کالم۔

الزبتھ پیکارڈ کی کہانی: پاگل کون؟ چوتھی قسط

dr khalid sohail

9۔ ڈاکٹر میک فارلینڈ کی بادشاہت

کہنے کو تو ڈاکٹر اینڈریو میک فارلینڈ جیکسن ول پاگل خانے کے ایک ماہر نفسیات تھے لیکن ان کے رویے سے یوں لگتا تھا جیسے وہ ہسپتال ان کی ملکیت ہو ’مریض ان کی رعایا ہوں اور وہ ان کے بادشاہ۔ ان کی شخصیت میں حاکمیت تھی رعب تھا جلال تھا۔ کسی نرس یا کسی مریض کی کیا مجال کہ ان کی حکم عدولی کرے۔

الزبتھ پیکارڈ کا ڈاکٹر میک فارلینڈ سے جب دوسرا انٹرویو ہوا تو اس وقت تک الزبتھ پیکارڈ ہسپتال کے روزمرہ سے واقف ہو چکی تھیں اور انہوں نے کافی تیاری کر لی تھی کہ وہ ڈاکٹر میک فارلینڈ کو یہ ثابت کر سکیں کہ وہ معصوم اور صحتمند ہیں پاگل نہیں ہیں۔

ڈاکٹر میک فارلینڈ نے انٹرویو شروع کرتے ہوئے کہا

’ نرسوں نے مجھے بتایا ہے کہ آپ ہسپتال کی روٹین کی پیروی کر رہی ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے لیکن ابھی تک آپ کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جو ایک تشویشناک بات ہے۔ ‘

الزبتھ پیکارڈ نے ڈاکٹر میک فارلینڈ کی شکایت کا جواب دیتے ہوئے کہا

’ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کسی مذہبی مسئلے پر شوہر سے اختلاف الرائے کرنا کیسے کسی ذہنی بیماری کی نشانی بن سکتا ہے؟ اختلاف الرائے کرنا تو ہر شخص کا انسانی حق ہے۔ ‘

ڈاکٹر میک فارلینڈ نے اپنے روایتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا

’ عورت کے دماغ نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی اور اس کا ابھی اتنا ارتقا نہیں ہوا کہ وہ مذہبی مسائل کے گمبھیر‘ پیچیدہ اور تجریدی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کر سکے۔ جب کوئی عورت ان دقیق مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کرتی ہے تو اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتی ہے اور اخلاقی دیوانگی (مورل ان سینیٹی) کا شکار ہو جاتی ہے۔ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ اسی نے آپ کو یہاں تک پہنچا دیا ہے۔ ’

الزبتھ پیکارڈ کو اندازہ ہو گیا کہ ڈاکٹر میک فارلینڈ عورت کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے ہیں اور عورت کی عقل کو مرد کی عقل سے کمتر جانتے ہیں۔

الزبتھ پیکارڈ ڈاکٹر میک فارلینڈ کے رویے سے مایوس ہو کر خاموش ہو گئیں اور اپنے وارڈ نمبر 7 میں واپس چلی گئیں۔

ڈاکٹر میک فارلینڈ الزبتھ پیکارڈ کے باغی رویے اور آزادانہ سوچ سے اتنے نالاں تھے کہ انہوں نے حکم دے رکھا تھا کہ الزبتھ پیکارڈ کو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو نہ خط بھیجنے کی اور نہ ان سے خط وصول کرنے کی اجازت تھی۔ ڈاکٹر میک فارلینڈ نہیں چاہتے تھے کہ الزبتھ پیکارڈ کے شر انگیز خیالات عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کریں اور ان کے باغیانہ نظریات لوگوں کو گمراہ کریں۔

پاگل خانے کے وارڈ نمبر 7 کی نرسوں نے الزبتھ پیکارڈ کو حکم دیا کہ وہ ڈاکٹر میک فارلینڈ کے لیکچرز سنا کریں تا کہ وہ ایک فرماں بردار بیوی اور تابع فرماں عورت بن سکیں کیونکہ ایسی سوچ ذہنی صحت کی آئینہ دار سمجھی جاتی تھی۔

ڈاکٹر میک فارلینڈ باغی سوچ رکھنے والی عورتوں کا علاج کرتے تھے اور ان کے خیالات و نظریات کو بدلنے کی کوشش کرتے تھے تا کہ وہ روایتی سوچ اپنا کر روایتی زندگی گزارنا شروع کر دیں۔ پاگل خانے کی عورتوں پر ذہنی دباؤ ڈالا جاتا تھا تا کہ وہ اپنی سوچ بدلیں۔

اپنے تیسرے انٹرویو میں ڈاکٹر میک فارلینڈ نے الزبتھ پیکارڈ سے کہا
’ آپ کو چاہیے تھا کہ آپ اپنے شوہر کی مدد کریں لیکن آپ نے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی۔‘
الزبتھ پیکارڈ نے اس مشورے کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا اور خاموش رہیں۔

الزبتھ پیکارڈ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ پاگل خانہ عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم کر رہا تھا اور ان پر ہر طرح کا دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ

روایتی سوچ اور طرز زندگی اپنا لیں
مردوں کے احکام کے آگے گھٹنے ٹیک دیں
اور
اپنے حقوق سے خود ہی دست بردار ہو جائیں۔

الزبتھ پیکارڈ کو پاگل خانے کی زندگی کے ایک ماہ میں ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کی جنگ صرف ڈاکٹر میک فارلینڈ سے ہی نہیں ایسے پورے نظام سے ہے جو عورتوں کے بارے میں متعصب ہے لیکن اس نظام نے ڈاکٹروں اور نرسوں کو پیشہ ورانہ اور قانونی اختیار دے رکھا ہے کہ وہ عورتوں کو اتنا دبا کر رکھیں کہ وہ نا انصافیوں کے خلاف اور اپنے حق میں احتجاج نہ کر سکیں۔

10۔ خفیہ ڈائری

ایک ہی ماہ میں الزبتھ پیکارڈ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ پاگل خانہ ایک جیل ہے اور مریض قیدی۔
ان قیدیوں کو نرسوں نے ایک خاص روزمرہ کی ٹریننگ دے رکھی تھی کہ وہ سب ایک خاص وقت پر
علی الصبح اٹھیں
عبادت کریں
ناشتہ کریں
دن بھر نرسوں کے احکام مانیں
اور رات کو جلد سو جائیں۔

مریضوں کی آزادی افکار و گفتار و کردار پر بیسیوں پابندیاں عاید کر دی گئی تھیں اور ان کی چھوٹی چھوٹی آزادیاں سلب کر لی گئی تھیں۔

الزبتھ پیکارڈ نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک خفیہ ڈائری رکھیں گی جس میں وہ اپنے تجربات اور مشاہدات رقم کر سکیں۔

الزبتھ پیکارڈ نے نرسوں سے کہا کہ وہ ان کی رپورٹ لکھنے میں ان کی مدد کرنا چاہتی ہیں۔ نرسیں اس بات سے متاثر ہوئیں اور انہیں مختلف رپورٹس لکھنے کے لیے قلم اور کاغذ دے دیے۔ نرسوں کی مدد کرنا ایک بہانہ تھا۔ درپردہ الزبتھ پیکارڈ نرسوں سے کاغذ اور قلم چرانا چاہتی تھیں تا کہ وہ اپنی خفیہ ڈائری لکھ سکیں۔

نرسوں کی نگاہوں اور ان کی گرفت سے بچنے کے لیے الزبتھ پیکارڈ نے اندھیرے میں لکھنا سیکھ لیا۔ الزبتھ پیکارڈ نہیں چاہتی تھیں کہ نرسوں کو شک ہو کہ وہ ڈائری لکھ رہی ہیں۔ الزبتھ پیکارڈ نے ڈائری چھپانے کے لیے کئی جگہیں تلاش کر لی تھیں تا کہ اگر ایک جگہ کی ڈائری پکڑی بھی جائے تو باقی جگہوں کی ڈائری بچ جائے۔

اپنی خفیہ ڈائری میں الزبتھ پیکارڈ نے پہلے روزمرہ کے واقعات اور معلومات درج کیں اور پھر مختلف مریضوں کی کہانیاں رقم کیں۔

OCTOBER 15 TH، 1860 کی ڈائری میں لکھتی ہیں

مسز شیڈ نے جب مریضوں کے جارحانہ طرز عمل پر اعتراض کیا تو انہیں ٹھنڈے پانی کے ٹب میں پھینکا گیا۔ نرسوں نے علاج کے نام پر انہیں سزا دی۔

الزبتھ پیکارڈ کو اندازہ تھا کہ ان کی ڈائری کے اوراق میں جن خیالات و نظریات کا اظہار کیا گیا ہے وہ باغیانہ ہیں۔ اگر نرسوں نے ڈائری کے اوراق پڑھ لیے تو نہ صرف ڈائری ضبط ہو جائے گی بلکہ انہیں بھی کڑوا سچ لکھنے پر سزا ملے گی۔

ان خطرات کے باوجود الزبتھ پیکارڈ اپنی خفیہ ڈائری لکھتی رہیں اور اپنی ڈائری کے صفحات مختلف جگہوں پر چھپاتی رہیں۔

ڈائری لکھنے اور مریضاؤں کی کہانیاں رقم کرنے نے الزبتھ پیکارڈ کی قید کی زندگی کو بامعنی بنا دیا تھا۔ اس عمل سے ان کی ذہنی صحت بھی بحال ہو گئی تھی۔

الزبتھ پیکارڈ نے دھیرے دھیرے اس پاگل خانے میں چند ہم خیال مریضاؤں کا ایک گروپ بنا لیا تھا۔ وہ خواتین ایک دوسرے کی ہمدرد سہیلیاں بن گئی تھیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے لگی تھیں۔

جب ان عورتوں نے ایک دوسرے کو اپنی کہانیاں سنائیں تو انہیں اندازہ ہوا کہ وہ پاگل نہیں ہیں بلکہ مظلوم و مجبور و مقہور عورتیں ہیں۔ انہیں اس لیے پاگل خانے بھیجا گیا تھا کیونکہ انہوں نے طاقتور مردوں کی حاکمیت کو چیلنج کیا تھا۔ ظلم کے خلاف احتجاج کیا تھا لیکن اب وہ اس احتجاج کی بھاری قیمت ادا کر رہی تھیں۔

الزبتھ پیکارڈ نے اپنی نئی سہیلیوں سے کہا

ہم مل کر اس ظلم اس جبر اور اس استحصال کا مقابلہ کریں گی۔ اگر ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں تو ہم اس قید سے رہائی پا سکتی ہیں۔ ہمیں اس دن کا خواب دیکھنا چاہیے جس دن ہم اس قید سے آزاد ہوں گی اور ایک آزادانہ زندگی گزار سکیں گی۔

جب وارڈ نمبر 7 کی نرسوں کو اندازہ ہو گیا کہ الزبتھ پیکارڈ نے مریضاؤں کا ایک گروپ بنا لیا ہے جو ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں تو انہوں نے ڈاکٹر میک فارلینڈ سے الزبتھ پیکارڈ کی شکایت کی۔

شکایت سننے کے بعد ڈاکٹر میک فارلینڈ نے الزبتھ پیکارڈ کے ساتھ ایک خصوصی میٹنگ کا اہتمام کیا اور انہیں کہا

’ پہلے تم ہسپتال کے باہر شر پھیلاتی تھیں اب تم نے وہی شر ہسپتال کے اندر پھیلانا اور سادہ لوح عورتوں کو گمراہ کرنا شروع کر دیا ہے‘ ۔

الزبتھ پیکارڈ نے بڑے احترام سے کہا

’ یہاں بہت سی عورتیں دکھی ہیں۔ جب وہ مجھے اپنی کہانی سناتی ہیں تو ان کے ذہن کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے اس سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا تو آپ کو کیا اعتراض ہے۔ ‘

الزبتھ پیکارڈ کی کوششیں رنگ لائیں اور وہی عورتوں جو اداسی اور بے یقینی کی اتھاہ گہرائیوں تک پہنچ گئی تھیں الزبتھ پیکارڈ کے مکالمے اور مشورے سے بہتر ہو گئیں کیونکہ ان کی آنکھوں میں آزادی کے خواب لوٹ آئے۔

الزبتھ پیکارڈ نے لانڈری میں کام کرنے والیوں سے دوستی کر لی اور انہیں باہر کی دنیا سے پیغام رسانی کا ذریعہ بنا لیا۔ انہوں نے اپنے ہمدردوں کے نام ایک پیغام بھیجا۔

’الزبتھ پیکارڈ کو اس کی مرضی کے بغیر اس پاگل خانے میں داخل کروایا گیا ہے کیونکہ اس نے اپنے روایتی پادری شوہر کو چیلنج کیا تھا۔ اب اسے اس کی سزا مل رہی ہے۔ الزبتھ پیکارڈ کو رہا ہونے کے لیے قانونی مدد کی اشد ضرورت ہے۔ ‘

اگلی ملاقات میں ڈاکٹر میک فارلینڈ نے الزبتھ پیکارڈ کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے دیگر عورتوں کو ہسپتال کی انتظامیہ کے خلاف ورغلانہ نہ چھوڑا تو ان پر مزید شدید پابندیاں عاید کی جائیں گی۔

DECEMBER 1860 میں الزبتھ پیکارڈ نے اپنی ڈائری میں لکھا

’ ڈاکٹر میک فارلینڈ نے مجھے دھمکی دی ہے کہ اگر میں فرماں بردار مریضہ بن کر نہ رہی تو مجھے سزا دی جائے گی۔‘

(جاری ہے )

Facebook Comments Box

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔
Subscribe
Notify of
guest
3 Comments
نعیم اشرف
نعیم اشرف
4 days ago

The story is becoming interesting. Great work.

عبداالمجید
عبداالمجید
4 days ago

بہت خوب ۔ اگلی قسط کا انتظار رہے گا۔

ڈاکٹر قمر الدین نظامی
ڈاکٹر نظامی
2 hours ago

بہت دلچسپ کہانی ہے جو انسانی ذہن کی ارتقاع کی کہانی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ انیسوی صدی میں بھی ماہر نفسیات نے عورتوں کو حقوق دنے سے انکار کیا۔

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW