کارخانے سے باجے تک

گیارہ اگست 1947 ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں قومی پرچم پیش کیا گیا۔ لیاقت علی خان نے اس پرچم کو ایک ایسے ملک کی علامت قرار دیا تھا جو آزادی، حریت اور قومی وحدت کے اصولوں پر آگے بڑھے گا۔ اس وقت پاکستان محض ایک نیا ملک نہیں تھا؛ یہ ایک ایسا خواب تھا جسے ایک نسل کو اپنے ہاتھوں سے حقیقت بنانا تھا۔
وہ نسل شکایتوں میں نہیں پڑی۔ پاکستان زرعی معیشت تھا، صنعتی بنیاد کمزور تھی، لیکن چند ہی برسوں میں صنعت کا پہیہ چل پڑا۔ ساٹھ کی دہائی تک کپڑے، سیمنٹ، چمڑے اور خوراک کے ساتھ مشینیں، ٹریکٹر، ٹرک اور صنعتی سامان بنانے کی صلاحیت پیدا ہونے لگی۔
لاہور کی بٹالہ انجینئرنگ کمپنی، بیکو، اس صنعتی سفر کی ایک اہم مثال تھی۔ تقسیم کے بعد لاہور منتقل ہونے والی اس کمپنی نے اسٹیل فاؤنڈری، رولنگ مل، مشین ٹولز، ڈیزل انجن، پمپ، کرین، برقی موٹر اور دوسری انجینئرنگ مصنوعات تیار کیں۔ اس کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1960 ء میں توسیع کے لیے اسے کوٹ لکھپت میں 247 ایکڑ زمین درکار ہوئی۔ ایک پاکستانی نجی ادارہ ایک چھوٹی ورکشاپ سے بڑھ کر صنعتی کمپلیکس بن رہا تھا۔ اسی شہر میں اتفاق فاؤنڈری بھی ترقی کر رہی تھی۔ میاں محمد شریف نے فاؤنڈری سے آغاز کیا اور اسے فولاد اور انجینئرنگ کے شعبے تک پہنچایا۔ کراچی میں گندھارا انڈسٹریز ٹرک اور بسوں کی اسمبلی اور مقامی پرزہ سازی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ رانا ٹریکٹرز اینڈ ایکوپمنٹ نے میسی فرگوسن کے ساتھ ٹریکٹروں کی مقامی اسمبلی شروع کردی تھی۔ ریاست بھی اس صنعتی سفر میں شریک تھی۔ پاکستان مشین ٹول فیکٹری 1968 ء میں قائم ہوئی، ٹیکسلا میں ہیوی مکینیکل کمپلیکس کا منصوبہ آگے بڑھا اور 1971 ء میں پیداوار شروع ہوئی۔ کراچی شپ یارڈ جہاز سازی اور بھاری انجینئرنگ میں مصروف تھا جبکہ مغلپورہ ورکشاپ ریلوے انجینئرنگ کا اہم مرکز تھی۔
یہ واقعات بتاتے ہیں کہ پاکستان صرف زرعی پیداوار تک محدود رہنے کے بجائے مشین، انجن اور صنعتی سامان بنانے والی معیشت بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ پھر دولت کے ارتکاز کا سوال سامنے آیا۔ 1968 ء میں ڈاکٹر محبوب الحق نے 22 بڑے کاروباری خاندانوں کی نشاندہی کی۔ ان میں آدم جی، باوانی، داؤد، سیگال، کالونی، ولیکا، فینسی، جلیل، کریسنٹ، وزیر علی، گندھارا، اصفہانی، حبیب، خیبر، نشاط، بیکو، گل احمد، آراگ، حافظ، کریم، مل والا اور دادا شامل تھے۔
چند خاندانوں میں صنعتی اور مالی دولت کا ارتکاز ایک حقیقی مسئلہ تھا۔ مگر اس مسئلے کے کئی ممکنہ حل تھے : اجارہ داری توڑی جاتی، مسابقت بڑھائی جاتی، ٹیکس کا نظام بہتر کیا جاتا، مزدوروں کے حقوق مضبوط کیے جاتے اور نئے کاروباری طبقات کے لیے راستہ کھولا جاتا۔ لیکن ملک نے قومیانے کا راستہ اختیار کیا۔ 1972 ء میں بڑی صنعتوں اور بینکوں سمیت متعدد کاروباری ادارے ریاستی ملکیت میں چلے گئے۔ یہیں سے پاکستان کے صنعتی سفر میں ایک بنیادی موڑ آیا۔
ریاست ملکیت حاصل کر سکتی تھی، لیکن صنعت کا مزاج محض ملکیت کی تبدیلی سے نہیں بدلتا۔ صنعت کو منڈی کی سمجھ، تیز فیصلوں، تحقیق، جدت، سرمایہ کاری اور انتظامی آزادی درکار ہوتی ہے۔ جب کاروباری فیصلے سیاسی اور سرکاری نظام کے تابع ہوجائیں تو صنعت کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور سرمایہ کاری کا اعتماد کمزور پڑتا ہے۔ اس کا اثر صرف صنعت کار تک محدود نہیں رہتا۔ فیکٹری بند یا کمزور ہوتی ہے تو مزدور کا روزگار جاتا ہے، انجینئر کی صلاحیت ضائع ہوتی ہے، سپلائر کا کاروبار سکڑتا ہے اور نوجوان کے لیے ایک ممکنہ ملازمت ختم ہو جاتی ہے۔
پھر 1971 ء میں مشرقی پاکستان الگ ہو گیا۔ ڈھاکا، نارائن گنج، چٹاگانگ اور دوسرے صنعتی و تجارتی مراکز پاکستان سے جدا ہو گئے۔ ملک نے ایک بڑا معاشی حصہ کھو دیا اور باقی پاکستان میں بھی معاشی تسلسل کو شدید دھچکا پہنچا۔
اس کے بعد ہماری معاشی کمزوری نے معاشرتی تقسیم کو بھی گہرا کیا۔
صنعت کار اور مزدور، جاگیردار اور شہری متوسط طبقہ، مرکز اور صوبے، زبان اور علاقہ، سیاسی جماعت اور سیاسی جماعت۔ اختلافات رفتہ رفتہ مکالمے کے بجائے شناختوں کی کشمکش بنتے گئے۔ آج سوشل میڈیا نے اس تقسیم کو ایک نئی رفتار دے دی ہے۔ ہر شخص کے ہاتھ میں اپنا اخبار، اپنا چینل اور اپنا منبر ہے۔ ہم عموماً وہی سنتے ہیں جس سے اتفاق کرتے ہیں اور مخالف رائے کو سمجھنے کے بجائے رد کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک ہی ملک میں کئی الگ الگ سچائیوں کے جزیرے بن گئے ہیں۔
یہی تضاد ہماری معیشت میں بھی نظر آتا ہے۔ ہم صنعت چاہتے ہیں مگر صنعت کار سے بدگمان ہیں۔ سرمایہ کاری چاہتے ہیں مگر سرمایہ کار کو پالیسی کا تسلسل نہیں دیتے۔ روزگار چاہتے ہیں مگر نئی صنعت کے لیے وہ ماحول پیدا نہیں کرتے جس میں سرمایہ، ٹیکنالوجی اور ہنر اکٹھے ہو سکیں۔
پھر ہم پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں بڑے صنعتی ادارے کیوں نہیں بنتے۔
بڑے ادارے چند سال میں نہیں بنتے۔ انہیں کئی دہائیوں کی سرمایہ کاری، تحقیق، انتظامی تجربے، ٹیکنالوجی اور پالیسی کے تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیکو اور اتفاق کی ابتدائی داستانیں کم از کم یہ ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان میں صنعتی صلاحیت اور کاروباری ذہن کی کمی نہیں تھی۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس صلاحیت کو مستقل بنیاد فراہم نہیں کی۔ ہمیں ماضی کے 22 خاندان واپس نہیں چاہئیں۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں 22 خاندانوں کے بجائے 22 ہزار نئے کاروباری ادارے پیدا ہوں۔ چھوٹی ورکشاپ بڑی صنعت بن سکے، مقامی کمپنی عالمی منڈی تک پہنچ سکے اور نوجوان صرف ملازمت کا امیدوار نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والا بھی بن سکے۔
اس کے لیے نہ سرمایہ دار دشمن چاہیے اور نہ مزدور سیاسی نعرہ۔ سرمایہ محفوظ ہو مگر اجارہ داری نہ ہو؛ صنعت ترقی کرے مگر مزدور کے حقوق پامال نہ ہوں ؛ ریاست مضبوط ہو مگر کاروبار چلانے کے بجائے ایسا ماحول فراہم کرے جس میں کاروبار ترقی کرسکے۔ یہی معاشی توازن ہے اور یہی حقیقی آزادی کی بنیاد بھی۔
آزادی صرف اپنا پرچم حاصل کرنے کا نام نہیں۔ آزادی یہ بھی ہے کہ نوجوان اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکے، صنعت کار اعتماد کے ساتھ سرمایہ لگا سکے، مزدور عزت سے روزی کما سکے اور ریاست شہری کی صلاحیت کو رکاوٹ کے بجائے قوت بنائے۔
پاکستان بنانے والی نسل نے آزادی کو جشن سے پہلے ذمہ داری سمجھا تھا۔ انہوں نے ہجرت کی، ادارے قائم کیے، کارخانے لگائے، بینک بنائے اور ایک ایسے مستقبل میں سرمایہ لگایا جس کی کوئی ضمانت ان کے پاس نہیں تھی۔
ہم نے رفتہ رفتہ آزادی کو جشن میں بدل دیا۔
اگست آتا ہے تو بازار جھنڈیوں سے بھر جاتے ہیں، گاڑیوں پر پرچم سجتے ہیں، گلیاں روشن ہوتی ہیں اور بچوں کے ہاتھوں میں باجے آ جاتے ہیں۔ یہ خوشی بھی ضروری ہے۔ مگر قوم صرف جشن سے آگے نہیں بڑھتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ پرچم لہرانے کے بعد ہم کیا تعمیر کرتے ہیں؟ اگر ہماری آزادی کا سب سے بڑا اظہار صرف شور رہ جائے اور تعمیر پس منظر میں چلی جائے تو ہمیں رک کر سوچنا ہو گا۔
جن لوگوں نے پاکستان بنایا، انہوں نے آزادی کا باجا نہیں بجایا تھا؛ انہوں نے پاکستان بنایا تھا۔ اب ہماری نسل کے سامنے بھی ایک انتخاب ہے : باجا بجاتے رہیں یا تعمیر شروع کریں۔
