فیچرزکالم۔گوشہ ادب

ایک شاذ و نادر پرندہ

sarmad sehbai

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے اور انگریزی زبان کے شاعر خواجہ شاہد حسین، انگریزی میں لکھنے والے پاکستانی شاعروں کا ایک انتخاب مرتب کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں وہ پاکستان میں اپنے پسندیدہ شاعر توفیق رفعت سے ملنے لاہور سے سیالکوٹ ان کے گھر ’المامن‘ پہنچے، دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ملازم نکلا، خواجہ صاحب نے کہا، توفیق صاحب سے ملنا ہے۔ ملازم نے کہا یہاں مکان سے باہر ایک حلوائی کی دکان ہے، وہاں بیٹھے ہوں گے۔ حلوائی کی دکان؟ توفیق رفعت؟

 ’بھئی، میں توفیق رفعت صاحب کا پوچھ رہا ہوں۔ ‘

 ’ جی جی وہی۔‘ ملازم نے جواب دیا۔

شاہد صاحب اس سے پہلے نہ تو توفیق صاحب سے ملے تھے اور نہ ہی ان کو پہچانتے تھے۔ وہ اپنے سوٹ بوٹ میں حلوائی کی دکان پر گئے تو دیکھا ایک لکڑی کے بینچ پر ایک شخص بنیان اور نیکر پہنے مزے سے لسی پی رہا ہے، پتہ چلا یہی پاکستان میں انگریزی کے سب سے اہم شاعر توفیق رفعت ہیں۔

توفیق رفعت ٹھیٹھ پنجابی تھے، گھر میں، دوستوں یاروں کے ساتھ وہ پنجابی ہی بولتے تھے لیکن شاعری انگریزی میں کرتے تھے اور جو لوگ انگریزی شاعری سمجھتے تھے وہ انہیں اپنا گرو مانتے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے کچھ کہانیاں اردو میں بھی لکھیں جن میں سے تین کہانیاں، ’لٹو‘، ’ہونٹا‘ اور ’پیلی منزل‘ اشفاق احمد صاحب کے رسالہ ’داستان گو‘ میں شائع ہوئیں اور ایک کہانی ’موبی‘ رسالہ ’اندازے‘ میں جسے جیلانی کامران ایڈٹ کرتے تھے۔

میری خوش قسمتی کہ وہ میرے بہنوئی تھے اور میرے والد کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد وہ نہ صرف میرے بہنوئی تھے بلکہ دوست، بھائی، باپ اور میرے ان استادوں میں سے تھے جن کی محبت اور قربت سے میری شخصیت نے جنم لیا ہے۔

1956 میں جب میں چھٹی ساتویں کلاس میں پڑھتا تھا، سیالکوٹ کے ایک معزز گھرانے کے سربراہ غلام محمد حاضر سیالکوٹ سے لاہور سمن آباد اپنے بیٹے توفیق رفعت کا رشتہ میری بڑی بہن کے لیے مانگنے ہمارے گھر تشریف لائے۔

دروازے پر دستک دی، ’کون ہے؟‘، میرے والد صاحب نے اندر سے پوچھا

 ’بندہ حاضر ہے‘ حاضر صاحب نے اپنی حاضر جوابی کا اعلان کیا۔

حاضر صاحب کے ساتھ توفیق صاحب اور حاضر صاحب کی بیٹیاں بھی تھیں۔ توفیق صاحب باہر باغیچے میں بیٹھ گئے، حاضر صاحب اور میرے والد ڈرائینگ روم میں اور بیٹیاں اندر صحن میں میری والدہ اور میری بہن کے ساتھ۔ میں چونکہ بچہ سا تھا اس لیے گھر میں چاروں طرف گھوم پھر سکتا تھا۔ چنانچہ میں کبھی صحن میں چلا جاتا کبھی اپنے والد اور حاضر صاحب کے پاس اور کبھی باہر باغیچے میں بیٹھے توفیق صاحب کے پاس۔ حاضر صاحب بہت خوش لباس تھے، ان کے سر پر بڑی خوبصورت پگڑی تھی اور وہ شلوار قمیص اور ایک واسکٹ میں ملبوس تھے۔ وہ بہت باذوق اور خوش گفتار تھے۔ توفیق صاحب باہر اکیلے اپنے خیالوں میں گم سم خاموشی سے بیٹھے تھے، وہ کوئی خاص تیاری کر کے نہیں آئے تھے، بس لاپرواہی کے انداز میں انہوں نے سادہ سے کوٹ پتلون کے ساتھ گلے میں ایک مفلر پہن رکھا تھا۔ میں ان کی محویت پر بہت حیران تھا۔ اندر خواتین خوب خوش گپیاں کر رہی تھیں اور میری بہن سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھیں۔ چند مہینوں کے بعد ہماری باجی ریحانہ کی شادی توفیق رفعت سے ہو گئی۔

حاضر صاحب کی سیالکوٹ میں کھیلوں کے سامان کی فیکٹری تھی جس کا نام حاضر اینڈ حاضر کمپنی تھا۔ پاکستان بننے کے بعد وہ ڈیرہ دون سے سیالکوٹ آ گئے تھے۔ بھائی جان توفیق نے ڈیرہ دون، علی گڑھ اور لاہور میں تعلیم حاصل کی تھی۔ ڈیرہ دون میں ان کے خاندان کا قرۃ العین حیدر کے گھر آنا جانا تھا، عینی آپا نے اپنے ایک مضمون میں ڈیرہ دون میں بھائی جان اور ان کی شاعری کا ذکر کیا ہے۔ توفیق صاحب نے شاعری کی دو کتابیں لکھی تھیں،

 Arrival of the Monsoon اور Half Moon

جو ان کی وفات کے بعد ریحانہ توفیق نے توفیق رفعت فاونڈیشن سے شایع کی۔

اس کے علاوہ انہوں بلھے شاہ کی کافیوں اور قادر یار کے پورن بھگت کے قصے کو بھی انگریزی زبان میں ترجمہ کیا، دونوں کتابیں توفیق رفعت فاونڈیشن سے دستیاب ہیں۔ یہ فاونڈیشن ان کے بچوں سیرت حاضر، تابش حاضر، جلیس حاضر، تمکنت حاضر، زمن، شمائل اور ان کی والدہ ریحانہ توفیق نے ان کی وفات کے بعد بنائی تھی۔ توفیق صاحب کچھ پنجابی لوریوں اور بابا فرید کی شاعری کے بھی ترجمے کر رہے تھے لیکن ایک دن بس میں کسی نے ان کا بریف کیس چوری کر لیا، اس میں سے نوٹوں کی بجائے نظمیں نکلیں، شاید وہ انہیں لوریوں اور بابا فرید کی شاعری کے تراجم تھے۔

ایک ڈرامہ Foothold کے نام سے لکھا جو فرخ نگار عزیز نے 1969 میں اپوا آڈیٹوریم میں سٹیج کیا جس میں خالد احمد، اعجاز نبی اور مشہور مصور ظہور الاخلاق کی بیگم شہرزاد نے مرکزی کردار ادا کیے۔ بہت سال بعد 2006 میں کلیر پیمنٹ نے نیشنل کالج اف آرٹس راولپنڈی میں اسے ریہرسل پلے کے طور پر پیش کیا۔ میں نے یہ دونوں پروڈکشنز دیکھیں تھیں اور مجھے ریہرسل پلے کا بھی اتنا ہی لطف آیا تھا جو مجھے 1969 کی پروڈکشن کو دیکھ کر آیا تھا۔

شادی کے بعد جب ہماری بہن ہمیں سیالکوٹ سے لاہور ملنے اتی تو بھائی جان بھی ہمارے ساتھ ٹھہرتے۔ وہ صبح بہت جلد اٹھ جاتے، میں ابھی بستر میں نیند کے مزے لے رہا ہوتا تو مجھے باورچی خانے سے چائے کی پیالی میں چمچ ہلانے کی آواز آتی، بالکل خاموشی میں یہ آہستہ آہستہ چمچ ہلانے کی آواز مجھے بہت اچھی لگتی، میں جان جاتا کہ بھائی جان اپنی چائے بنا کر اب باہر سیڑھیوں پر بیٹھ کر پییں گے۔ انہیں زمین پر بیٹھنے کی عادت تھی جو آخری عمر تک قائم رہی۔

65 کی جنگ میں بھائی جان اور میری بہن سیالکوٹ سے لاہور آ گئے لیکن جب بھی سیالکوٹ پر حملہ ہوتا، وہ سیالکوٹ چلے جاتے اور جنگ کی تباہ کاریوں کا آنکھوں دیکھا حال سناتے۔ جنگ بندی کے بعد وہ کچھ صحافیوں کے ساتھ چونڈا گئے، صحافی لاشوں کی گنتی پر بحث کر رہے تھے جس کی بنیاد پر انہیں اندازہ ہونا تھا کہ فتح بھارت کی ہوئی ہے یا پاکستان کی۔ اس پر بھائی جان نے کہا، ’اصل فاتح تو یہ گدھ اور چیلیں ہیں جو آسمان پر منڈلا رہی ہیں۔ ‘

ان کی کئی نظمیں جنگ سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہیں جن میں ’دی میڈل‘ میں ایک شہید ہونے والے فوجی کی بیوی اور اس کے بچے کے تاثرات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ ایک دل دھلا دینے والی نظم ہے۔ ایک اور نظم میں وہ جنگ کے بعد ایک تباہ شدہ گاؤں کا منظر یوں دکھاتے ہیں۔

what remains after

the jackals have taken

their share; the agonised flesh

is gone; but the bones remain;

Skeletons flung at

all angles to prove

the tragic theorem of death.

 (the Village-Arrival of Monsoon)

میں ان کی نظموں کا ترجمہ نہیں کر سکتا، اس لیے کہ ایک دفعہ جب میں نے ان سے اپنی کسی نظم کا ترجمہ کرنے کو کہا تو انہوں نے میری دو نظمیں ترجمہ کیں، میں نے کسی لفظ کو بدلنے کو کہا تو ہنس کر کہنے لگے، ’یار چھمے کسے زندہ شاعر دی شاعری ترجمہ نئی کرنی چاہی دی‘ (کسی زندہ شاعر کی نظمیں ترجمہ نہیں کرنا چاہییں) بھائی جان اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن مجھ میں پھر بھی ان کی شاعری کا ترجمہ کرنے کی ہمت نہیں۔

غالباً 1959 میں انہوں نے برما شیل میں ملازمت شروع کی اور لاہور میں سمن آباد میں ہی ایک گھر کرائے پرلے لیا، اب ان کا ہمارے گھر آنا جانا رہتا تھا۔ میں اس وقت سکول میں پڑھتا تھا۔ وہ اکثر مجھے سائیکل کے پیچھے بٹھا کر اپنے ساتھ کبھی پنجاب یونیورسٹی کے فائن ارٹس ڈیپارمنٹ اور کبھی نیشنل کالج آف آرٹس میں لے جاتے۔ ان کے دوستوں میں کولن ڈیوڈ، شاکر علی، نیر علی دادا، معین نجمی، اعجاز الحسن، کامل خان ممتاز، خالد اقبال اور کئی دیگر آرٹسٹ شامل تھے۔ مجھے اس زمانے میں مصوری کا بھی شوق تھا چنانچہ مجھے ان کے دوستوں کی باتیں سننے کا بہت لطف آتا۔

چند برس کے بعد وہ نوکری چھوڑ کر واپس سیالکوٹ چلے گئے اور پھر 1975 میں واپس لاہور آئے اور ایک اپنی کمپنی کھول لی۔ اس زمانے میں میں اکثر بھائی جان سے ملنے جاتا تھا۔ جب بھی کوئی ادیب شاعر یا مصور ان کے گھر آتا تو وہ مجھے بھی بلوا لیتے، مصوروں کے علاوہ بھائی جان کی لاہور کے شاعروں ادیبوں سے بھی دوستی یاری تھی، جن میں منیر نیازی، احمد مشتاق، انتظار حسین، کلیم عمر، صفدر میر، راحیل اکبر جاوید اور کئی دیگر لوگ شامل تھے۔ ان لوگوں میں سے اب تو کوئی بھی اس دنیا میں نہیں رہا لیکن احمد مشتاق صاحب جو ماشا اللہ حیات ہیں ان سے میری جب بھی بات ہوتی ہے وہ کہتے ہیں۔ ’اوئے یار توں توفیق دے بارے کیوں نہیں لکھدا؟‘ (یار تو توفیق کے بارے میں کیوں نہیں لکھتا؟)۔ وہ بڑی محبت سے توفیق صاحب کو یاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں۔ ’یار کیا بیبا بندہ سی‘ (کیا بھلا انسان تھا) ۔ سچ پوچھیں تو میں یہ مضمون بھی ان کی مسلسل یاد دہانی کی وجہ سے لکھ رہا ہوں۔

توفیق صاحب کے خاص دوستوں میں کلیم عمر اور خالد اقبال تھے۔ کلیم انگریزی کے ایک منجھے ہوئے شاعر تھے اور خالد صاحب ایک بے مثال مصور، خالد صاحب صبح صبح باغوں، جنگلوں اور کھیتوں کا رخ کرتے، ان کی سائیکل کے پیچھے ان کے رنگ، کینوس اور مصوری کے لوازمات بندھے ہوتے، وہ زیادہ تر لینڈ سکیپ پینٹ کرتے تھے، شام کو واپسی پر وہ توفیق صاحب کی طرف آ جاتے اور دیر تک گپ شپ کرتے۔ کلیم عمر توفیق صاحب کی شاعری کے دیوانے تھے۔ وہ بھی بلا ناغہ بھائی جان کے گھر آتے اور شعر و شاعری پر گفتگو کرتے۔ کلیم جب کراچی چلے گئے تو انہوں نے وہاں کے اخبار ڈان میں ہر ہفتے ایک خط کی صورت میں اپنا کالم لکھنا شروع کیا جو ’ڈیر توفیق‘ سے شروع ہوتا تھا، اس کالم کے ذریعے جو وہ بھائی جان کی وفات تک لکھتے رہے، انہوں نے توفیق رفعت سے دور رہتے ہوئے بھی اپنا تعلق قائم رکھا۔

بھائی جان کے گھر میں مصوری اور شاعری پر ان کی لائبریری میں بہت سی کتابیں تھیں جن میں ان کے پسندیدہ مزاح نگار پی جی وڈ ہاؤس کی شاید ساری کتابیں موجود تھیں۔ میں ان کتابوں کے ذریعے کم عمری میں ہی ایذرا پائونڈ، آڈن، ٹی ایس ایلیٹ، جیمز جوائس اور کئی دیگر جدید شاعروں اور نثر نگاروں کے ناموں سے واقف ہو چکا تھا۔ پکاسو، وان گاف اور بہت سے اہم مصوروں کے کام کے بارے میں بھی پڑھتا رہتا اور سمجھنے کی کوشش کرتا، بھائی جان نے مجھے کبھی کوئی لیکچر نہیں دیا، وہ باتوں باتوں میں ان مصوروں اور شاعروں کی تیکنیک اور اہمیت کے بارے میں مجھے بتاتے رہتے۔ ان کے گھر میں شاکر علی، اعجاز الحسن، کولن ڈیوڈ اور خالد اقبال کی پینٹنگز لگی ہوتی تھیں۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر تابش حاضر نے اپنے والد کے اس شوق کو انتہا تک پہنچا دیا تھا۔ اسلام آباد میں اس کا گھر ایک آرٹ گیلری سے کم نہیں تھا، اس کا یہ شوق شاید اپنے مرحوم والد کو یاد کرنے کا ایک انداز تھا۔

tabish Hazir with his daughter iman mazari

میں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ بھائی جان انگریزی کے شاعر ہیں انہیں اپنی شاعری نہیں دکھاتا تھا۔ لیکن جب میں بی اے کے آخری سال میں تھا تو میں نے ایک دن اپنی کوئی پندرہ بیس نظمیں بھائی جان کو دکھائیں، انہوں نے ایک سرخ پنسل اٹھائی اور نظمیں پڑھنا شروع کر دیں۔ میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ دیکھتے دیکھتے سرخ پنسل چھری کی طرح مصرعے کاٹتی چلی گئی، آخر میں تین مصرعے اس چھری کی زد سے بچ گئے، کہا ’یہ کچھ ٹھیک ہیں‘۔ ’کمال ہے بھائی جان آپ نے تو میری ساری کی ساری نظمیں کاٹ ڈالی ہیں۔ میری نظمیں تو بڑے بڑے ادبی رسالوں میں چھپتی ہیں‘۔

 ’اس چیز کا اس سے کیا تعلق۔‘ انہوں نے لاتعلقی سے کہا۔

 ’مگر آپ تو پوری نظم بھی نہیں پڑھتے‘

 ’دیکھو تمہاری اس نظم کا پہلا مصرعہ میری سانس سے زیادہ لمبا ہے، اس لیے میں باقی نظم نہیں پڑھ سکتا،

 ’لیکن اس میں جو آئیڈیا ہے اس کو تو دیکھیں‘

 ’مجھے تمہارے آئیڈیے سے کوئی دلچسپی نہیں، نظم آئیڈیے سے نہیں لفظوں سے لکھی جاتی ہے۔ تم چاہے چیونٹی پر نظم لکھو یا پہاڑ پر مجھے تو نظم پڑھنی ہے اور نظم لفظوں سے لکھی جاتی ہے اور لفظوں کی بانٹ سانسوں کا اتار چڑھاؤ ہے۔ ‘

 ’تو آپ کے خیال میں آئیڈیا کوئی چیز نہیں؟‘

 ’آئیڈیا کتنا ہی بڑا ہو، اس نے آنا تو لفظوں میں ہی ہے۔ ‘

 ’اور یہ؟‘ میں نے ایک اور لہولہان نظم کی طرف اشارہ کیا۔

 ’اس نظم میں بحر بہت نمایاں ہے، بحر تحت الشعور میں رہنی چاہیے، بہت نمایاں ہو جائے تو الفاظ کی تاثیر ختم ہوجاتی ہے‘

 ’اور یہ؟‘

 ’اس میں جو بحر تم نے استعمال کی ہے وہ نظم کے موڈ کے مطابق نہیں۔ ‘

 ’کیا مطلب؟‘

 ’موڈ اداسی اور مایوسی کا ہے اور بحر گھوڑے کی طرح بھاگ رہی ہے‘

 ’اور یہ؟‘

 ’اس میں کچھ لفظوں کی دہراہٹ ہے جو بلا وجہ ہے۔ ‘

 ’اور؟‘

 ’اس میں بہت سے ایک جیسے امیجز اکٹھے کر دیے گئے ہیں جو ایک دوسرے کو کینسل کر رہے ہیں۔ ‘

 ’اور یہ؟‘

 ’یہ بھاری اور پُرتصنع ہے، پویٹکلی رچ ہے، جیسے بہت زیادہ شہد ڈال دیا گیا ہو۔ ‘

 ’اور یہ؟‘

 ’اس میں ایک ہی بات کو بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ ‘

میں حیران پریشان دیر تک اپنی کٹی پھٹی نظموں کو دیکھتا رہا۔ ’نظم کا کرافٹ جانے بغیر اچھی نظم نہیں لکھی جا سکتی۔ نظم معریٰ انگریزی میں تو سولہویں صدی سے بھی پہلے سے لکھی جا رہی ہے لیکن اردو میں یہ بیسویں صدی میں آئی ہے، اس کو بنتے بنتے کچھ دیر تو لگے گی۔ لوگ ڈاکٹر اور انجینئر بننے میں بیس تیس سال لگاتے ہیں اور شاعر کہتا ہے وہ راتوں رات شاعر بن جائے۔ کرافٹ جاننا ضروری ہے۔ ‘

میں بلینک ورس یعنی نظم معریٰ کے بارے میں اتنا ہی جانتا تھا کہ اس میں قافیہ ردیف نہیں ہوتا اور بحر ہوتی ہے۔ مجھے شاعری میں کرافٹ کی اہمیت کے بارے میں کچھ زیادہ علم نہیں تھا اور نہ ہی مجھے کرافٹ سے کوئی دلچسپی تھی، میں کرافٹ کو ایک میڈیاکر شاعر کا مرض سمجھتا تھا۔ میں جب یہ بات سے ان سے کرتا تو کہتے ’درست، لیکن جس کو یہ مرض لاحق ہوتا ہے اس میں کرافٹ ہی نمایاں رہتی ہے اس لیے جس شاعر میں کرافٹ نظر اجائے سمجھو وہ کرافٹ نہیں جانتا۔ ‘

only for those who hone technique

till the craft flows into the substance

like water into sand,

till each word is irreplaceable,

but slips into the landscape of a poem

as casually the startled snipe

plummets to a cool anonymity.

(Reflections. Arrival of the Monsoon)

غالب کا شعر ہے،

زلطافت سخنِ ما نہ پذیرد تحریر

نشود گرد نمایاں ز رمِ توسن ما۔

( ہمارے سخن کی لطافت ایسی ہے کہ تحریر میں سما نہیں سکتی۔ جب ہمارا گھوڑا دوڑتا ہے تو اس کی گرد نظر نہیں آتی۔) یعنی جو کرافٹ جانتا ہے اس کی شاعری میں کرافٹ نظر نہیں آتی۔

میں نہیں جانتا تھا کہ ’رائٹرز بلاک‘ کیا ہوتا ہے لیکن توفیق رفعت کی سرخ پنسل کی چھری کے بعد میں کئی سال تک ایک مصرع بھی نہ لکھ سکا، کچھ لکھنے بیٹھتا تو کرافٹ کی تلوار میرے سر پر تل جاتی۔ میں اس سارے عرصے میں توفیق صاحب کی باتوں پر ہی غور کرتا رہا اور کرافٹ کے داؤ پیچ کی ریاضت کرتا رہا۔ کہتے ہیں کسی بھی فن کے لیے چلہ کاٹنا پڑتا ہے، رائٹرز بلاک کیا ہے؟ ایک چلہ ہی تو ہے، بندے کو ساڑھ ستی کاٹنی پڑتی ہے، جان جوکھوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ مراقبت کرنا پڑتی ہے۔ بھائی جان توفیق نے مجھے جدید نظم کی کنجی تو پکڑا دی تھی لیکن اس کے لیے مجھے ہزاروں قفل خود ہی کھولنے تھے، چنانچہ میرے رائٹرز بلاک یعنی روزہ سخن کی افطار کوئی ڈیڑھ دو سال کے بعد ہوئی اور اس طرح بھائی جان توفیق جدید نظم میں میرے سب سے پہلے استاد ٹھہرے۔

اس زمانے میں ادبی حلقوں میں ہر طرف ٹی ایس ایلیٹ کی نظم ’ویسٹ لینڈ‘ کا چرچا تھا۔ مجھے اس کی نظمیں پڑھنے کا شوق تو بہت تھا لیکن کوئی نظم صحیح طرح میری سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ میرے لیے وہ بڑا مشکل شاعر تھا۔ اپنے انگریزی کے پروفیسروں سے پوچھتا تو وہ بھی کہتے کہ اس کی نظمیں وہ بھی پوری طرح نہیں سمجھتے۔ میں نے بھائی جان توفیق سے کہا وہ مجھے ایلیٹ کی نظمیں پڑھائیں۔ انہوں نے مجھے اس کی دو نظمیں ’لو سانگ آف الفریڈ جے پروفراک‘ اور ’ویسٹ لینڈ‘ پڑھائیں۔ بھائی جان نے ان نظموں کی نہ صرف کمال صراحت کی بلکہ مجھے ان کی تکنیک کی ایسی باریکیاں سمجھائیں کہ میں انہیں ساری زندگی نہیں بھول سکتا۔

بی اے کرنے کے بعد جب میں نے گورنمنٹ کالج میں ایم اے انگریزی کے داخلے کے لیے درخواست دی تو ہم سے تحریری ٹیسٹ لیا گیا جس میں ہمیں انگریزی کی کسی طویل نظم پر مضمون لکھنے کو کہا گیا تھا۔ میں نے ’ویسٹ لینڈ‘ پر مضمون لکھا۔ جب انٹرویو ہوا تو ڈاکٹر امداد حسین ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ پانچ پروفیسر بھی بیٹھے تھے۔ ان سب کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ مضمون میں نے لکھا ہے چنانچہ وہ مجھ سے سوال پہ سوال کیے جا رہے تھے اور میں انہیں جواب دیے جا رہا تھا، آخر جب ان کے پاس پوچھنے کو کچھ نہ رہ گیا تو ایک پروفیسر نے شرارتاً پوچھا

 ’Hyacinth پھول کی کتنی پتیاں ہوتی ہیں؟‘ میں کہا، ’سر میں کوی باٹنسٹ نہیں، لیکن میں اس پھول کی علامتی اہمیت پر بات کر سکتا ہوں‘۔ اس پر ڈاکٹر امداد حسین صاحب نے انہیں سختی سے چپ کرایا اور مجھ سے کہا کہ ہم تمہیں ایک ہی شرط پر داخلہ دے سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تم ہم سب کو چائے پلواؤ اور یاد رکھو اگر چائے ٹھنڈی ہوئی تو تمہیں داخلہ نہیں ملے گا۔ ان کا یہ کہنا مجھے انٹرویو میں پاس کرنے کا ایک خوب صورت اشارہ تھا۔ مجھے بھائی جان توفیق کی وجہ سے داخلہ مل چکا تھا۔

اس زمانے میں افریقہ اور ایشیا میں میں ڈی کالونائزیشن کی تحریکیں چل رہی تھیں۔ اس سے پہلے ہندوستان میں بابو انگریزی لکھی جا رہی تھی۔ کہتے ہیں سروجنی نائیڈو کی انگریزی شاعری پڑھ کر برنارڈ شا نے کہا تھا

These are the hazards of teaching English in India.

(ہندوستانیوں کو انگریزی سکھانے کے یہ نتائج ہوتے ہیں۔)

پاکستان بننے کے بعد بھی ایک عرصے تک کالونیل شاعری ہوتی رہی، جیسے مئی جون ہمارا سخت گرمیوں کا موسم ہے۔ لیکن چونکہ انگلستان کے باشندوں کے لیے یہ بہار کا موسم تھا اس لیے ہمارے انگریزی شاعروں کے لیے بھی گرمیوں کا موسم بہار کا موسم ہی ٹھہرا، لیکن توفیق رفعت کہتے ہیں،

Only the whirling sun of June,

or January hail can extract from us

spontaneous speech

 (Ceremony of Autumn)

توفیق رفعت نے انگریزی زبان میں پاکستانی ایڈیم کے بارے میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں یہ بات کہی گئی تھی کہ انگریزی ادب جو پاکستان میں یا جنوبی ایشیا میں لکھا جا رہا ہے اس کا خمیر جنوبی ایشیا کے ہی تہذیبی محاورے سے پیدا ہونا چاہیے۔ میں نے جب انگریزی زبان میں اپنا ناول

The Blessed Curse

لکھا تو اس کا انتساب توفیق رفعت کے نام کیا

Dedicated to Toufiq Rafat who exorcised our colonial ghosts by giving the English language a native hue and local habitation.

توفیق صاحب کی نظموں کی آب و ہوا، دریا، پہاڑ، درخت پرندے، ان کے کردار، سب کے سب ہمیں اپنے گردوپیش میں نظر آتے ہیں، ہمارے مشاہدے اور ہمارے حواس میں رچے بسے ہیں۔ ان کی اکثر نظمیں کہانیوں کے انداز میں لکھی گئیں ہیں، جن میں وہ امیج اور استعارے بہت کم استعمال کرتے ہیں لیکن جب نظم ختم ہوتی تو پوری نظم ایک استعارہ بن جاتی۔ جیسے ان کی نظم ’گینگرین‘ Gangrene جس میں پاکستان کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کا کوئی ذکر نہیں لیکن وہ سقوط ڈھاکہ کا استعارہ بن جاتی ہے۔

توفیق رفعت کے نزدیک نیا شاعر نئی اساطیر بناتا ہے، وہ اپنی شاعری میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو دیومالا کے درجے تک لے جاتے

But we …..

Must find the myths for our age, …..

The drone of the homing jet

Pollinates all cultures between

Hong Kong and San Francisco. (Reflections.)

ہاف مون، ان کی شاعری کی آخری کتاب ہے جس میں زیادہ نظمیں انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی شہباز غالب کے لیے لکھیں تھیں۔ بھائی جان کو اپنے اس بھائی سے بڑی محبت تھی۔ شہباز غالب جن کو ہم شیدو بھائی کہتے تھے ان کی اڑتالیس سال کی عمر میں کینسر کی وجہ سے موت واقع ہوئی تھی۔ بھائی جان کی یہ نظمیں بہت اداس کردینے والی ہیں۔

I am waiting for a brother to die…….

I, out here,

In the garden alone,

looking up at the moon.

How can it be so blurred

on clear a night۔

(Poems for a younger brother۔ Half Moon)

ایک صاف شفاف رات میں انہیں چاند دھندلا کیوں دکھائی دیتا ہے؟ اس مصرعے میں وہ اپنی آنسوؤں سے دھندلائی ہوئی آنکھوں کو کیسے چھپاتے ہیں۔

ایک اور نظم میں وہ بھائی سے محبت کا اظہار اس کی ایک قمیص کے حوالے سے کرتے ہیں۔

His wife gave me

one of his old shirts.

I would like to think

they are being used, she says.

He was tall and heavy.

The shirt hangs loosely

on my smaller frame,

but where it touches the skin

it will not be shaken free.

(Shirt-Half Moon)

ہماری جوانی کے دنوں میں مارکسزم کا بڑا زور تھا، میں خود بھی خاصا مارکسسٹ تھا لیکن بھائی جان مارکسزم کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے، کہتے تھے، رومانٹک اور کسی قسم کی نظریاتی یا سیاسی شاعری سے انہیں بالکل کوئی دلچسپی نہیں لیکن جب 1978 میں جنرل ضیا کے زمانے میں انہیں جیل میں نظر بند کر دیا گیا تو انہوں نے اپنے جیل کے تجربے پر چند نظمیں لکھیں۔ ان کا کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی ان کا کوئی سیاسی نظریہ تھا،

I am not given to heroics.

My poems were of ordinary people

in an ordinary landscape

(The Poet as a Martyr. Arrival of Monsoon)

وہ نیشنل بک فائونڈیشن میں کام کر رہے تھے ان کے قریبی دوست یونس سعید تھے جو شاید پیپلز پارٹی کے قریب تھے اور فائونڈیشن کے چیئرمین یا ڈائریکٹر تھے۔ مجھے بھی اسی سال ٹی وی سے معطل کر دیا گیا تھا اگرچہ میرا بھی کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن اس زمانے میں ایک اندھی تلوار چل رہی تھی جو کسی کو نہیں پہچانتی تھی۔ بھائی جان کا کہنا تھا کہ شاعری چنگیز خان اور ہٹلر نہیں ختم کر سکے یہ ایک ڈکٹیٹر کیسے ختم کرے گا؟ جیل میں لکھی نظموں میں بھی کوئی نعرہ بازی نہیں اور نہ ہی مظلومیت یا خود رحمی کا کوئی تاثر ہے

Anything, anything, is

better than the monastic fingering of self-pity

وہ کہیں کسی پہرہ دار پولیس مین کا چھوٹا سا پورٹریٹ بناتے ہیں، کہیں باہر کے منظر کا، کہیں اپنی تنہائی کا ذکر کرتے ہیں جس میں پوچھ گچھ کرنے والے تفتیشی افسروں کی مداخلت بھی انہیں اچھی لگتی ہے

When you are too much alone, any interruption

is welcome, and although the fear was still there,

spasmodic, I began to look forward to

interrogation.

 (Solitary-Arrival of Monsoon)

کسی آوارہ بلی کی ٹوٹے ہوئے پیالے سے دودھ پینے کی مدھم آواز بھی انہیں جیل کی تنہائی میں بھلی لگتی ہے۔

A chance visit

I thought and blessed the occasion. But when I saw

A cracked bowl of milk in its corner, I knew

It would be back

The lapping was a homely, reassuring sound.

(Solitary)

بھائی جان توفیق پر 1984 میں فالج کا حملہ ہوا، وہ اس سے صحت یاب تو ہو گئے لیکن اس کے بعد مکمل خاموشی میں چلے گئے، لکھنا پڑھنا بھی چھوڑ دیا، میں جب اسلام آباد سے لاہور آتا تو ان سے ملتا، ان سے باتیں کرنے کی کوشش کرتا لیکن وہ ایک دو لفظوں کے علاوہ کوئی بات نہ کرتے، میں ان کے سامنے اپنی نئی لکھی ہوئی نظمیں رکھتا، سوچتا ابھی وہ ایک سرخ پنسل اٹھائیں گے اور میری نظموں کی کانٹ چھانٹ کریں گے، لیکن وہ ایک نظر دیکھتے، پڑھتے اور ایک طرف رکھ دیتے۔ میں ان سے کہتا آپ کو کیسی لگی، وہ بس اتنا سا کہتے، ’ٹھیک ہے۔‘ ان کے یہ کہنے سے میری تسلی نہ ہوتی۔ میں اس سرخ پنسل کو مس کرتا جس نے مجھے نظم لکھنا سکھایا تھا۔

1998 میں توفیق رفعت لاہور میں اپنے گھر خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

A SELDOM BIRD

Because it comes so rarely to our garden,

and I do not know its name,

I call it a seldom bird.

Small, and of a plebeian brown,

it has a long tail

with horizontal white stripes.

Which it wags sideways, furiously,

instead of up and down.

It seems a placid sort, except for the tail.

You make me uncomfortable, seldom bird,

reminding me of my affliction.

I am content with a morsel or two,

but this thing inside me I cannot name

or control, pummels and wags me

sideways, when the rest of my body is still.

(Half Moon)

یہ شاذ و نادر پرندہ جو شاعر کو کبھی کبھار دکھائی دیتا ہے شاید شاعر کا الہام ہے یا پھر زندگی کی یکسانیت میں کسی انہونے تجربے کی حیرت سے گزرنے کا واقعہ ہے۔ یہ کسی ایسی کیفیت کا نام ہے جو شاعر کے اندر ہیجان پیدا کرتی ہے۔ نظم کے آخر میں یہی پرندہ شاعر کے حواس کا حصہ بن جاتا ہے، پرندہ جو سینے میں پھڑپھڑاتا ہے جو شاعر کے تخلیقی اضطراب کا استعارہ بن جاتا ہے۔

توفیق رفعت بھی ایک ایسا شاذونادر پرندہ ہے جو اس باغ ہستی میں کبھی کبھار آتا ہے۔

Because it comes so rarely to our garden,

and I do not know its name,

I call it a seldom bird.

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
اکمل شہزاد گھمن
اکمل شہزاد
5 hours ago

کیا ہی عمدہ تحریر ہے. پڑھتے پڑھتے بندہ اسی فضاء میں چلا جاتا ہے،جس میں سرمد صاحب مضمون لکھ رہے ہیں. سیال کوٹ اور لاہور کا ذکر تو آپ کو ایک اور ہی کیفیت میں لے جاتا ہے اگر آپ نے ان دونوں شہروں میں زندگی بتائی ہو تو.

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW