مظلوم کب ظالم بنتا ہے؟

آئیے آپ کو پاؤلو فریئرے سے ملاتے ہیں۔ ان کا تعلق برازیل سے تھا۔ تعلیم کے حوالے سے جانے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ مارکسسٹ ہونے کی تہمت بھی۔ 1968 میں ان کی مشہور تصنیف ”پیڈاگوجی آف اوپریسڈ“ شائع ہوئی۔ اب پیڈاگوجی کا ترجمہ مجھ سے مت پوچھیے گا۔ خیر یہاں بات یوں بھی کچھ اور ہے۔ اس کتاب کا ایک فقرہ پچھلے دنوں مجھے رہ رہ کر یاد آیا جب ایک دوست نے توجہ دلائی کہ ہر مظلوم کا آئیڈیل آخری تجزیے میں ایک ظالم نکلتا ہے۔
فقرہ پڑھیے۔
”قریبا ہمیشہ ہی، مظلوم، جدوجہد کے ابتدائی دنوں میں ہی، آزادی کی شمع روشن کرنے کے بجائے خود ظالم بننے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں“
پاؤلو فرئیرے کا یہ مشاہدہ کسی مخصوص ملک یا مذہب کا نہیں ہے، یہ مظلوم اور ظالم کی نفسیات کا ایک بے رحمانہ تجزیہ ہے۔ یہ اس زنجیر کی کہانی ہے جو ہر معاشرے میں گردش کرتی رہتی ہے، ایک گردن سے نکل کر دوسری گردن کا طوق بن جاتی ہے لیکن کبھی ٹوٹتی نہیں۔
دیکھیے بیلا چاؤ کا فارسی چہرہ یاد آ گیا۔ مہسا امینی کے قتل ناحق پر دو لڑکیاں گا رہی ہیں
آخرین زنجیر ظلم عالمگیر
بشکنہ با دست ہای ما
خواب دیکھنے کو رومانوی ہے پر پوچھنا پڑتا ہے کہ عالمگیر ظلم کی زنجیر آخری دفعہ کس ہاتھ سے کب ٹوٹی تھی۔ ٹوٹی تھی بھی یا نہیں۔ کیا یہ بس خواب کا تسلسل ہی ہے۔ کیا ظلم کی ولایت ظالم سے مظلوم اور مظلوم سے ظالم کو ایک دائرے کی صورت منتقل نہیں ہوتی رہی۔
کسی زمانے میں مجھے بھی یقین تھا کہ جس نے زنجیر کا بوجھ خود اٹھایا ہو، وہ کسی دوسرے کی گردن میں اسے کبھی نہیں ڈالے گا۔ یقین کا کیا ہے، مشاہدہ، تجزیہ، مطالعہ اسے روز توڑتا ہے۔
جب زندگی کا علم خام تھا تو میں سوچتا تھا کہ ایسے گروہ جو مذہبی تشدد، تعصب اور تنفر کا شکار بنتے ہیں، ان کے لیے مذہبی فکر کے جمود اور خامیوں کو سمجھنا آسان ہو گا۔ اس کا لامحالہ نتیجہ ان میں یا تو مذہبی قید سے آزادی کی صورت نکلے گا یا بالیدگی کی کوئی ایسی صورت جس میں روشن خیالی نمایاں ہو گی۔
تاہم تجرباتی شہادتوں اور ذاتی تجربے نے وقت کے ساتھ ساتھ سکھایا کہ ایسے اقلیتی گروہ جو کہ خود مذہبی جور و ستم کا شکار رہے ہیں، وہ کسی بھی دوسرے گروہ سے زیادہ کٹر، تنگ نظر اور اپنی مذہبی تعریف کے اسیر بن جاتے ہیں۔ جس طرح دوسرے ان پر فتویٰ صادر کرتے ہیں، بالکل یہی طرزِ عمل ان کا ہر اس شخص کے بارے میں ہے جو ان کے موقف سے اتفاق نہیں کرتا۔ اسی طرح ان کا عقیدہ بھی غیر لچک دار اور عقل و خرد سے اتنا ہی عاری ہوتا ہے جتنا ایک اثر رکھنے والے متشدد گروہ کا۔
کچھ گروہوں کے بارے میں یہ فرق البتہ رہا کہ تشدد کی راہ پر انہیں قدم دھرتے نہیں پایا۔ کیوں؟ شاید اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ وہ تعداد میں ہمیشہ کم رہے، عین ممکن ہے کہ کسی خاص جغرافیائی حدود میں یہ تناسب بدلنے پر شاید وہ اتنے ہی متشدد ثابت ہوں جتنا کہ ان کے مجرم رہے ہیں۔ آخری تجزیے میں شدت پسندی کی جڑ عقیدے سے غیر معمولی وابستگی ہے، خواہ وہ کوئی بھی عقیدہ ہو۔ اس وابستگی سے خیر برآمد ہونے کا کوئی امکان نہ کبھی تھا، نہ کبھی ہو گا۔
سچ یہ ہے کہ مظلومیت کوئی اخلاقی سند نہیں۔ یہ صرف زنجیر کے اس سرے کا نام ہے جو ابھی آپ کے ہاتھ میں نہیں آیا کہ آپ اسے کسی اور کی گردن میں ڈال سکیں۔
آپ کہیں گے کہ نفسیات کا ایک اصول یہ کہتا ہے کہ جس نے خود درد سہا ہو، وہ دوسروں کے درد کو زیادہ گہرائی سے پہچانے گا۔ میں کہوں گا کہ یہ بھی شاید رومانوی مفروضہ ہے۔ میں اسے مسترد نہیں کرتا لیکن تاریخ سے اس کی مستقل گواہی ڈھونڈنے میں ناکام رہتا ہوں۔ تاریخ کو استاد ٹھہراؤں تو اس کے مخالف مثالوں کا ایک انبار ہے۔
زیادہ دور نہیں جاتے۔ شام کے علویوں کی مثال لے لیتے ہیں۔ صدیوں تک سنی اکثریت انہیں گمراہ اور باطنی فرقہ سمجھتی رہی، اور فرانسیسی مینڈیٹ کے دور میں سنی جبر سے بچنے کے لیے انہیں ساحلی پٹی پر ایک الگ ریاست تک بنانی پڑی۔ لیکن جب حافظ الاسد کے دور میں علوی فوج، خفیہ اداروں اور اقتدار کے ہر مرکز پر چھا گئے، تو وہی زنجیر پلٹ کر 1982 ء میں حماۃ شہر کی سنی آبادی کی گردن میں ڈال دی گئی۔ صحافی پیٹرک سیل نے اس آپریشن کو ”دو ہفتوں کی قتل و غارت اور لوٹ مار کی عیاشی“ (a two week orgy of killing، destruction and looting) قرار دیا۔ اندازوں کے مطابق دس سے تیس ہزار کے درمیان انسان مارے گئے، اور شہر کا دو تہائی حصہ ملبے میں بدل گیا۔
دوسری مثال کے لیے ذرا دور چلے جاتے ہیں۔ بحرِ اوقیانوس کے اس پار نیو انگلینڈ کے پیوریٹن یا راسخ العقیدہ عیسائی خود انگلستان میں مذہبی جبر سہ کر امریکہ پہنچے تھے۔ پر ان کے ہی ایک مبلغ نے 1681 ء میں تسلیم کیا کہ ابتدائی آبادکاروں کا مقصد ”رواداری نہیں بلکہ اس کی کھلی مخالفت تھا“
(their business was not Toleration, but they were professed enemies of it)
چنانچہ 1635 ء میں راجر ولیمز اور 1637 ء میں این ہچنسن کالونی بدر کر دیے گئے، اور 1659 ء سے 1661 ء کے درمیان چار کویکر، مارمیڈیوک سٹیفنسن، ولیم رابنسن، میری ڈائر اور ولیم لیڈرا، تختہ دار پر چڑھا دیے گئے، محض عقیدے کے فرق پر۔
سٹیفنسن نے پھانسی گھاٹ پر کہا: ”ہم بدکاروں کی طرح نہیں بلکہ ضمیر کی خاطر مر رہے ہیں“
راجر ولیمز، جو خود جلاوطن ہوا تھا، نے بہت بعد میں لکھا کہ جبری عبادت ایک ایسی بدبو ہے جو خدا بھی محسوس کرتا ہے۔
(forced worship stinks in God ’s nostrils)
مگر کیسی ستم ظریفی ہے کہ یہ سبق اسے اپنی جلاوطنی سے ملا، اپنے ساتھیوں کی رواداری سے نہیں۔
تیسری مثال اپنے گھر میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ براہ راست نہ سہی، بالواسطہ سہی۔
وطن عزیز میں مظلوم کی تاریخ سرحدوں کی تشکیل سے پہلے کی ہے۔ وہ گروہ جو کبھی بھارت میں اقلیت ہونے کے خوف سے، مظلوم بن جانے کے ڈر سے متحد ہوا تھا، اقتدار ملتے ہی اپنی نئی اقلیتوں کے ساتھ وہ نہ کر پایا جس کا وعدہ اس نے خود کیا تھا۔ بلکہ وہ کر بیٹھا جس کا ڈر اسے خود تھا۔
11 اگست 1947 ء کو قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”تم آزاد ہو اپنے مندروں، اپنے کلیساؤں، اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے“ ایسی کھلی آزادی تو شاید ایک دن بھی کسی اقلیت کو میسر نہ ہوئی پر بات اس سے آگے ریاستی آئینی قانونی جبر میں ڈھل جائے گی، یہ شاید کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا۔
آزادی کے بس ستائیس سال بعد ، 1974 ء میں، ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے پارلیمنٹ سے آئین میں دوسری ترمیم منظور کرائی جس نے احمدیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے دیا۔ بھٹو جیسے بظاہر سیکولر شخص نے نے خود اسے ”نوے سالہ مسئلے کا حتمی حل“ قرار دیا۔ عقیدے کا ترازو خدا سے لے کر ایس ایچ اور اور اسمبلی ممبر کے حوالے کر دیا گیا۔
1984 ء میں جنرل ضیاء الحق ایک قدم اور آگے بڑھے، احمدیوں کے خود کو مسلمان کہنے، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے، حتیٰ کہ سلام کہنے تک کو جرم بنا دیا گیا۔ 2010 ء میں لاہور کی دو احمدی مساجد پر حملے میں چورانوے عبادت گزار مارے گئے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ ٹی وی رپورٹرز کو اکٹھے ہونے والے ہجوم سے ”ان کے ساتھ یہی ہونا چاہیے“ قبیل کے جملے سننے کو ملے۔ اس سے بھی پہلے، بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ پاکستان کے واحد نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کی قبر کے کتبے سے لفظ ”مسلم“ مٹانا ضروری ہو گیا تھا۔ بس ایسے قصوں کا ایک تار ہے، تیز ہوا کا شور ہے اور ہم سب کی چپ ہے۔
اب چلیے۔ جو سوال کلبلا رہا ہے۔ اسے بھی سامنے رکھ دیتے ہیں کہ ہمارے تھیسس میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے : کیا یہی مفروضہ، مظلوم کا ظالم بننا، کل اہلِ تشیع پر، یا احمدیوں پر بھی صادق آئے گا؟
اہلِ تشیع کا معاملہ ذرا پیچیدہ ہے۔ صدیوں تک سنی اکثریتی سلطنتوں میں شیعہ ایک زیرِ عتاب اقلیت رہے، اور آج بھی پاکستان، افغانستان اور سعودی عرب میں وہ فرقہ ورانہ تشدد کا مسلسل نشانہ ہیں۔ لیکن جہاں شیعہ علما نے ریاستی اقتدار حاصل کیا، یعنی ایران میں، وہاں یہ مفروضہ حیرت انگیز طور پر درست ثابت ہوا۔
1979 ء کے انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی اور بعد ازاں آیت اللہ خامنہ ای نے بہائی اقلیت کے خلاف باقاعدہ فتوے جاری کیے، انہیں ”جاسوس“ اور ”نجس“ قرار دیا۔ ایران کی ایک سرکاری ویب سائٹ آج بھی کہہ رہی ہے کہ ”بہائی فرقے کے تمام پیروکار نجس ہیں“
1979 ء سے اب تک سینکڑوں بہائی قتل یا لاپتہ کیے جا چکے ہیں، ہزاروں تعلیم اور روزگار سے محروم ہیں۔ یعنی جہاں اقتدار میسر آیا، زنجیر کو نئی گردن مل ہی گئی۔
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آج کی تاریخ میں یہ نتیجہ پوری امتِ تشیع پر محیط نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کی مذہبی ریاست ایک مخصوص اقتداری ڈھانچہ ہے، پوری شیعہ دنیا کی نمائندہ نہیں۔ عراق، لبنان اور خود پاکستان کے اکثر شیعہ خود کبھی اقتدار میں نہیں رہے، بلکہ وہ بھی اسی طوق کو اٹھائے پھر رہے ہیں جس کا ذکر ہم کرتے آ رہے ہیں۔ زنجیر کی منتقلی شاید افراد کی نہیں، اقتدار کے ڈھانچوں کی خصلت معلوم ہوتی ہے۔
احمدیوں کا معاملہ اس سے بھی مختلف ہے۔ ایمانداری کا تقاضا یہ ہے کہ اعتراف کیا جائے : کہ احمدیوں کو یہ مفروضہ آزمانے کا موقع ہی کبھی نہیں ملا۔ دنیا میں کہیں بھی احمدی برادری نے ریاستی اقتدار حاصل نہیں کیا، نہ کبھی ان کے پاس فوج رہی، نہ عدالت، نہ پارلیمنٹ۔ وہ ابھی تک زنجیر کے بوجھ تلے اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں پر ستر سال پہلے کھڑے تھے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ”وہ بھی موقع ملنے پر ایسا ہی کرتے“ نہ ثابت کیا جاسکتا ہے نہ رد کیا جا سکتا ہے۔ سو ابھی اسے قیاس ہی رہنے دیتے ہیں ہاں احمدیہ جماعت کے داخلی ڈھانچے میں جبر کی ہر کہانی یہ بتاتی ہے کہ یہ قیاس کوئی ایسا دور ازکار بھی نہیں۔
مجھے تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ جس دن کسی مظلوم گروہ کو اقتدار ملے گا، پہلا حکم نامہ وہی ہو گا جو کبھی اس پر صادر ہوا تھا، بس دستخط بدل جائیں گے۔
مظلوم کی ہر زنجیر آج بھی کسی نہ کسی گردن کی تلاش میں ہے، کسی مسجد، کسی گرجا، کسی درگاہ کے تہہ خانے میں پڑی زنگ کھاتی سہی، لیکن یہ منتظر ہے۔
جو شکار رہے، وہ شکاری بننے میں شاید دیر نہ کریں۔ جبر کا دائرہ کبھی ٹوٹا نہیں ہے۔ اس بیچ صرف کردار بدلے ہیں، کہانی وہی رہی ہے۔
حماۃ میں، بوسنیا میں، آرمینیا میں، حتیٰ کہ ملک عزیز میں مائیں آج بھی اپنے گمشدہ بیٹوں کی قبر تلاش کر رہی ہیں۔ بوسٹن کامن میں میری ڈائر کا مجسمہ آج بھی صالحین سے سوال کر رہا ہے۔ ربوہ کے قبرستان میں آج بھی کسی کتبے سے کوئی لفظ کھرچا جا رہا ہے۔ دیکھیے، اگلی باری کس کی ہے۔ کہاں پر ہے۔
شاید زنجیر کو توڑنا کبھی مقصود ہی نہیں تھا، صرف اسے تھامنے کی باری بدلنا مقصد تھا۔ کیوں؟ اس کا جواب مشکل نہیں ہے، لیکن شاید آپ سننا نہیں چاہیں گے۔
