بلاگ

آٹھ سے اٹھارہ

Muhammad Qasim Shahid

عرصہ ہوا سنیاسی مردوں کو جنگلوں کی طرف نکل جانے کی آزادی تھی، لیکن وہ یہ مشق شخصی آزادی سمجھ کر نہیں بلکہ جنونیت کی انتہا کے طور پر کرتے تھے تبھی انھیں انسانوں سے دور جانا پڑتا تھا۔ آج کل حکومت کی ماحولیاتی پولیس ادھ ننگے مردوں کو جنگلوں میں غل غپاڑہ نہیں کرنے دیتی، یہ ایک الگ معاملہ ہے کہ اب جنگل اتنے نہیں رہے جتنا ان کا قانون۔

اچھا بھلا فرد کی آزادی کے لیے لکھنے بیٹھا تھا جانے کیوں سادھوؤں کی بغل میں گھس گیا، خیر چھپکلی اور اجتماعیت سے تنگ انسان جان بچانے کے لیے کہیں بھی گھس سکتے ہیں۔ چلیں سنیے مسئلہ یہ ہے کہ جب سے دائیں بازو کی سیاست شناختی سیاست سے نبردآزما ہوئی ہے اس کے دانت کھٹے میٹھے ہو چکے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ الٹے بازو سے مڈبھیڑ کرتی وہ لبرل ازم کے دوالے ہو گئی۔ سفید بالوں والے بابا جی صنفی امتیاز برت کر لبرلز کو ڈانس کر کے دکھاتے ہیں اور شمالی دنیا میں مشرقی لوگ بھی بارش کے بعد بچوں کو قوس قزح نہیں دیکھنے دیتے اور لبرل ازم کو کوستے ہیں۔ اس دوران شناختی سیاست لبرل ازم کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے فخریہ مارچ دھڑلے سے کرتی جاتی ہے اور بائیں بازو کی پہنچ اب نیویارک تک ہو گئی ہے۔ لب لباب یہ ہے کہ روایتی اور دائیں بازو کی سیاست سمجھتی ہے کہ شناختی سیاست لبرل ازم کی دین ہے جبکہ شناختی سیاست کہتی ہے کہ لبرل ازم ہی فساد کی جڑ ہے، بائیں بازو کی سیاست لبرل ازم پر سرمایہ دارانہ معیشت کی وجہ سے چار حرف بھیجتی ہے اور رہی سہی کسر عام آدمی ہر جدیدیت پسند انسان کو لبرل کہہ کر پوری کر دیتا ہے۔ جیمز مل کا بیٹا قبر میں کروٹیں بدل بدل کر نہیں تھک رہا اور یہاں شکاگو اسکول آف اکنامکس کے لونڈے نیو لبرل ازم کا جشن اتنی خاموشی سے منا رہے ہیں کہ معاشی ابلاغ پر سارہ شور لبرل ازم کے خلاف ہے۔ ٹیلی ویژن، اسمارٹ فون یا نجی محفلیں ہر جگہ عام انسان سے لے کر ماہرین تک ایک ہی وتیرہ رہا اور وہ یہ کہ لبرل ازم کو اس کے بنیادی فلسفے سے علیحدہ صرف اس کے رائج لفظی مطلب سے پرکھا جا رہا ہے۔ اگر میں اپنے معاشرے کی بات کروں تو فرد کی سیاست سے غیر معمولی لا تعلقی لبرل ازم کو جدید خیالات، مغربی طرز کے رہن سہن اور لبادوں سے مزین محسوس کرتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر لبرل ازم کو شناختی سیاست جیسے کہ کوئیر تحریک عرف عام میں ایل جی بی ٹی کیو مثبت (ان کے ہاں منفی) اور سرمایہ دارانہ نظام کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔

اب یہ بہت نازک اور پیچیدہ مسئلہ ہے، دنیا کی خاص کر امریکہ اور بیشتر یورپ کی سیاست میں بھونچال کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے۔ دائیں اور بائیں بازو کی سیاست میں پچھلی صدی تک ایک ہی ممتاز فرق تھا اور وہ اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ معیشت تھا۔ لیکن شناختی سیاست نے جس طرح افراد کو دنیا بھر میں اپنی طرف راغب کیا کاش اس الجھن کا خاتمہ بھی کر دیا ہوتا کہ لبرل ازم اپنے فلسفے کی بنیاد پر قانون کے دائرے سے باہر آزادی دینے کا مجاز نہیں ہے۔ اس الجھن کا سب سے بڑا سبب لبرل ازم کا فرد کی آزادی اور عزت و تکریم کا بندوبست کرنا ہے، مگر یہ سب افراد کی بنی حکومت اور قوانین سے ہی ممکن ہے جبکہ شناختی سیاست فرد کے بنائے اصولوں کو افراد پر تھوپنا چاہتی ہے، اتنے واضح فرق کے بعد بھی اسے لبرل ازم کے نامہ اعمال میں ڈالنا سراسر زیادتی ہے۔ میں تذبذب کا شکار تو تھا ہی ساتھ ہی ایک شک نے آ گھیرا کہ نقار خانے میں طوطی کی آواز شاید اس لیے نہیں آ رہی کہ میں ہی غلط نہ سوچ سمجھ رہا ہوں۔ اس سوال کے جواب میں فوکویاما کی ایک کتاب لبرل ازم اینڈ اٹس ڈس کونٹینٹ ہاتھ لگی، اب تو رات کی نیند دن کی ہو چلی، ہر وقت یہی تکلیف دہ احساس کہ لبرل ازم تو اس شفیق مشرقی بہو جیسا ہے جو سب کی چالاکیاں جانتی ہے مگر شوہر کی محبت میں سب برداشت کرتی چلی جا رہی ہے۔ ہائے میرے اللّٰہ!

کتاب پڑھ کر کچھ صورت نظر آئی تو سوچا لکھ کر گوش گزار کر دینا چاہیے بھلا طریقہ یہی ہے۔

لبرل ازم فرد کی آزادی اور فرد کی زندگی کو بہتر سے بہترین بنانے کا ایک سیاسی فلسفہ ہے جو اس بات سے قطع نظر کہ فرد کا مذہب، رنگ، نسل، ذات یا جغرافیہ کیا ہے وہ بس قانونی جواز کے ساتھ جمہوریت کو فروغ دینے اور فرد کو اہمیت دینے کی سعی کرتا ہے۔

لبرل ازم پر بہت سے بہتان کسے جاتے ہیں جیسا کہ یہ اجتماعیت اور روایت کو برقرار نہیں رہنے دینا چاہتا، یہ مذہبی معاشروں میں لا دینیت اور خاندانی نظام میں بگاڑ کا باعث ہے۔

ان سوالوں کے عملی جواب تو شناختی سیاست نے اپنے کردار سے دے رکھے ہیں پھر بھی تسلی کے لئے عرض ہے کہ لبرل ازم کو فرد سے غرض ہے اگر ایک فرد اپنی روایات اور اقدار کو اپناتے ہوئے دوسرے فرد کی آزادی میں دخل نہیں دیتا تو لبرل ازم کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ فرد کے مذہبی یا لا دین ہونے سے لبرل ازم کو کیونکر مسئلہ ہو سکتا ہے جبکہ وہ تو چاہتا ہی یہ ہے کہ فرد من چاہے ایمان پر قائم رہے۔

خاندانی نظام کے بگاڑ کا خواب نشات ثانیہ سے روایت پسندوں کو آ رہا ہے اور اب انہیں مورد الزام ٹھہرانے کے لیے لبرل ازم مل گیا ہے۔ جتنی سہولت، مدد یا ترقی لبرل جمہوریتوں نے خاندانی نظام میں فرد کو مہیا کی ہے وہ ویلفیئر اسٹیٹس کی صورت میں ہم سب کے سامنے ہے۔

اپنے آئین کے دوسرے باب میں آرٹیکل آٹھ سے اٹھائیس تک آرٹیکل پڑھ کر ایسا لگتا ہے گویا لبرل جمہوریت انسانی سیاسی تاریخ کی معراج ہے۔ بین الاقوامی سیاسی کشیدگی ہر وقت یہی دھڑکا لگائے رکھتی ہے کہ شناختی سیاست اور دائیں بازو کی غیر ارادی شراکت داری کہیں لبرل سیاست پر شب خون نہ مار دے اور ہم ہاتھ دھرے رہ جائیں۔

کتنے عرصے بعد سانس لیتے ہوئے نفرت کے بو نہیں آئی اور مزاج میں چڑچڑا پن کم ہوا ہے۔ جانے کیوں روایت پسندی فرد سے اتنا بغض رکھتی ہے۔ ہمیں لبرل سیاسی فلسفہ پر آسان اردو میں متن لکھنے کی ضرورت ہے اور اسے ٹیلیویژن کے پردے سے لے کر مقامی آبادیوں میں تھیٹروں میں کھیلنا چاہیے۔ ہمیں فرد کو سیاسی طور پر متحرک کرنا ہو گا تبھی امن صنفی مساوات کا حصول اور عدم برداشت سے چھٹکارا حاصل ہو گا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
Habiba Shamas
Habiba Shamas
10 hours ago

اتنے گہریے موضوع کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے ۔۔بہت خوب

Samina
Samina
9 hours ago

اللہ میاں سلامت رکھیں۔ حکیم چھالے والے کے ہاں پکوڑے اور چائے ملتی رہی تو ایسے ہی خرد منڈی کے مظاہرے کی توقع ہے۔ شکریہ میاں۔

Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW