میرے مطابق

بلاول بھٹو کی بجٹ تقریر اور مستقبل کی سیاست

zameer afaqi

پاکستان کی سیاست میں بعض تقریریں محض سیاسی بیانات نہیں ہوتیں بلکہ وہ مستقبل کے سیاسی اور قومی بیانیے کی سمت متعین کرتی ہیں۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر ہونے والی حالیہ بحث کے دوران چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تقریر بھی انہی چند خطابات میں شمار کی جا سکتی ہے جنہوں نے ایوان کی روایتی بحث کو ایک نئی سمت دی۔ بجٹ، محصولات، خسارے اور مہنگائی کے اعداد و شمار کے درمیان بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر، کشمیری عوام کے حقوق، مہاجرین کی نمائندگی اور وفاقی ڈھانچے میں اصلاحات جیسے موضوعات اٹھا کر ثابت کیا کہ سیاست صرف روزمرہ کے مسائل کا نام نہیں بلکہ آنے والے کل کا نقشہ بھی ہوتی ہے۔

پاکستان میں نوجوان قیادت کا فقدان ایک عرصے سے محسوس کیا جا رہا تھا۔ سیاسی جماعتیں زیادہ تر ماضی کے نعروں اور شخصیات کے گرد گھومتی رہیں، مگر بلاول بھٹو زرداری ان چند نوجوان رہنماؤں میں شامل ہیں جو مستقبل کے پاکستان کا تصور پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان سے سیاسی اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی جماعت کی پالیسیوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ قومی معاملات پر ایک وسیع تر ویژن رکھتے ہیں اور مشکل موضوعات پر بات کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں ان کی حالیہ تقریر کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو محض جذباتی نعروں کی سطح پر نہیں رکھا بلکہ اس کے عملی اور سیاسی پہلوؤں پر گفتگو کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 1947 سے لے کر آج تک آزاد کشمیر کو اسی انداز میں چلایا جاتا رہے گا؟ کیا وہاں بسنے والی نئی نسل کے سیاسی حقوق اور امنگوں کو ہمیشہ کے لیے مؤخر کیا جا سکتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر شاید ہم نے کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں ایک نئی نسل پروان چڑھ چکی ہے۔ یہ نسل صرف تاریخی حوالوں سے نہیں بلکہ اپنے موجودہ مسائل، معاشی مشکلات، روزگار، تعلیم اور سیاسی شرکت کے حوالے سے بھی سوالات رکھتی ہے۔ اگر پاکستان دنیا کے سامنے یہ موقف پیش کرتا ہے کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنا چاہیے تو پھر یہ بھی ضروری ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کو زیادہ سے زیادہ سیاسی اور جمہوری اختیارات فراہم کیے جائیں تاکہ دنیا کو یہ پیغام ملے کہ پاکستان صرف دعوے نہیں کرتا بلکہ عملی طور پر بھی کشمیریوں کے حقوق کا محافظ ہے۔

بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر کے عوام کو ووٹ کا حق، قانون سازی کا حق اور اپنے مستقبل کے فیصلوں میں زیادہ کردار دینے کی بات کی۔ درحقیقت یہ مطالبات کسی سیاسی جماعت کے نہیں بلکہ جدید جمہوری اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ دنیا بدل چکی ہے اور ریاستوں کی طاقت اب جبر سے نہیں بلکہ عوامی شمولیت اور جمہوری اعتماد سے ماپی جاتی ہے۔

ان کی تقریر کا ایک اور اہم پہلو مہاجرین کشمیر کی نمائندگی سے متعلق تھا۔ انہوں نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ مہاجرین کے حقوق اور آزاد کشمیر کے عوام کے تحفظات دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ انہوں نے مخصوص نشستوں اور ووٹنگ کے نظام کے حوالے سے جو تجاویز پیش کیں، وہ کم از کم بحث کے آغاز کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ سیاسی مسائل کا حل گولی، لاٹھی یا سڑکوں پر تصادم نہیں بلکہ مذاکرات، پارلیمنٹ اور سیاسی اتفاق رائے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

بلاول بھٹو کی ایک بات خاص طور پر قابلِ غور تھی کہ آخر ایسا کیوں ہو کہ میرپور کے ائرپورٹ یا مظفرآباد کے مسائل کے لیے قومی اسمبلی میں لاڑکانہ، لاہور یا کراچی کے نمائندے آواز بلند کریں؟ کیوں نہ آزاد کشمیر کے منتخب نمائندے خود پاکستان کی قومی پارلیمان میں موجود ہوں اور اپنے عوام کے مسائل براہِ راست بیان کریں؟ بظاہر یہ ایک سادہ تجویز لگتی ہے لیکن اس کے اندر ایک بڑا سیاسی تصور پوشیدہ ہے۔ یہ تصور شمولیت، نمائندگی اور جمہوری اعتماد کا ہے۔

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں بھی لوگوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا گیا وہاں استحکام پیدا ہوا اور جہاں ان کی آواز کو نظر انداز کیا گیا وہاں مسائل نے جنم لیا۔ اسی لیے بلاول بھٹو کی تجویز صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں بلکہ پورے وفاقی نظام کے لیے ایک سبق رکھتی ہے۔

ان کی تقریر کا ایک اور اہم پہلو احتجاجی سیاست کے حوالے سے تھا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مطالبات کی حمایت اور عوامی مسائل کے اعتراف کے باوجود قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ ایک متوازن موقف تھا۔ ایک طرف انہوں نے مظاہرین کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا اور دوسری جانب ریاستی نظم و ضبط کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ درحقیقت جمہوریت کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ اختلاف رائے کو جگہ دی جائے مگر اسے آئینی اور قانونی حدود کے اندر رکھا جائے۔

بلاول بھٹو نے ٹرتھ اینڈ ریکنسیلیشن فورم کے قیام کی جو تجویز دی، وہ بھی توجہ کی مستحق ہے۔ پاکستان میں اکثر مسائل اس لیے طول پکڑ جاتے ہیں کہ فریقین ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے محاذ آرائی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر ایک ایسا پلیٹ فارم موجود ہو جہاں شکایات، مطالبات اور تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے تو بہت سے تنازعات تصادم سے پہلے ہی حل ہو سکتے ہیں۔

یہ کہنا شاید قبل از وقت ہو گا کہ بلاول بھٹو کی تمام تجاویز عملی جامہ پہن لیں گی، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے جسے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہو گا۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر درجنوں تقاریر ہوئیں، اعداد و شمار بھی پیش ہوئے، الزامات اور جوابی الزامات بھی لگے، مگر جن نکات نے ایوان سے نکل کر عوامی اور سیاسی حلقوں میں بحث کو جنم دیا وہ بلاول بھٹو کے خطاب سے ہی سامنے آئے۔

ایک صحافی اور کالم نگار کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو صرف اگلے الیکشن نہیں بلکہ اگلی نسل کے بارے میں سوچے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں کم از کم یہ تاثر ضرور دیا کہ وہ روایتی سیاسی بیانیے سے آگے بڑھ کر کچھ نئے سوالات اٹھانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی مبصرین کی ایک بڑی تعداد اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ انہوں نے بجٹ بحث کا ”میلہ لوٹ لیا“ ۔

قومی سیاست میں اختلافات ہمیشہ رہیں گے اور رہنے چاہئیں، لیکن جب کوئی رہنما ایسے موضوعات پر بات کرے جن کا تعلق مستقبل کے پاکستان، کشمیر کے حل، جمہوری نمائندگی اور عوامی حقوق سے ہو تو اس گفتگو کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ شاید یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو محض مسائل کی نشاندہی سے آگے بڑھا کر ان کے حل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

وقت فیصلہ کرے گا کہ بلاول بھٹو کی یہ تجاویز سیاسی نعروں کی حد تک رہتی ہیں یا عملی شکل اختیار کرتی ہیں، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ قومی اسمبلی میں ان کی حالیہ تقریر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی نئی سیاسی نسل اب صرف ماضی کی سیاست نہیں بلکہ مستقبل کے پاکستان کی بات بھی کرنا چاہتی ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW