بلاگ

کئی گھروں کی رونق بن چکا دور دیس بیٹھا ننھا فرشتہ

sheikh laeeq ahmad

یہ کہانی اے ٹی وی سے شروع ہوتی ہے۔ اے ٹی وی یعنی آل ٹیرین وہیکل، چھوٹی سی جیپ نما گاڑی جو خصوصی طور جنگلوں ریگستانوں کی ناہموار راہوں یا کیچڑ وغیرہ میں سفر کے لئے استعمال ہوتی ہے اور شوقیہ ایسے سفر کرنے والوں کے علاوہ بڑے، چھوٹے، چند ایکڑ یا سینکڑوں ایکڑوں پہ محیط زرعی یا جنگلوں اور ناہموار سطح والے فارم ہاؤسز میں لازما ”موجود ہوتی ہے۔

سردیاں وقت سے کچھ پہلے شروع ہو چکی تھیں میاں بیوی ناشتہ کے بعد ٹی وی دیکھتے گپ مار رہے تھے کہ اچانک باہر کھڑی اے ٹی وی کے سٹارٹ ہونے اور یک دم رفتار پکڑنے کے آواز آئی۔ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ ایک زور دھماکہ اور چیخ سنائی دی۔ ”ہمارا جمی ( فرضی نام )“ دونوں چیخے اور باہر کو بھاگے۔ کوئی سو میٹر کے فاصلے پہ اے ٹی وی درخت سے ٹکرا اس میں دھنسی پڑی تھی اور جمی پھنسا، شدید زخمی اور بے ہوش ہو چکا مگر سانس لے رہا تھا۔ ناشتہ سے کچھ دیر پہلے ہی جمی کا باپ اسے ساتھ لے شہر سے دور دراز کم آباد بڑے بڑے زرعی فارموں کے علاقے میں اپنے دو تین سو ایکڑ رقبہ والے فارم میں کوئی کام کر واپس آیا تھا۔ غلطی سے چابی نکالنا بھول گیا تھا۔ اور باپ کے ساتھ روز بیٹھنے والا چھ سات سالہ جمی اسے دیکھ دیکھ ہی ماہر ڈرائیور بن چکا اسے خود چلانے کا شوق پورا کرنے نکل پڑا تھا۔

ایمرجنسی پہ فون سنتے ہی پولیس اور ابتدائی طبی امداد والی پیرامیڈیکس ایمبولینس گاڑیاں نکل چکی تھیں اور صورت حال دیکھ ائر ایمبولینس ہیلی کاپٹر بھی بھیج دیا گیا۔ ہونی اپنا کام دکھا چکی تھی۔ اور ہسپتال پہنچنے کے کوئی ایک گھنٹہ کے اندر ہی یہ ننھا فرشتہ رب کے حضور حاضر ہو چکا تھا۔

نصف شب ہونے کو تھی۔ دوپہر سے ہی شدید برفباری اور طوفانی ہواؤں کے راج کے باعث سڑکیں برف سے اٹی پڑی تھیں۔ بڑے شہر کے سب سے بڑے ہسپتال کے آپریشن تھیٹرز چھٹی کے باوجود کھل چکے تھے اور اس خصوصی رات کی مناسبت سے مطلوب ہر شعبہ کے ماہرین ڈاکٹر، سرجن، ٹیکنیشن، نرسیں اور چھوٹا بڑا عملہ اسی ہسپتال سے، اپنے گھروں سے اٹھ یا دوسرے نزدیکی ہسپتالوں سے نکل اس ہسپتال میں پہنچنا شروع تھے۔ بچے کے ماں باپ اجازت دے چکے تھے کہ ان کے لخت جگر کے جسم کے جو اعضاء ( آرگن ) ، دل، جگر، گردے، آنکھیں وغیرہ کسی اور بہت ضرورت مند بیمار بچے کے کام آ سکیں نکال کے ( ریٹریو کرنا ) ان کے جسموں کے لئے عطیہ شمار کرتے پیوند ( ٹرانسپلانٹ ) کر دیے جائیں۔ دوپہر کے بعد سے ہی اس کی منصوبہ بندی شروع تھی اور جزئیات طے کی جا رہی تھیں۔ انتظامات پورے ہوتے ہی آٹھ دس شعبوں کے ماہر ڈاکٹر ان کے نائبین اور ٹیکنیشنز اور ہر شعبہ کا متعلقہ ضروری عملہ اپنی اپنی ڈیوٹیاں سنبھال چکا تھا۔ کمپیوٹر ٹیسٹنگ اور دوسری مشینوں پہ ماہر اپنے کام پہ جُت چکے اور مطلوبہ اعضاء نکال کے محفوظ کر اپنی اگلی منزلوں کی طرف بھیجے جانے کے انتظامات کرنے والے اپنے فرائض میں مصروف ہوچکے تھے۔

محکمہ صحت کا ایک شعبہ ان اعضاء کو اسی ہسپتال، اسی شہر کے دوسرے ہسپتال نزدیکی شہروں یا سینکڑوں سے ہزاروں کلومیٹر دور کے شہروں میں ان عطیہ کردہ اعضاء کو محفوظ طریقے سے ان کی پیوند کاری کے لئے مطلوب وقت اور مخصوص ٹیکنالوجی کے ذریعہ ایک مقررہ وقت تک قابل پیوند کاری ( آرگن ٹرانسپلانیٹیشن ) رہنے کے لئے محفوظ بناتے اور مقررہ وقت کے اندر پہنچانے کے انتظامات میں مصروف تھا اور مخصوص انتظامات والی پیرا میڈکس ایمبولینسز انہیں مقامی یا نزدیکی شہروں کے ہسپتالوں میں پہنچانے یا ائر پورٹ پہ تیار کھڑے ایک دو ائر ایمبولینس کے ہیلی کاپٹر یا جہازوں تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کر چکے تھے۔

دوپہر کے بعد ہی محکمہ صحت کا دوسرا شعبہ فعال ہو چکا تھا۔ قریب و دور کے ہسپتالوں یا اپنے گھروں میں ہی موجود اسی عمر کے ان مریض بچوں کا ڈیٹا یکجا کر کے فیصلہ کیا جا رہا تھا کہ فاصلہ اور مریض اور ضرورت کی شدت کے پیش نظر کون کون سے بچے کہاں کہاں کس انسانی عضو کے ٹرانسپلانٹ کے منتظر ہیں اور کس کو ترجیح دی جائے۔ اور کون سے ہسپتال میں جہاں یہ سہولت میسر ہو۔ اس کے ساتھ ہی ان ہسپتالوں کے شعبے میں دو تین رنگ کی ایمرجنسی نافذ ہو چکی تھی۔ سرجری یونٹس میں درکار عملہ اکٹھا ہو رہا تھا، متعلقہ عضو کے ٹرانسپلانٹ کے سپیشلسٹ سرجن اپنی پلاننگ کر رہے تھے۔ آپریشن تھیٹر کا عملہ اپنی تیاری میں مصروف تھا اور چناؤ شدہ بچوں کو اس متعلقہ ہسپتال میں گھروں سے یا دوسرے ہسپتال سے، نوعیت کے مطابق اس ہسپتال منتقل کر کے آپریشن کے لئے تیاری ضروری ٹیسٹ، لواحقین کو پیوند کاری آپریشن سے متعلق ضروری امور سے آگاہ کر کے کاغذی کارروائی مکمل کرتے دیے گئے مقررہ وقت کے اندر فوری آپریشن تھئیٹر پہنچائے جانے کے لئے تیار کرنے والے اپنا فرض انجام دے رہے تھے۔ ( بعض اعضاء جو دیر تک محفوظ رکھے جا سکتے ہیں، مثلاً آنکھوں کا قرنیہ، اگر فوری طور کوئی معطی یعنی ضرورت مند موجود نہ ہو تو ان کو علیحدہ سنبھال لیا جاتا ہے اور جہاں جس ملک یا علاقے میں معطی منتظر ہو بھیجا جا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی تنظیمیں اس کام کے لئے رابطہ میں رہتی ہیں۔ )

مریض کی وفات کی تصدیق ( ایک الگ شعبہ ) کے بعد اس کے اعضاء کو ریٹریو یعنی جسم سے الگ کرنے، انہیں ہر طرح محفوظ کرنے اور اس کے بعد دوسرے مریض کے جسم سے ناکارہ یا صحت مند نہ ہو سکنے والا عضو نکال یہ صحت مند عضو پیوند کرنا۔ ان تمام مراحل کو ہر مرحلہ کے لئے مقرر وقت میں پورا کرنا لازم ہے۔ جیسے جیسے کوئی عضو حاصل ہوتا فوراً منتظر مریض کے ہسپتال تک پہنچایا جا رہا تھا۔ فاصلے اور وقت کے لحاظ سے ٹرانسپورٹ کے ذرائع، ایمبولینس، ہیلی کاپٹر یا دور کے شہر ہوائی جہاز سے۔ طلوع آفتاب تک المناک حادثہ میں موت کی آغوش میں چلے جانے والا اپنے عطیہ شدہ اعضاء کو چند دوسرے موت یا معذوری کے خدشہ میں مبتلا ہم عمروں کو زندگی اور/ یا صحت مند حیات کا باعث بن اب موت کے بعد بھی زندہ کئی جسموں میں نامعلوم علاقوں میں زندہ تھا، جب کہ میت کو دوبارہ زخموں کو سی سلا ممکن حد تک درست حالت میں، اس حالت میں کہ اس کا مکمل یا جزوی دیدار کیا جا سکے تابوت میں بند کر ورثاء کے حوالے کیا جا چکا تھا جو اپنے مذہب یا عقیدہ یا رواج کے مطابق آخری رسوم ادا کر چکے تھے۔ والدین اور سوگوار خاندان کو یہ تو پتہ تھا کہ ان کا ننھا بچھڑا لخت جگر عطیہ شدہ اعضا کے ذریعہ وہ ننھا فرشتہ بن چکا تھا جو مرنے کے باوجود دنیا میں کئی جگہ موجود تھا۔ عطیہ وصول کر صحت مند ہونے والے کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا کہ اس کے سینے کے اندر کس کا دل دھڑک رہا ہے یا بینائی کن آنکھوں نے دی ہے نہ اس ننھے فرشتے کے ورثاء یا عام پبلک میں سے کسی کو معلوم ہے کہ ان کے فرشتے کا کون سا پر کہاں اڑ رہا ہے یا جگر کس کا جگر بن فرائض ادا کر رہا ہے۔ اور کون سا عضو کرۂ ارض پہ موجود ہے۔ کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ فرشتہ لڑکا تھا یا لڑکی اور صحیح عمر کیا تھی اور معین ایڈریس اس خاندان کا کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ قانوناً مکمل پابند ہیں۔ ( ایسی منظور شدہ انجمنیں موجود ہیں جو عطیہ کنندہ کے خاندان اور عطیہ وصول کرنے والے کے درمیان مقررہ حدود میں رہتے شناخت کی سو فیصد رازداری رکھتے رابطہ کروا سکتی ہیں ) بس ورثاء کو اتنا ادراک تھا کہ ان کا ننھا پیارا دلارا اب ہمیشہ رہنے والے دور دیس جا وہ فرشتہ بن چکا ہے، جو وہاں ہوتے بھی کئی گھروں کی پریشانیاں دور کرتے ان کی رونق بن چکا اسی دنیا میں گھوم پھر رہا ہے۔

( نوٹ : چونکہ ترقی یافتہ ملکوں میں، جیسا کہ اوپر عرض کیا ہے، اس کے متعلق تمام تفصیلات مکمل خفیہ ہوتی ہیں، اس لئے انٹرنیٹ پہ موجود پچھلے برسوں کے مختلف ملکوں کے حادثات کے متعلق بیان شدہ اشاروں کو اے آئی سے آرگن ٹرانسپلانٹ کا طریق کار پڑھتے یکجا کر استفادہ کرتے عام قاری کے لئے یہ داستان مرتب کی گئی ہے۔ )

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW