پھول بی بی کی بیٹی نے گھر نہیں بسایا

یہ کہانی ہے فاطمہ بی بی کی جو ایک رفاہی ادارے میں کیفے ٹیریا کی انچارج ہے اور اس ناتے کیفے ٹیریا میں آنے والوں کا بہت خوشدلی سے استقبال کرتی ہے۔ لیکن بظاہر اس کا ہنستا مسکراتا چہرہ اس درد کی چغلی کھاتا ہے جسے وہ بڑے سلیقے سے چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ اڑتیس سالہ، خوش شکل طلاق یافتہ، پانچ بچوں کی خود دار ماں، جن کو اس نے سخت محنت سے تنہا پالا۔ فاطمہ کو پتہ تھا کہ میں لوگوں کی دکھڑے سنتی ہی نہیں لکھتی بھی ہوں۔ خود مجھے بھی اس کی زندگی کی کہانی سے دلچسپی تھی اور کچھ وہ بھی اپنی کتھا سنانا چاہ رہی تھی۔ مگر اپنی نوکری کی مصروفیت کے دوران یکسوئی کہاں۔ بہرحال ایک سہ پہر اسے مہلت مل گئی۔ کیفے ٹیریا میں طلبا کے رش سے دور، میرے پرسکون کمرے میں جو اس ادارے میں میری عارضی رہائش گاہ تھی۔ اپنے ہانپتے کانپتے فربہ جسم کے ساتھ زینہ چڑھ کے وہ میرے کمرے میں آئی اور بغیر وقت ضائع کیے اپنی زندگی کی کہانی بیان کرنا شروع کی جو میں کم و بیش اس کی زبان میں ہی رقم کر رہی ہوں۔
”میری والدہ اور والد کا تعلق مانسہرہ کے پی سے ہے۔ ابو نیوی میں تھے۔ امی گھریلو اور بالکل بھی پڑھی لکھی نہ تھیں۔ میں چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی اولاد۔ امی ابو بہت خوبصورت تھے۔ ابو کو تو امی اتنی اچھی لگتی تھیں کہ اگر کبھی ناراض ہوجائیں تو وہ دن ابو کے لیے قیامت کا ہوتا تھا۔ امی کی کوئی بات بھی رد کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ ہمارے لیے بھی، غلط ہو یا صحیح، والدین کی حکم عدولی کی گنجائش نہیں تھی۔ ابو اپنے والدین کی واحد اولاد تھے۔ دادا کی وفات بہت جلد ہو گئی تھی۔ دادی نے پالا۔ اس طرح پاٹ دار تحکم مزاج عورت کا کردار ان کی زندگی میں اہم تھا۔
میری ابتدائی تعلیم نیوی کے اسکول اور پھر کالج میں ہوئی۔ ہم چار بہنیں اور دو بھائی تھے۔ گو امی مزاجاً بہت سخت تھیں مگر ابو بہت مزاحیہ، اور دھیمے مزاج کے، خصوصاً بیٹیوں کے لیے بڑے نرم دل تھے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ مجھے معدے کا السر ہو گیا تو ابو نے کافی عرصے میرے ساتھ ابلی ہوئی سادہ سبزیاں ہی کھائیں۔ یہ ابو ہی تھے جنہوں نے مجھے آٹا گوندھنا سکھایا۔ وہ خاص کر بیٹیوں سے بہت مزیدار گفتگو کرتے تھے۔ پھر جب رشتوں کی باری آئی میری امی نے میری منگنی اپنی سگی بہن کے انگوٹھا چھاپ بیٹے سے کر دی۔ وہ لوگ گجرانوالہ میں اور ہم ہمیشہ کراچی میں رہے تھے۔ پھر جانے کیسے بہنوں میں کسی بات پہ جھگڑا ہو گیا تو امی نے غصے میں منگنی توڑ دی۔ اس کے بعد امی ابو نے میرا رشتہ ماسٹرز کی سطح پہ پڑھے لڑکے سے طے کر دیا۔ جو اکنامکس میں ایم اے اور لانڈھی کے ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹیچر تھا۔ میں نے بھی ایک نظر اسے دیکھا۔ اچھا خوبصورت تھا۔ پسند نہ پسند کا سوال ہی کیا تھا۔ مجھ سے نہ کسی نے انگوٹھا چھاپ کے لیے پوچھا تھا نہ ایم اے پاس کے لیے۔ امی کے آگے میری رائے بھلا اہمیت بھی کیا رکھتی تھی۔ ویسے بھی عادات کا تو بعد میں ہی پتہ چلتا ہے۔ میرا شوہر مجھ سے دس سال بڑا تھا۔ ہماری طرح ملک کے شمالی حصے سے تعلق تھا۔ لیکن میں کراچی کی فضا میں پلی بڑھی اور اس کی پیدائش اور ابتدائی تربیت اور تعلیم وہاں کے گاؤں میں ہوئی۔ منگنی کے چھ ماہ بعد ہی 2001 ء میں ہماری شادی ہو گئی۔ اس کی جانب سے صرف ماموں ممانی ہی آئے تھے۔
شادی کے بعد میں نے دیکھا کہ اس کے گھر میں اس کے آبائی شمالی علاقے سے آ کر پڑھنے والے گیارہ لڑکے پہلے ہی رہ رہے تھے۔ ان کو وہ پڑھاتا تھا۔ میری ذمہ داری سبھوں کے لیے کھانا پکانا اور گھر کی دیکھ بھال تھی۔ وہ لڑکے سب ایک مختلف زبان بولتے تھے۔ جو میں نہیں جانتی تھی۔ اکثر میری الٹی سیدھی شکایات بھی لگاتے رہتے۔ وہ غصہ کا تیز اور کان کا کچا تھا۔ جس کی وجہ سے ہمارے درمیان جھگڑے ہونے لگے۔ وہ میرے ساتھ بدسلوکی کرتا مجھے بہت مارتا۔ اکثر میرے جسم پہ مار کے نشانات بنے رہتے۔ ایک دن تو غصہ میں آ کر اس نے میرے جہیز کا سامان بھی توڑ دیا۔ خیر انہی حالات میں، میں حاملہ ہو گئی۔ تیسرے مہینے کلینک گئی تو پتہ چلا جڑواں اولادیں ہیں۔ میں نے ماں سے کہا کہ میں اس کے ساتھ نہیں رہوں گی، تو ان کا کہنا تھا۔
”گھر تو بسائے رکھنا ہے۔ ورنہ لوگ کہیں گے پھول بی بی کی بیٹی نے گھر نہیں بسایا۔“ میں چپ ہو گئی کہ ہاں واقعی گھر تو بسائے رکھنا ہے۔
اگست 2003 ء میں بچے کی پیدائش متوقع تھی۔ امی جو تھوڑے فاصلے پہ رہتیں تھیں، مجھے دائیوں کو دکھاتی رہیں۔ پھر نویں مہینے کسی اور عورت کے کارڈ پہ سوشل سیکیورٹی کے ہسپتال لے گئیں۔ جہاں علاج مفت تھا۔ میرا بلڈ پریشر ہائی اور پاؤں سوجے رہتے تھے۔ ڈاکٹر نے میرا بی پی چیک کیا تو کہا ”ہم تو اس کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے۔ پہلے اس کے شوہر کو بلائیں۔“ اس وقت میرا شوہر چھٹیوں میں اپنے گاؤں گیا ہوا تھا۔ ڈاکٹر کے بلاوے پہ وہ واپس آیا۔ پہلے تو سرجن نے میرے شوہر اور میری ماں کو بہت باتیں سنائیں۔ کہ کہیں پہلے سے اس کا نام کیوں نہیں لکھوایا؟ اس کے تو پاؤں میں چپل تک نہیں فٹ آ رہی۔ بی پی بہت شوٹ کر گیا ہے۔ پھر وہاں کے ڈاکٹرز نے ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوئے طے کیا کہ ”یہ سیکھنے کا عمل ہے اگر کیس ہینڈل ہوا تو ٹھیک ورنہ جناح ہسپتال بھیج دیں گے۔“ مجھے دوا دے کر کریٹیکل کئیر (انتہائی نگہداشت) کے کمرے میں بھیج دیا۔ جہاں میرے کپڑے بدل کے پیشاب کی نلکی لگانے کو کہا گیا۔ مگر درد زہ بہت شدید تھا۔ ابھی نرس نلکی لگا ہی رہی تھی کہ ایک بچی پیدا ہو گئی۔ پھر تھوڑی دیر میں دوسری بیٹی کی بھی پیدائش ہو گئی۔
جب شوہر کو پتہ چلا کہ دونوں بیٹیاں ہیں تو دیکھنے ہی نہیں آیا۔ ادھر اس کے گھر یعنی میرے سسرال سے فون بھی آیا کہ ”وہاں تو بیٹا پسند ہے۔“ جب میرا شوہر آیا تو اس کی میری امی سے تو تو میں میں ہو گئی۔ امی نے غصے میں کہا ”تم نے بیٹیاں ڈالیں تو بیٹیاں آئیں۔“ مگر وہ جتنا بھی لڑے، ماں کو تو میرا گھر بسائے رکھنا تھا چاہے کچھ بھی ہو جائے۔
وہ بچیوں کی پیدائش پہ مجھ سے خفا تھا۔ خیر تین ماہ بعد وہ پہلی بار میرے کمرے میں آیا۔ اب اس کا موڈ کچھ بہتر ہو گیا تھا۔ مگر بچیوں کے لیے وہ کچھ نہ کیا جو باپ کرتے ہیں مگر میں ایک بار پھر حاملہ ہو گئی۔
نومبر کے مہینے میں برف باری کی وجہ سے اس کے رشتہ دار ہمارے گھر رہنے آتے تھے۔
جب میری بیٹیاں چھ ماہ کی تھیں تو ایک دن رات دس بجے میرے دیور کے ساتھ ایک عورت آئی۔ جس کا مجھ سے یہ کہہ کر تعارف کروایا گیا کہ ”یہ میری پہلی بیوی ہے۔“ وہ رات میرے لیے قیامت کی تھی۔ میں انیس سال کی عمر میں بھی اتنی سمجھدار نہ تھی۔ کالج میں پڑھا ضرور مگر ماں نے دنیا والوں سے ڈرایا ہوا تھا لہذا گھر سے کالج اور کالج سے گھر۔ بس یہیں پہ میری دنیا ختم تھی۔ روتی پیٹتی رہی مگر امی ابو کے گھر جاتی بھی کیسے وہ لوگ اب لانڈھی منتقل ہو گئے تھے۔ جب امی کو پتا چلا تو ان کا ردعمل یہ تھا، ”سوکن تمھارے نصیب میں تھی۔ شکر کرو بعد میں نہیں کی۔“ یوں انہوں نے چپ کروا دیا۔ میں اپنی سوکن اور شوہر کے ساتھ ایک کمرے میں سات آٹھ ماہ رہی۔ پھر میں دوبارہ حاملہ ہو گئی۔ میرے شوہر نے کہا بیٹا ہوا تو میرے گھر کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور اگر نہیں تو ماں کے گھر چلی جانا۔
دونوں بیٹیاں میری بہنوں کے ساتھ ہوتیں جو انُکے ساتھ گڑیوں کی طرح کھیلتی رہتیں۔ میری بہنوں کی عمریں پندرہ، تیرہ اور نو سال کی تھیں۔
شوہر کی اس دھمکی پہ میری ماں نے پوری پوری رات جانماز میں دعائیں مانگیں کہ بیٹا ہو۔ کوئی یہ نہ کہے کہ پھول بی بی کی بیٹی کا گھر نہ بسا۔ امی ابو کو سماج کا ڈر تھا جو طلاق یافتہ بیٹی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
دسمبر کی سردیاں تھیں۔ میں درد میں بے حال بالآخر چار بجے رات کو میرا بیٹا پیدا ہوا۔ بہن ہسپتال میں میرے ساتھ تھی۔ دیور کا فون آیا تو اس کو بتایا گیا کہ بیٹا ہوا ہے۔ جس پر شوہر بے یقینی کے عالم میں ہسپتال آیا۔ سب سے پہلے تو بچے کو چیک کیا۔ پھر یقین ہونے کے کے بعد بیٹے کے کان میں اذان دی۔ میری ماں کی خوشیوں کی تو انتہا نہیں تھی ”بیٹا ہو گیا۔ بیٹی کا گھر بسا رہے گا۔“
پھر زندگی چلتی رہی اور اس دوران ایک بیٹا اور ہو گیا۔ اس دوران گلگت سے شوہر کے رشتہ دار طالب علموں کے بیچ آتے اور جاتے رہے۔ ان کے ٹائم ٹیبل کے حساب سے ہمارا گھر چلتا رہا۔ سوکن تین سال رہ کے چلی گئی۔ نند اور دیور جن کی وٹے سٹے کی شادی ہوئی تھی ان کا بھی آنا جانا لگا رہا۔ میں اپنا نصیب سوچ کے اس ماحول کی عادی ہو گئی تھی۔ پانچویں بچے کی پیدائش کے بعد میرا شوہر مجھے گلگت کے قریب اپنے گاؤں لے گیا۔ گاؤں سے ہمارے یہاں آ کر پڑھنے والے لڑکوں نے ادھار پہ کھانا کھا کر اپنے پہ قرض چڑھا لیا تھا۔ کچھ اس کی جھنجھلاہٹ رہی ہو گی پھر جب گاؤں پہنچی تو مجھے پتا چلا کہ میں تو پھر حاملہ ہو گئی۔ اب شوہر کی گالم گلوچ بڑھ گئی تھی۔ گاؤں میں پہاڑ پہ بنے پتھر کے گھر اور اس میں رہنے والی میری نندوں کا میرا مذاق اڑانا کہ کھانے کو تو ہے نہیں بچے پیدا کر رہی ہے۔ یہ سب میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ میں خوفزدہ اجنبی کی طرح رہتی۔ بھوک لگتی تو سب لوگوں سے چھپ کے کھانا کھاتی تھی۔
سردیوں کے زمانہ میں حاملیت، ایسے میں ایک دن شوہر مجھے بچوں کے ساتھ چھوڑ کے بھاگ گیا۔ میں جس کمرے میں سوتی وہ بہت ٹھنڈا تھا۔ جہاں مجھے ہر تھوڑی دیر بعد پیشاب آتا۔ مجھے کوئی ہسپتال نہیں لے کے گیا تھا۔ ایسے میں مجھے بلیڈنگ شروع ہو گئی۔ ساس اپنی زبان میں جانے کیا کچھ کہتی رہیں یہ سوچ کہ مجھے ان کی زبان سمجھ نہیں آتی۔ ان کے گھر آنے والوں میں ایک دور پرے کا رشتہ دار بھی تھا۔ جو نرم دل تھا۔ اور خاموشی سے سسرال کے مجھ پہ ہونے والے ظلم و ستم دیکھ رہا تھا۔ خود اس کی بیوی حاملہ حالت میں انتقال کر گئی تھی۔ وہ اس قسم کے دکھ کو جھیل چکا تھا۔ اس نے میرے شوہر کو فون کیا کہ یہاں آ جاؤ۔ اور مجھے ڈھائی ہزار روپے دیے اور کہا ”ہسپتال جاؤ۔ اور اپنا علاج کرواؤ۔“ اس طرح میں گاؤں سے گلگت شہر آ گئی۔ جاتے وقت ساس نے میرے چار بچے بھی ساتھ کر دیے۔ اور کہا ”اب وہیں رہنا۔“ جب ہسپتال پہنچی مجھے دیکھ کر ہسپتال کی ڈاکٹر نے خوب سنائیں۔ میرے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ ایک بار پھر بیٹی ہوئی تو میاں کا منہ بن گیا۔ نومولود بچی کے لیے کپڑے تک نہیں تھے۔ ستائیس دسمبر کی رات، گلگت شہر کی سخت سردی جو بدن کو کاٹتی ہے۔ میری بیٹی پیدا ہوئی۔ پھر کہیں سے مانگ کے بچی کو کپڑے پہنائے۔ میں سخت کانپ رہی تھی۔ اگلے دن میری چھٹی کردی گئی۔ میرا شوہر مجھے اپنے ایک دوست کے گھر لے گیا۔ میری ننھی بچی بھوک سے روئے جا رہی تھی میں خود دو تین دن کی بھوکی، اسے دودھ پلاؤں تو مگر دودھ وہ کیسے اترے۔ پھر دو دن بعد اس نے ایک چھوٹا سا کمرہ لیا۔ اس سردی میں کمرہ گرم کرنے کے لیے لکڑیاں جلانے کے لیے پیسے بھی نہیں تھے۔ میرا دودھ نہیں اترتا تھا لہذا دوست کی بیوی نے تین ماہ تک اس وقت تک اپنا دودھ پلایا جب تک میرا اپنا نہیں اترا۔
شادی کے دس سال میں میرے پانچ بچے ہو چکے تھے۔ میں نے دل میں قسم کھائی کہ مر جاؤں گی مگر بچے نہیں پیدا کروں گی۔ جب چھوٹی بیٹی آٹھ ماہ کی ہو گئی تھی۔ تو میں نے وہیں کے مقامی اسکول میں پانچ ہزار مہینے پہ پڑھانا شروع کر دیا۔ کراچی کے لوگوں کی اردو وہاں کے لوگوں کی نسبت بہت اچھی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے بہت قدر کی جاتی ہے۔
اب میرے شوہر کی کزنز بھی پڑھنے آنے لگیں۔ تو آمدنی کا کچھ سہارا ہوا۔
اس بچی کو میں نے ایسے پالا کہ ایک دن ایک بیٹی کی چھٹی کراتی تو دوسرے دن دوسری کی۔ جبکہ میرا شوہر باہر ”لوفری“ کرتا رہتا۔
تین سال گزر گئے تو امی کو خیال آیا کہ ان کی ایک بڑی بیٹی بھی ہے۔ کسی طرح امی نے مجھ سے رابطہ کیا۔ اور اس طرح بھولی بسری بیٹی اپنے پانچوں بچوں کے ساتھ میکے گئی۔ میں کمزور اور میری سرخ و سفید رنگت کالی ہو چکی تھی۔ میں اتنی بدل چکی تھی کہ میرے بھائی نے تو مجھے پہچانا ہی نہیں۔
میں نے چھوٹی بہن کی شادی کے لیے ماں کو اپنی جمع شدہ کمائی سے دس ہزار روپے بھی دیے۔ میری حالت کو دیکھ دیکھ کر ابو کو فالج ہو گیا۔ 2016 ء میں ان کی وفات ہو گئی۔
بھائیوں کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ امی بار بار مجھے جتاتیں کہ ”یہ میری بہوؤں کا گھر ہے۔“ حالانکہ آنے کے بعد میں فارغ نہیں بیٹھی۔ قریبی اسکول میں پڑھاتی رہی۔
اس دوران میرا ”لوفر“ شوہر بھی آ گیا اس کو کوئی بیماری لگ گئی تھی۔ منہ سے لے کر پیٹ تک چھالے ہی چھالے ہو گئے تھے۔ اس کے علاج کے لیے میں نے پرنسپل سے بجائے مہینے کی تنخواہ لینے کے یومیہ پیسے لینے شروع کر دیے، جس سے روزانہ اس کی دوا لیتی، اس کے لیے گوشت خریدتی تاکہ وہ اچھا کھانا کھائے اور جلد ٹھیک ہو جائے۔
ابھی تک بچوں کو کسی اسکول میں داخل نہیں کیا تھا۔ میں نے پرنسپل سے کہا ایک سال سے میرے بچے اسکول نہیں گئے۔ میں چاہتی ہوں وہ اسکول میں داخل ہوجائیں۔ اس طرح بچوں کا داخلہ ہو گیا۔
جلد ہی میری ملازمت بطور ایڈمن اسکول کے وائس پرنسپل کے طور پہ ہو گئی۔ اسکول کی ماسی چھوٹے بچے کو سنبھالتی۔ بلکہ وہ کیا اللہ ہی دیکھتا۔ میرے بچے اسکول میں ٹاپ کرنے لگے۔ شوہر کا علاج چل رہا تھا۔ پھر وہ ٹھیک ہو گیا۔
بڑے بیٹے کو ایک اچھے انگریزی اسکول میں داخلے کا ٹسٹ دلوایا۔ وہ پاس ہو گیا تو ایک ٹرسٹ کے عطیہ سے اس کی تعلیم کا خرچہ پورا ہونے لگا۔ وہاں کی تعلیم اچھی اور معیاری تھی۔ بیٹے نے آسٹریلیا بورڈ کا امتحان پاس کیا۔ اس کی پڑھائی اچھی جا رہی تھی۔ دوسرے بچے بھی محنت سے پڑھ رہے تھے۔
میرے شوہر نے دو سال اسکول میں فزکس اور حساب پڑھائی مگر اس کی عادتیں خراب تھیں۔ میری کمائی کی وجہ بھی ہو گی کہ ذمہ داری کا احساس بالکل ہی مر چکا تھا۔ کمائی کے بغیر قرضوں پہ قرضے لے رہا تھا۔ اور جب قرض خواہ آتے تو میری بچیوں کو آگے کر دیتا۔ جو اب جوان اور خوبصورت تھیں۔ گھر سے باہر نکل کے کام کرنے سے مجھ میں اعتماد اور حوصلہ پیدا ہو گیا تھا۔ پانی سر سے اونچا تو پہلے ہی تھا لیکن اب صورتحال ناقابل برداشت ہو چکی تھی۔ حالانکہ میں بچوں کو کبھی باپ کے آگے بولنے نہیں دیتی تھی۔ لیکن آخر ایسا بے غیرت باپ کب تک برداشت کرتی۔ ایک دن میں اپنا کیس لے کر فیملی کورٹ میں چلی گئی۔ جس پر میری ماں نے ایک بار پھر پنگا لیا کہ ”اب تو تمھارے بال سفید ہو گئے ہیں۔ اب کیا ضرورت ہے طلاق کا دھبہ لگانے کی؟“
ان کو شاید اس بات کی پرواہ ہو گی کہ لوگ کہیں گے کہ ”پھول بی بی کی بیٹی نے گھر نہیں بسایا۔“
لیکن اب میں دنیا کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتی تھی۔ جرات مندی سے عدالت میں سب کو جمع کیا۔ جج نے مجھے اور اسے بلایا۔ میں نے کہا کہ ”یہ انتہائی غیر ذمہ دار شوہر ہے۔ میں اب اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔“ اس نے بھی جج کے سامنے رکھائی سے کہا کہ ”اس سے خلع کے بعد میں دوسری شادی کر لوں گا۔“
بہرحال میرا خلع ہو گیا۔ مگر اس سے نجات اب بھی نہیں ملی کیونکہ اس کے بعد اس نے اسکول اور گھر میں غنڈے بھیجنے شروع کر دیے۔ حتیٰ کہ مجھے اسکول بدلنا اور محلہ چھوڑنا پڑا۔ میرے بچے اس ساری صورتحال سے جذباتی طور بہت متاثر ہوئے۔ ایک بیٹی کو تو اچھا رشتہ مل گیا تھا اور اپنے شوہر کے ساتھ وہ بہت خوش بھی تھی لیکن دوسری بیٹی پڑھنے کی بہت شوقین۔ باوجود شدید اداسی کا شکار رہنے کے وہ سائنس میں بہت اچھے نمبروں سے کامیاب ہوئی۔ ایک بیٹا آرمی میں داخلے کے امتحان پاس کر کے ڈاکٹر بنے گا۔ شادی شدہ بیٹی اپنے سسرال میں مطمئن ہے۔ اس کے میاں نے ہی مجھے اس ادارے کا پتہ دیا۔ دوسری بیٹی باوجود انٹر میں 85 فیصد نمبروں کے میڈیکل میں نہیں جا سکی۔ وہ اپنا مستقبل نرسنگ میں دیکھنا چاہتی ہے۔ ابھی ایک لمبی جدوجہد ہے کبھی کبھی سانس پھول جاتا ہے۔ ایک کمائی اور اس مہنگائی نے تو عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے میں بھی کوئی زیادہ نہیں کماتی لیکن اس ادارے میں جو بحیثیت عورت جو عزت مجھے ملی ہے وہ مجھے میرے شوہر نے کبھی بھی نہ دی اس ادارے کے سربراہ بھی کم سے کم درجے کی ملازمہ عورت کا بہت احترام کرتے ہیں۔ ہاں اب ماں سے ملنا کم کم ہی ہوتا ہے۔ جو مجھ سے کہتی رہتی تھیں کہ بچوں کو پڑھاؤ نہیں بلکہ بیٹیوں کی شادی کرو اور بیٹوں کو کمائی پہ لگاؤ۔ ہو سکتا ہے کہ آج بھی ان کو میرے خلع کا غم کھاتا ہو کہ لوگ کیا کہتے ہوں گے، ”پھول بی بی کی بیٹی نے گھر نہیں بسایا۔“ لیکن انہیں شاید نہیں پتا کہ اب پھول بی بی کی بیٹی اپنے فیصلے خود کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔
