الزبتھ پیکارڈ کی کہانی کا مختصر تجزیہ۔ آخری قسط

جب ہم الزبتھ پیکارڈ کی کہانی پڑھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ انیسویں صدی تک اخلاقی دیوانگیMORAL INSANITY کا تصور موجود تھا۔ ماہرین کے لیے عورتوں پر ظلم و ستم و زیادتی کرنے اور انہیں خاموش کرنے کے لیے یہ تشخیص کام آتی تھی۔
اس طرح طب اور نفسیات کو سوشل کنٹرول کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ایک ذہین، سمجھدار اور صاحب الرائے عورت الزبتھ پیکارڈ کو کنٹرول کرنے کے لیے چار مردوں نے مل کر سازش کی
پہلے مرد ان کے شوہر پادری تھیوفلس تھے
دوسرے مرد پادری تھیوفلس کے دوست ڈاکٹر براؤن تھے
تیسرے مرد پادری تھیوفلس اور ڈاکٹر براؤن کے دوست پولیس افسر برگس تھے اور
چوتھے مرد پاگل خانے کے سپریٹنڈنٹ ماہر نفسیات ڈاکٹر میک فارلینڈ تھے۔
یہ بات بہت اہم ہے کہ یہ چار مرد عام آدمی نہیں تھے یہ چار سماجی اداروں کے رہنما تھے
پاردی تھیوفلس مذہبی ادارے کے رہنما تھا
ڈاکٹر براؤن طبی ادارے کے نمائندے تھے
افسر برگس پولیس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے تھے
ڈاکٹر میک فارلینڈ نفسیاتی ہسپتال کے انچارج تھے
اس طرح چار مردوں اور چار اداروں نے مل کر الزبتھ پیکارڈ کو خاموش کرنے کی کوشش کی اور ایک ہزار دن تک کامیاب بھی رہے۔
لیکن پھر کچھ لوگوں کو اندازہ ہوا کہ الزبتھ پیکارڈ کے ساتھ ظلم اور نا انصافی ہو رہی ہے۔
پہلے ہسپتال کی ایک کارکن مس بلیسنگ کو الزبتھ پیکارڈ سے ہمدردی ہوئی
جہاں پادری تھیوفلس متعصب تھے وہیں پادری شیلڈ الزبتھ پیکارڈ کے معاملے میں ہمدرد تھے
جہاں ڈاکٹر براؤن اور ڈاکٹر میک فارلینڈ جابر و ظالم تھے وہیں ڈاکٹر کلارک ہمدرد تھے
اسی طرح وکیل براڈول انسانی حقوق کی حامی تھیں اور الزبتھ پیکارڈ کے حوالے سے ہمدرد تھیں۔ انہوں نے الزبتھ پیکارڈ کا کیس لڑا اور انہیں پاگل خانے سے نہ صرف آزاد کروایا بلکہ انہیں عارضی طور پر اپنے گھر میں رکھا تا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ سمجھ کر دانشمندانہ فیصلے کر سکیں۔
آزاد ہونے کے بعد بھی الزبتھ پیکارڈ کی مشکلات ختم نہ ہوئیں کیونکہ ان کے شوہر نے ان کے بچوں کو ان کے خلاف بدظن کر دیا تھا اور انہیں قائل کر دیا تھا کہ ان کی ماں پاگل ہے۔
الزبتھ پیکارڈ کی کوششوں اور قربانیوں کی وجہ سے ذہنی مریضوں کے بارے میں قوانین بدلے اور طبی نظام میں بہت سی مثبت اصلاحات ہوئیں۔
میں نے پچھلے چالیس برس میں کینیڈا کے تین صوبوں کے تین نفسیاتی ہسپتالوں میں کام کیا ہے
نیوفن لینڈ کے واٹرفورڈ ہسپتال میں
نیو برنزوک کے سینٹرا کئیر میں
اونٹاریو کے وھٹبی سائیکاٹرک ہسپتال میں
میں کینیڈا کے مینٹل ہیلتھ ایکٹ سے واقف ہوں جس کا بنیادی موقف یہ ہے کہ اگر کوئی انسان ذہنی مریض ہے اور اپنے ذہنی مرض کی وجہ سے
خود اپنی جان کے لیے خطرہ ہے اور خود کشی کرنا چاہتا ہے یا
کسی اور کی جان کے لیے خطرہ ہے اور قتل کرنا چاہتا ہے
تو کوئی ڈاکٹر فارم ون FORM ONE کو پر کر کے پولیس کی مدد حاصل کر سکتا ہے تا کہ اس مریض کو نفسیاتی ہسپتال داخل کیا جائے۔
جب کوئی انسان ذہنی مرض کا شکار ہوتا ہے تو عرف عام میں کہا جاتا ہے کہ وہ ذہنی توازن کھو چکا ہے یا اس کا نروس بریک ڈاؤن ہو گیا ہے۔ نفسیات کی پیشہ ورانہ زبان کہ کہا جاتا ہے کہ وہ مریض سائیکوسس PSYCHOSIS کا شکار ہے جس کی مثال سکزوفرینیا اور بائی پولر ڈس آرڈر ہیں۔
سائیکوسس کے مرض کی علامات میں
غیبی آوازیں اور ہیلو سینیشنز HALLUCINATIONS
توہمات اور ڈیلوینزDELUSIONS
منطقی سوچ کی خرابی اور تھوٹ ڈس آرڈر THOUGHT DISORDER
غیر سماجی عادات INAPPROPRIATE BEHAVIOUR
شامل ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ الزبتھ پیکارڈ میں ان میں سے کوئی بھی علامت موجود نہیں تھی اسی لیے ڈاکٹر کلارک نے انہیں صحیح الدماغ قرار دیا تھا۔
کینیڈا میں مرضی کے خلاف ہسپتال میں داخلے کے لیے ذہنی بیمار ہونا ناکافی ہے۔ اس شخص کا ذہنی مرض کی وجہ سے اپنی جان یا کسی اور کی جان کے لیے خطرہ بھی ضروری ہے۔
جب کوئی ڈاکٹر فارم ون بھرتا ہے تو پولیس اس مریض کو ہسپتال لے جاتی ہے جہاں اس کا ایک اور ڈاکٹر معائنہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ اسے ہسپتال میں بہتر گھنٹے رکھا جائے یا اسے گھر بھیج دیا جائے۔
بہتر گھنٹے کے بعد اس مریض کا دوبارہ معائنہ کیا جاتا ہے اور اگر اسے اور علاج کی ضرورت ہے تو پھر فارم تھری FORM THREE بھرا جاتا ہے۔
الزبتھ پیکارڈ کے کیس میں ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا۔
اگر کوئی مریض کینیڈا کے نفسیاتی ہسپتال میں اپنے علاج سے خوش نہیں ہے تو وہ پیشنٹ ایڈووکیٹ PATIENT ADVOCATE سے رابطہ قائم کر سکتا ہے جو اس کی قانونی مدد کرتا ہے اور اس کے انسانی حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔
الزبتھ پیکارڈ کو پاگل خانے میں ایسی کوئی مدد نہیں ملی۔
اگر کسی مریض کے رشتہ دار اس کے بارے میں فکرمند ہیں اور انہیں کسی ڈاکٹر کی مدد حاصل نہیں ہے تو وہ عدالت میں جا کر کسی جسٹس آف پیس سے درخواست کر سکتے ہیں اور اگر وہ جج قائل ہو جائے تو وہ فارم ٹو FORM TWO کو پر کر کے پولیس سے درخواست کر سکتا ہے کہ وہ مریض کو ہسپتال لے جائیں تا کہ اس کا علاج کیا جا سکے۔
کینیڈا کے ہر صوبے کا مینٹل ہیلتھ ایکٹ قدرے مختلف ہے۔
کینیڈا کے ایک صوبے میں ایک نوجوان کا جب نروس بریک ڈاؤن ہوتا تھا تو وہ شاپنگ مال میں جا کر کھڑکیاں توڑتا تھا۔ اس کی وجہ سے قانون یہ بنا کہ اگر کوئی ذہنی مریض پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچا رہا ہے تو اسے ہسپتال بھیجا جا سکتا ہے۔
کینیڈا کے ایک اور صوبے میں ایک مریض جو کھیتوں میں کام کرتا تھا جب وہ ذہنی توازن کھو دیتا تھا تو جانوروں کو مار دیتا تھا اس لیے اس صوبے میں یہ قانون ہے کہ اگر کوئی مریض جانوروں کو جان سے مارتا ہے تو اسے بھی علاج کے لیے نفسیاتی ہسپتال بھیجا جا سکتا ہے۔
کینیڈا کی سردی اتنی سخت ہوتی ہے کہ درجہ حرارت منفی تیس اور چالیس سنٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سردی میں کئی خواتین جو ڈیمنشیا کی مریضہ تھیں اپنے نرسنگ ہوم سے آدھی رات کو نکلیں اور سردی میں ٹھٹھر کر مر گئیں۔ اب ایسی خواتین کو بھی علاج کے لیے نفسیاتی ہسپتال بھیجا جا سکتا ہے۔
میں نے یہ سب تفاصیل اس لیے لکھی ہیں تا کہ آپ کو اندازہ ہو کہ الزبتھ پیکارڈ قوانین میں جو مثبت تبدیلیاں لائی تھیں اس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔
پچھلی ایک صدی میں شمالی امریکہ کے قوانین میں بہت سی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں
اب مریض کا دو ڈاکٹر معائنہ کرتے ہیں
اور
ذہنی مریض کو قانونی مدد فراہم کی جاتی ہے
مریضہ کی ذہنی حالت کا تسلسل سے ریویو کیا جاتا ہے
اب طب نفسیات اور قانون کو عورتوں کو خاموش کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا اور عورتوں کو وہ علاج مہیا کیا جاتا ہے جس کی وہ مستحق ہیں۔
یہ خوش آئند تبدیلیاں ہیں۔
ایک انسان دوست ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میرا یہ موقف ہے کہ
چاہے وہ طب ہو یا نفسیات
چاہے وہ پولیس ہو یا نفسیاتی ہسپتال
ان سب نظاموں میں ہمیں سب شہریوں کے اور خاص طور پر عورتوں، بچوں، ذہنی مریضوں اور اقلیتوں کے انسانی حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔
الزبتھ پیکارڈ نے عورتوں اور ذہنی مریضوں کے انسانی حقوق کے لیے جو قربانیاں دیں اب ہم شمالی امریکہ اور یورپ میں اس کا پھل چکھ رہے ہیں۔
بدقسمتی سے دنیا کے چند ممالک ایسے ہیں جہاں بدقسمتی سے آج بھی ذہنی مریضوں، اقلیتوں، بچوں اور عورتوں کے انسانی حقوق کا احترام نہیں کیا جاتا۔

ڈاکٹر صاحب! آپ واقعات کے حوالے دے کر مشکل موضوعات کو اس قابل بنا دیتے ہیں کہ وہ آسانی سے سمجھ آ سکیں۔ یقینا آپ کے بہت سارے کارین پاکستان سے باہر ہیں جو آپ کے اس مضمون کے ساتھ ایک گہرا تعلق محسوس کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں بھی بہت سیاسی پڑھے لکھے لوگ یقینا آپ کے مضامین پڑھتے ہوں گے جنہیں بات آسانی سے سمجھ ا سکتی ہے۔ لیکن وہیں پر میرے خاندان جیسے لوگ بھی موجود ہیں (فارم میں مزید لکھنے کی گنجائش)؟؟؟؟
یہ بہت اہم عنوان آپ نے چنا اور اردو میں لکھا۔ مجھے یقین ہے کہ اس سے ضرور کسی نا کسی شخص کو فائدہ ہوگا۔ بہت ا چھی کہانی ہے – دلگیر بھی اور پرامید بھی۔