کالم۔

جنس، جبر اور جارحیت – صرف ذہنی بالغوں کے لیے

dr khalid sohail

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جنس دو عاقل و بالغ انسانوں کی محبت اور اپنائیت، خلوص اور دوستی کا عملی اظہار ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں چاہت اپنی معراج پر پہنچتی ہے، محب اور محبوب کو نئی لذتوں سے آشنا کراتی ہے اور ان کی شخصیت میں ایک پائدار مثبت تبدیلی لاتی ہے۔ میرا ایک شعر ہے

ایک چاہت جو عارضی سی لگے
اس کی تاثیر جاودانی ہے

لیکن ہمارے ارد گرد کچھ ایسے لوگ بھی بستے ہیں جن کا موقف ہے کہ مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔ ان کا کہنا اور ماننا ہے کہ

مرد حاکم ہے عورت محکوم
شوہر غالب ہے بیوی مغلوب

ان کے اعمال سے یوں لگتا ہے جیسے بیوی محبوبہ نہ ہو بلکہ کنیز ہو جس کے ساتھ وہ جب چاہیں جیسے چاہیں مباشرت کر سکتے ہیں۔ وہ اسے اپنا ازدواجی حق سمجھتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں بیوی کو انکار کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اگر وہ انکار کرے گی تو اسے اس انکار کی سزا دی جائے گی
اس کی تذلیل و تحقیر کی جائے گی
اور اگر وہ پھر بھی نہ مانے تو
اسے زد و کوب بھی کیا جائے گا
تا کہ وہ اپنا مقام جانے کہ وہ خاندان اور معاشرے میں دوسرے درجے کی شہری ہے۔

جب وہ اپنا برابری کا حق مانگتی ہے تو اسے گستاخ، خود سر اور باغی کا خطاب دیا جاتا ہے، اسے بدنام کیا جاتا ہے اور اسے معاشرے کی تباہی کا سبب بتایا جاتا ہے۔

ہم سب جانتے ہیں لیکن مانتے نہیں کہ جنس جبر اور جارحیت کے رشتے کو سب سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔

اگر آپ کو پتہ چل جائے کہ معاشرے میں کتنی عورتوں کو کتنی قسم کے نفسیاتی جبر اور جنسی جارحیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو آپ حیران و پریشان ہو جائیں۔

وہی مرد جو سماج میں سب سے مسکرا کر ملتے ہیں وہی مرد خواب گاہ کا دروازہ بند ہونے کے بعد انسان سے حیوان بن جاتے ہیں بلکہ حیوان سے بھی بدتر۔

اگر اس مسئلے پر گفتگو کا آغاز کیا جائے تو سب انکاری ہو جاتے ہیں۔

کینیڈا میں ایک پاکستانی باپ نے اپنی بیٹی سے جنسی زیادتی کی تو ایک کینیڈین جج نے مجھے وہٹبی فون کیا اور میری مدد چاہی۔ میں نے جج سے کہا میں اتنی دور رہتا ہوں ٹورانٹو میں بہت سے ماہرین نفسیات ہیں ان سے مدد مانگیں۔ کہنے لگے ایک پاکستانی ماہر نفسیات خاتون سے مدد مانگی تھی وہ کہنے لگیں

”یہ سب جھوٹ ہے۔ پاکستانی باپ اپنی بیٹیوں سے ایسا سلوک نہیں کرتے“

اگر ایک ماہر نفسیات ہی ڈینائل کا شکار ہو تو ہم عام لوگوں سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔
اگر کسی مسئلے کو مانا ہی نہ جائے تو اس کا حل کیسے سوچا اور تلاش کیا جا سکتا ہے؟

میں نے کئی مردوں سے ان کی میریٹل ریپ کے بارے میں رائے پوچھی تو وہ بھی اس کے وجود سے انکاری تھے۔ کہنے لگے

بیوی سے جنس شوہر کا حق ہے؟
وہ جب چاہے بیوی سے مباشرت کر سکتا ہے۔
چاہے بیوی کی مرضی شامل ہو یا نہ ہو۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے ذہن میں کونسنٹ اور باہمی رضامندی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔

اگر ہم جنس جبر اور جارحیت کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں تو اندازہ ہو گا کہ یہ مسئلہ انفرادی اور ازدواجی ہی نہیں سماجی اور معاشرتی بھی ہے۔

وہ معاشرہ جہاں
لڑکوں اور لڑکیوں کی علیحدہ تربیت کی جائے
مردوں اور عورتوں کی دوستی کو روکا جائے
سڑکوں پر مردانہ کمزوری اور بچپن کی غلط کاریوں کے اشتہار لگائے جائیں
مشت زنی کو گناہ سمجھا جائے
شادی کے بعد بھی شوہر اور بیوی کو تخلیہ میسر نہ آئے
چاروں طرف جنسی گھٹن پھیلی ہو
تو پھر حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ
عورتیں جنس سے بدظن اور متنفر ہو جائیں
اور
مرد جنسی تشدد اختیار کر لیں۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سبق سکھانا ہے کہ
جنس
ایک صحتمند انسان کی
صحت مند خواہشات کا
صحت مند اظہار ہے
چاہے وہ
خود وصلی کی صورت میں ہو
یا
محبوب وصلی کی صورت میں ہو
بدقسمتی سے مشرق میں جنس کو محبت اور دوستی کی بجائے احساس ندامت، خجالت اور گناہ سے جوڑا جاتا ہے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم ٹروڈو نے ایک دفعہ پارلیمان میں کہا تھا کہ دو شہریوں کے رومانوی تعلقات ان کا ذاتی معاملہ ہے اس میں ریاست کو دخل اندازی کی خاطر خواہ ضرورت نہیں۔ قانون کو لوگوں کی خواب گاہوں میں گھسنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

ذہنی بالغ جنس کے بارے میں سنجیدہ مکالمہ کر سکتے ہیں

ذہنی نابالغ جنس کا اظہار ماں بہن کی گالیوں کی صورت میں کرتے ہیں اور نادم بھی نہیں ہوتے۔ بقول علامہ اقبال

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اردو شاعری کا محبوب گوشت پوست کا حقیقی انسان نہیں ہے بلکہ شاعر کی فینٹسی کا ایک خیالی محبوب ہے جو کبھی حاصل نہیں ہوتا۔

اردو شاعر کی محبوبہ اس کی بیوی نہیں بنتی
اور بیوی محبوبہ نہیں ہوتی
بلکہ کسی اور کی بیوی اس کی شاعری کی محبوبہ بن جاتی ہے

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ مشرق میں نجانے کتنے میاں بیوی دو اجنبیوں اور دریا کے دو کناروں کی طرح زندگی گزار دیتے ہیں۔

جب سے میں نے ”ہم سب“ پر کالم لکھنے شروع کیے ہیں مجھے کئی ایسے شوہروں نے فون کر کے بتایا ہے کہ انہوں نے اپنا جنسی راز اپنی بیگم کو بھی نہیں بتایا۔ وہ کسی اور مرد کے عشق میں گرفتار ہیں۔

انہوں نے مجھ سے مشورہ کیا تو میں نے کہا
آپ اپنی بیوی کو آزاد کریں تا کہ وہ کسی ایسے مرد سے شادی کرے جو اس سے محبت کرتا ہو۔
جنس اگر محبت کا اظہار نہ ہو تو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے کہ کہیں وہ جبر اور جارحیت کا اظہار نہ بن جائے۔
ہم سب کو اپنے ذات سے اور اپنی شریک حیات سے پوچھنا چاہیے کہ
ہماری خواب گاہیں مشترک ہیں تو
ہمارے خواب اتنے مختلف کیوں ہیں؟

Facebook Comments Box

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔
Subscribe
Notify of
guest
8 Comments
zahir anwar
zahir anwar
1 month ago

Excellent and Timely….

Agha Anwar GUL
Agha Anwar GUL
29 days ago

میں نے کتاب میں لکھا کہ ملکہ بادشاہ کو قابو کئے رکھنے میں باقی عورت سے مقابلے میں مصرف رھتی ۔ شہزادے خواجہ سراوں کی نگرانی میں رھتے ۔ جس کے باعث Oedipus complex کا شکار رھتے ۔ اردو شاعری کاپتہ نہئں چلتا کہ ماں کے لئے ھے یا محبوبہ کے لئے

Dr Santosh Kamrani
Dr Santosh Kamrani
29 days ago

جنس
ایک صحتمند انسان کی
صحت مند خواہشات کا
صحت مند اظہار ہے
thank u for teaching us…..

نعیم اشرف
نعیم اشرف
29 days ago

باھمی رضا مندی کے بغیر جسمانی تعلق جرم قابل دست اندازی پولیس قرار دیا جانا چاھیے ۔

Last edited 29 days ago by نعیم اشرف
ڈاکٹر سارہ علی
سارہ علی
29 days ago

ڈاکٹر صاحب بہت ہی اعلی مضمون خاص کر ایک ایسے وقت میں جب خواتین کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہیں اور جنسی جرائم کو معمولی واقعات کے طور پر لیا جا رہا ہے

سید محمد زاہد
Syed Muhammad Zahid
29 days ago

خوبصورت

رضوانہ شیخ
رضوانہ شیخ
29 days ago

خوبصورت تجزیہ۔ ہمارے ہاں تو شوہر ہونے کا مطلب ہے کہ اجازت کی ضرورت نہیں، بیوی کو جیسے چاہے استعمال کرے۔ اسی وحشیانہ طریقے کی وجہ سے کئی خواتین شادی سے بیزار ہو جاتی ہیں۔

فریحہ مصطفی
فریحہ مصطفی
28 days ago

پاکستانی سوسائٹی سے بڑھ کر hypocrite کوئی نہیں ہمیشہparallel universe میں رھتے ھیں بلکہ انکے سوشل میڈیا کے سٹیٹس احادیث مبارکہ سے بھرے پڑے ھیں اور عمل جہالت سے ۔جو جتنا بڑا جھوٹا ھے وہ اتنا ھی پارسا نظر آے گا ۔
ھیں کواکب کچھ نظر آتے ھیں کچھ
بہرحال ہر تحریر کیطرح بہترین awareness پہنچائی گئ ھے

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW