بلاگ

میر رضا کیس – میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

woman Silhouette

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کا کیس ہر حساس دل کی آواز بن چکا ہے، ہر وقت اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے اس کے بہیمانہ قتل کے محرکات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں کوئی سرا ملے مگر ناکام ہی رہتے ہیں۔

کیس سے متعلق جو سندھ گورنمنٹ کی عدم دلچسپی اور پولیس کی بے مثال کارکردگی ہے اس کا علم سب کو ہے۔ مگر سلام ہے اس باپ پر جو میر رضا کے لیے 25 دن سے کھڑا ہے، اور اب تک جو بھی سراغ ملے ہیں، وہ ایک باپ کی انتھک محنت اور جد و جہد کے بعد سامنے آئے ہیں۔ ہم نے میر رضا کے قتل کی وجہ سے اس کے والد میر حسین علی کو جانا اور آج والد کے ذریعہ ہم رضا کو جان رہے ہیں۔ کمال کا انسان! جسے اپنے غم منانے، رونے، آہ و بکا کرنے کا بھی وقت نا ملا اور آج وہ تنہا کھڑا ہے انصاف کے لیے اس کرپٹ نظام کے آگے۔ اگر آج میر رضا کے والد کی جگہ کوئی اور ہوتا تو ہار مان لیتا، اس سسٹم کے آگے گھٹنے ٹیک لیتا۔ لیکن اس باپ کی جرات کو سلام ہے، یہ جس طرح ڈٹے ہوئے ہیں دل سے ان کے لیے دعا ہے، کہ ان کو ان کو انصاف ملے۔ والدین کے لیے تمام تر تفصیل تواتر سے بیان کرنا بہت مشکل ہو گا کہ کس قدر سفاکی کے ساتھ ان کے شہزادے پہ 12 گھنٹے تشدد ہوا اور پھر بے دردی سے قتل کیا گیا، تیزاب سے چہرہ اور ہاتھوں کو مسخ کیا اور خودکشی کا رنگ دے دیا گیا۔ جسے سندھ کے بعض بے حس لوگ اس سانحہ کو ڈرامہ قرار دے رہے تھے،

کراچی میں بسنے والے میر رضا علی کے گھرانے کی بے بسی کا عالم کیا ہو گا کہ انہیں اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے اپنے لاڈلے کی قبر کشائی کروانی پڑی، کیوں کہ مملکت پاکستان کا نظام یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ اسے قتل کیا گیا، اور اس کے بعد ڈی این اے کروا کے یہ بھی ثابت کروایا کہ 25 سالہ نوجوان ان کا اکلوتا چشم و چراغ ان کا جگر گوشہ رضا ہی تھا۔ کیوں کہ یہ لوگ ماننے کو تیار نہیں تھے، ادارے سوال کر رہے تھے۔ حیرت ہے کہ جن اداروں کا یہ تفتیش کرنا روز کا کام ہے، جو موقع واردات پہ جا کر آدھا کیس وہیں حل کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں، ان کو رضا کی حالت دیکھ کر تشدد نظر نہیں آیا۔ ہاں مگر پولیس نے واقعے کو خودکشی کا نام دے دیا۔ اور یہ جھوٹا بیانیہ دیا کہ جسم پر جلد ڈی کومپوزیشن کا عمل شروع ہو گیا۔ جن کو آدھی ادھوری سی سی ٹی وی کلپس ملیں، اور جو اس کی نجی زندگی کے معاملات اور مسائل کو سامنے لانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں مگر اس کیس کو حل کرنے، اصل مجرم اور حقائق سامنے لانے میں بری طرح ناکام ہیں، اچانک سے قتل کے 8 دن بعد گولی کا خول کا مل جانا کیس کو مزید متنازع بنا چکا ہے۔ یہاں ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ جو بیانیہ پولیس بنا کر پیش کر رہی ہے میڈیا پہ صرف اے آر وائے اسے نشر کر رہا ہے۔ گویا اس کی تصدیق کر رہا ہے۔

سوال صرف یہ نہیں کہ رضا کو کس نے قتل کیا۔ سوال یہ بھی ہے کہ پہلی نظر میں قتل کیوں دکھائی نہ دیا؟ اور پولیس نے تفتیش کرنے یا کرائم سین یونٹ کو بھیجنے کی بجائے خودکشی قرار دیا اور فوراً وہ کلپ آ گئی جہاں سے رضا اسلحہ اٹھاتا دکھائی دیا۔ اس کے بعد اب تک کوئی کلپ پولیس نے تلاش نہیں کی یا پھر پولیس کے پاس ساری کلپس موجود ہیں۔ بس میڈیا پہ ترمیم شدہ ویڈیو کلپ دکھائی جا رہی ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب یہ قتل تھا تو کیس ختم کرنے میں اس قدر عجلت کیوں دکھائی گئی؟ یہ سوال کسی ایک افسر یا ایک ادارے سے آگے کا ہے۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے، کہ آخر یہ سب کس کے حکم کس کے ایما پر ہو رہا ہے، کیوں شواہد مٹائے جا رہے ہیں۔ حقائق چھپائے جا رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ کوئی بہت بڑا گروہ یا مافیا اس کے پیچھے ہے۔ جس کو سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہے۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کی جانب سے ابتدائی پوسٹ مارٹم میں جن سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی، تو پھر سوال تو بنتا ہے پہلی رپورٹ میں اتنی بڑی غلطی کیسے ہوئی؟ اور اگر ایک خاندان نے اس رپورٹ کو تسلیم نہ کیا ہوتا تو کیا یہ سوالات کبھی سامنے آتے؟ کیا میر رضا کے خاندان کی داد رسی ہوتی؟ کبھی نہیں۔

ذرائع سے پتہ چلا کہ تقریباً رات ڈھائی بجے جوہر روانگی سے قبل رضا نے سارے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ کیے، تو کیا رضا کسی ایسے با اثر شخص سے ملنے جا رہا تھا جس سے اسے اپنے نجی ڈیٹا کے غلط استعمال کا خدشہ تھا؟ اور وہ مجبور تھا یا اسے کسی سنگین دھمکی کا سامنا تھا۔ یا ملاقات کے بعد تشدد کے دوران اکاؤنٹس ڈی ایکٹیویٹ کیے گئے، یا پھر بلانے والے شخص سے اس کے کاروباری یا پیشہ ورانہ مراسم تھے اور اس مہربان واقف کے پیچھے کوئی اور بڑا ہاتھ تھا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ بائکیا ڈرائیور احسان اللہ کے مطابق وہ پورے راستے مطمئن تھا۔ خوف کا کوئی عنصر نہیں تھا، اور میر رضا نے گانے سنتے ہوئے پورا سفر طے کیا۔

اب تک پولیس ادارے موبائل فون اور اسمارٹ واچ سے ڈیٹا حاصل نہیں کرپائے، لیکن یہ اس کے دوستوں اور پارٹنر کے فون سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ کم از کم معاملہ اگر بھتے کا تھا یا قرضہ کا، تو وافلکس کے شراکت دار احمد کو بھی اس کا علم ہو گا۔ مگر وہ تفصیلات بھی سامنے نہیں آئیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ رضا کے قتل کے بعد 31 جولائی کو اس کا آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ لاگن ہوا، جس کا پاسورڈ گھر میں بھی کسی کے پاس نہیں تھا۔ عین ممکن ہے تشدد کے دوران پہلے رضا سے پاسورڈ مانگ کر ثبوت مٹائے گئے ہوں۔ کیوں کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور وکیل جبران ناصر کے شکوک کے مطابق رضا کو پہلے مغوی بنا کر تشدد کیا، پھر قتل کر کے نرسری میں پھینک دیا۔ یاد رہے کہ یہ نکات ابھی مفروضے ہیں، مگر ایسے مفروضے جنہیں ٹیکنالوجی کے ذریعے جانچا جا سکتا ہے۔ اور اسی کے پیش نظر موبائل اور اسمارٹ واچ کو فرانزک جانچ کے لیے PFSA لاہور بھیج دیا گیا ہے۔

یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ چاہے وہ کروڑوں کا مقروض تھا یا وہ کرپٹو یا ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کرتا تھا، وہ کراچی کا بیٹا تھا، اس ملک کا شہری ایک نوجوان محنت کش تاجر تھا، اور کسی کو اس کو قتل کرنے کا حق حاصل نہیں، ہمارے ہاں وکٹم بلیمنگ بہت عام ہے کہ رات گئے کیوں گیا؟ والدین لا علم کیوں تھے؟ اتنی جلدی ترقی کیسے کرلی؟ ”کچھ تو کیا ہو گا۔“ لیکن یہ کوئی دلیل نہیں۔ ریاست نے اس نوجوان سے سانس لینے، خواب دیکھنے، نکاح کرنے کا حق چھین لیا مگر انصاف کرنے کا اختیار ابھی بھی اسی ریاست کے پاس ہے۔

میر رضا کے ساتھ صرف ایک معصوم زندگی ختم نہیں ہوئی۔ ایک خاندان کے خواب بھی ٹوٹ گئے۔ اس نوجوان کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب تھے، ایک چمک ایک امنگ تھی کچھ کر گزرنے کی، وہ خواب اس سے چھین لیے گئے۔ ابھی تو 30 اگست کو اس کا نکاح تھا، زندگی تو اب شروع ہوئی تھی، مگر جس عمر میں اسے مستقبل بنانا تھا، اسے زندگی سے ہی محروم کر دیا گیا۔ اس کا قصور صرف یہ تھا کہ کراچی جیسی لاوارث شہر کا باسی تھا، جہاں انسان کے خون کی قیمت کچھ بھی نہیں، اس کا قصور تھا کہ وہ پڑھے لکھے خاندان کا بیٹا تھا، ایک آئی بی اے گریجویٹ۔ جو خواب دیکھنے لگا تھا، کراچی میں رہ کے ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے لگا تھا۔ لیکن افسوس کہ ایک ماں کے خواب، ایک باپ کا کاندھا، بہن بھائیوں کی محبت، ان کا غرور ان کا سہارا ان کا کفیل۔ ایک گھر ایک لمحے میں اجڑ گیا۔

پولیس سے بس اتنی گزارش کہ اگر وہ غیر تربیت یافتہ اور اس قدر نا اہل ہیں تو مقتول کے والد میر حسین علی سے معلومات حاصل کریں، ان کے پاس شواہد بھی ہیں اور بہت سے سوالات بھی جس کا جواب دینا آپ کا کام ہے۔ وہ آپ سے زیادہ باخبر ہیں، گمشدگی کے بعد جائے وقوعہ پہ بھی وہ ہی اپنی بیٹی اور رضا کی والدہ کے ہمراہ تھے، کیوں کہ شاید انہیں بھی اپنے اداروں کی کارکردگی کا علم تھا۔ شکر کریں یا افسوس، اسے خوش قسمتی کہیں یا والدین کی بد قسمتی کہ وہ عین اس وقت پر جائے وقوعہ نرسری پہ پہنچ گئے، جب ایدھی کی ایمبولینس ان کے لخت جگر کو لاوارث کسی نشہ کرنے والی کے لاش سمجھ کر لے جا رہی تھی، اور اگر ایسا ہو جاتا تو وہ آج تک مسنگ پرسن میں رضا کو تلاش کر رہے ہوتے اور انہیں قتل کا علم ہوتا نا وہ اس طرح انصاف کا تقاضا کرتے۔

چوں کہ پولیس تحقیقات اور تفتیش کرنے میں بری طرح ناکام ہے اور اب جیو فینسنگ بھی ممکن نہیں، کوئی اشارہ نہیں مل رہا، اتنا وقت بیت گیا۔ عوام اور اہل خانہ بصد احتجاج ہیں، تو کیس کو ابتدا سے نہیں انتہا سے ٹٹولیں۔ اور جو جو عناصر اس میں ملوث ہیں ان سے تحقیقات کریں۔ سوال کریں ڈاکٹر اسامہ سے کہ محض تصاویر دیکھ کر غلط پوسٹ مارٹم رپورٹ پیش کیوں کی؟ بزنس پارٹنر احمد سے تفتیش جاری ہے مگر کچھ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ قرضے دینے والوں سے انکوائری اور ایس ایچ او فیروز آباد اور گلستان جوہر تھانہ جنہوں نے اسے خودکشی کا کیس ڈیکلیئر کیا، اور اہل خانہ پہ دوستوں پہ دباؤ ڈالا کہ گھر جاؤ یہ خودکشی کا معاملہ ہے، اور کوئی تفتیش ہی نہیں کی۔ سوال یہ بھی ہے کہ دوسرے پوسٹ مارٹم کے میڈیکل بورڈ میں سندھ سے ڈاکٹر کی خدمات لینے کی آخر کیا وجہ تھی؟ اور سب سے بڑھ کر جواں سالہ بیٹے کے ظالمانہ قتل کے بعد والد نے سوشل میڈیا پہ کھل کے بتایا کہ کوئی ہمارا مستقل تعاقب کر رہا ہے، کوئی ہماری نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ کیا پولیس ان کے پیچھے آنے والے عناصر کو تحویل میں لے کر انکوائری نہیں کر سکتی؟ کیا اس کے ذریعے قاتل یا اس گروہ تک پہنچنا ممکن نہیں؟ وہ باپ چیخ چیخ کر ایک ہی سوال کرتا ہے، ملال کرتا ہے کہ ہمیں کوئی بات نہیں بتائی جا رہی، کوئی تفصیل نہیں بتائی جا رہی۔ کس کو پکڑا کسی کو چھوڑا۔ کون سی کلپ کون سا ثبوت۔

وفاق، جو نظام پاکستان ہے، سے بھی اپیل ہے کہ کراچی کے بد ترین حالات پر نظر دوڑائیں، جہاں امریکہ ایران سعودی عرب ترکی یعنی جیو پالیٹکس پر داد وصول کر رہے ہیں، وہیں کراچی بلوچستان کشمیر کے مسائل پر بھی آواز اٹھائیں۔

میر رضا پر اس طرح وحشیانہ انداز میں تشدد کرنا کسی ذاتی چپقلش حسد یا رقابت کو بھی جنم دے سکتا ہے، یا پھر باقی تاجروں کے لیے کوئی کھلا پیغام بھی ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے پیچھے عام قاتل نہیں ہے۔ کیوں کہ جس طرح سے نقل و حرکت پر نظر رکھی گئی، ریکی کی گئی۔ جائے وقوعہ پر موٹر سائکل سوار اور سفید آلٹو کا بار بار دکھائی دینا اور پولیس موبائل کی موجودگی اور مشکوک سرگرمیاں۔ یہ سب غیر معمولی ہے۔

یاد رہے کہ جب جواب دینے والے خاموش ہوں، شواہد بکھرے ہوں، رپورٹیں ایک دوسرے سے سوال کرتی ہوں اور وقت گزرتا جائے، تو شک صرف قاتل پر نہیں رہتا، پورے نظام پر ہونے لگتا ہے۔ دعا ہے کہ اہلِ خانہ کو صبر بھی ملے اور انصاف بھی، اگرچہ اس جابر، ناقص اور بدعنوان نظام میں انصاف کی امید رکھنا بھی اب ایک خواب دکھائی دیتا ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW