بلاگ

مردوں کے سماج میں خواتین لبادوں میں بھی غیر محفوظ کیوں؟

Abdul Sattar

صبح کی واک کے دوران ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا، ایک خاتون مکمل برقعے میں ملبوس جبکہ ساتھ میں شوہر جی نیکر اور ہاف شرٹ پہنے صبح کی سیر کے لیے چلے آ رہے ہیں، واضح نظر آ رہا تھا کہ شوہر جی گرمی کے ہاتھوں مجبور ہونے کی وجہ سے مختصر لباسی پر مجبور ہیں۔ دونوں کے طرزِ زندگی کو ہدفِ تنقید بنانا ہرگز مقصود نہیں ہے، ہاں کچھ سوالات ہیں جنہیں اجاگر کرنا انتہائی ضروری ہے، سوال یہ ہے کہ گرمی کی شدت کا احساس صرف مرد کو ہوتا ہے خاتون کو نہیں؟ اس قدر تضاد، عدم تحفظ یا جبر کیوں غیرت، عصمت، پاکیزگی اور بلند کرداری کا مطالبہ سماج کے صرف ایک فریق سے ہی کیوں؟ کیا مرد پیدائشی بلند کردار، باحیا، باغیرت یا پارسا ہوتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر خواتین کو اتنے سارے پہناوے کن سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے پہننے پڑتے ہیں؟

جسم تو جسم ہی ہوتا ہے نا! بھلے وہ ہماری بیٹی کا ہو یا کسی اور کی بیٹی کا، اپنی بہن بہو، بیوی یا ماں کا ہو، جسم میں کاہے کی تفریق؟

ہاں ہوس، استحصال یا جنسی طور پر مکروہ ذہنیت یا رویے تو انہی کی میراث ہوتے ہیں جو خاتون کو محض ایک ”چیز“ جنسی کھلونا یا بچے پیدا کرنے والی مشین سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے، وہی پردے کے حق میں بھی بولتے ہیں اور انہی کو خواتین مکمل لباس میں بھی ننگی اور بے حیا دکھتی ہیں، فتور اور حیوانیت تو نظروں میں چھپی ہوئی ہوتی ہے لباس میں نہیں۔ جب ذہن غلاظت سے بھرے ہوں تو خواتین بھلا کیسے آزادی سے گھوم پھر سکتی ہیں؟

جنوبی پنجاب کی شدید ترین گرمی اور پورے لباس میں ملبوس ہونے کے علاوہ برقعے کے ساتھ صبح کی ایزی واک یا ایکسرسائز کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟ مردوں کے سماج میں اگر ایک خاتون نارمل لباس میں روزمرہ کے امور بنا خوف سر انجام نہیں دے سکتی تو ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

یہ کوئی ایک منفرد سا کیس نہیں بلکہ درجنوں خواتین اسی گیٹ اپ میں صبح کی سیر کرتی ہیں، کرونا کی وجہ سے ہمارے لیے چند روز ماسک پہننا دوبھر ہو گیا تھا اور جنہیں مردوں کی ہوس سے محفوظ رکھنے کے لیے صدیوں سے کئی سارے لبادوں میں محدود رکھا ہوا ہے ان کی ذہنی و جسمانی حالت کیسی ہوگی کبھی سوچنے کا تکلف کیا؟ سماجی خوف اور عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ جینا کیا ہوتا ہے، اس پہلو کو ہماری خواتین سے زیادہ بھلا کون جان سکتا ہے؟

کیسا منافق سماج ہے نا! جو خواتین کو ایک باعزت راستہ دینے کی بجائے طوائف بننے پر تو مجبور کر سکتا ہے لیکن سماج کو ہوس سے پاک کر کے خواتین کو ہر میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم نہیں کر سکتا، بچی اسکوٹی چلاتی ہے یا بائیک پر اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو اسکول چھوڑنے کے لیے سڑک پر نکلتی ہے تو درجنوں ہوس ناک نگاہیں اس بچی کا تعاقب کرتی ہیں۔ رکشے یا بس میں سفر کرتے وقت بھی ہماری بچیوں کو نجانے کن کن اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے کون جانے؟

کس قدر نجس اور بدبودار معاشرہ ہے جو ایک خاتون کو پہلے طوائف یا سیکس ورکر بننے پر مجبور کرتا ہے اور پھر خود ہی اسی جسم کا گاہک بھی بن جاتا ہے، کبھی سیکس ورکرز کے انٹرویو سنیں یا کہانیاں پڑھیں تو اندازہ ہو گا کہ انہیں اس سطح تک پہنچانے میں کس کا کردار ہے، آپ کا کیا خیال ہے کیا وہ دل سے یا محض جنسی تسکین یا تعلقات کی خاطر اپنا جسم فروخت کرتی ہیں؟ ہرگز نہیں، ان میں سے کئی بچیوں کا والد نشئی ہوتا ہے یا بچوں کی لائن لگا کر فوت ہو جاتا ہے تو پیٹ کی بھوک مٹانے اور ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے خواتین اور بچیاں سیکس ورکر بن جاتی ہیں، غیرت اور حیا کے نام پر جب ان کے لیے سماجی گنجائش کم سے کم ہو گی تو پھر چوائس میں جو آپشن بچے گا اسے ہی اختیار کرنا ان کی مجبوری بن جاتا ہے، آخر زندگی کی مستعار سانسوں کو چلانے کے لیے کچھ تو کرنا ہی پڑے گا نا! بھوک آداب زندگی، نفاست و شائستگی، نزاکتوں اور تمام تر اخلاقیات کو مسمار کر کے رکھ دیتی ہے، ورنہ کون ہو گا جو اپنے جسم کو بار بار ایک ہی اذیت یا امتحان سے گزرنے پر مجبور کرے گا، ایسا تو کوئی بلا کا مجبور ہی کر سکتا ہے عیاش نہیں۔

جس طرح کا تنگ نظر اور خواتین کے لیے غیر محفوظ سا سماج ہم نے بنا لیا ہے ممکن ہے اگر مستقبل میں جینڈر کی چوائس ملے تو کوئی اپنے لیے فیمیل جینڈر کا انتخاب نہیں کرے گا، کیونکہ سماج میں زندہ رہنے کے لیے اسے کئی لحافوں میں رہنا پڑے گا، گھر کی لکشمی بن کر باہر کی تازہ آب و ہوا سے محروم ہونا پڑے گا، مرد کی سرپرستی یا تحفظ کے بغیر اپنے حساب سے جینے کا خیال دل سے نکالنا پڑے گا، نیک سیرت، باکردار، اچھی خاتون، گھر، والدین، بہن بھائی، شوہر اور سماج کی عزت و وقار کو بحال رکھنے کے بوجھ تلے زندگی بسر کرنا پڑے گی، پرفیکشن کے پل صراط پر کامیابی سے چلے بنا نا تو وہ ایک اچھی بیٹی بن سکتی ہے اور نا مثالی بیوی۔

اب اتنے سارے امتحانات میں سے کون گزر سکتا ہے؟ ذرا سی ادھر ادھر سرکی تو پارساؤں کی نظر میں بدکردار ٹھہری۔ غیرت، ونی اور کالی کر کے مار دینے کی سر پر لٹکتی تلوار کے سائے میں کون بنا خوف جی سکتا ہے؟ پاکباز، نیکوکار اور پارساؤں کے ہجوم میں کوئی خودمختار خاتون کیسے سر اٹھا کے جی سکتی ہے؟ اور جو جینے کا حوصلہ کر بھی لیتی ہے تو اسے اپنے فیصلے کی ایک بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW