میرے مطابق

ایک لمحے میں معصوم خواب بکھر گئے

Sanober Shaikh

کبھی کبھی چند لمحے پوری زندگی بدل دیتے ہیں۔ تیس جون کی دوپہر بھی لاہور کے علاقے کاہنہ کے لیے ایسے ہی قیامت جیسے گزرے۔ ایک نجی ٹیوشن سینٹر میں بچے معمول کے مطابق اپنی کتابوں میں مگن تھے۔ کسی کے ذہن میں امتحانات کی فکر تھی، کوئی مستقبل کے خواب سجا رہا تھا کوئی چھٹی کے بعد گھر جا کر والدین کو دن بھر کی باتیں سنانے کا منتظر تھا۔ مگر کسی نے یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ چند ہی لمحوں بعد وہی کلاس روم ایک دل دہلا دینے والے سانحے کی علامت بن جائے گا۔

اچانک ایک زور دار آواز گونجی، چھت زمین بوس ہو گئی، گرد و غبار کے بادل ہر طرف پھیل گئے اور خوشیوں سے بھرے ماحول کی جگہ چیخ و پکار نے لے لی۔ چند لمحے پہلے جہاں استاد کی آواز اور بچوں کی پڑھائی جاری تھی، وہاں اب مدد کی پکاریں، والدین کی بے بسی اور ریسکیو اہلکاروں کی دوڑ دھوپ تھی۔ یہ منظر صرف وہاں موجود لوگوں کے لیے ہی نہیں ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دیکھنے والے ہر شخص کے لیے ناقابلِ فراموش تھا۔

افسوسناک حادثے میں چودہ معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں کئی بچے زخمی ہوئے۔ جاں بحق بچوں میں ایسے بچے بھی تھے جن کے خواب ابھی پروان چڑھنا شروع ہی ہوئے تھے۔ کسی نے ڈاکٹر بننا تھا، کسی نے انجینئر، کسی نے استاد، اور کسی نے اپنے والدین کے بڑھاپے کا سہارا۔ لیکن ایک لمحے کی تباہی نے یہ تمام خواب ملبے تلے دفن کر دیے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور مقامی شہری جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ امدادی کارکنوں نے کئی گھنٹوں تک ملبہ ہٹا کر بچوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ اسپتالوں کے باہر والدین کی بے چینی، ہر ایمبولینس کو امید بھری نظروں سے دیکھتے رشتہ دار اور اپنے پیاروں کی خبر سننے کے منتظر خاندان۔ ایسے مناظر تھے جنہوں نے ہر حساس دل کو رنجیدہ کر دیا۔

ابتدائی تحقیقات میں حکام نے عمارت کی مضبوطی، تعمیراتی معیار اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینا شروع کیا۔ پولیس نے عمارت کے مالک سمیت بعض افراد سے پوچھ گچھ کا آغاز کیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس سانحے کے پیچھے کس قسم کی غفلت یا لاپروائی موجود تھی۔ ٹیوشن سینٹر کی منتظمہ نے اس تاثر کی تردید کی کہ حادثے کے وقت عمارت میں تعمیراتی یا مرمتی کام جاری تھا۔ اس مرحلے پر ضروری ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچا جائے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہر ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

واقعہ صرف ایک عمارت کے گرنے کا سانحہ نہیں یہ ہمارے تعلیمی نظام اور حفاظتی انتظامات کی کمزوریوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں ہزاروں نجی ٹیوشن سینٹرز اور کوچنگ اکیڈمیاں ایسی عمارتوں میں قائم ہیں جو دراصل رہائشی مقاصد کے لیے تعمیر کی گئی تھیں۔ ان میں سے بہت سی عمارتوں کا کبھی باقاعدہ انجینئرنگ معائنہ نہیں ہوتا۔ نہ ہی ہنگامی انخلا کے راستے، آگ سے بچاؤ کے انتظامات یا طلبہ کی گنجائش کے مطابق حفاظتی اقدامات ہوتے ہیں۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اکثر ایسے حادثات کے بعد چند روز تک غم، غصہ اور بیانات کی فضا میں رہتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ اگر اس سانحے کے بعد بھی ہم نے حفاظتی اصولوں کو سنجیدگی سے نافذ نہ کیا تو خدشہ ہے کہ مستقبل میں کسی اور شہر اسکول یا کسی اور ٹیوشن سینٹر سے ایسی ہی افسوسناک خبر سننے کو مل سکتی ہے۔

پنجاب حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا، زخمی بچوں کے علاج کی ہدایات جاری کیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے ساتھ نجی ٹیوشن سینٹرز کی رجسٹریشن، عمارتوں کے حفاظتی معائنے اور متعلقہ قوانین کو موثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہو گی جب یہ اقدامات صرف اعلانات تک محدود نہ رہیں عملی طور پر نافذ کیے جائیں۔

والدین کی بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے یا ٹیوشن سینٹر میں بچوں کو داخل کرانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ عمارت محفوظ ہے یا نہیں، ایمرجنسی اخراج کا راستہ موجود ہے یا نہیں، اور کیا ادارہ بنیادی حفاظتی اصولوں پر عمل کر رہا ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کے مالکان کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ بچوں کی جان کسی بھی مالی مفاد سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا باقاعدہ حفاظتی معائنہ کیا جاتا ہے، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی مشقیں کرائی جاتی ہیں اور کسی بھی غیر محفوظ عمارت میں تدریسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاتی۔ پاکستان میں بھی ایسے نظام کو موثر انداز میں نافذ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

کاہنہ کا سانحہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ تعلیم صرف کتابیں اور امتحانات نہیں ایک محفوظ ماحول بھی ہے جہاں والدین اطمینان سے اپنے بچوں کو بھیج سکیں۔ اگر ایک طالب علم اپنے تعلیمی ادارے میں بھی محفوظ نہ ہو تو یہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اس حادثے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔ ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، غیر محفوظ عمارتوں میں قائم تعلیمی اداروں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور ایسے مضبوط حفاظتی قوانین نافذ کیے جائیں جن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ ہو۔ معصوم بچوں کی جانیں کسی بھی غفلت یا لاپروائی سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW