بلاگ

کالام کی جھیل میں ڈوب کر خوشیوں کا جنازہ: سیاحت کے دلدل میں پھنسے پاکستانی

dr muhammad abdullah avais

ایک خاندان کے لیے تفریح سفر زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ ہونا تھا۔ لاہور سے آنے والے اس خاندان نے جس میں پاکستانی نژاد غیر ملکی مہمان بھی شامل تھے، شمال کے پہاڑی علاقے کی سرسبز و شاداب وادیوں کو دیکھنے کا ارادہ کیا تھا۔ مگر یہ سفر ایک ہی خاندان کے سربراہ بمعہ چھ افراد کے لیے زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا (خبروں کے مطابق) ۔ یکم جولائی دو ہزار چھبیس کے دن نے کالام کی خوبصورت سیف اللہ جھیل کے تاریخی منظر کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ ایک کشتی جو خوشیوں کی بجائے چند لمحوں میں موت کی قاصد بن گئی۔ سات جانیں دریا کی تہوں میں کھو گئیں اور ایک خاندان کی نسل کو مٹا دیا۔ ان میں ایک بحریہ کے سابق اعلیٰ افسر، ان کے بیٹے، بیٹیاں اور پوتے پوتیاں شامل تھے۔ جب ان کی لاشیں لاہور پہنچیں تو وہاں ماتم کا سماں چھا گیا جس کی مثال شاید ہی ملتی ہے۔

یہ واقعہ کوئی پہلا اور آخری نہیں ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں، خاص طور پر خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں، جہاں دریا اور جھیلیں قدرتی حسن کا مرکز ہیں، وہاں ہر سال موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی موت کے ایسے بحران سامنے آتے ہیں جو انسان کی غفلت اور قدرت کی بے قابو طاقت کا ملاپ ہیں۔ سیف اللہ جھیل کا یہ حادثہ محض ایک بدقسمتی نہیں، بلکہ ایک انتظامی خرابی، حفاظتی پابندیوں کی عدم موجودگی اور سیاحت کے نام پر لوگوں کی جانوں سے کھیلنے کا منظر نامہ ہے۔

اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ جولائی کا مہینہ شمالی علاقوں میں کیوں اتنا خطرناک ہوتا ہے۔ جب میدانی علاقوں میں گرمی اپنے عروج پر ہوتی ہے تو اسی وقت پہاڑوں کی چوٹیوں پر جمی برف تیزی سے پگھلنا شروع کر دیتی ہے۔ اس پگھلنے والے پانی کا راستہ دریاؤں اور جھیلوں کی طرف ہوتا ہے۔ جولائی اور اگست کے مہینوں میں ان دریاؤں کا پانی اچانک بہت تیز ہو جاتا ہے۔

جب کوئی سیاح کالام یا ناران کی جھیل میں کشتی میں بیٹھتا ہے تو اسے پانی کی سطح پر سکون نظر آتا ہے، لیکن وہ اندرونی تیز رو سے بالکل ناواقف ہوتا ہے۔ یہ اندرونی لہریں اتنی تیز ہوتی ہیں کہ پاکستان میں خوف کی علامت ڈبل کیبن گاڑی کو بھی اپنے ساتھ کھینچ کر لے جاتی ہیں۔ اس صورتِ حال میں اگر کشتی کا انجن خراب ہو جائے تو بے قابو کشتی پانی کے رحم و کرم پر ہوتی ہے اور کسی بڑے پتھر سے ٹکرا کر تباہ ہو سکتی ہے، یا الٹ سکتی ہے۔ مزید برآں، تیز بہاؤ کشتی کو تیز رفتاری کے ساتھ مرکزی دریا تک لے جا سکتا ہے اور چند سیکنڈوں میں کشتی الٹ جاتی ہے۔ سیف اللہ جھیل کے حادثے کا سبب بھی اسی طرح انجن کی خرابی بتائی جا رہی ہے۔ جب انجن بند ہوا یا سٹارٹ نہ ہوا تو کشتی پانی کے بہاؤ کے سامنے بے بس ہو گئی اور لہروں نے اسے الٹ دیا۔

اس واقعے نے ایک اور سخت سچ کو سامنے لا کھڑا کیا ہے اور وہ ہے سیاحتی مقامات پر حفاظتی بندوبست اور قانون کی عملداری۔

جھیلوں پر چلنے والی کشتیوں کے معائنے کا نظام کیا ہے؟ کیا ان میں بیٹھنے والوں کے لیے لائف جیکٹس یا بچاؤ کے دیگر آلات موجود ہوتے ہیں؟ جواب ایک بے جھجک ”نہیں“ ہے۔ کشتیاں چلانے والے افراد کی تربیت کس معیار کی ہوتی ہے؟ کیا انہیں موسمی خطرات کی جانکاری دی جاتی ہے؟

سیف اللہ جھیل کے واقعے میں جس شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، وہ سیاحوں کی جانوں سے کھیلنے والا ایک عام انسان تھا جس کے پاس نہ تو کشتی چلانے کی کوئی تربیت ہو گی اور نہ ہی ہنگامی حالات سے نمٹنے کا کوئی تجربہ۔ اس نے صرف اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے ایک پرانی اور غیر معیاری کشتی کو سیاحوں کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہو گا۔ لیکن انتظامیہ نے اس پر کوئی پابندی کیوں نہیں لگائی؟ کیا کبھی کشتی کی چیکنگ کی گئی اور سیاحوں کو اس قسم کے خطروں سے آگاہ کیا گیا؟ پولیس نے واقعے کے بعد کارروائی کی ہے، لیکن لاہور سے آنے والے اس خاندان کے لیے یہ قانونی کارروائی کیا معنی رکھتی ہے؟

ہمارے معاشرے میں ایک غلط رواج بڑھ رہا ہے جسے ہم مہم جوئی کا نام دیتے ہیں۔ سیاح شمالی علاقوں میں جاتے ہیں تو وہاں کے خطرات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کشتی کی کناروں پر بیٹھ کر تصاویر بنانا، بغیر حفاظتی انتظامات کے دریا میں گھومنا اور مقامی افراد کے انتباہ کو نظر انداز کرنا ایک عام سیاح کی عادت بن چکی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ قدرت کے سامنے انسانی طاقت بالکل بے بس ہو جاتی ہے۔

اگر آپ نے سوات کے دریا، ناران کے کناروں یا کاغان و بالاکوٹ کے دریاؤں کا حال دیکھا ہو تو آپ جانتے ہیں کہ وہاں موسم گرما میں دریا کس انداز میں بہتا ہے۔ ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں جہاں کشتیوں کا توازن بگڑ گیا، لوگ دریا میں بہہ گئے اور کئی دن تک ان کی لاشیں نہیں مل پائیں۔

اس واقعے نے حکومت خیبر پختونخوا، ضلعی انتظامیہ اور سیاحت کے محکموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ لیکن اگر ہم ایک مہذب قوم ہوتے تو خطرے کی یہ گھنٹی اسی وقت بج گئی تھی جب اس نوعیت کے پہلے واقعے کی اطلاع ملی تھی۔

یہ صرف ایک آدمی یا ایک کشتی کی غلطی نہیں تھی، یہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔ جب تک سیاحتی مقامات پر نہ معیاری کشتیاں استعمال کی جائیں گی، نہ انجنوں کی باقاعدہ سروسنگ کا انتظام کیا جائے گا، نہ سخت موسم میں کشتی رانی رکوانے کے واضح قوانین بنائے جائیں گے اور نہ ہی ہر کشتی میں حفاظتی آلات رکھنا لازمی کیا جائے گا، تب تک یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔

آخر میں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس قسم کے واقعات کے بعد صرف مقدمے درج کروانے اور چند دنوں تک خبروں میں بات چیت کرنے کے بعد پھر سو جائیں گے؟ لاہور کا وہ خاندان جو خوشیوں کے سفر پر نکلا تھا، آج وہاں صرف ماتم اور رنج ہے۔ اس خاندان کے خون کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا صرف وہ کشتی والا؟ یا وہ نظام بھی جس نے ایک ناقص کشتی کو دریا میں اتارنے کی اجازت دی؟

سیاحت کو پاکستان کی معیشت کا اہم حصہ بنانا درست قدم ہے، لیکن انسانی جانوں کی قیمت پر اسے فروغ دینا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔ ہمیں اپنے شمالی علاقوں کو سیاحت کے لیے محفوظ بنانا ہو گا، ورنہ یہ خوبصورت جھیلیں اور دریا موت کے کھلونے بن کر رہ جائیں گے اور لاہور یا کسی اور شہر سے آنے والے مزید خاندانوں کو اسی طرح کے رنج و الم کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قدرت سے عشق کرنے کے لیے اس کو سمجھنا ضروری ہے، اور اس کی حدوں کو پہچاننا سب سے بڑی سیاحت اور مہم جوئی ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW