سینیٹ میں گونجتی بلوچستان کی آواز

گزشتہ ہفتے سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر سردار محمد عمر گورگیج نے ایک اہم تقریر کی۔ اس تقریر میں انہوں نے بلوچستان کے وہ زمینی حقائق بیان کیے جو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ سردار محمد عمر گورگیج نے کہا کہ بلوچستان میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہم اپنے حلقوں میں بھی نہیں جا سکتے۔ اگر کسی طرح پہنچ بھی جائیں تو موجودہ حالات کے بارے میں اپنے عوام کو کیا جواب دیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے ایک لاکھ نوجوان پہاڑوں کا رخ کر چکے ہیں۔ ان کی اس تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان میں جو لوگ اس وقت پارلیمانی سیاست کر رہے ہیں، کم از کم ہمیں انہیں تو ساتھ لے کر چلنا چاہیے، مگر افسوس کہ ہم انہیں بھی جیلوں میں ڈال رہے ہیں یا پارلیمنٹ سے باہر کر رہے ہیں۔
انہوں نے سردار اختر جان مینگل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے استعفیٰ دیا تو حکومت کو چاہیے تھا کہ انہیں منانے کی کوشش کرتی، مگر اس کے بجائے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا۔
سردار محمد عمر گورگیج نے اپنی تقریر میں ریکودک اور سیندک منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے میرے حلقے بلکہ میرے گھر کے قریب ہیں، لیکن ہمیں آج تک معلوم نہیں کہ ریکودک کا معاہدہ کن شرائط پر ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاہدے کو عوام کے سامنے لایا جائے اور ان منصوبوں سے بلوچستان کے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بلوچستان میں گیس پلانٹس لگانے پر پابندی کیوں عائد کی گئی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ گیس پلانٹس کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو گیس فراہم کی جا سکتی ہے، جبکہ ایران کی سرحد قریب ہونے کی وجہ سے وہاں سے گیس بھی خریدی جا سکتی ہے، لہٰذا اس پابندی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
سردار محمد عمر گورگیج کی یہ تمام باتیں حقیقت پر مبنی ہیں۔ انہوں نے نہایت سادہ اور واضح الفاظ میں بلوچستان کے عوام کے مسائل بیان کیے، جنہیں بلوچستان کا ہر باشعور فرد محسوس کرتا ہے۔ چونکہ اس وقت بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، اس لیے ان کی ڈھائی سالہ حکمرانی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عوام کا موقف ہے کہ اس عرصے میں انہیں بدامنی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ سردار گورگیج کی اس تقریر سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ”سب کچھ ٹھیک ہے“ کا دعویٰ محض ایک بیانیہ ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
سردار محمد عمر گورگیج پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر، سابق وفاقی وزیر اور موجودہ سینیٹر ہیں۔ ان کی تقریر بلوچستان کے موجودہ حالات کی حقیقی عکاسی کرتی ہے۔
اس وقت بلوچستان کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔ کوئی بھی شہری خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا۔ کوئٹہ سے تفتان جانے والی شاہراہ غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ آئے روز نامعلوم مسلح افراد ٹرالرز اور آئل ٹینکرز کو نذرِ آتش کر رہے ہیں، جس سے لوگوں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
شاہراہوں کی خراب صورتحال کے باعث مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثر ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں پھل، سبزیاں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء بروقت منڈیوں تک نہیں پہنچ پاتیں۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنے والے پولیس تھانے اور چیک پوسٹیں بھی اپنی حفاظت کے لیے پریشان نظر آتی ہیں۔
کاروبار تقریباً ٹھپ ہو چکا ہے۔ مائنز مالکان کا کام رکا ہوا ہے اور انہیں کروڑوں روپے کے نقصانات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ جن کمپنیوں کے ساتھ ان کے معاہدے ہیں، وہاں تک خام مال نہیں پہنچ پا رہا۔ آٹا، گھی، سبزیاں، گیس، تیل اور پاک۔ ایران درآمد و برآمد بھی شدید متاثر ہے۔ تفتان بارڈر پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور ہر ٹرانسپورٹر گاڑی چلانے سے پہلے سکیورٹی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان اس سے پہلے کبھی ایسے بدترین حالات سے گزرا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر ان حالات کی ذمہ داری موجودہ صوبائی حکومت پر کیوں نہ ڈالی جائے؟ اگر سردار محمد عمر گورگیج کی بات غلط ہے تو پھر حقیقت کون بیان کر رہا ہے؟
گزشتہ روز چند ناتجربہ کار یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز نے سردار محمد عمر گورگیج کی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ”مہاجر“ قرار دینے کی کوشش کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر افراد نہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی بلوچستان کی تاریخ، قبائلی نظام اور زمینی حقائق سے واقف ہیں۔ وہ چند مخصوص مقامات کا دورہ کر کے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ پورے بلوچستان میں امن قائم ہے۔
اگر انہیں زمینی حقیقت جاننی ہے تو کراچی کے اس خاندان سے پوچھیں، جو صرف راستہ بھٹکنے کی وجہ سے اپنے ایک عزیز کی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
میں ان یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز کو صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ سردار محمد عمر گورگیج بلوچ قبائل کے ایک معتبر سردار ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آباد گورگیج قبیلے کے افراد انہیں اپنا سردار مانتے ہیں۔ وہ نواب اکبر خان بگٹی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے رہے ہیں اور ان کی اپنی ایک طویل سیاسی تاریخ ہے۔
شاید اسلام آباد یا لاہور کے ائرکنڈیشنڈ اسٹوڈیوز میں بیٹھ کر انہیں ”مہاجر“ کہنا آسان ہو، مگر بلوچستان کے عوام انہیں بخوبی جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے ایسے دعوؤں کا بھرپور جواب بھی دیا جاتا ہے۔
سردار محمد عمر گورگیج 2008 ء سے 2013 ء تک پاکستان پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت میں وفاقی وزیر رہے۔ ان کا آبائی گاؤں یک مچ میں واقع ہے، جبکہ ان کے صاحبزادے اس وقت کوئٹہ سے رکنِ صوبائی اسمبلی (ایم پی اے ) ہیں۔ ایسے شخص کو ”مہاجر“ قرار دینا نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ بلوچستان کی تاریخ سے لاعلمی کا بھی ثبوت ہے۔
بدقسمتی سے جو بھی بلوچستان کے مسائل کی بات کرتا ہے، اسے کبھی غدار اور کبھی مہاجر قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر ”غدار“ کا الزام مناسب نہ لگے تو ”مہاجر“ کہہ کر اس کی حب الوطنی پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے مناسب نہیں۔
ان تمام معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کو سیاسی انداز میں چلانے کی ضرورت ہے، نہ کہ سوشل میڈیا کے چند یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز کے بیانیے کے مطابق۔ بلوچستان کے مسائل کا حل زمینی حقائق کو تسلیم کرنے، عوام کی آواز سننے اور سیاسی مکالمے کو فروغ دینے میں ہے۔
کسی بھی شخص کو ”مہاجر“ قرار دینے سے پہلے اس کے بارے میں مکمل تحقیق اور تصدیق ضروری ہے، ورنہ اس طرزِ عمل سے کل کسی بھی شخص پر بلاجواز ایسا الزام عائد کیا جا سکتا ہے۔
