بلاگ

پی ٹی آئی کی تیرہ سالہ کارکردگی ایک باشعور لڑکی کے سوال نے اڑا کر رکھ دی

Abdul Sattar

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نوجوانوں کے ایک کنونشن سے خطاب کر رہے تھے، حسب روایت اپنی ایماندارانہ کارکردگی اور پارٹی پوزیشن کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے فرما رہے تھے کہ اس بیچ سوال پوچھنے کی غرض سے ایک خاتون اپنا ہاتھ بلند کر دیتی ہے، اجازت ملنے پر وہ کچھ اس طرح سے سوال کرتی ہے،

” ہمارے صوبے کی نسبت باقی صوبوں میں چوروں کی حکومت ہے لیکن وہاں ترقی کی شرح بڑھ رہی ہے، جبکہ ہمارے ہاں تو ایک ایماندار حکومت ہے تو پھر ہمارا صوبہ ترقی کیوں نہیں کر رہا ہے“ ؟

سوال کا سیدھا جواب دینے کی بجائے وزیراعلیٰ کہتے ہیں،
” اس سے بڑھ کر اور ترقی کیا ہو سکتی ہے کہ آپ اپنے وزیراعلیٰ سے ڈائریکٹ سوال کر رہی ہیں“

جب زیادہ شور شرابا ہونے لگا تو وزیراعلیٰ نے یہ کہتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی کہ آپ کا تعلق کسی اور پارٹی سے لگتا ہے، مطلب یہ ہوا کہ موصوف کی پارٹی میں تو دولے شاہ کے چوہے رہتے ہیں جن کو محض ایمانداری کا راگ الاپتے رہنے کی تربیت دی گئی تھی سوال پوچھنے کی نہیں، یہ سوال ضرور کسی مخالف پارٹی کی طرف سے آیا ہو گا، ورنہ ہماری پارٹی کا تو کوئی بھی فرد اپنے رہنما سے سوال پوچھنے کی گستاخی نہیں کر سکتا۔

اس خاتون کی جرات کو سلام جس کے ایک سوال نے پی ٹی آئی کی ایک صوبہ میں تیرہ سالہ کارکردگی کو چند سیکنڈ میں اڑا کر رکھ دیا، وزیراعلیٰ کے پاس کارکردگی کے حوالے سے دکھانے اور بتانے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں تو پھر کیا بتاتے؟

گالم گلوچ، چور چور، نہیں چھوڑیں گے اور جیلوں میں ڈالنے ایسے شبدوں کے علاوہ ان کے دامن میں اور ہے بھی کیا؟

کروڑوں نوکریاں، لاکھوں گھر اور یہاں دوسرے ممالک سے آ کر لوگ نوکریاں تلاش کریں گے وغیرہ، یہ سب دعوے ہم نے سن رکھے ہیں، ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں یہ دعوے پورے نہیں ہو پائے، اس سے بڑا المیہ تو یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں 13 سالہ اقتدار کے باوجود بھی کارکردگی زیرو ہے اور اگر کوئی باشعور شہری سوال پوچھتا ہے تو جواب دینے کی بجائے مخالف پارٹی کا بندہ کہہ کر ٹرخا دیا جاتا ہے۔

سوال تو یہاں ڈکٹیٹر سے بھی پوچھے گئے ہیں، سوال کا تعلق شعور اور بصیرت سے ہوتا ہے اور ہمارے عوام باشعور ہیں اور اسی شعور کا مظاہرہ خیبر پختونخوا کے و زیرِ اعلیٰ کے سامنے خاتون نے کیا ہے، یہ کہنا کوئی مناسب رویہ نہیں ہے کہ آپ اپنے وزیراعلیٰ کے سامنے سوال کر رہی ہیں، کیا مطلب، کیا آپ سے سوال نہیں پوچھا جاسکتا؟

یہ دھرتی ابھی مکمل طور پر بانجھ نہیں ہوئی، یہاں سوال پوچھنے والے اور سوالوں کی آبیاری کرنے والے موجود ہیں، شعور اور سوال کو عقیدت کے بوجھ تلے دبایا نہیں جا سکتا، بھلے جتنے مرضی منصوبے بنا لیے جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ارتقائی مراحل اپنی سمت کی طرف بڑھتے رہتے ہیں۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW