منا مائیکل

عمران مسیح پاکستان کے ایک چھوٹے شہر میں بسے مسیحی خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ، انور مسیح، اپنے خاندان کے ان خوش قسمت افراد میں سے تھا جن پر تعلیم اور اقلیتی کوٹا دونوں مہربان ہو گئے۔ اس نے محنت کی اور محکمہ جنگلات میں کلرک کی نوکری حاصل کر لی۔ اپنی برادری میں یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ اکثر لوگ پڑھائی سے دور رہتے تھے۔ یہ دوری اور اقلیت ایک دن ہاتھ میں جھاڑو تھما دیتی تھی۔ انور کے ہاں دو بیٹیوں کے بعد پہلا بیٹا پیدا ہوا تھا۔ مشنری ہسپتال کی سفید ٹائلوں والی راہداری میں سبھی برادری والے اکٹھے تھے۔ جنہیں بنچوں پر جگہ ملی وہ بیٹھ گئے، باقی کھڑے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ انور کے بڑے بھائی جیمز مسیح نے، حسبِ عادت ہجوم پا کر، اپنی انقلابی سوچ کو بلند آواز میں ڈھالا : ”کیا ضرورت ہے ہمیں اپنے نام عربی زبان میں رکھنے کی؟ جیمز کی آواز راہداری کی بلند چھت سے ٹکرائی۔ انور سمیت سبھی اس کی طرف دیکھنے لگے۔ اس۔ نے بات جاری رکھی :“ میرا نام جیمز ہے! میرے بچوں کے نام جوزف، جان اور میری ہیں۔ میں بھی بڑے آرام سے اسی ملک میں زندگی گزار رہا ہوں، تم لوگ کیوں ڈرتے ہو؟ ”
بات ختم کر کے جیمز نے گردن اٹھا کر داد کی بھیک بٹورنی چاہی لیکن سبھی نظریں چرا رہے تھے، سوائے انور کے جو اسے غصے سے گھور رہا تھا۔ انور نے منہ توڑ جواب دیا : ”کسی ملک میں بھی اقلیت ہو کے رہنا ایک چیلنج ہے۔ اکثریت کی ثقافت کو اپنانا کوئی برائی نہیں ہے۔ گھل مل کے رہنے میں ہی آسانی ہے۔ “ تمام نگاہوں نے انور کو داد دی اور اثبات میں سر ہلا دیے۔ جیمز جبڑا بھینچے بیٹھا جوابی دلیل تیار ہی کر رہا تھا کہ انور نے ترپ کا پتہ پھینک دیا : ”دیکھ لو! میں اپنی سوچ جیا، محنت کی، تعلیم حاصل کی اور آج ایک سرکاری محکمے میں اچھی نوکری کر رہا ہوں۔ “ انور نے نگاہوں کے نشتر جیمز پر گاڑ دیے اور اپنی بات جاری رکھی : ”تم خود کو دیکھ لو۔“ پھر نگاہوں کے نشتر سب پر برسائے، ”تم سب اپنے آپ کو دیکھ لو! وہیں کے وہیں کھڑے ہو۔“
سب انور سے متفق نظر آئے۔ کچھ نے نظریں جھکا لیں اور کچھ نے چرا لیں۔ وہ ایک سرکاری ملازم تھا اور یہ سب کوڑا اٹھانے والے۔ جیمز کے دل میں غصے کی ایک لہر اٹھی۔ نجانے یہ طعنہ مزید کتنی بار زندگی میں سننا پڑے گا۔ اس نے ٹھنڈی آہ بھری اور خود کلامی کرتے ہوئے آہستہ سے بڑبڑایا، ”ہم کوڑے والے نہیں، صفائی والے ہیں۔ اقلیت نہ ہوتے تو ہمیں بھی کوئی اور کام مل جاتا۔“ جیمز کی آہ پر کسی نے توجہ نہ دی۔ اس کی بڑبڑاہٹ جاری رہی : ”ان مسلمانوں کے دین میں تو صفائی نصف ایمان ہے، پھر ہمارا درجہ کمتر کیوں؟“ سر جھٹک کر بینچ سے اٹھا، کاندھے چیرتا، بڑبڑاتا ہوا باہر کو چلا، ”میں اوروں کی خوشی کے لئے، اپنے مزاج اور اپنی روایات سے کیوں ہٹوں؟ میری مرضی!“ وہ ہمیشہ اپنے دل کو ایسے ہی تسلی دیا کرتا تھا۔
چونکہ ابھی بڑا سرکاری گھر خالی نہیں تھا اس لئے انور کو فی الحال رہائش اپنے سے نچلے درجہ کے سرکاری افسروں کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔ وہ خوش تھا کیونکہ سبھی محلے دار اس کی عزت کرتے تھے۔ صاف ستھری، روشن اور کشادہ رہائش۔ دو کمرے، اک بیٹھک ؛ آگے پیچھے صحن۔ وہ، اس کی بیوی، دو بیٹیاں اور ننھا عمران، اس گھر کے مکیں تھے۔ انہیں کبھی احساس نہیں ہوا تھا کہ ایک مسیحی خاندان مسلمانوں کے بیچ رہ رہا ہے۔ عمران چھوٹا ہونے کی وجہ سے سب کا لاڈلا تھا۔ سب پیار سے اسے ’منا‘ کہ کر پکارتے تھے۔ وقت گزرتا گیا۔ بڑا سرکاری گھر خالی نہ ہوا اور منا اسی گھر کے در و دیوار میں ناز و نعم سے پلتا سکول جانے کی عمر کو پہنچ گیا۔ انور نے اسے مسلمان بچوں والے سکول میں ہی داخل کروا دیا۔ تعلیم کی قدر و قیمت کا اسے خوب اندازہ تھا۔ انور چاہتا تھا کہ منا اسی کے نقشِ قدم پر چلے اور کامیابی اس کا مقدر بنے۔
یہ تب کی بات ہے جب منا تیسرے درجہ (کلاس) میں تھا۔ سکول سے گھر واپس آیا تو اس نے اپنی بہنوں کو ٹی وی پر مائیکل جیکسن کے گانے اور ناچ سے لطف اندوز ہوتے پایا۔ وہ بھی ٹی وی دیکھنے لگا۔ مائیکل جیکسن کے گانے اور ناچ نے اسے مبہوت کر دیا۔ وہ اس کے سحر میں کھو گیا اور ساری رات مائیکل جیکسن بننے کا خواب دیکھتا رہا۔ اس دن کے بعد اس نے باقاعدگی سے مائیکل جیکسن دیکھنا شروع کر دیا۔ اپنی بہنوں کی رہنمائی میں ناچ سیکھنا بھی شروع کر دیا۔ ایک دن اس کی کلاس میں پارٹی ہوئی جہاں سب اپنی اداکاری اور فنکاری کے جوہر دکھا رہے تھے۔ جب اس کی باری آئی تو وہ گھبرا گیا۔ استانی نے بتایا کہ سب کو کچھ نہ کچھ کر کے دکھانا پڑے گا۔ اس نے مائیکل جیکسن کا گانا اور ڈانس شروع کر دیا۔ ساتھ ہی اپنے منہ سے ہلکا ہلکا میوزک بجاتا رہا۔ کلاس میں اکثریت مسلمان بچوں کی تھی جن کے گھروں میں مائیکل جیکسن مقبول نہ تھا اور اگر دیکھا بھی جاتا تھا تو چھپ چھپ کر۔ ان سب کے لئے، اچانک سے منا کا مائیکل جیکسن بن جانا، خوب تفریح کا سامان تھا۔ اس دن منے کو پہلی بار اپنے ہم جماعتوں سے اتنی توجہ ملی۔ اسے یوں لگا جیسے وہ بہت بڑا فنکار بن گیا ہے۔ کلاس ٹیچر بھی محظوظ ہو رہی تھیں۔ ہر طرف تالیوں کا شور تھا۔ کسی ایک نے آواز لگائی، ’منا مائیکل‘ ۔ ہر طرف شور مچ گیا، ’منا مائیکل‘ ۔ ’منا مائیکل‘ ۔ ’منا مائیکل‘ ۔ منا مشہور ہو گیا۔ ’عمران مسیح‘ کے نام پر ’منا مائیکل‘ کی مہر لگ گئی۔
منا کے کسی بھی ہم جماعت کی سالگرہ ہو یا پارٹی، اسے ضرور بلایا جاتا۔ اس کی امی اور بہنیں بھی اس کے ساتھ جاتیں۔ پارٹی سے واپس آ کر، اس کی بہنیں اور امی اس کی پرفارمنس اور سامعین سے ملنے والی داد پر مزے مزے سے تبصرہ کرتیں۔ انور کو بھی بتاتیں اور اپنے برادری والوں کو بھی۔ گھر والے اس کی شہرت اور کامیابی پر خوش تھے۔ سالگرہ اور پارٹیوں کے دعوت نامے اب محلے کے دوسرے گھروں سے بھی آنے لگے۔ آہستہ آہستہ منا مائیکل کی شہرت ملحقہ محلوں میں بھی پھیل گئی۔ ماں اور بہنوں نے مل کر، اپنی بساط کے مطابق، منا کے لئے مائیکل جیکسن کے لباس جیسا لباس خریدنا شروع کر دیا۔ ان کپڑوں میں وہ چھوٹا مائیکل جیکسن لگتا تھا۔ بہنیں اور ماں اسے دیکھ کے بہت خوش ہوتیں۔ ان کا سماجی قد پہلے سے بہت اونچا ہو گیا تھا۔ اب منا ہر سالگرہ یا محفل کا مہمان خاص ہوتا۔ وہ اپنے گھر والوں کے لئے مائیکل جیکسن اور اڑوس پڑوس کے لئے منا مائیکل بن گیا۔
وقت گزرتا گیا۔ منا تعلیم پر توجہ نہی دیتا تھا۔ ابا کے ڈر سے جیسے تیسے سکول سے کالج تک پہنچا۔ ماں اور بہنیں اس سے خوش تھیں مگر ابا اس کی تعلیم سے دوری پر پریشان ہوتے تھے۔ وہ اب ایک ہیرو بن گیا تھا۔ ہر محفل میں بچے، عورتیں، لڑکے اور لڑکیاں سبھی اس کے ساتھ تصویر کھنچوانے کے خواہشمند ہوتے تھے۔ اس کی شہرت اور دھوم سارے شہر میں تھی۔ مسلم گھرانے کی محفلوں میں تو وہ خوشی خوشی جاتا تھا لیکن اپنی برادری سے جب بھی بلاوا آتا تو اس کا دل بوجھل ہو جاتا۔ کبھی ماں اسے زبردستی برادری کی محفل میں لے جاتیں تو بھی اس کے چہرہ پر وہ خوشی نہ دکھتی جو اپنے مسلم دوستوں کے گھر جا کے ملتی تھی۔ اس کے والدین اس کی ساری خواہشیں پوری کر رہے تھے۔ ان کے لئے منا ایک مسیحا تھا جو سماج میں انہیں ایک نئے اور بلند مقام پر لے آیا تھا۔
منے کی زندگی اب مائیکل جیکسن کی دھنیں اور ناچ تھا۔ ہر وقت پارٹیاں اور دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا۔ کالج پہنچنے پر ابا نے اسے ایک موٹر سائیکل کا تحفہ دیا۔ موٹر سائیکل کی سواری نے منے کی شخصیت کو چار چاند لگا دیے۔ کالی عینک، لیدر جیکٹ، جینز اور ہوا میں اڑتے لمبے بال۔ آہستہ آہستہ منے کے ساتھ ساتھ منے کی موٹر سائیکل بھی مشہور ہو گئی۔ وہ دل کا بہت اچھا تھا۔ اس کے دوست یا دوست کے گھر والے، اسے جو بھی کام کہتے وہ کبھی انکار نہ کرتا۔ اس نے کبھی کوئی بہانہ نہ بنایا کہ اسے گھر کا کام کرنا ہے، کل کلاس ٹیسٹ ہے جس کی تیاری کرنی ہے، یا پھر اس کے ابا اسے گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔ اس کے پاس کوئی بہانہ نہ تھا کیونکہ اس کے لئے زندگی کی سب سے بڑی خوشی دوستوں اور یاروں کی محفلیں اور ان کی خواہشات کی تکمیل تھی۔ وہ خوش و خرم زندگی گزارتا رہا لیکن یہ فرق نہ کر سکا کہ کون سا دوست اس کی چاہت رکھتا ہے، کون سا منا مائیکل کی اور کون سا اس کے موٹر سائیکل کی۔
منے کی موٹر سائیکل ہواؤں میں اڑتی رہی لیکن وقت کے پہیے کی گردش موٹر سائیکل کے پہیے سے زیادہ تیز تھی۔ اس کے دوست کالج سے آگے بڑھ گئے اور وہ محفلوں کی رونق بنا وہیں کا وہیں رہا۔ بہنوں کی شادیاں ہو گئیں اور وہ اپنے گھروں کو چلی گئیں۔ وہ چاہتا تو اس کی شادی برادری کی کسی بھی اچھی لڑکی سے ہو جاتی لیکن اسے برادری والے اچھے ہی نہ لگتے تھے۔ اس کا زیادہ وقت مسلمان دوستوں اور ان کے گھر پارٹیوں پر گزرتا تھا۔ وہ اپنے مسلم دوستوں کے قریب اور برادری والوں سے دور ہوتا گیا۔ پھر ایک دن اس کی زندگی میں ایک موڑ آیا، بڑا ہی حسین موڑ، جس نے اس کی سیدھی سادھی زندگی کو ہمیشہ کے لئے بدل کر رکھ دیا۔
ملحقہ محلے کے ایک مسلم گھرانے سے سالگرہ کا بلاوہ آیا۔ سکینہ اپنے چھوٹے بھائی کی سالگرہ پر منا اور اس کی فیملی کو بلانے آئی۔ سکینہ کا چھوٹا بھائی منا کا مداح تھا اور اس کی شمولیت پر بضد تھا۔ منا نے سالگرہ پر خوب رنگ جمایا۔ اختتام پر، اوروں کی طرح، سکینہ نے بھی ’شانِ محفل‘ کے ساتھ تصویر بنوائی۔ اسی لمحے، جب سکینہ اس کے پاس کھڑی تصویر بنوا رہی تھی سب کچھ ایک دم سے بدل گیا۔ اس قربت میں لپٹی ایک ’چُھوَن‘ تھی جس نے اس کے اندر کوئی کیمیائی تبدیلی برپا کر دی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، اس کے وجود میں آگ بھڑک اٹھی۔ سکینہ سے محبت کی آگ۔ اسے کہاں معلوم تھا کہ یہ آگ اس کا سب کچھ جلا دے گی۔ ان کی سالگرہ کو چار چاند لگ گئے، وہ اپنے دل میں سکینہ کا چاند چہرہ سمیٹ لایا۔ اسی کے خواب و خیال میں کھو گیا۔ مائیکل جیکسن کی محبت کے بعد سکینہ کی محبت۔ اس کا دل خوشی اور محبت سے بھر آیا۔ اسے گمان تھا کہ پہلی محبت کی طرح دوسری محبت بھی اس کی زندگی خوشیوں اور رنگوں سے بھر دے گی۔
وہ ہر دم سکینہ کو سوچتا رہتا تھا۔ آنکھیں کھلی ہوتیں یا بند، نجانے کتنی بار وہ اس لمحے کو دیکھتا جب سکینہ پاس آئی تھی۔ اس نے اپنی محبت کا راز کسی پر عیاں نہ ہونے دیا۔ اس کی دنیا، منا مائیکل کی دنیا تھی، جہاں وہ ہیرو تھا اور لوگ اس کی چاہت اور توجہ کے طلب گار تھے۔ یہاں سکینہ کو پا لینا اسے انتہائی ممکن لگ رہا تھا۔ اس دنیا سے باہر، زندگی کے اوراق پر کچھ اور ہی لکھا گیا تھا جو ابھی اسے پڑھنا نہیں آ رہا تھا۔ اس کی جوانی موٹر سائیکل، ناچ اور میوزک پر گزر رہی تھی۔ جب کہ اس کے ساتھی اعلیٰ تعلیم کے بعد نوکریوں کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ ایک دن اس نے ماں سے دل کی بات بول دی کہ وہ سکینہ سے محبت کرتا ہے اور شادی کرنا چاہتا ہے۔ ماں ایک انجانے خوف سے گھبرا گئی۔ اسے بہت سمجھایا کہ مسلم اپنی لڑکیوں کی شادی غیر مسلم سے نہیں کرتے۔ ہم غیر مسلم بھی ہیں اور اقلیت بھی، جان کے لالے پڑ جائیں گے اور لینے کے دینے۔
منے کے لئے یہ کوئی بڑی رکاوٹ نہ تھی۔ اسے اقلیت بن کر رہنا گوارا نہ تھا۔ وہ پہلے سے ہی مسلمان ہونے کا ارادہ کر چکا تھا۔ ماں اس کا ارادہ جان کر، کچھ زیادہ متوحش نہیں ہوئی، اس کی اصل پریشانی کچھ اور تھی۔ ابا سخت پریشان ہو گئے۔ ان کی راتوں کی نیند اڑ گئی۔ پچھلے پہر بے چین ٹہلتے رہتے تھے۔ منے کو بہت سمجھایا لیکن اس نے ایک نہ مانی۔ تھک ہار کر ماں نے صلاح دی کہ ایک بار اپنے چچا جیمز سے ملو اور مشورہ کرو۔ منا بہت حیران ہوا کہ آج اس چچا کی طرف بھیج رہے ہیں جس کی بات ساری زندگی نہیں سنی گئی۔ ماں کا دل رکھنے کو اس نے چچا سے ملنے کا فیصلہ کر لیا۔
چھوٹے گھروں اور تنگ گلیوں سے گزرتا ہوا وہ چچا کے گھر تک جا پہنچا۔ ساری کہانی جیمز تک پہلے ہی پہنچ چکی تھی۔ اس نے منے کو صاف صاف بتلا دیا کہ سکینہ کا خیال اپنے دل سے نکال دے، ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ چچا کے الفاظ بڑے واضح تھے : ”تم ایک خواب میں جی رہے ہو۔ یہ مائیکل جیکسن، یہ موٹر سائیکل، یہ لیدر جیکٹ اور کالی عینک، یہ زندگی نہیں ہے۔ یہ محض چند گھنٹوں کی ایک محفل ہے۔ اصل زندگی ان چند گھنٹوں سے باہر ہے جہاں بہت کچھ سہنا پڑتا ہے۔ دن رات کا حساب، صبح شام کی روٹین، روزی روٹی کی دوڑ دھوپ، کمائی اور سٹیٹس، تمہارے پاس تو ان مین سے کچھ بھی نہیں ہے۔ تم اپنی خیالی دنیا کے ہیرو ہو، اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں“ منے کو چچا کی بات بہت بری لگی۔ اسے لگا کہ چچا اسی قابل ہے کہ نہ اس سے بات کی جائے نہ اس کی بات سنی جائے۔ وہ برا سا منہ بنائے اٹھ کر چلنے لگا تو چچا نے پھر سے کہا ”تم جو سوچ رہے ہو اور جو کرنے جا رہے ہو، یہاں سے ایک دن پلٹ کر واپس آؤ گے۔ اپنا وقت ضائع مت کرو، کل یہ وقت بھی تمہارے ہاتھ میں نہ رہے گا۔“
منے کا جنوں یہ بات سمجھ نہ پایا۔ اس کا خوفزدہ دل کب سے اس محبت کے جذبات دبا کر جی رہا تھا، اب اس نے آگے بڑھنا تھا اور اظہار محبت کرنا تھا۔ اسے چچا پر بہت غصہ تھا جس نے ان جذبات کو ختم کرنے کا کہا تھا۔ منے کو یقین تھا کہ اسلام کی قربت، سکینہ کی قربت کا باعث بنے گی۔ اس نے مسلم دوستوں کو بتایا کہ وہ اسلام قبول کرنا چاہتا ہے۔ سبھی دوست بہت خوش ہوئے، اسے گلے لگایا۔ وہ بھی خوش ہو گیا، اسے منزل قریب نظر آنے لگی۔ دوست اسے مسجد لے آئے۔ وہ پہلی بار مسجد کے اندر آیا تھا۔ نرم دبیز سرخ قالین، سفید پتھر کی دیواریں اور سحر زدہ کرتی ہوئی عربی خطاطی۔ اس کا دل سینے میں زور زور سے اچھل رہا تھا۔ امام مسجد اور نمازیوں نے اس کا خوب استقبال کیا۔ مبارکبادیں، جپھیاں اور مٹھائیاں، اسے لگا جیسے اس کی بارات کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔
وہ اب مسلمان ہو چکا تھا۔ پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے مسجد میں ادا کرتا تھا۔ سب کچھ بہت تیزی سے ہوا، شہرت تو پہلے ہی تھی لیکن اب سماجی قد مزید اونچا ہو گیا تھا۔ برادری اس قدم پر ناخوش تھی لیکن اسے کوئی فرق نہ پڑتا تھا مسلمان بن کر اس کے خواب و خیال پہلے سے زیادہ بے باک ہو گئے اور تصور وسیع ہو گیا۔ رات سونے سے پہلے جب سکینہ کو سوچتا تو وہ اس کا ہاتھ تھامے گھر کی چار دیواری سے باہر نکل آتی۔ اس کے تصور میں سکینہ کی قربت بڑھ گئی تھی اور شادی کی امید بندھ گئی تھی۔
کچھ وقت بیتا تو منے نے ماں کو سکینہ کے گھر والوں سے رشتے کی بات کرنے کو کہا۔ گرچہ ماں کا دل اس کے لئے خوشی اور کامیابی چاہتا تھا لیکن اس دل میں ایک ناگہانی ڈر بیٹھا ہوا تھا۔ ’ڈر‘ جو اقلیتوں کا ساتھی تھا، بچپن سے لڑکپن تک، اور مرتے دم تک ساتھ رہتا تھا۔ ماں نے منے کے ابا سے مشورہ کیا تو انہوں نے سختی سے منع کر دیا ”خبردار! ایسی کوئی بات مت کرنا۔ منا مسلمان ضرور ہوا ہے مگر ہم نہیں۔“ والدین نے مل کر اسے بہت سمجھایا کہ کوئی بھی مسلمان گھر تمہیں رشتہ نہ دے گا کیونکہ تمہارے ماں باپ، بہن بھائی اور عزیز و اقارب سبھی عیسائی ہیں لیکن اس کے سر پر تو شادی کا بھوت سوار تھا۔ اس نے جھگڑنا شروع کر دیا۔ ہر وقت والدین سے ایک ہی ضد کہ دونوں مسلمان ہو جائیں۔ ماں تو راضی تھی لیکن ابا نے ضد نہ مانی انہوں نے منے کو اک بار پھر سے سمجھایا : ”تم تو خود بھی ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے ہو، ایسے خواب مت دیکھو۔ محض تمہاری شادی کے لئے ہمارا مذہب بدلنا بالکل غلط ہو گا۔ تم مسلمان بن بھی گئے تو کیا؟ تمہارا نہ کوئی کام دھندا ہے نہ ہی کوئی مستقبل۔ تمہیں کون اپنی لڑکی دے گا؟“ منے کو ابا کی باتوں پر بہت غصہ آیا۔ ان کے رویے کو اپنی شادی میں رکاوٹ سمجھا اور ہمیشہ کے لئے ابا کا دشمن ہو گیا۔
اسی دوران منے نے سکینہ کے چھوٹے بھائی سے دوستی کر لی۔ دونوں مسجد کے ساتھی تھے۔ اس نے کئی بار ارادہ کیا کہ چھوٹے بھائی کے ہاتھ سکینہ کو پیغام بھیجے مگر ہمت نہ کر پایا۔ خواب دیکھنا آسان تھا لیکن خواب کو عملی جامہ پہنانا مشکل تھا۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے سو ایک دن امام صاحب سے مشورہ کرنے کا ارادہ کر لیا۔ ہمت کر کے دعا سلام کے بعد بات شروع کی : ”امام صاحب! میں سوچتا ہوں کہ اب شادی کر لوں۔ اب تو مجھے کسی مسلمان گھرانے میں ہی شادی کرنی پڑے گی۔“ امام صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ کچھ دیر بعد تحمل سے بولے : ”بیٹا! تم ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے ہو اور تمہارے گھر میں اور برادری میں باقی سب عیسائی ہیں۔ شادی ایک انسان کی دوسرے انسان سے نہیں ہوتی بلکہ ایک خاندان کی دوسرے خاندان سے ہوتی ہے۔ “ امام صاحب تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گئے۔ منا بات آگے بڑھانے کے لئے ابھی جواب ڈھونڈ رہا تھا کہ امام صاحب کی آواز دوبارہ سنائی دی : ”شادی کے لئے صرف مسلمان ہونا کافی نہیں ہے، نجانے کتنے مسلم گھرانوں کے لڑکے شادی کے خواہشمند ہیں اور مجھ سے رابطے میں ہیں لیکن اچھا رشتہ اسی کو ملتا ہے جس کے پاس اچھا روزگار ہو۔“
منے کے چہرے پر بے بسی بکھر گئی۔ گمان تھا کہ اب کوئی رکاوٹ نہ ہو گی لیکن یہاں ایک سے بڑھ کر ایک مشکل سامنے آن کھڑی تھی۔ التجائیہ انداز میں اس نے سوال کیا ’ ”تو اب میں کیا کروں امام صاحب! ابا تو مسلم ہونے کے خلاف ہیں۔ “ امام صاحب نے جواب دیا : ”بیٹا کسی اچھے مسلمان گھرانے میں شادی کرنا چاہتے ہو تو جو میں نے بتایا ہے اس کی کوشش شروع کر دو۔ اگر تمہاری اپنی کوئی ترجیح یا چاہت نہیں ہے تو میرے پاس غریب مسلمان گھرانوں کے رشتے موجود ہیں۔ میں بات کر سکتا ہوں لیکن ان لوگوں کی کیا شرطیں ہوں گیں یہ تو بات کرنے کے بعد ہی پتا چلے گا۔“ منے کا منہ لٹک گیا۔ امام صاحب اس کی کیفیت بھانپ گئے اور اپنی بات ختم کی ”بیٹا! تمہارے لئے یہی بہتر ہو گا کہ تم اپنی برادری کی کسی لڑکی سے بات کرو، اگر وہ مسلم ہو جائے تو تمہیں دنیا اور آخرت کا اجر ملے گا لیکن اگر نہ بھی ہو تو بھی مسلمانوں کو اہل کتاب سے شادی کی اجازت ہے۔ “ منے کا دل بیٹھ گیا۔ اسے امام صاحب میں ابا کی شکل نظر آنے لگی۔ وہی باتیں جو ابا نے کی تھیں انہوں نے بھی کیں۔ سب کچھ اس کے خیالوں سے الٹ ہو رہا تھا، اب ایک ہی چارہ باقی بچا تھا۔
اس نے ایک دن ہمت کر لی اور سکینہ کے چھوٹے بھائی سے مغرب نماز کے بعد بات کر لی۔ چھوٹے بھائی نے کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے گھر چلا گیا۔ وہ عشاء کی نماز پڑھنے بھی نہیں آیا۔ منے کے دل کو کھٹکا لگا۔ اگلے دن چاروں نمازیں گزر گئیں اور وہ نظر نہ آیا۔ منے کو مایوسی نے گھیر لیا۔ شاید وہ ناراض ہو گیا ہو۔ عشاء کی نماز پڑھ کے منا گھر واپس آ رہا تھا جب سکینہ کے خالہ زاد اور چچا زاد بھائیوں نے اسے گلی کی نکڑ پر گھیر لیا۔ اندھیرا تھا اور ان کے سوا اور کوئی وہاں موجود نہ تھا۔ اس کا گریبان پکڑ کر دیوار سے لگا لیا اور دھمکی دی، ”تم بے شک مسلمان ہو گئے ہو مگر اپنی اوقات میں رہنا۔ ہماری بہن کے بارے میں سوچا بھی تو تمہاری ٹانگیں توڑ دیں گے۔ “ منے کا دم گھٹ رہا تھا۔ چاروں طرف سے خونخوار آنکھوں اور غراتی آوازوں، بھنبناتی سانسوں نے گھیر رکھا تھا۔ وہ نفرت اور حقارت میں گھرا رحم دلی تلاش کر رہا تھا تبھی اس کی نظر سکینہ کے چھوٹے بھائی پر پڑی۔ اس کی آنکھیں ایک دوست کی آنکھیں نہ تھیں، بدل گئی تھیں۔ منا ایک دم تنہا اور بے بس ہو گیا تھا۔
ان سب کے چلے جانے کے بعد اسے کھل کر سانس آیا۔ دیوار سے لگ کر زمین پر بیٹھ گیا۔ اس کے خوابوں کا شیش محل ریزہ ریزہ ہو گیا تھا۔ شیشوں کی ان کرچیوں نے اس کی روح کو زخما دیا۔ تصور میں جہاں ایک چاند چہرہ بستا تھا، اندھیرے نے بسیرا کر لیا۔ وہ رات اس کے لئے بہت بھاری تھی۔ اگلے دن کسی نے گلی میں کھڑے موٹر سائیکل کی بتی بھی توڑ دی۔ خوف تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا اور جذبات سرد ہوتے جا رہے تھے۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ دل اللہ کا گھر ہوتا ہے، دل کا یہ حال ہوا تو اللہ کا مسجد میں نظر آنا بھی بند ہو گیا۔ منے کا مسجد جانا موقوف ہو گیا۔ سکینہ کے والدین نے منے کے ابا سے الگ بات کی، سمجھایا کہ اپنی نہ سہی ہماری عزت کا خیال رکھیں۔ انور بہت شرمندہ ہوا اور معافی مانگ کر معاملہ رفع دفع کیا۔ منے کی تنہائی کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ برادری والوں سے پہلے ہی بول چال کم تھی، مسلمان دوستوں سے بھی رابطہ ختم ہو گیا۔ اندھیرے کمرے کی تنہائی نے اس کو اور مایوسی نے اس کے تخیل کو قید کر لیا۔
اس کے ہم عمر اپنے اپنے روزگار میں مصروف ہو چکے تھے اور وہ اپنی پڑھائی بھی مکمل نہ کر سکا تھا۔ انور کا دکھ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ اڑوس پڑوس کے رویے میں بھی تبدیلی آ چکی تھی۔ چند ماہ گزرنے کے بعد ایک نیا امتحان شروع ہو گیا۔ شہر میں طرح طرح کی باتیں پھیل گئیں۔ کوئی کہتا کہ منا محض مسلمان لڑکی سے شادی کی غرض سے مسلمان ہوا تھا، کوئی کہتا کہ مسیحی برادری کے دباؤ میں آ کر وہ پھر سے عیسائی ہو گیا ہے۔ کوئی منے کو سزا تجویز کرتا، کوئی محلے میں ان سے قطع تعلق کا مشورہ دیتا۔ والدین نے اس ڈر سے اس کا گھر سے نکلنا مکمل بند کر دیا۔ ابا پہلے ہی پریشان رہتے تھے، صحت روز بروز گرتی گئی۔ انہیں اپنا سماجی مقام چھن جانے کا دکھ اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا۔ جس منے نے گھر میں خوشی بکھیری تھی وہی غمی کا باعث بن گیا۔ ابا کی بیماری بڑھتی چلی گئی، بات سرکاری ہسپتالوں سے نکل کر پرائیویٹ پریکٹس تک پہنچی تو علاج معالجے کا خرچہ برداشت سے باہر ہو گیا۔ منے کی موٹر سائیکل بھی بیچنی پڑ گئی۔ موٹر سائیکل کی جدائی نے منے کو مایوسی کی گہری دلدل میں دھکیل دیا۔
کئی ماہ بند کمرے میں گزارنے کے بعد ایک دن منا ہمت کر کے گھر سے باہر نکلا۔ ڈرا سہما ہوا، نہ آنکھوں میں پہلے سی چمک نہ چہرے پر وہ مسکراہٹ۔ گلیوں گلیوں گھومتا رہا۔ گم سم، نہ خود کسی سے بات کی اور نہ ہی کسی کی بات کا جواب ’ہوں‘ یا ’ہاں‘ سے زیادہ دیا۔ کبھی کسی گلی کے موڑ پر پہنچتا تو ہاتھ باہر نکال کر ہوا میں لہراتا، مڑنے کا اشارہ کرتا اور پھر موڑ مڑ کر آگے چلا جاتا۔ جب لوگوں نے منے کی یہ حالت دیکھی تو اپنا غصہ بھی بھول گئے۔ اس کو سائیں، بھولا، پاگل، دیوانہ کہہ کر سب کچھ معاف کر دیا۔ راستے میں چلتے ہوئے جب کسی عورت کو دیکھتا تو آنکھیں اٹھا نہ پاتا تھا۔ اس کی زخمی روح نے نہ صرف اس کے جذبات کی حرارت چھین لی تھی بلکہ اس کی سوچ کے آزاد پرندے کو بھی قید کر دیا تھا۔ اسے خبر نہ تھی کہ زندگی اپنی زنبیل میں موت چھپائے بیٹھی ہے، اس کے ابا کی موت۔ بیماری اور غم نے آخر کار انور کی جان لے لی۔ ماں بہت روئی، رشتہ دار بھی روئے، منا رونا بھول گیا تھا۔ چپ چاپ بیٹھا خالی نگاہوں سے سب کو تکتا رہا۔
سرکاری گھر چھوٹ گیا۔ اماں اسے لے کر برادری کے ساتھ رہنے لگی۔ ایک چھوٹا سا گھر کرائے پر لے لیا۔ ابا کی جمع پونجی اور سرکار سے ملنے والی آدھی پینشن سے بمشکل گزر بسر ہوتی تھی۔ جن تنگ گلیوں اور محلوں سے منا دور بھاگتا تھا اب انہی گلیوں میں چپ چاپ گھومتا رہتا تھا۔ جو آنکھیں کبھی اسے رشک سے دیکھتی تھیں آج وہی آنکھیں اس کے حال پر ترس کھا رہی تھیں۔ جیمز نے کوشش کی کہ وہ کوئی چھوٹا موٹا کام شروع کر دے لیکن بات نہ بنی۔ منا، گم سم، زندگی گزرنے کا انتظار کر رہا تھا۔ زندگی کٹھن ہو تو جلدی نہیں گزرتی، گھڑیاں اور مشکلات طویل ہوتی گئیں۔ ماں نے اس کا دماغی علاج کروانے کے لئے ڈاکٹر بھی آزمائے لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔ برادری والوں نے سوچا کہ اس کی شادی کرا دیں لیکن کسی کو سمجھ نہ آئی کہ شادی کے واسطے لڑکی ڈھونڈیں یا منے کے وجود سے لڑکی کی خواہش تلاش کریں۔ منے کی آنکھ، جسم اور روح تک سے عورت کی خواہش ختم ہو چکی تھی۔ وقت نے اپنی پرواز جاری رکھی۔ اسی دوڑ دھوپ میں آخر کار ماں بھی دنیا چھوڑ گئی۔ منا رو نہ سکا لیکن اس کی آنکھوں میں نمی کئی آنکھوں نے دیکھی۔ ماں کے ساتھ سرکاری پینشن بھی چلی گئی۔ وقت مزید طاقتور اور ظالم ہو گیا ؛ منے کی جوانی روندتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
نجانے کب کس نے اس کے ہاتھ میں جھاڑو تھما دیا۔ وہ سر جھکا کر اپنا کام کرتا اور جیسے تیسے گزارا کرتا تھا۔ کسی شخص سے بات نہ کرتا تھا مگر بڑبڑاتا رہتا تھا، اس کی خود کلامی پر کوئی کان نہ دھرتا تھا۔ کبھی کسی مسلمان گھر سے کھانا مل جاتا کبھی برادری سے، بھوک مذہب کا سواد کہاں چکھتی ہے؟ سڑکوں اور گلیوں سے اڑتی دھول نے اسے ادھیڑ عمری میں ہی بڑھاپے کی سفید چادر اوڑھا دی۔ کبھی کھانا نہ ملتا تو پانی پی کر ہی سو جاتا۔ نیند بھی بے کار ہو چکی تھی، کوئی خواب زندہ نہ بچا تھا۔ مائیکل جیکسن کا نام آج بھی زندہ تھا لیکن منا مائیکل سب کو بھول گیا تھا۔
سردیوں کے دن تھے، منا بیمار پڑ گیا۔ نہ جھاڑو لگانے جا سکا اور نہ ہی برادری میں سے کسی نے اس کا حال پوچھا۔ دو دن اسی طرح گزر گئے، بھوک سے برا حال ہو گیا۔ تیسرے روز بھوک نے بہت ستایا تو ہمت کر کے اٹھا، جھاڑو اٹھایا اور باہر کو چل پڑا۔ کمرے سے نکل کر پتا چلا کہ سورج کب کا ڈھل چکا ہے۔ سمجھ نہ آئی کہ کدھر کو جائے۔ چلتا رہا، بھوک آہستہ آہستہ بڑھتی رہی۔ ہمت جواب دینے لگی۔ گلیاں محلے ویران، سب گھروں میں بند۔ عشاء کی نماز کا وقت تھا اور سخت سردی میں بھی کچھ نمازی مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے۔ مسجد کو قریب سے دیکھ کر منے کا دل زور سے دھڑکا۔ کچھ یاد آیا، انسانوں کے ڈر سے جو چنگاری دل کی تہوں میں چھپی، بجھی ہوئی تھی وہ سلگ اٹھی۔ وہ بے اختیار مسجد میں داخل ہو گیا۔ بڑبڑاتے ہوئے رب سے التجا کی : ”آج بہت بھوک لگی ہے، کچھ کھانا کھلا دو۔“ قدرت نے بہت دنوں بعد منے کی آواز سنی تھی۔ منے کا دل چاہا کہ مسجد کے صحن میں جا کر سجدے میں گر جائے اور زور زور سے گڑگڑا کر دعا کرے۔ اپنی گداگروں سی حالت اور انسانوں کے خوف سے آگے نہ بڑھ سکا۔ داہنے ہاتھ وضو کی ٹوٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ بھوک کی شدت کم کرنے کے لئے اس نے ٹوٹی سے پانی پیا۔ پانی نے کچھ جسم کو ہمت دی تو جوتیوں والی جگہ پر جھاڑو لگانا شروع کر دیا۔ اس کے گندے وجود کے ساتھ جڑا ایک یہ جھاڑو ہی تو تھا، جس کو چھوتا تھا صاف کر دیتا تھا۔ جھاڑو کا وجود منے سے جیت گیا تھا۔
نماز ختم ہوئی اور نمازی باہر نکلنا شروع ہو گئے۔ ایک کی نظر منے پر پڑی اور بولا : ”اس وقت یہاں کیوں جھاڑو لگا رہے ہو؟ صبح لگانا۔“ منے کا ہاتھ رک گیا۔ اس نے چاہا کہ شدتِ بھوک بیان کرے لیکن حسب عادت خاموش رہا۔ تھوڑی دیر میں دوسرا شخص بولا : ”یہ تو عیسائی ہے، یہاں مسجد کے اندر کیوں جھاڑو لگا رہا ہے؟“ وہ گھبرا گیا۔ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا، اس حالت میں اسے مسجد میں داخل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لوگ اکٹھے ہونا شروع ہو گئے۔ لوگوں کے گھیرے میں اس کا دم گھٹنے لگا۔ اتنی دیر میں اس چھوٹی سی بھیڑ سے اک نوجوان نمازی کی جوشیلی آواز سنائی دی : ”پچھلے ہفتے میری جوتی چوری ہوئی تھی، مجھے تو لگتا ہے ہماری مسجد کا ’جوتی چور‘ یہی ہے“ منے کا دل بیٹھ گیا۔ نقاہت میں مار پڑنے کا ڈر شامل ہوا تو اس نے تھر تھر کانپنا شروع کر دیا۔ خوف نے مسجد کی محبت بھی بھلا دی۔ اس کا دل چاہا کہ گھیرا توڑ کر بھاگ جائے لیکن ٹانگیں بے جان ہو چکی تھیں۔ وہ تو نہ بھاگ سکا مگر بھوک کوسوں دور بھاگ چکی تھی۔
اس کی پتلی حالت دیکھ کر ایک نیک دل ادھیڑ عمر باریش شخص بولا : ”چلو چھوڑو! جانے دو غریب آدمی کو۔ اس نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔“ نوجوان نے نہایت جوشیلی آواز میں جواب دیا : ”کیا پتا یہ عیسائی کس نیت سے مسجد آیا ہے؟ یہ کوئی وقت ہے مسجد میں صفائی کرنے کا! مجھے تو لگتا ہے کہ یہ گستاخی کی نیت سے آیا ہے۔ کہیں پیشاب کر کے نہ بھاگنا ہو اس نے؟“ منے کو احساس ہوا کہ محض اللہ میاں سے بات کرنا کافی نہیں ہے، ان لوگوں کو بھی بتانا پڑے گا کہ وہ بھوکا ہے اور کھانا ڈھونڈ رہا ہے۔ اسی دوران دو بچے امام مسجد کا کھانا لے کر مسجد میں داخل ہوئے کھانے کی بھینی بھینی خوشبو، سر جھکائے ڈرے سہمے منے کے نتھنوں میں گھسی اور اس نے نگاہیں اٹھا کر خوشبو کا پیچھا کیا۔ پاس سے گزرتے خوش رنگ تھال کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ اس رنگ اور خوشبو نے نجانے کیا جادو کیا، دل سے خوف ختم ہو گیا، وہ لوگوں کے تنگ گھیرے سے کہیں دور چلا گیا۔ بھوک بھی کیا چیز ہے؟ ہر خوف پہ بھاری، ہر محبت سے پیاری۔ کھانا دیکھ کر اس کو اللہ کے حضور کی ہوئی اپنی التجا یاد آ گئی۔ ابھی دل اللہ سے رابطہ جوڑ ہی رہا تھا کہ اس کے سر میں ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ ’چٹاخ‘ کی آواز سنائی دی اور منے کے منہ سے درد بھری آہ نکلی۔ جوشیلے نوجوان نے ہوا میں اچھل کر زوردار چپت منے کے سر پر رسید کی تھی۔ منے کو لگا کہ وہ بے ہوش ہو جائے گا۔ اللہ کا وہ نیک بندہ جو ہجوم سے اسے چھوڑنے کا مشورہ دے رہا تھا بیچ میں آ گیا۔ اس نے نوجوان کو ڈانٹا۔ اس کی بارعب آواز، بڑی داڑھی اور عمر، نوجوان پر غالب آ گئی۔ نوجوان برا سا منہ بنا کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس نیک دل شخص نے فوراً پولیس کو فون کر دیا۔ پولیس کی گاڑی پہنچ گئی۔ وہ منے کو لے کر، مزید تفتیش کے لئے، تھانے پہنچ گئے۔
منے نے ہجوم سے بچنے پر اوپر والے کا شکر ادا کیا۔ وہ پہلی بار تھانے آیا تھا۔ تھانے کے گہرے نیلے اور سرخ رنگ اسے گھور گھور کر دیکھ رہے تھے۔ سردی، بخار، درد اور بھوک، رفتہ رفتہ مکیں، جسم کے ویراں مکان میں لوٹ آئے۔ تھانیدار (سب انسپکٹر) نے منے کو دیکھ کر برا سا منہ بنا لیا۔ سپاہیوں سے ناراض ہوا کہ یہ کس کنگلے کو اٹھا لائے ہو۔ سپاہیوں نے جواباً پوری روداد سنائی۔ روداد سن کر تھانیدار نے اپنی تجربہ کار نگاہوں سے منے کو گھورا اور تبصرہ کیا : ”اوئے یہ تو مجھے کوئی پاگل لگتا ہے۔ تھوڑی دیر تھانے میں رکھو پھر اسے چھوڑ دینا۔“ منے کے حواس بحال ہوئے تو اس نے تھانے کے اندرونی خد و خال کا جائزہ لینا شروع کیا۔ وہ چپ چاپ دیوار کے ساتھ ایک بنچ پر بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے ہال تھا جہاں کچھ کرسیاں اور میز لگے ہوئے تھے۔ وہیں تھانیدار بیٹھا ہوا تھا۔
اچانک ایک بوڑھی عورت، ہاتھ میں کھانے کا ٹفن تھامے، تھانے میں داخل ہوئی۔ تھانیدار نے با آواز بلند بوڑھی کا استقبال کیا : ”اماں جی! آج کیا لائی ہو اپنے نکمے پتر کے لئے؟ اس کی تو ہر رات حوالات میں گزرتی ہے۔ ہر دوسرے دن چوری کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے۔ تمہارے لاڈ پیار نے ہی اسے نشئی اور چور بنا دیا ہے۔ “ بوڑھی اماں نے اپنے خشک آنسو دوپٹے سے صاف کیے اور تھانیدار کے سامنے پہنچ کر ٹفن کا ڈھکن کھول دیا۔ گرم روٹی اور دال کی ملائم خوشبو تھانے کی اکھڑ فضا میں پھیل گئی۔ تھانیدار نے منہ بنا لیا : ”خوشبو تو اچھی ہے اماں پر میں دال کا شوقین نہیں ہوں۔“ تھانیدار نے ہاتھ کے اشارے سے حوالات کی طرف اشارہ کیا جہاں بوڑھی ماں کا جوان بوجھ قید تھا : ”جا! اپنے لاڈلے کو کِھلا۔“ اماں ٹفن اٹھائے منے کے سامنے سے گزری۔ تھوڑی دیر کو اس کے سامنے رکی اور اسے ممتا بھری نظروں سے دیکھا۔ پرے حوالات کا دروازہ کھولتے ہوئے سپاہی نے اماں کو آواز دی : ”جلدی کرو اماں! انسپکٹر صاحب آنے والے ہیں۔ “ اماں آگے بڑھ گئی۔ منے کو نجانے کیا ہوا، نہ گرم روٹی کی خوشبو آئی اور نہ ہی دال کی، ماں بہت یاد آئی۔
اسی اثنا میں انسپکٹر صاحب تھانے میں داخل ہوئے۔ سب اپنی کرسیوں پر کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے منے کو بیٹھے دیکھا تو سوالیہ نظروں سے تھانیدار کو گھورا۔ تھانیدار نے سارا قصہ سنایا اور ساتھ ہی بتایا کہ ابھی اسے چھوڑ دیں گے، بے چارہ بے قصور ہے۔ انسپکٹر صاحب نے تھانیدار کو ڈانٹ پلائی : ”تم کبھی دماغ سے بھی سوچ لیا کرو۔ اسے آج رات یہیں رکھو۔ پتا تو ہے تمہیں اپنی عوام کا! ، مہنگائی اور بجلی کے بلوں کا غصہ اس پر نکال دیں گے۔ اگر اس کے محلہ داروں میں سے کوئی پوچھنے نہ آیا تو کل صبح اسے چھوڑ دینا۔“ یہ کہ کر انسپکٹر صاحب اپنے کمرے کی طرف چل پڑے۔ اچانک پھر سے کچھ یاد آیا اور رک کر منے کی طرف اشارہ کیا : ”اس کی حالت دیکھو کتنی خراب ہو رہی ہے! اس کے کھانے اور دوا کا انتظام کرو۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ “ تھانیدار کھسیانہ ہو کر، جی سر جی کہتا، اپنی نشست پر دوبارہ بیٹھ گیا۔ سپاہی کو آواز دی : ”اوئے سلیم! اس کو حوالات میں ڈالو، آج کی رات یہ سرکاری مہمان ہے۔“ سلیم اپنی نشست سے اٹھا اور منے کی طرف چلا۔ تھانیدار بڑبڑا رہا تھا : ”سرکار نے پورے تھانے میں کیمرے لگا دیے ہیں۔ اب اس کے لئے اچھے کھانے کا انتظام بھی کرنا پڑے گا اور ڈاکٹر کا بھی۔“
منا بنچ پر بیٹھا درد میں بھی مسکرا رہا تھا۔ اوپر والے نے اس کی دعا سن لی تھی۔ کھانے کے ساتھ ساتھ دوا کا بھی انتظام ہو گیا تھا۔
