بلاگ

شادی کے نام پر پشتون نوجوان نسل پر بڑھتا سماجی دباؤ

Abdulrehman Saqib

نوجوانی کی کچھ نادانیاں انسان کو برسوں تک سہنا پڑتی ہیں۔ شاید وہی شخص اس تکلیف کو بہتر سمجھ سکتا ہے جو اپنی کسی پرانی غلطی یا فیصلے کا بوجھ آج بھی اٹھائے پھر رہا ہو۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اکثر انسان کی پوری زندگی کو اس کے کسی ایک واقعے، فیصلے یا غلطی سے جوڑ دیتے ہیں۔ پھر اسے اس کے موجودہ کردار اور صلاحیت کے بجائے ماضی کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔

بلوچستان کے بعض پشتون علاقوں میں شادی کے معاملے میں بھی ایسی سوچ دکھائی دیتی ہے۔ اگر کسی نوجوان کی عمر 28 برس سے تجاوز کر جائے تو بعض خاندانوں میں اسے شادی کے لیے موزوں امیدوار سمجھنے کے بجائے اس کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگتا ہے۔ اس کا خاندان، ماضی، روزگار، آمدن اور سماجی حیثیت سب کچھ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شادی کے لیے انسان کے کردار سے زیادہ اس کی سماجی اور معاشی حیثیت اہم ہو گئی ہو۔

یہ صورتحال نوجوانوں پر دباؤ ڈالتی ہے۔ ایک نوجوان بہتر روزگار اور آمدن کی تلاش میں اپنے گھر اور علاقے سے دور جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ کوئی دوسرے شہر کا رخ کرتا ہے، کوئی بیرونِ ملک روزگار کی کوشش کرتا ہے اور کوئی قرض لے کر اپنی مالی حالت بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ مقصد اکثر ایک ہی ہوتا ہے : معاشرے کی نظر میں خود کو شادی کے قابل ثابت کرنا۔

پشتون معاشرے کے بعض علاقوں میں شادی کے معاملات میں مالی حیثیت بھی ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔ ایک نوجوان جس کی ماہانہ آمدن 20 یا 30 ہزار روپے ہو، اس کے لیے موجودہ مہنگائی میں گھر چلانا ہی مشکل ہے، تو شادی کے اخراجات اور اس سے وابستہ دیگر ذمہ داریاں اس کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں۔

ایسے حالات میں نوجوان اپنی زندگی کے ابتدائی برس ہی معاشی جدوجہد میں گزار دیتا ہے۔ وہ بہتر روزگار کی تلاش میں دور دراز علاقوں کا رخ کرتا ہے اور کبھی کبھی اپنی زندگی کے دوسرے اہم پہلوؤں کو بھی صرف اس لیے نظرانداز کر دیتا ہے کہ اسے معاشرے میں ایک ”قابل“ شخص سمجھا جائے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان کی قدر اس کی جیب سے طے ہونی چاہیے؟

اگر کسی نوجوان کو شادی کے لیے مناسب سمجھنے سے پہلے اس کی آمدن دیکھی جائے تو پھر اس کے کردار، تعلیم، ذمہ داری، اخلاق اور انسانیت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟

اسی مسئلے کا ایک دوسرا رخ کم عمری کی منگنی اور شادی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ بعض والدین اس خدشے کے تحت اپنے بچوں کی کم عمری میں منگنی یا شادی کر دیتے ہیں کہ کہیں مستقبل میں انہیں شادی کے لیے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ والدین کی نیت شاید تحفظ اور اطمینان کی ہو، لیکن اس فیصلے کے اثرات بچے کی تعلیم، ذہنی نشوونما اور مستقبل کے انتخاب پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

کم عمری کی منگنی بھی اپنے اندر کئی سوالات رکھتی ہے۔ جو بچہ ابھی اپنی تعلیم، شخصیت اور مستقبل کے بارے میں خود واضح فیصلہ کرنے کی عمر میں نہیں پہنچا، کیا وہ اپنی پوری زندگی سے متعلق فیصلے کے نتائج سمجھ سکتا ہے؟

یہاں مقصد والدین کی نیت پر سوال اٹھانا نہیں، بلکہ اس سوچ کو سمجھنا ہے جس کے تحت بعض اوقات بچوں کے مستقبل کے فیصلے سماجی دباؤ اور رسم و رواج کی وجہ سے جلدی میں کر دیے جاتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ کیا کم عمری میں منگنی کر دینا واقعی مسئلے کا حل ہے، یا اس سے ایک نیا مسئلہ جنم لیتا ہے؟ بچے کی تعلیم کہاں جائے گی؟ اس کی اپنی پسند کیا ہے؟ وہ مستقبل میں اس فیصلے کو کس نظر سے دیکھے گا؟ اور سب سے اہم بات، کیا اس کی رائے بھی اس فیصلے میں شامل ہے؟

ان سوالات کو نظرانداز کرنا مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

روایات کسی بھی معاشرے کی شناخت کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن روایت کا مقصد انسان کی زندگی کو بہتر بنانا ہونا چاہیے، اسے مشکل بنانا نہیں۔ اگر کوئی رسم نوجوانوں کو غیر ضروری معاشی دباؤ، ذہنی پریشانی یا اپنے گھر اور علاقے سے دور جانے پر مجبور کرتی ہے تو اس روایت پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

شادی زندگی کا ایک اہم فیصلہ ہے۔ اسے صرف عمر، دولت، خاندان کی حیثیت یا معاشرتی دباؤ سے نہیں جوڑنا چاہیے۔ باہمی رضامندی، ذمہ داری، کردار، ذہنی پختگی اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت بھی اس فیصلے کا حصہ ہونی چاہیے۔

شاید ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کے لیے شادی کو ایک خوشگوار زندگی کا آغاز بنا رہے ہیں یا اسے ایک ایسی سماجی دوڑ میں تبدیل کر رہے ہیں جس میں انسان کی قدر اس کی جیب سے ناپی جاتی ہے۔

اگر ہم ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی روایات کو ختم کرنے کے بجائے ان کا جائزہ لینا ہو گا۔ جو روایت لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے، اسے برقرار رکھنا چاہیے ؛ لیکن جو روایت کسی انسان کو غیر ضروری دباؤ میں ڈالتی ہے یا اس کے بنیادی فیصلوں کو محدود کرتی ہے، اس پر سوال ضرور اٹھانا چاہیے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW