عورت کے حقوق: میں نے کیوں مکمل خاموشی اختیار کی
دو ہزار انیس تک میں بہت باآواز بلند، دھڑا دھڑ فیمزم اور عورت کے حقوق کے لئے لکھتی تھی خصوصاً ہم سب ”کے اوراق اس کے گواہ ہیں۔ دو ہزار انیس میں میں پاکستان شفٹ ہوئی اور اس کے بعد میں نے اس بارے میں مکمل خموشی اختیار کی۔ کیوں؟
جب پاکستان میں پندرہ سال بعد آ کر دوبارہ بس کر دیکھا۔ اس کی گلیوں اور لوگوں میں، چھوٹی اور بڑی سڑک پر، چھوٹے اور بڑے شہر میں، سکالرز اور پھیری والوں کے بیچ چل کر دیکھا تو وہ سمجھا جو عرب امارات کے محفوظ شہروں میں کبھی نہ سمجھ پاتی!
ہم باہر رہنے والے لوگ دھڑا دھڑ عورت کے حق میں بولتے اس کے مفادات کا تحفظ کرتے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کے زمینی حقائق کیا ہیں؟
ہمارا بیانیہ ہے کہ عورت ہر چیز کے قابل ہے اور سب کچھ اکیلی کر سکتی ہے اسے کسی مرد کی ضرورت نہیں۔
میں نے دیکھا کہ پاکستان کی ہر عورت یہ سب کچھ کر سکتی ہے مگر پاکستان کی گلیاں، اس کے زیادہ تر لوگ ( سب بے شک نہیں۔ اچھے لوگ موجود ہیں۔ مگر اجتماعی طور پر اس میں برائی کے مواقع لا محدود اور اچھائی کے نہایت کم ہیں۔ ) اور یہ معاشرہ اس قابل نہیں کہ اس کو داؤ پر لگایا جائے۔
ہم جب دبئی اور ابو ظہبی کی محفوظ گلیوں میں آدھی رات کو بھی اکیلے نکل پڑتی ہیں تو ہم بھول جاتی ہیں کہ پاکستان میں دن دیہاڑے عورت سڑک پر سے اٹھا لی جاتی ہے۔ لڑکی ٹیوشن پڑھنے یا اسکول کالج جاتی ہے تو استاد ورغلا لیتے ہیں
لڑکی مارکیٹ جاتی ہے تو بھیڑئیے کھا جاتے ہیں
بچی، لڑکی یا عورت، پولیس میں جاتی ہے تو تھانے والوں کی غذا بن جاتی ہے
دارالامان پہنچتی ہے تو بیچ دی جاتی ہے۔
ایسے میں اس کے پاس گھر کے اندر بھائی، باپ اور شوہر پر آسرا کرنے کے سوا بچتا کیا ہے؟
پھر چاہے وہ کتنے ہی مساجنسٹ ہوں؟
ہم انہیں یہ آزادی اور حقوق کے نعرے تو باآواز بلند رٹوا دیتے ہیں مگر ہم ان کے لئے وہ محفوظ معاشرہ بنا دینے سے قاصر ہیں جس میں وہ اپنے بازو پھیلا کر اڑ سکیں۔
ہم انہیں ایک آزادی دلواتے ہیں توان پر چار طرف سے دس بھیڑیئے ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ایسے میں ہم یہ اپنی عورت کے ساتھ ظلم کرتے ہیں کہ ان کو وہ چیز دکھاتے اور وہ خواب بیچتے ہیں جو اس کی پہنچ میں کبھی نہیں آسکتے۔
ایک مضبوط عورت یورپ سے آ کر پاکستان کی موٹر وے پر ساری مشینری ساری اسٹیبلشمنٹ کے بیچ کرولا میں بیٹھ کر بھی گینگ ریپ ہو جاتی ہے اور پتا ہے کیوں؟
کیونکہ جس معاشرے سے وہ آئی تھی وہاں وہ گاڑی چلا کر موٹر وے پر محفوظ تھی مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ وہ موٹر وے یورپ میں رہ گئے۔ معاشرہ بدلتے ہی زمینی حقائق بدل جاتے ہیں۔
اس معاشرے میں عورت مرد کے بغیر گھر سے نہیں نکل سکتی یا یوں کہیں کہ نکل جائے تو محفوظ نہیں رہ سکتی۔ لوگوں کی باتوں نظروں اور رویوں سے ہی اس کی آدھی زندگی حرام کر دی جاتی ہے اگر سیدھا سادا کوئی جسمانی نقصان نہ بھی پہنچا ہو۔
اکیلی رہنے والی عورت کو بدنامی کے لئے اس کے سوا اور کچھ نہیں چاہیے کہ اکیلی رہتی ہے۔
ہر مرد جال تان کر کھڑا ہو جاتا ہے؟
نوکری کرنے والی، تعلیم حاصل کرنے والی ہر کسی کو ہر ہر عمر، عہدے اور کردار کے لوگوں سے سو سو طرح کی نظروں، باتوں اور حربوں کا ہر وقت سامنا رہتا ہے اور۔
ہر نکڑ ہر موڑ پر ہر وقت عورت اس معاشرے میں لڑتی رہے، جلتی سڑتی اور کڑھتی ہی رہے؟
اگر بڑے بڑے نقصانات سے بچ جائے تو
ذرا مضبوط عورتوں کی پاکستان میں شکلیں تو دیکھیں۔ آگ اگل اگل کر، لڑتے لڑتے، مسکرانا تک بھول چکی ہیں۔ معاشرے میں پھیلی وحشت ان کے چہروں پر پڑھی جاتی ہے۔
یہ استحصال ریپ سے شروع نہیں ہوتا یہ اس پر جمی ہر اس آنکھ سے شروع ہوتا ہے جو گھر سے باہر نکلتے ہی اس پر جم جاتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں یہ چند ایک نہیں یہ اٹھانوے فیصد ہیں۔
جو عورت ریپ سے بچ جاتی ہے وہ مشکلیں اور مصائب سے بچ نہیں پاتی۔
اعصابی تھکن، ہر وقت کی جنگ اور کڑھنا
ہر عورت ملک سے نہیں بھاگ سکتی!
اسے اسی ملک میں رہنا ہے انہیں درندوں کے بیچ! انہیں اس بات پر آمادہ مت کریں کہ وہ لڑ مر جائیں
اگر ہم زندہ ہیں تو ان کو بھی زندہ رہنے دیں جس قدر عزت کی محفوظ زندگی ان کے مقدر میں ہے۔
یوول نوح ہراری نے Sapian میں واضح کیا ہے کہ کہ کیپٹلزم میں ریاست نے عوام کو فرد بنایا۔ اسے سکھایا کہ ہم دیں گے تمھیں تحفظ، صحت اور سہولتیں تم فیملی چھوڑ کر فرد بن جاؤ۔ اور یورپ امریکہ اور برطانیہ حتیٰ کہ عرب امارات جیسے ملک یہ سب دیتے ہیں
مگر پاکستان میں یہ تحفظ اور یہ ضمانت دینے والا کوئی نہیں۔ افراد، ادارے، قانون، حکومت نہ ریاست!
پاکستان جیسے نظام، قانون سے بالاتر معاشرے میں صرف خاندان اور قبائل کسی حد تک تحفظ دے پاتے ہیں سو فیصد نہیں۔ کسی حد تک۔ اس سے نکلو تو سو فیصد اور کوئی سیکورٹی کا حصار اس معاشرے میں نہیں ہے۔
ہمارے ہاں عورت تو عورت، مرد کی جان کا بھی اس کے سوا کوئی والی وارث نہیں
جن معاشروں میں انسان برائے انسان اس قدر ارزاں ہے اس میں عورت کو آزادی کے نعرے سکھا کر ہم اس پر کون سا احسان کر رہے ہیں
وہ اپنے باپ بھائی شوہر کو ظالم کہہ کر کہاں جائیں
گلی میں نکلیں تو ٹیکسی ٹانگے والا بیچ کھائے
تھانے پہنچیں تو وہاں رنگ رلیاں منانے والے گدھ بیٹھے ہوں
حکومت بڑا تیر مار کر دو چار کو آخر میں گولیوں سے اڑا دے گی
مل گئی آزادی اور ہو گئی عورت طاقتور!
اس معاشرے کا سچ صرف جان اور عزت بچانے میں ہے!
اس معاشرے کا سارا سچ سروائیول میں ہے۔
ہم باہر بیٹھی خواتین کو جو بھی نعرہ مارنا ہے اپنے اس علاقے میں مارنا چاہیے جہاں ہمیں ان نعروں کی آزادی ہے
پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں گلیوں اور بازاروں اور پورے معاشرے میں گدھ بھیڑیئے اور مگرمچھ پھر رہے وہاں کی عورت کو آزادی دلوا کر صرف ان گدھوں کو ضیافت دینے کے سوا کچھ نہیں۔
اگر ہمیں سب کی اور شعور کی یا علم کی اور حقوق کی اس قدر پروا ہے تو پہلے باہر کا معاشرہ محفوظ کریں۔ اس کا نظام بدلیں! پہلے یہ ضمانت دیں کہ یہ معاشرہ، نظام یا حکومت ان کا محافظ بنے گا! کیا کوئی اس بات کی ضمانت دے سکتا ہے کہ یہ معاشرہ، نظام، ریاست مستقبل قریب میں کسی بہت آفاقی قسم کی خوبصورت تبدیلی سے گزرنے والی ہے؟
نہیں؟
تو پھر خدارا اس دیس کی عام عورت کو بس اپنے باپ بھائی تک اپنے گھر ہی رہنے دیں۔


بہت برا سچ
اس ملک کے تمام مسائل پر خاموشی ہی بھلی۔ ہر موضوع ناقابل اشاعت ہے کیوں کہ تمام فریقین توپیں داغنے کو تیار ہوتے ہیں۔