ڈاکٹر عمار علی جان کا ایران کا سفر: مائیکل پیرنٹی اور سامراج مخالف یکجہتی کا سوال

ڈاکٹر عمار علی جان کے ایران کے حالیہ سفر پر پاکستان کے بعض لبرل حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔ ان پر یہ اعتراض کیا گیا کہ ایک مارکسسٹ ہوتے ہوئے وہ ایسی ریاست کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں جس پر سیاسی جبر، اختلافِ رائے پر قدغنوں اور ماضی میں بائیں بازو کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ بظاہر یہ اعتراض اصولی معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر اس بحث کو تاریخ، مارکسی نظریے اور سامراج مخالف سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے تو معاملہ کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہرا نظر آتا ہے۔
اصل سوال ایران نہیں، بلکہ وہ سیاسی اصول ہے جس کی بنیاد پر ہم دنیا کے تنازعات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ کیا کسی ایسے ملک کے ساتھ، جو بیرونی جارحیت، معاشی پابندیوں یا سامراجی دباؤ کا سامنا کر رہا ہو، صرف اس لیے اظہارِ یکجہتی نہیں کیا جا سکتا کہ اس کا داخلی سیاسی نظام ہمارے نظریاتی یا جمہوری معیار پر پورا نہیں اترتا؟ یا پھر سامراج مخالف جدوجہد کو اس کے تاریخی اور مادی تناظر میں سمجھنا چاہیے، چاہے اس ریاست سے ہمارے بنیادی نظریاتی اختلافات ہی کیوں نہ ہوں؟
یہی سوال امریکی مارکسی دانشور مائیکل پیرنٹی (Michael Parenti) نے اپنی معروف کتاب Blackshirts and Reds میں اٹھایا ہے۔ پیرنٹی کے مطابق سرد جنگ کے دوران مغربی دنیا میں ایک ایسا فکری ماحول تشکیل دیا گیا جس میں اشتراکی اور سامراج مخالف ریاستوں کے بارے میں ایک مخصوص بیانیہ اس قدر غالب ہو گیا کہ ہر حقیقت کو اسی کے مطابق پرکھا جانے لگا۔ اگر کوئی سوشلسٹ ریاست ناکام ہوتی تو یہ سوشلزم کی ناکامی قرار پاتی، اور اگر وہ تعلیم، صحت، صنعت یا سائنسی ترقی میں کامیاب ہوتی تو اس کامیابی کو آمرانہ جبر، خوف یا پروپیگنڈے کا نتیجہ قرار دے دیا جاتا۔ پیرنٹی اس رجحان کو ”Left Anticommunism“ اور اس پورے فکری سانچے کو ”Non۔ Falsifiable Orthodoxy“ یعنی ایسا نظریاتی عقیدہ قرار دیتے ہیں جسے کوئی بھی ثبوت غلط ثابت نہیں کر سکتا، کیونکہ ہر ثبوت کو پہلے سے موجود نظریے کے مطابق ڈھال لیا جاتا ہے۔
یہ رجحان صرف اشتراکیت تک محدود نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں غالب طبقات نے اپنے سیاسی، معاشی اور عسکری غلبے کو فطری، ناگزیر اور اخلاقی ثابت کرنے کے لیے مخصوص نظریات کو فروغ دیا ہے۔ انیسویں صدی میں سوشل ڈارون ازم (Social Darwinism) اس کی نمایاں مثال تھا۔ بقائے اصلح (Survival of the Fittest) کے تصور کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ گویا طاقتور اقوام کا کمزور اقوام پر غلبہ، نوآبادیاتی تسلط، نسلی برتری اور سرمایہ دارانہ استحصال فطرت کا قانون ہیں۔ یورپی سامراج نے اسی تصور کو افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے اخلاقی جواز کے طور پر استعمال کیا۔ بعد میں اسی سوچ نے نسل پرستی، نوآبادیاتی استعمار اور معاشی عدم مساوات کو بھی ”قدرتی“ قرار دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ پیرنٹی کی دلیل بھی یہی ہے کہ غالب نظریات اکثر غیر جانب دار حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ طاقت کے موجودہ ڈھانچوں کو فکری اور اخلاقی جواز فراہم کرتے ہیں۔
ایران کے معاملے میں بھی یہی طرزِ فکر دکھائی دیتا ہے۔ ایران کے داخلی سیاسی مسائل، اختلافِ رائے پر پابندیوں اور انسانی حقوق سے متعلق تنقید یقیناً ایک حقیقت ہے اور اس پر بحث ہونی چاہیے۔ لیکن کیا یہی پوری حقیقت ہے؟ کیا یہ حقیقت بھی ہمارے تجزیے کا حصہ نہیں ہونی چاہیے کہ ایران نے 1979 ء میں ایک امریکی حمایت یافتہ بادشاہت کا خاتمہ کیا، گزشتہ چار دہائیوں سے سخت معاشی پابندیوں، سفارتی تنہائی، خفیہ کارروائیوں، سائبر حملوں، مسلسل عسکری دھمکیوں اور خطے میں طاقت کے عدم توازن کا سامنا کیا ہے؟ اگر کسی تجزیے میں ان عوامل کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جائے تو کیا وہ واقعی غیر جانب دار تجزیہ کہلائے گا؟
مارکسی روایت ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتی ہے کہ کسی بھی ریاست یا تحریک کو مجرد اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے تاریخی، معاشی اور جغرافیائی حالات کے تناظر میں سمجھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلابی تاریخ میں بارہا ایسے فیصلے کیے گئے جو بظاہر نظریاتی ”پاکیزگی“ سے متصادم دکھائی دیتے تھے، لیکن ان کا مقصد انقلاب یا ریاست کی بقا تھا۔
اس کی پہلی بڑی مثال ولادیمیر لینن کی نیو اکنامک پالیسی (New Economic Policy۔ NEP) ہے۔ 1921 ء میں روس خانہ جنگی، قحط اور معاشی تباہی کا شکار تھا۔ ایسے میں لینن نے محدود نجی تجارت اور منڈی کے بعض عناصر کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگر کوئی صرف نظریاتی نصوص کی روشنی میں اس فیصلے کو دیکھے تو اسے مارکسی اصولوں سے انحراف قرار دے گا، لیکن لینن نے خود اسے ایک تزویراتی پسپائی (Strategic Retreat) کہا۔ ان کے نزدیک اگر مزدور اور کسان کا اتحاد ٹوٹ جاتا اور معیشت مکمل طور پر بیٹھ جاتی تو سوشلسٹ ریاست ہی باقی نہ رہتی۔ اس لیے وقتی پسپائی دراصل مستقبل کے لیے انقلاب کو بچانے کی حکمتِ عملی تھی۔
اسی طرح دوسری جنگِ عظیم سے قبل سوویت یونین نے جرمنی کے ساتھ مولوتوف۔ ربینٹراپ عدم جارحیت معاہدہ (Molotov Ribbentrop Non Aggression Pact) کیا۔ اس معاہدے پر اس وقت بھی شدید تنقید ہوئی اور آج بھی ہوتی ہے۔ لیکن سوویت قیادت کا موقف تھا کہ یہ نظریاتی ہم آہنگی نہیں بلکہ ایک ایسی تزویراتی ضرورت تھی جس کا مقصد جرمن حملے کی تیاری کے لیے وقت حاصل کرنا تھا۔ بعد میں یہی سوویت یونین برطانیہ اور امریکہ جیسے سرمایہ دار ممالک کے ساتھ مل کر نازی ازم کے خلاف جنگ لڑتا ہے۔ اگر نظریاتی پاکیزگی ہی ہر سیاسی فیصلے کا واحد معیار ہوتی تو شاید یہ اتحاد کبھی ممکن نہ ہوتا۔
چین میں ماؤ زے تنگ نے بھی کلاسیکی مارکسزم کو چینی معاشرتی حقیقت کے مطابق ڈھالا۔ مارکس نے صنعتی مزدور طبقے کو انقلابی تبدیلی کی بنیادی قوت قرار دیا تھا، لیکن چین ایک زرعی معاشرہ تھا جہاں اکثریت کسانوں پر مشتمل تھی۔ ماؤ نے کسانوں کو انقلابی سیاست کا محور بنایا اور گوریلا جنگ (Guerrilla Warfare) کو اپنی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔ یہ نظریے سے انحراف نہیں بلکہ مادی حالات کو بنیاد بنا کر نظریے کو عملی جامہ پہنانا تھا۔
یہ تمام مثالیں اس لیے نہیں دی جا رہیں کہ ایران کو سوویت یونین یا چین کے مساوی قرار دیا جائے، بلکہ اس لیے کہ ایک بنیادی اصول واضح کیا جا سکے : مارکسی سیاست میں نظریاتی تجزیہ ہمیشہ مادی حالات، طاقت کے توازن اور تاریخی تناظر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ مائیکل پیرنٹی اسی حقیقت کو محاصرے کا سوشلزم (Siege Socialism) کہتے ہیں۔ ان کے مطابق جب کوئی ریاست مسلسل بیرونی دباؤ، پابندیوں، جنگ یا تخریب کاری کا شکار ہو تو اس کے سیاسی فیصلوں کو معمول کے حالات کے پیمانوں سے نہیں پرکھا جا سکتا۔
اسی تناظر میں ڈاکٹر عمار علی جان کے ایران کے سفر کو دیکھنا چاہیے۔ ان کا یہ اقدام ایرانی ریاست کے ہر داخلی فیصلے کی غیر مشروط توثیق نہیں تھا، بلکہ اس اصول کا اظہار تھا جسے سامراج مخالف یکجہتی (Anti Imperialist Solidarity) کہا جا سکتا ہے۔ مارکسی روایت میں یہ تصور نیا نہیں۔ دنیا بھر میں ترقی پسند تحریکوں نے بارہا ان ریاستوں اور تحریکوں کے ساتھ یکجہتی کی ہے جو سامراجی مداخلت کا شکار تھیں، باوجود اس کے کہ ان کی داخلی سیاست پر شدید تنقید بھی کی جاتی رہی۔
درحقیقت، سامراج مخالف یکجہتی اور غیر مشروط حمایت ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ کسی ریاست کے خلاف بیرونی جارحیت، معاشی پابندیوں یا سامراجی مداخلت کی مخالفت کرنا اس کے ہر داخلی اقدام کی حمایت کے مترادف نہیں ہوتا۔ اسی طرح کسی ریاست کے اندر انسانی حقوق یا جمہوری آزادیوں پر تنقید کرنا اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت، پابندیوں یا جنگی پالیسیوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔ ایک سنجیدہ مارکسی تجزیہ انہی دونوں حقیقتوں کو بیک وقت سامنے رکھتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستانی لبرل حلقوں کی ایک بڑی تعداد اس امتیاز کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ ایران کی داخلی سیاست پر تنقید اپنی جگہ، لیکن جب یہی تنقید اس حد تک غالب آ جائے کہ سامراجی دباؤ، خطے کی جغرافیائی سیاست، امریکی خارجہ پالیسی، اسرائیلی عسکری حکمتِ عملی اور عالمی طاقتوں کے کردار کو تقریباً غیر متعلق بنا دے، تو یہی وہ مقام ہے جہاں پیرنٹی کی Left Anticommunism والی تنقید اپنی معنویت اختیار کر لیتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ایران ایک مثالی ریاست ہے یا نہیں، اور نہ ہی یہ کہ اس کی داخلی پالیسیوں پر تنقید کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ یقیناً ہر ریاست تنقید سے بالاتر نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب کوئی ملک سامراجی دباؤ، معاشی پابندیوں، عسکری دھمکیوں اور خطے میں طاقت کے عدم توازن کا سامنا کر رہا ہو، تو کیا اس کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو محض اس کی داخلی سیاست کی بنیاد پر رد کر دینا درست سیاسی موقف ہے؟
مائیکل پیرنٹی کی دلیل یہی ہے کہ اگر بائیں بازو سامراج مخالف جدوجہد کو نظریاتی پاکیزگی کے امتحان سے مشروط کر دے، تو وہ غیر ارادی طور پر ان طاقتوں کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے جو پابندیوں، مداخلتوں اور جنگوں کو انسانی حقوق یا جمہوریت کے نام پر جائز ثابت کرتی ہیں۔ اسی تناظر میں ڈاکٹر عمار علی جان کے ایران کے سفر کو دیکھنا چاہیے۔ اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس اختلاف کو تاریخ، عالمی طاقتوں کے کردار اور مارکسی سیاسی روایت کے وسیع تناظر میں پرکھنا چاہیے، نہ کہ صرف ایک اخلاقی یا تجریدی معیار پر۔
آخرکار، سیاست کا امتحان صرف یہ نہیں ہوتا کہ ہم کس چیز کی مخالفت کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم طاقت کے عالمی توازن کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں۔ اگر ہر سامراج مخالف ریاست کو صرف اس کی خامیوں کی بنیاد پر مسترد کر دیا جائے، جبکہ سامراجی طاقتوں کے کردار کو ثانوی حیثیت دی جائے، تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طاقتور کی سیاست کو عالمی ”معیار“ اور کمزور کی مزاحمت کو ہمیشہ ”جرم“ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی وہ فکری رویہ ہے جس کے خلاف مائیکل پیرنٹی نے لکھا تھا، اور یہی وہ تناظر ہے جس میں ڈاکٹر عمار علی جان کے ایران کے سفر کو سمجھنا چاہیے۔
