جنگ جیت کر بھی ہاری ہوئی سلطنتیں

دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ سلطنتوں کو توپوں کے گولے کم گراتے ہیں اور خزانے کے خالی صندوق زیادہ گراتے ہیں۔ طاقتور ریاستیں لڑ کر نہیں ہارتیں، معاشی دیوالیہ پن انہیں اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ حالیہ تاریخ میں اسپین، برطانیہ اور سوویت یونین تین ایسے بڑے نام ہیں جنہیں شکستِ جنگ نہیں بلکہ شکستِ معیشت نے زمین بوس کیا۔ تینوں نے فوجی طاقت پر حد سے زیادہ سرمایہ لگایا، برآمدات سے زیادہ درآمدات کا بوجھ اٹھایا، اور آخر کار معیشت کے توازن نے انہیں تخت سے اتار دیا۔
ہسپانوی سلطنت کے پاس دولت کی کوئی کمی نہیں تھی۔ امریکا سے سونے چاندی کی بارش ہو رہی تھی، لیکن یہ دولت اسپین کے لیے قوت بننے کے بجائے زوال کی وجہ بن گئی۔ اتنی دولت آنے سے مہنگائی آسمان کو چھونے لگی۔ صنعت اور زراعت مرجھا گئیں کیونکہ سب کچھ باہر سے خریدنا آسان لگتا تھا۔ حکومت کے اخراجات بڑھتے گئے، آمدنی کم ہوتی گئی، اور بار بار دیوالیہ ہونے کی نوبت آئی۔ اسپین کسی ایک بڑی جنگ میں نہیں ہارا بلکہ اپنے ہی مالیاتی غلطیوں اور سونے کی لعنت سے ہارا۔ دولت کمزور معیشت پر بوجھ بن گئی اور سپر پاور چند دہائیوں میں دوسرے درجے کی طاقت بن کر رہ گئی۔
برطانیہ نے دو عالمی جنگیں جیتیں لیکن جیت کی قیمت اتنی بھاری نکلی کہ خزانہ خالی ہو گیا۔ جنگ کے بعد صورت حال یہ تھی کہ حکومت قرضوں میں ڈوبی ہوئی تھی اور دنیا بھر میں سلطنت چلانے کے اخراجات اٹھانا ممکن نہیں رہا۔ جب ہندوستان کو آزادی ملی تو برطانیہ نے سمجھ لیا کہ اب سامراجی حکومت نفع کا نہیں بلکہ خسارے کا کاروبار بن چکی ہے۔ پھر سوئز بحران آیا اور برطانوی حکومت کو امریکی دباؤ کے سامنے جھکنا پڑا۔ یہ شکست میدان جنگ میں نہیں بلکہ بینکوں اور قرضوں کے کاغذوں پر ہوئی۔ سامراجی طاقت آخرکار عالمی سیاست میں شریک تو رہی، لیکن سپر پاور ہونے کا تاج اس کے سر سے اتر گیا۔
سوویت یونین نے دنیا کو چیلنج کیا۔ خلا میں سب سے پہلے پہنچا، ایٹمی طاقت بنا، دنیا بھر میں نظریاتی جنگیں لڑیں۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ طاقت کی بنیاد معیشت نہیں بلکہ ریاستی کنٹرول پر چلنے والے پسماندہ صنعتی ڈھانچے پر تھی۔ سخت منصوبہ بندی کی معیشت ٹیکنالوجی کے نئے تقاضوں کا مقابلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ تیل کی قیمتیں گریں تو سوویت خزانہ بھی گر گیا۔ افغانستان کی جنگ نے اسے مزید کمزور کیا، لیکن یہ آخری دھچکا تھا، بنیادی بیماری معیشت کی کمزوری تھی۔ یوں نہ کوئی فیصلہ کن جنگ ہوئی نہ کسی دشمن نے ماسکو پر قبضہ کیا۔ سوویت یونین کاغذوں میں تقسیم ہوا، اور دنیا کی ایک سپر پاور اقتصادی کمزوری کی وجہ سے ٹوٹ گئی۔
یہ تینوں کہانیاں ایک ہی سبق دیتی ہیں کہ سلطنتیں توپوں سے نہیں گرتیں، معیشت کی بنیادیں ڈھے جائیں تو تاج بھی گر جاتے ہیں۔ طاقت کا اصل سرچشمہ خزانہ ہے۔ معاشی توازن برقرار رہے تو ریاستیں جنگ بھی جیت لیتی ہیں۔ اگر مالیاتی نظم ٹوٹ جائے، اخراجات طاقت سے بڑھ جائیں، اور دولت پیدا کرنے والی صنعتیں پائیدار نہ رہیں تو وہ سلطنتیں فتوحات کے باوجود بھی شکست کا شکار ہو جاتی ہیں۔
تاریخ کا یہ سبق آج بھی موجودہ طاقتوں کو یاد رکھنا چاہیے۔ فوجی اخراجات کا توازن، معاشی نظم کی مضبوطی، اور ریاستی پالیسیوں کا حسابی ہونا ضروری ہے۔ جو ملک اپنی معیشت کو نظر انداز کرتا ہے، چاہے اس کے پاس سو ایٹم بم ہوں، وہ دیرپا طاقت نہیں بن سکتا۔ توپ کا دھواں ختم ہو جاتا ہے، لیکن خزانے کی کمی سلطنتوں کو ہمیشہ کے لیے خالی کر دیتی ہے۔
