ہتھیلیاں انگلیاں سحر بکھیر رہی تھیں اور جب باری بانسری کی آئی تو ہال میں مکمل سکوت تھا مگر سر جھوم رہے تھے۔ وہ صدی دو صدی قبل کے فن کاروں کی دھنیں نکال رہے تھے موجودہ دور کے بانسری نوازوں کا تعارف کراتے ان کا فن پیش کر رہے کرشن کنہیا کی مرلی اور بھجن اور بہت مشہور مرلی بانسری والے فلمی گانوں کو یا اپنی پسند کے فلمی گانوں کو بانسری کے جادو میں ڈھال چکے تھے۔ دو چار پاکستانی گانوں کے بعد ”مُرلی والے مُرلی بجا“ سے گزرتے جب نورجہاں کے لئے عقیدت کا اظہار کرتے ”تیری ونجھلی دی مٹھڑی تان“ کا سُر بکھیر لئے تو پورا ہال کھڑے ہو تالیوں اور تعریفی کلمات سے گونج رہا تھا۔

نصف شب ہونے کو تھی۔ ہال خالی کرنے کا وقت ہو چلا تھا۔ گرم سموسے سنیکس، چائے، کافی، مشروبات کے دور میں گپ شپ اور الوداعی ملاقاتیں ہو رہیں تھیں اور ساتھ ساتھ مجلس کی منتظمہ کے ارکان شرکاء سے ان کی رائے پوچھ ریکارڈ کر رہے تھے۔ ہمارا تبصرہ کچھ یوں تھا ”چھ سات گھنٹہ کی اس سحر انگیز نشست میں ونود بھردواج نے اپنے چند گھنٹوں میں امیر خسرو اور بھگت کبیر سے لے آج تک کی تین چار صدیوں کی تاریخ بیان کرنے کے ساتھ ہندوستانی فن موسیقی کا پورا سفر شرکاء محفل کو کروا دیا ہے“

Screenshot

سوشل میڈیا کی ترقی کے ساتھ یوٹیوب، فیس بک، آڈیو ویڈیو کا زمانہ عام ہوا تو ڈھونڈتے ونود بھردواج کی غزلوں نظموں کی آڈیو سامنے آ گئی۔ اور ہم گاہے گاہے فارغ اوقات میں محو ہو جاتے۔ کورونا کے زمانے میں ان کا فیس بک اکاؤنٹ نظر آیا تو میسنجر پہ بات کرتے انہیں پرنس جارج کی محفل میں ملاقات یاد دلائی۔ اور خاصی دیر یادیں تازہ ہوئیں۔ ایک دو ہفتہ قبل اچانک یوٹیوب پہ اور پھر فیس بک پہ بزم سخن ایڈمنٹن ( البرٹا) کینیڈا کا اکاؤنٹ سامنے نکل آیا اور سامنے جناح کیپ پہنے فرنچ کٹ داڑھی والے جاذب نظر صاحب صوفے پہ بیٹھے ہارمونیم پہ اپنی غزل سنا رہے تھے۔ شکل اور آواز شناسا ہوتے غور سے دیکھا اور کچھ مزید کھنگالا تو کشور غنی اپنی ادبی ”بزم سخن“ میں ان کے کلام پہ تبصرہ کرتے تعارف کراتے بتا رہی تھیں ونود بھردواج کا اردو روپ ناشاد رضا جونپوری کلام شاعر بزبان شاعر کو موسیقی کے بغیر ادھورا سمجھتا ہے اور اسی لئے اب مشاعروں میں کم ہی نظر آتا ہے۔ بزم سخن کی کئی محفلوں اور نشستوں کی ویڈیوز سامنے آتی گئیں اور مختلف رنگ کے لباسوں میں جناح کیپ پہنے فرنچ کٹ داڑھی رکھے ونود بھردواج نہیں۔ ناشاد رضا جونپوری ہی نظر آ رہا تھا۔ شاید اب یہی اس کا مستقل روپ ہے۔ رابطہ ہوا تو پرانی یادیں تازہ کرتے یہ بھی پوچھ لینے کی خواہش ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW