بلاگ

سرکاری کالجوں کا زوال: ایک عہد کی خاموش موت

Masood ur Rehman Azhar

ایک زمانہ تھا جب سرکاری کالج میں داخلہ پانا کسی اعزاز سے کم نہ سمجھا جاتا تھا۔ وہاں قدم رکھنا طالبِ علم کی محنت، قابلیت اور روشن مستقبل کی علامت تصور کیا جاتا تھا۔ نجی کالجوں کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا، اور جو چند ادارے موجود بھی تھے، ان میں عموماً وہی طلبہ داخلہ لیتے تھے جو کسی وجہ سے سرکاری کالجوں میں جگہ نہ بنا پاتے۔ سرکاری کالج صرف تدریسی ادارے نہیں تھے، بلکہ علمی وقار، سماجی ہم آہنگی اور طبقاتی یکجہتی کی علامت تھے، جہاں مختلف معاشی طبقات کے نوجوان ایک ہی چھت تلے تعلیم حاصل کرتے اور ایک مشترکہ قومی شعور پروان چڑھتا تھا۔

وقت کا پہیہ مگر ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ آج سرکاری کالج وسائل کی کمی، انتظامی غفلت اور حکومتی عدم توجہی کے باعث اپنی سابقہ شناخت کھو چکے ہیں۔ عمارتیں خستہ حال ہیں، تجربہ گاہیں فرسودہ ہو چکی ہیں، لائبریریاں نئی کتابوں سے محروم ہیں، اور مستقل اساتذہ کی کمی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ نتیجتاً باصلاحیت طلبہ نجی اداروں کا رخ کر رہے ہیں، جبکہ سرکاری کالج بتدریج اپنی علمی کشش اور سماجی اہمیت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

اسی خلا کو نجی کالجوں نے بڑی مہارت سے پُر کیا، مگر ان کا تعلیمی ماڈل بنیادی طور پر تجارتی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ اعلیٰ نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو وظائف دے کر ادارے اپنی تشہیر کرتے ہیں تاکہ بورڈ کے نتائج میں نمایاں کامیابی ان کے نام سے منسوب ہو، جبکہ اوسط درجے کے طلبہ سے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں، جو ان اداروں کی آمدنی کا اصل ذریعہ بنتی ہیں۔ یوں چند نمایاں کامیابیاں اشتہار بن جاتی ہیں، جبکہ ادارے کی معاشی بنیاد ہزاروں ایسے طلبہ پر استوار ہوتی ہے جو مہنگی فیسیں ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان متوسط اور نچلے متوسط طبقے کو پہنچا ہے۔ ایک وقت تھا جب معیاری تعلیم نہایت معمولی فیس کے عوض بہترین سرکاری کالجوں میں دستیاب تھی۔ راقم کا اپنا تجربہ بھی اسی حقیقت کی گواہی دیتا ہے۔ میٹرک کے بعد پنجاب کے ایک ممتاز سرکاری کالج میں داخلہ ملا، جہاں فیس برائے نام تھی اور نچلے متوسط طبقے سے لے کر صاحبِ حیثیت خاندانوں تک، ہر طبقے کے طلبہ ایک ہی کلاس روم میں بیٹھتے تھے۔ یہی ادارے معاشرتی ہم آہنگی اور سماجی نقل و حرکت (Social Mobility) کے حقیقی مراکز تھے۔ آج وہی متوسط طبقہ یا تو کمزور سرکاری اداروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہے یا نجی اداروں کی بھاری فیسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

بدقسمتی سے گزشتہ دو دہائیوں میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے نام پر متعدد تاریخی سرکاری کالجوں کو جامعات میں تبدیل کر دیا گیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور آج گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ہے، ایمرسن کالج ملتان ایمرسن یونیورسٹی بن چکا ہے، جبکہ کئی دیگر تاریخی ادارے بھی اسی راستے پر گامزن ہوئے۔ بظاہر یہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کا عمل تھا، مگر اس کے نتیجے میں کالج سطح پر معیاری سرکاری تعلیم کا ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا۔

اعداد و شمار بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ 1990 ء میں پاکستان میں صرف 22 جامعات تھیں۔ 2010 ء تک ان کی تعداد بڑھ کر 132 ہو گئی، جبکہ آج ملک میں ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تسلیم شدہ جامعات کی تعداد تقریباً 262 ہے۔ اسی عرصے میں سالانہ فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کی تعداد تقریباً تیس ہزار سے بڑھ کر پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اسی تناسب سے کالجوں، مستقل اساتذہ، تجربہ گاہوں، لائبریریوں اور تعلیمی معیار میں بھی سرمایہ کاری ہوئی؟ اگر بنیاد کمزور ہو تو عمارت کی بلندی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔

اس زوال کا ایک نہایت گہرا سماجی پہلو بھی ہے۔ جب مختلف معاشی طبقات کے نوجوان ایک ہی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل نہیں کرتے تو معاشرہ بھی الگ الگ دائروں میں تقسیم ہونے لگتا ہے۔ امیر بچوں کے لیے الگ ادارے، متوسط طبقے کے لیے الگ، اور غریب طبقے کے لیے الگ نظامِ تعلیم وجود میں آ جاتا ہے۔ یہ تقسیم صرف تعلیمی نہیں بلکہ سماجی، ثقافتی اور فکری فاصلے بھی پیدا کرتی ہے، جو قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل راقم کو اپنے پرانے کالج جانے کا اتفاق ہوا۔ وہی عمارت، وہی دروازے، مگر رونق کہیں کھو چکی تھی۔ ہاسٹل بند پڑا تھا، راہداریاں سنسان تھیں، اور وہ علمی فضا جو کبھی اس ادارے کا امتیاز تھی، محض ایک دھندلی یاد بن کر رہ گئی تھی۔ یہ منظر صرف ایک کالج کا نہیں بلکہ پاکستان کے بے شمار تاریخی سرکاری کالجوں کی مشترکہ داستان ہے۔

اس مسئلے کا حل مزید جامعات قائم کرنے میں نہیں بلکہ کالج نظام کی ازسرِ نو تعمیر میں مضمر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سرکاری کالجوں کے لیے خصوصی ترقیاتی فنڈز مختص کرے، جدید تجربہ گاہیں، ڈیجیٹل لائبریریاں اور ہاسٹل بحال کرے، مستقل اساتذہ کی تقرری یقینی بنائے، اور نجی تعلیمی اداروں کے کاروباری طرزِ عمل کے لیے موثر ریگولیٹری فریم ورک وضع کرے۔

قومیں صرف جامعات کی تعداد بڑھانے سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ مضبوط تعلیمی بنیادوں پر استوار ہوتی ہیں۔ اگر ہم نے اپنے سرکاری کالجوں کو دوبارہ زندہ نہ کیا تو آنے والی نسلیں اس خلا کی قیمت دہائیوں تک ادا کریں گی۔ معیاری سرکاری کالجوں کی بحالی محض ایک تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان میں سماجی انصاف، مساوی مواقع اور قومی مستقبل کا بنیادی تقاضا ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
MUNEER HUSSAIN SHAIKH
MUNEER HUSSAIN SHAIKH
5 hours ago

True

Shahzad Ahmed
Shahzad Ahmed
3 hours ago

حقائق پر مبنی ہمارے تعلیمی نظام کی بد حالی اور ہماری نوجوان نسل کی بدقسمتی کی روداد ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت عطا فرمائے آمین

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW