بلاگ

موبائل آپریٹرز کی ”غیر ضروری“ وی اے ایس سبسکرپشنز سے صارفین کے مفادات خطرے میں کیوں؟

rafiullah mian

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو کچھ سوشل میڈیا پوسٹس کے بعد خیال آ ہی گیا ہے کہ موبائل آپریٹرز کے خلاف صارفین کے حقوق کا تحفظ اس کا کام ہے۔ ایسا لگتا ہے یہاں صرف چور اور ڈاکو ادارے ہی پنپ سکتے ہیں۔ ٹیلی کام شعبے نے آنے کے بعد جلد ہی دیکھ لیا کہ یہاں انسانوں کو بغیر سروس فراہم کیے بھی آزادی اور بے خوفی سے لوٹا جا سکتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی عوام اور صارفین کے حق میں بھی کوئی قدم اٹھا لیا جاتا ہے۔ شاید اس لیے کہ لٹیروں کی بے خوفی حد سے بڑھ جاتی ہے۔

فی الوقت، پی ٹی اے نے موبائل آپریٹرز کو ”ہدایت“ کی ہے کہ وہ صارفین کو ”ویلیو ایڈڈ سروسز“ (وی اے ایس) کی معلومات تک رسائی فراہم کریں، تاکہ صارفین غیر ضروری وی اے ایس سبسکرپشنز ”خود چیک اور بند“ کر سکیں۔ اب تک آپریٹرز کس قانون اور کس اجازت کے تحت غیر ضروری (اور حقیقتاً اَن چاہی/صارفین کی جانب سے طلب کیے بغیر) سروسز سبسکرائب کر رہے تھے؟ کیا یہ صارفین سے چوری نہیں ہے؟ چناں چہ، کیا محض ”ہدایت“ جاری کرنے جتنا ”اقدام“ کافی ہے؟ یا ان آپریٹرز پر اربوں روپے کے جرمانے عائد ہونے چاہئیں؟

سوالات بہت ہیں اور ان میں سے ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ کمپنیاں آج بھی عوام کے ساتھ کالونیلز جیسا رویہ کیوں اختیار کیے ہوئے ہیں؟ وہ آتی ہیں اور لوگوں سے لوٹ مار شروع کر دیتی ہیں۔ نہ کوئی قانون دکھائی دیتا ہے نہ کوئی محافظ ادارہ۔ کیا اس ریاست کی اِس بنیاد (کہ اسے ہمیشہ کالونی کے طور پر ٹریٹ کیا جائے گا) پر واقعی تمام سیاسی و غیر سیاسی اشرافیہ متفق ہے؟ یا کہیں کسی کو احساس ہے کہ جدید دنیا میں ہم وحشی زمانوں والے رویوں کے ساتھ نہیں جی سکتے۔ بلکہ ہمیں اقوام عالم میں ایک با عزت وجود کے طور پر جینا ہے۔

یہ ادراک بے حد ضروری ہے کہ جن آبادیوں سے ریاست کا وجود پیدا ہوتا ہے، اُن کے مفادات اور اُن کے وجود کو بے توقیر کر کے کوئی بھی ریاست آج کی دنیا میں باعزت تشخص حاصل کر ہی نہیں سکتی۔ ریاست کے اُن طبقات کو، جو تبدیلی پر واضح طور پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور تبدیلی کی طاقت رکھتے ہیں، اور تھنک ٹینکس کو، غور کرنا ہو گا کہ اگر دنیا سے ہماری ریاست کے تعلقات کسی شخصی بنیاد پر قائم ہو رہے ہیں تو یہ ریاست کی عزت کے لیے تباہ کن ہے۔ اس ڈاکٹرائن کو تبدیل کرنا ہی ہو گا۔ کیوں کہ اس چلن کی زندگی زیادہ طویل نہیں ہے۔

صارفین سے دن دیہاڑے چوریوں کو ”غیر ضروری کٹوتیاں“ کا نام دینے سے یہ معاملہ اِس روٹین کی طرف نشان دہی کرتا ہے کہ اُن کے مفادات مستقبل میں بھی خطرے کی زد پر ہوں گے۔ عام آدمی کی تکلیف اور شہری کے حقوق کی پامالی اور اس کے حق کی ”کٹوتی“ یہاں ایک روٹین ہے۔ کسی قانون کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے کہ صارفین کی اجازت کے بغیر موبائل آپریٹرز نے چوری چپکے وی اے ایس پیکجز فعال کیوں کیے؟ اور اس طرح جو موبائل ویلٹ سے ماہانہ کروڑوں روپے چوری کیے گئے، ان کی واپسی بھی کوئی اہم معاملہ ہو سکتا ہے۔

صارفین کی ’ولنریبلٹی‘ کی انتہا دیکھیں کہ اب بھی موبائل آپریٹرز کو اجازت ہے کہ وہ ”غیر ضروری“ سروسز کی سبسکرپشنز کی غیر قانونی پریکٹس جاری رکھ سکتے ہیں، اور خود کو چوریوں سے بچانے کی تمام ذمہ داری صارفین ہی پر ہو گی۔ ان پر لازم ہو گا کہ وہ فعال ویلیو ایڈڈ سروسز کی باقاعدہ جانچ سے غیر ضروری اخراجات سے خود کو بچائیں، ورنہ ان کے مفادات ”بائی ڈیفالٹ“ نشانے پر ہوں گے۔

پی ٹی اے نے دوسری طرح سے (یعنی بالواسطہ طور پر ) تسلیم کیا ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز صارفین کے نزدیک ناپسندیدہ وی اے ایس سبسکرپشنز کی پریکٹس میں ملوث ہیں، اس لیے اس نے مختلف آپریٹرز کے کوڈ نمبر بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ڈائل کر کے پہلے وی اے ایس تفصیلات معلوم کریں اور پھر اپنی ناپسندیدہ سبسکرپشنز فوری طور پر ڈی ایکٹیویٹ کریں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پی ٹی اے کے نزدیک یہ صارفین کے حقوق کے تحفظ کی جانب ”اہم پیش رفت“ ہے۔

امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک میں عمومی رجحان اس کے برعکس ہے۔ وہاں صارفین کے تحفظ کا اصول یہ ہے کہ کمپنیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی اضافی یا با معاوضہ سروس کو صارف کی واضح اور باخبر رضامندی کے بغیر فعال نہ کریں۔ اگر کسی کمپنی کی جانب سے صارف کو گمراہ کرنے، خودکار سبسکرپشن مسلط کرنے یا منسوخی کے عمل کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنانے کی شکایات سامنے آئیں تو ریگولیٹری ادارے بھاری جرمانے عائد کر سکتے ہیں۔

ان ممالک میں اگرچہ صارفین کو بھی اپنے بلوں اور اکاؤنٹس پر نظر رکھنی ہوتی ہے، لیکن بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ صارف کو ہر وقت چوکنا رہنے پر مجبور کرنے کی بجائے نظام کو اس طرح بنایا جائے کہ اس کے مفادات ”بائی ڈیفالٹ“ محفوظ رہیں، نہ کہ ”بائی ڈیفالٹ“ خطرے میں۔ صارفین کے حقوق اُن کی اپنی انفرادی ذمہ داری نہیں ہیں۔ ریاست کے وجود کا جواز ہی یہی ہے کہ ان حقوق کو قانونی اور ریگولیٹری تحفظ کے طور پر دیکھے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW