میرے مطابق

آزادی کی صوتیات: سیاسی شور کے بازار میں کھوئی ہوئی باوقار خاموشی

Peer Intzar Hussein muswar

تاریخ صرف جنگوں اور جغرافیائی حدود کا نام نہیں ہوتی، بلکہ ہر دور کا اپنا ایک مزاج، اپنی ایک فکر اور اپنی ایک مخصوص آواز ہوتی ہے۔ اگر ہم 14 اگست 1947 کے اس موڑ کو یاد کریں جب اس ملک کے کروڑوں لوگوں نے آزاد فضا میں پہلا سانس لیا تھا، تو اس وقت کا سب سے بڑا استعارہ کوئی کھوکھلا نعرہ یا بے ہنگم ہنگامہ نہیں تھا، بلکہ ایک گہری، مقدس اور باوقار خاموشی تھی۔ وہ خاموشی خدا کے حضور سجدۂ شکر کی تھی، وہ خاموشی ہجرت کی خونچکاں راہوں میں بچھڑ جانے والے پیاروں کے غم کی تھی، اور وہ خاموشی ایک نوخیز ریاست کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی انتہائی سنجیدہ فکر سے جنم لے رہی تھی۔

اس ملک کی بنیادوں میں کوئی عام اینٹیں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کا خون اور برصغیر کے عظیم مفکروں کی لازوال محنت شامل ہے۔ مسلمانوں کے جداگانہ وجود اور عزت کی حفاظت کے لیے حضرت مجدد الف ثانیؒ اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی فکری تحریکوں سے لے کر بیسویں صدی کے رہنماؤں تک ایک لمبی جدوجہد پھیلی ہوئی ہے۔ اس ملک کا خواب دیکھنے اور اس کی تعبیر کے لیے خان بہادر خان اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جیسے خطبا نے جیلوں کی سختی کاٹی۔ عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی بے باک زبان نے انگریز سامراج کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں اور ان کی خاندانی قربانیوں نے حریت کی وہ شمع جلائی جس کے نتیجے میں یہ ملک وجود میں آیا۔

اس وطن کے نام کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک گمنام رہنما چوہدری رحمت علی نے 28 جنوری 1933 کو اپنے تاریخی پرچے (پمفلٹ) کے ذریعے ”پاکستان“ کا نام تجویز کیا تھا۔ یہ محض چند حروف کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ ایک پاکیزہ، باوقار اور با اخلاق معاشرے کا خواب تھا جہاں انصاف، مساوات اور فکر کی آزادی ہونی تھی۔ انہوں نے اس نام کے ذریعے خطے کے تمام مسلمان علاقوں کو ایک الگ جغرافیائی اور معنوی پہچان دی، تاکہ یہ قوم دنیا کے نقشے پر اپنی خودداری کے ساتھ جی سکے۔

لیکن آج ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیے کہ جب ہم 1947 میں آزاد ہوئے تھے تو ہم کہاں تھے، اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟

1947 میں ہمارے پاس وسائل کی شدید کمی تھی، خزانہ خالی تھا، دفتری سامان تک پورا نہ تھا، لیکن اس وقت ہمارے پاس اخلاق تھا، غیرت تھی، محنت کا جذبہ تھا اور ایک باوقار قومی خاموشی تھی۔ دنیا دیکھ رہی تھی کہ ایک غریب قوم اپنے عزم کے بل بوتے پر دنیا کے نقشے پر ابھر رہی ہے۔ مگر آج ہم کس عالمِ غربت اور کٹورے کی سیاست تک جا پہنچے ہیں؟ آج حالت یہ ہے کہ ملک کا کسان، مزدور اور عام شہری مہنگائی اور بھوک سے نڈھال ہے، ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے، اور ہم دنیا بھر میں کشکول لے کر مانگنے پر مجبور ہیں۔

اور دوسری طرف ہماری سیاسی جماعتوں کا حال دیکھیے۔ مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف سے لے کر دیگر بڑی و چھوٹی جماعتوں تک، سب نے اس ملک کو اپنی اقتدار کی جنگ اور آپس کی گالی گلوچ کا میدان بنا رکھا ہے۔ سیاسی قیادت کا پورا زور صرف ایک دوسرے کو چور، غدار اور نا اہل ثابت کرنے پر لگا ہوا ہے۔ ان جماعتوں کو نہ قوم کی معاشی تباہی کا احساس ہے، نہ گرتی ہوئی اخلاقیات کی فکر ہے اور نہ اس غریب عوام کی پروا ہے جو روٹی کی ایک بوری اور بجلی کے بل کے لیے سڑکوں پر رل رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی یہ جماعتیں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے صرف نعروں، الزامات اور سیاسی تماشوں سے بہلا رہی ہیں۔

اس سیاسی دھڑے بندی اور بے حسی کا عکس اب ہماری سڑکوں پر بھی نظر آتا ہے۔ جس قوم کی سیاست کا یہ حال ہو، اس کے نوجوانوں سے کیا گلہ؟ 14 اگست کو آزادی کی خوشی اور جوش کا اظہار پلاسٹک کے بجتے باجوں، موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر پیدا کی جانے والی کان پھاڑتی آوازوں اور سڑکوں پر ہلڑ بازی سے کیا جاتا ہے۔ ہم نے آزادی کو ایک معقول اخلاقی اور قومی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے ایک شور، گندگی اور بے مقصد ہنگامہ بنا دیا ہے۔ جس قوم نے آزادی کے بعد سائنسی لیبارٹریوں، کتب خانوں اور کارخانوں میں خاموش محنت کرنی تھی، وہ قوم گلی محلوں میں باجے بجا کر خود کو آزاد ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

نفسیات دان بالکل سچ کہتے ہیں کہ جب کسی قوم کے پاس اپنی کارکردگی، نئی ایجادات، علم اور اخلاقی برتری دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں رہتا، تو وہ دنیا میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے محض شور اور ڈرامے کا سہارا لیتی ہے۔

ہم نے آزادی کے حقیقی مفہوم یعنی فکری آزادی، معاشی خود کفالت اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کو چھوڑ کر اس کے محض ظاہری خول کو اپنا لیا ہے۔ ہم نے عمارتوں اور گاڑیوں پر پرچم تو لٹکا دیے، لیکن اس پرچم کی حرمت، اس کے سبز رنگ کی شادابی، اور اس کے پیچھے چھپی قربانیوں کی قدر کو بالکل بھلا دیا۔ صوفیائے کرام کے آستانوں سے لے کر آزادی کی جدوجہد تک، تاریخ گواہ ہے کہ سچی آزادی ہمیشہ انسان کے باطن سے جنم لیتی ہے۔ جب انسان کا باطن جہالت، خوف، بغض، اور مادی غلامی سے آزاد ہوتا ہے، تو اس کے کردار میں ٹھہراؤ، عاجزی اور سچائی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن جب انسان کا باطن اندر سے ہی غلام ہو اور قوم قرضوں کی زنجیروں میں جکڑی ہو، تو وہ ظاہری طور پر جتنا بھی نعرہ مچائے یا باجا بجائے، اس کی روح پر بندھی غلامی کی زنجیریں کھنکتی ہی رہتی ہیں۔

آج اس دن پر ہمیں اپنے آپ سے اور اپنی سیاسی و قومی قیادت سے ایک تلخ سوال پوچھنا ہو گا۔ کیا آزادی کا مطلب صرف برطانیہ کے سامراج سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا؟ یا آزادی کا مطلب اپنے اندر کی جہالت، بدعنوانی، نا انصافی، رشوت اور کٹورہ لے کر مانگنے والی غربت سے بھی نجات پانا تھا؟

جب تک ہماری سیاسی جماعتیں اقتدار کی ہوس چھوڑ کر ملک کی فلاح پر متفق نہیں ہوتیں، جب تک ہم اپنے تعلیمی اداروں میں حقیقی تحقیق اور علم کا ماحول قائم نہیں کرتے، جب تک ہم اپنے معاشرے سے میرٹ کی پامالی اور معاشی نا انصافی کا خاتمہ نہیں کرتے، اور جب تک ہم ایک دوسرے کا نقطہ نظر تحمل سے سننے کا حوصلہ پیدا نہیں کرتے۔ یہ سیاسی نعرے بازی اور شور ہمیں کبھی ایک خوددار قوم نہیں بنا سکتے۔

پنجاب کے عظیم صوفی شاعر حضرت بابا بلھے شاہؒ نے جب اپنے کلام میں کہا تھا کہ ”سر توں بھار اتار“ ، تو ان کا اشارہ اسی باطنی اور فکری آزادی کی طرف تھا۔ آج پاکستان کو نعروں، سیاسی مفادات اور بے بنیاد شور کے اس بھاری بوجھ سے آزاد ہونے کی شدید ضرورت ہے۔ ہمیں اس شور زدہ دور سے نکل کر واپس اسی خاموشی اور سنجیدگی کی طرف لوٹنا ہو گا جو 1947 کے معماروں اور ہجرت کرنے والے لٹے پٹے لوگوں کی آنکھوں میں تھی۔ وہ خاموشی جو راتوں کو اٹھ کر خدا کے حضور رو کر دعا مانگنے کی ہوتی ہے، وہ خاموشی جو کتب خانوں میں بیٹھ کر پڑھے جانے والے علم کی ہوتی ہے، اور وہ خاموشی جو قوموں کو دنیا کے نقشے پر خاموش محنت، سائنس اور تعمیری عمل سے سر بلند کرتی ہے۔

آئیے! اس بار 14 اگست کو پلاسٹک کے باجوں، سائلنسر کی چیخوں اور سیاسی جلسوں کے بے مقصد ہنگامے کی نذر کرنے کے بجائے، خاموشی سے اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ اپنے ملک کی اس زبوں حالی اور معاشی غربت کا اعتراف کریں، اپنے پاک وطن کے ساتھ سچی وفاداری اور ایمانداری کا عہد کریں اور سیاسی و فکری شور کے اس بازار سے نکل کر ایک خوددار، علم دوست اور قانون پسند قوم بننے کا سفر شروع کریں۔ کیونکہ سچی اور دیرپا آزادی سڑکوں کے شور میں نہیں، بلکہ کردار کے وقار، معاشی استحکام اور خاموش محنت میں سانس لیتی ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW