سیاسی دنیا میں ہم عین اس وقت کس حیثیت سے کھڑے ہیں

یہ عمومی تصور کہ زخم بدنی کیفیت رکھتا ہے (حالاں کہ شاعری نے روحانی/جذباتی زخم کو استعارتاً بہت زیادہ برتا ہے ) لوگوں کی عملی/روزمرہ یادداشت میں ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ پیلٹ گن کے داغ پوری دنیا دیکھ سکتی ہے لیکن ”بیلٹ گن“ کے اثرات شاعری کے اثرات کی طرح ہوتے ہیں۔ یعنی بغیر بدنی نشانات کے ایک علاقے کے لوگوں کی زندگی کے معیار کو داغ دار کر دینا۔ جب زخم بدنی نہ ہوں تو غالب امکان ہے کہ عام لوگوں کو اپنے رہائشی علاقے کے مقبوضہ ہونے کا احساس دیر سے ہو۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ احساس بنیادی طور پر کالونی ہونے کا احساس ہے۔ قابل افسوس اس لیے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ابھرنے والا بین الاقوامی نظام اپنے عملی اقدامات میں فلسفیانہ تنقید قبول کر چکا ہے، اگرچہ اس نئی واقعیت کے ساتھ کہ دوسری اقوام کو معاشی طور پر لوٹنے کے لیے جارحیت کے نئے طریقے ڈھونڈے۔
تاہم جدید دنیا کی بالکل حالیہ تاریخ کی یہ سیاسی خصوصیت رہی ہے کہ خود کو ”مہذب“ کہنے والی دنیا کے غالب حصے نے براہ راست اس لوٹ مار کو شروع کرنا پسند نہیں کیا، کالونائزیشن کے تصور کو عملی طور مکمل رد کیا گیا۔ تاہم بڑی طاقت کے ساتھ مخصوص معاہدوں کی وجہ سے محدود اتحاد کی تشکیل نے دوسری اقوام پر حملوں اور وسائل کی لوٹ مار کی تاریخ کو دوسری طرح زندہ رکھا۔ ایک طرف چھوٹی اقوام نے یہ سبق دوبارہ تازہ کیا کہ انسانوں کی دنیا میں کم زوری ہمیشہ موت اور محکومی کو دعوت دیتی ہے، تو دوسری طرف جدیدیت کی ترقی کے مفہوم پر کڑی تنقید قبول کرنے والی یورپی اقوام نے (اگر ہم عملی سیاست کے تناظر میں یورپ کو کلین چٹ نہ دیں، اس کے کئی اقدامات کے عواقب سے اسے بری الذمہ قرار نہ دیں تو کہہ سکتے ہیں کہ) ترقی کے نسبتاً زیادہ انسانی مفہوم کو قبول کیا۔ اب شاید ہم عالمی انسانی تاریخ میں ایک اور بڑی تبدیلی دیکھنے کے بالکل منتظر ہیں کہ سپر پاور کی یک قطبی دنیا عملاً ٹوٹ چکی ہے، اور یورپ بھی ایسے معاہدوں سے پوری طرح باہر نکل پائے گا جس نے تشدد کو عالمی سطح پر کسی نہ کسی صورت زندہ رکھا۔ اقوام عالم سب کی مشترک سلامتی کے امکان کے تناظر میں ایک ممکنہ عالمی اخلاق کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اگر غیر ضروری طور پر عالمی اخلاق سے کوئی آفاقی اخلاقی نظام مراد نہ لیا جائے تو پہلے قدم پر اسے سمجھنے میں کوئی پیچیدگی نہیں ہونی چاہیے کہ جدید بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور اقوام کی خود ارادیت کے تصورات میں کچھ مشترک اصول ہیں جو بہ تدریج قبول کیے گئے، یہ کہ کسی قوم کی کم زوری کو اس کی محکومی، وسائل کی لوٹ مار یا سیاسی بے اختیاری کا جواز نہ سمجھا جائے۔
ایسے میں اگر دنیا کی چند ریاستیں ایسی بھی ہوں جو اندرونی طور پر اپنی ہی مختلف قومیتوں کو محکوم رکھنے کی طرف کوئی پالیسی، کوئی ڈاکٹرائن رکھتی ہوں، جو اپنے لوگوں کو ترقی یافتہ دنیا کی اخلاقیات اور قانون پسندی کے جوہر سے محروم رکھنے کے لیے سیاسی نظام کو باقاعدہ اور علانیہ طور پر کرپٹ بنا کر رکھ رہی ہوں، تو یہ واقعی قابل افسوس ہے، اور بدلتی دنیا کو اس کا احساس دلانے کے لیے واضح پالیسیاں تشکیل دینی ہوں گی۔ کیوں کہ کالونیلز کی تاریخ بہت لمبی چلتی ہے اور انسانوں کے استحصال کو آج کی دنیا میں طویل وقت تک نظر انداز کیے جانا دراصل انسان کی اُس عظیم جدوجہد کا عدم احترام ہے، جو اُس نے دنیا کے نظام کو چلانے کی باگ ڈور جنگجو فوجی سے سویلینز کو منتقل کرنے کے لیے کی ہے۔
پوسٹ ماڈرنٹی کو اس پہلو سے شاید نہیں دیکھا گیا، کہ وہ اپسٹیم جو ڈی کنسٹرکشن (پوسٹ ماڈرن اپسٹیم) پر مبنی ہے، اصولی طور پر ایک آمر/مطلق العنان کی تاریخ (مطلق اقتدار کے جواز) کو ڈی کنسٹرکٹ کر چکا ہے۔ جب کسی سیاسی تصور کا جواز کم زور پڑنے لگے تو بالآخر اس کی عملی قبولیت بھی زوال آشنا ہونے لگتی ہے۔ پوسٹ ماڈرن فکر نے مطلق اقتدار کے اُن بیانیوں کو ڈی کنسٹرکٹ کیا جن کے ذریعے آمریت خود کو فطری اور ناگزیر ثابت کرتی رہی تھی۔ اس فکری تنقید نے جدید دنیا میں آمریت کے اخلاقی اور سیاسی جواز کو مسلسل کم زور کیا، یہاں تک کہ وہ ایک قابل دفاع سیاسی آئیڈیل کی بہ جائے ایک استثنائی اور قابلِ مذمت صورتِ حکومت کے طور پر دیکھی جانے لگی۔ ابھی گزشتہ مہینوں میں خود کو سپر پاور کہنے والی طاقت نے 1950 کے لکھے ڈاکٹرائن کو زندہ کرنے کا نتیجہ یہ دیکھا کہ اس کی اپنی جڑیں کھوکھلی ہو گئیں، یورپ نے اس مضحکہ خیز آمریت اور نئی ابھرنے والی کامک باسزم کی کوشش کو بغیر کسی تردد مسترد کیا۔ جس میں امریکا کے صدر نے شخصی اقتدار اور اپنی آمرانہ صلاحیت کو ”معمول“ کا حصہ بنانے کے لیے ایک طرف ریاستی اداروں کو صرف اپنے اشاروں کے طابع بنانے اور دوسری طرف ایک باس کی روایتی سیاست کو تماشے، مزاح، میڈیا پرفارمنس اور عوامی تفریح کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔
مشرقِ و سطیٰ کی وہ ریاستیں جنھوں نے کئی عشروں تک آمریت اور اس کے رد عمل میں جنم لینے والی پر تشدد صورت حال کا سامنا کیا، اُس قومی تباہی کی تازہ ترین مثال ہیں جو محض چند انسانوں یا خاندانوں یا جرنیلوں کے ٹولے کی وحشیانہ ہوس کی وجہ سے ایک ایسی دنیا میں ذلیل ہوتی رہیں، جس میں آس پاس کی اقوام امن اور سکون کے ساتھ پھلتی پھولتی رہی تھیں۔ یہ وہ دنیا نہیں رہی ہے جس میں کوئی ٹولا کروڑوں انسانوں کو محکوم اور ذلت آشنا رکھے، اور اس کے لیے اپنے ہی لوگوں کو نفرت کے ہتھیار مفت بانٹے۔ یہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ کالونیل طور طریقے اپنانے والی ریاستوں کا کوئی با عزت مستقبل نہیں ہے، لیکن ہم شاید پچھتر برسوں میں دھیرے دھیرے ایک ایسی ریاست بننے کی طرف تسلسل کے ساتھ پیش قدمی کرتے رہے ہیں جس کے خد و خال اب ایک مجسم پراکسی کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ ریاست کو چلانے والے ڈرائیورز نے اسے ہمیشہ آقا کی خدمت میں پوری طرح دستیاب رکھا اور دنیا کبھی اس کی کالونی ہونے کی حیثیت کو نہیں سمجھ سکی۔ آج جب دنیا میں طاقت کی پوزیشن واضح طور پر تبدیل ہو گئی ہے، کسی ریاست کی وہ حیثیت، جو یک قطبی دنیا کے مرکز کے لیے پراکسی ہونے پر مبنی تھی، ایک نازک علاقائی پوزیشن میں گرفتار ہے۔ یہ حالیہ تاریخ کا ایک سیاسی سبق ہے کہ عالمی اور علاقائی پوزیشن تبدیل ہوتے ہی پراکسی پر اندر سے قیامت ٹوٹتی ہے، سیاسی ادارہ کم زور ہو تو یہ سبق خود کو بار بار دہرانے سے نہیں شرماتا۔
اب میں اس بنیادی مدعا کی طرف آتا ہوں، جس کے لیے میں نے یہ مضمون لکھنا چاہا، کہ ہمیں اندرونی/مقامی کالونیل سوچ کو ڈی کنسٹرکٹ کرنا ہی ہو گا۔ جس کی تازہ ترین واردات میں کشمیری زد پر ہیں۔ کالونیل سوچ اپنے تشکیل کردہ بیانیوں کی طاقت کی عملی مثالیں اتنی بار دیکھتی ہے، کہ اسے ہمیشگی کے احساس کے ساتھ خود کے ناقابل تسخیر ہونے پر یقین ہونے لگتا ہے۔ تاریخ دورِ جدید کے نو آبادیاتی طرز عمل کو آج کے صفحے سے حذف کر چکی ہے، اور عظیم انسانی آبادیوں کے استحصال کو فکری طور پر ہی نہیں عملی طور پر بھی مذموم قرار دے چکی ہے۔ جیسے کہ فکر کی کوئی جغرافیائی سرحدیں نہیں ہوتیں، اور یہ انسان کا اجتماعی ورثہ ہے، ہمیں اپنی جغرافیائی حدود کے اندر اس سوچ کی بیخ کنی کرنی ہوگی۔
ہمارے جتنے بھی مرکزی بیانیے ہیں، ان کی تشکیل مقامی نو آبادیاتی طرز عمل سے ہوئی ہے۔ ان بیانیوں نے اندرونی طور پر مخلتف زبانیں بولنے والوں کے درمیان عدم اعتماد پیدا کر کے اسے باقاعدہ نفرت کی شکل دے دی ہے۔ لیکن آخرکار آج ہم اس سوچ کی زخم خوردہ اکائیوں میں ہم آہنگی دیکھ رہے ہیں، جو اس احساس سے پیدا ہوئی ہے کہ وہ ہدف پر ہیں۔ یہ ایک مرکز کے بکھراؤ اور دوسرے مرکز کی تشکیل کا ایک سماجی عمل ہے جو انسان کی بقا کی فطرت نے اسے سمجھایا ہے۔
کشمیر سے متعلق بیانیہ ریاستی بیانیوں کی محض ایک اور بازگشت ہے، اور شاید آخری بھی۔ ہم چاہیں جتنا بھی آنکھیں پھیر لیں، عوام کے ایک نہایت قلیل حصے کو صوبائی عصبیت میں ڈوبتے دیکھ کر خوش ہوں، لیکن لیکن یہ دیرپا نہیں ہے۔ یہ بیانیہ کہ ایک کشمیر آزاد ہے اور ایک مقبوضہ، عملی طور پر اپنا اثر کھو چکا ہے۔
کشمیر مقبوضہ ہو یا آزاد۔ ایک رستا زخم ہے۔ جب دو متضاد الفاظ بھی اپنی معنی کھو دیں، یعنی ہم معنی ہو جائیں، تو جو زیادہ متشدد ہے، زیادہ واضح ہے، کسی ابہام کے بغیر ہے، وہی غالب آتا ہے۔ کشمیر کے کیس میں قبضہ غالب ہے، تشدد غالب ہے، کوئی ابہام نہیں رہا۔ آزادی کا تصور زیادہ عرصے تک نقاب نہیں اوڑھے رکھ سکتا۔ تشدد لمبے عرصے تک عدم تشدد کا ڈھونگ نہیں رچا سکتا۔ آزاد اپنی حیثیت، اپنے جوہر میں آزاد نہ ہو، تو اسے باہر سے پہنایا گیا معنیٰ مسترد کرنا پڑتا ہے۔ اُس کی تمام تر حیثیت/آزادی مقبوضہ کے مخالف تصور پر قائم تھی، نہ کہ یہ کوئی حقیقی/واقعی/مستقل صورت حال تھی۔ یہ اس خطے کے ساتھ جڑی ایک بد قسمتی، ایک ستم ظریفی ہے کہ مقبوضہ ہونے کی حیثیت میں بھی آخرکار اس کی یہ حیثیت بھی قانون کی مدد سے ختم کی گئی، یعنی محکوم کو یہ عجیب پیغام کہ اب وہ خود کو قانوناً مقبوضہ نہیں سمجھ سکتے۔ اور آزاد ہونے کی حیثیت میں بھی یہ پیراڈاکس کہ اگر وہ آزاد ہے تو پھر مرکزی ریاست کا اس کے ساتھ تعلق کس نوعیت کا ہے۔ چناں چہ اس کا آزاد ہونا ہی ریاست کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔
اس صورت حال کی ڈی کنسٹرکشن سے حالیہ ریاستی اقدامات کی وضاحت میں مدد ملتی ہے۔ پورے ملک کو اگر کسی بڑے انتشار اور نفرت کی آگ سے بچانا مقصود ہے تو ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے۔ کہ ہمیں دانش ورانہ اور عوامی سطح پر سوچ کو کرپٹ کرتے آ رہے بیانیوں کو مسترد کر کے ریاست کو اس بھنور میں گرنے سے بچانا ہو گا، جو اس کی اپنی سوچی سمجھی غیر سیاسی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہو چکا ہے۔ بیانیوں کی ڈی کنسٹرکشن سیاسی تبدیلی کی پہلی شرط ہے۔ کوئی بھی سیاسی نظام پہلے فکر میں اپنی جگہ چھوڑتا ہے، پھر اخلاق میں اسے شکست کھانی پڑتی ہے، پھر قانون اسے غیر متعلقہ بناتا ہے اور آخرکار عمل میں بھلا دیا جاتا ہے۔
