کشمیر انتخابات، پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی جدا ہوتی سیاسی راہیں

گلگت بلتستان کے انتخابات اور اس کے بعد حال ہی میں آزاد جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) کے انتخابات کے بعد ملک کا سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا ہے۔ متعدد سیاسی جماعتوں، بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ انتخابات آئین اور قانون کے مطابق منعقد کیے گئے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کا سیاسی سفر ملک کے سخت ترین فوجی حکمرانوں میں سے ایک کی سرپرستی میں شروع ہوا۔ انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت اور انجینئرنگ اس کی سیاسی روایت کا حصہ رہی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کی فضائی حادثے میں وفات کے بعد ، جنرل حمید گل کی نگرانی میں اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) کی تشکیل اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی دو تہائی پارلیمانی اکثریت کو ایک سادہ اکثریت سے بھی کم کر دینا پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ آج بھی مسلم لیگ (ن) اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر کوئی موثر سیاسی کردار ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔
سن 2010 کے بعد کے عشرے میں بعض مہم جو جرنیلوں نے یہی تجربہ پاکستان تحریک انصاف کو ساتھ لے کر بھی دہرایا، مگر ایک بار پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک سابقہ سیاسی مستفید نے اپنے سابق سرپرستوں کو ”مجھے کیوں نکالا؟“ کا نعرہ لگا کر خبردار کیا، اس کے بیٹی بھرے جلسوں اور ریلیوں میں جرنیلوں کے نام لے لے کر انہیں اپنی لعن طعن کا نشانہ بناتی رہی، جبکہ دوسرے نے انہی سرپرستوں کو ”میر صادق“ اور ”میر جعفر“ جیسے القابات سے نوازا، جو برصغیر کی تاریخ میں غداری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
اس کے باوجود، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ایک مرتبہ پھر انہی آزمودہ سیاسی کرداروں پر انحصار کر رہی ہے، جو حضرت علیؓ سے منسوب اس قول کے برعکس ہے کہ: ”مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔“
کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں مبینہ دھاندلی کے بعد اب یہی الزامات دوسرے مرحلے پر بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔ اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور وفاقی حکومت کو واضح اور دو ٹوک انداز میں خبردار کیا ہے کہ کشمیر میں عوامی مینڈیٹ چوری کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ طرزِ عمل جاری رہا تو پیپلز پارٹی اپنے سیاسی فیصلے کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہوگی۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جارحانہ تقاریر اور بھرپور انتخابی مہم کے نتائج آنے والے دنوں میں واضح ہوں گے، تاہم پیپلز پارٹی کے بہت سے کارکن اور حامی یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان موجود غیر فطری سیاسی اتحاد کو جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق، جس حکومت کو وہ غیر حقیقی یا متنازع مینڈیٹ کی حامل قرار دیتے ہیں، اس کی حمایت جاری رکھنا نہ صرف جمہوریت بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
گلگت بلتستان کے بعد اب مسلم لیگ (ن) پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ کشمیر کے عوام کے انتخابی مینڈیٹ پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت، آزاد کشمیر کی حکومت سے مشاورت یا رضامندی حاصل کیے بغیر انتخابات کو تین مراحل میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق، یہ فیصلہ صرف اس لیے کیا گیا تاکہ انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے اور کشمیری عوام کے حقیقی مینڈیٹ کو کمزور کرنے کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
ایک طرف مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی و زراء پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کر رہے ہیں کہ جب آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور صدر دونوں کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے تو پھر انتخابی دھاندلی کا الزام لگانا تضاد ہے۔ دوسری طرف، مسلم لیگ (ن) کا یہی موقف اس کے ناقدین کے نزدیک اس بات کا ثبوت ہے کہ اگرچہ آزاد کشمیر میں وزیراعظم اور صدر کے عہدے پیپلز پارٹی کے پاس ہیں، لیکن انتظامی مشینری اور حقیقی اختیارات بدستور مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت اور حکومتِ پنجاب کے زیرِ اثر ہیں۔
پہلے مرحلے کی طرح دوسرے مرحلے میں بھی یہ الزامات سامنے آئے کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے حکومتی سرپرستی میں بڑے پیمانے پر دھونس، تشدد اور ہنگامہ آرائی کی۔ ان الزامات کے مطابق، مظفرآباد میں پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے کیے گئے، جیسا کہ پہلے میرپور میں بھی ہوا تھا، ہنگامے برپا کیے گئے اور پیپلز پارٹی کا ایک کارکن جاں بحق ہوا۔ اسی دوران پیپلز پارٹی کے ایک رکن قومی اسمبلی کی گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے۔ پیپلز پارٹی کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ان مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے شواہد سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش کرتے رہے اور پارٹی قیادت نے انہیں قومی میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا۔
آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر، جو خود بھی مظفرآباد کے ایک حلقے سے امیدوار ہیں، نے مبینہ طور پر انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کو دو خطوط ارسال کیے۔ پیپلز پارٹی کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر نے ان خطوط کا تسلی بخش جواب نہیں دیا، جسے پارٹی کے حامی اس بات کی علامت قرار دیتے ہیں کہ انہوں نے آزاد ریاست کے ایک آزاد آئینی ادارے کے سربراہ کے بجائے نہ صرف حکومتِ پاکستان کے مفادات کو ترجیح دی بلکہ ریاست پاکستان کے ملازم کا کردار ادا کیا۔
وفاقی حکومت نے جس انداز میں آزاد کشمیر کے انتخابات کو متنازع بنایا ہے، اس کے انتہائی منفی اثرات نہ صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اتحاد پر پڑ رہے ہیں، بلکہ نون لیگ کشمیر کی تمام نشستیں بھی جیت لے تب بھی وہ کشمیر میں سیاسی استحکام، امن و ترقی کو ممکن نہیں بنا سکے گی کیونکہ جس طرح 5 اگست 2019 کو مودی نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کر کے وہاں ایک انتشار، عدم استحکام و عدم تحفظ کے حالات کو جنم دے کر کیا تھا وہی کام مسلم لیگ نون کی قیادت اور حکومت پاکستان نے کشمیر انتخابات میں کشمیری عوام کے ووٹ پہ ڈاکا مار کر کیا ہے۔
حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں بنتی اور بگڑتی رہتی ہیں، لیکن قومی اتحاد، جمہوری ادارے اور عوام کا اعتماد ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر کسی بھی ملک کا مستقبل استوار ہوتا ہے۔ پاکستان کے پاس ادارہ جاتی صلاحیت بھی موجود ہے اور انسانی وسائل بھی، جو اسے موجودہ چیلنجز سے نکال کر ایک زیادہ مستحکم، خوشحال اور متحد مستقبل کی طرف لے جا سکتے ہیں، بس صرف نیک نیتی اور انصاف پسند جمہوری رویوں کی ضرورت ہے۔
