عقیدت کے ہجوم میں فکر کی تنہائی

تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے زمانے سے آگے دیکھتی ہیں۔ وہ صرف اپنے عہد کے مسائل بیان نہیں کرتیں بلکہ آنے والی صدیوں کے لیے سوال چھوڑ جاتی ہیں۔ ابن خلدون بھی انہی نابغہ روزگار انسانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخ کو محض بادشاہوں، جنگوں اور فتوحات کا سلسلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے انسانی معاشروں کے عروج و زوال کا آئینہ قرار دیا۔
ان کی شہرۂ آفاق کتاب ”مقدمہ ابن خلدون“ دراصل انسانی تہذیب، ریاست، سیاست اور معاشرت کے ان اصولوں کا مطالعہ ہے جن پر قوموں کی زندگی قائم رہتی ہے۔ اس کتاب میں ایک مختصر مگر معنی خیز جملہ ہے
”نظم وہ کام کر دیتا ہے جو محض طاقت نہیں کر سکتی۔“
یہ چند الفاظ ابن خلدون کی پوری فکر کا خلاصہ ہیں۔ ان کا بنیادی سوال یہی تھا کہ قومیں عروج کیسے حاصل کرتی ہیں اور پھر زوال کی طرف کیوں چلی جاتی ہیں؟ ان کے نزدیک کسی ریاست کی بنیاد صرف تلوار، دولت یا اقتدار نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے اجتماعی نظم، عدل، قانون اور باہمی اعتماد کا نظام کارفرما ہوتا ہے۔
طاقت کسی خطے پر قبضہ تو کر سکتی ہے، لیکن دلوں پر حکومت نہیں کر سکتی۔ خوف لوگوں کو خاموش تو کر سکتا ہے، لیکن انہیں کسی نظام کا مخلص حصہ نہیں بنا سکتا۔ معاشرے اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب شہریوں کو یقین ہو کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے، انصاف کسی طاقتور کی مرضی کا محتاج نہیں اور ریاست کسی فرد نہیں بلکہ اصولوں کے تابع ہے۔
ابن خلدون نے صدیوں پہلے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ قومیں افراد کے کارناموں سے نہیں بلکہ اداروں کی مضبوطی سے بنتی ہیں۔ شخصیات تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہیں، مگر پائیدار ترقی صرف مضبوط اداروں کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ جب قانون شخصیتوں کے تابع ہو جائے، جب انصاف طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ معیار اختیار کر لے، اور جب اجتماعی مفاد پر ذاتی مفاد غالب آ جائے تو بظاہر مضبوط نظر آنے والی ریاست اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
دنیا کے کامیاب معاشروں نے اسی حقیقت کو اپنی ترقی کا اصول بنایا۔ انہوں نے فرد کو قانون کے تابع کیا، اقتدار کو احتساب کا پابند بنایا اور نظم و ضبط کو قومی کردار کا حصہ بنایا۔ ان معاشروں کی طاقت صرف وسائل میں نہیں بلکہ اس اجتماعی شعور میں ہے جس نے انہیں یہ سکھایا کہ ادارے افراد سے بڑے ہوتے ہیں اور اصول وقتی مفادات سے زیادہ اہم۔
لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اکثر عظیم خیالات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کے بجائے انہیں صرف احترام اور عقیدت کا موضوع بنا دیتے ہیں۔ ہم ابن خلدون کی عظمت بیان کرتے ہیں، ان کے نام پر گفتگو کرتے ہیں، مگر ان سوالات کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں جو انہوں نے ہمارے لیے چھوڑے تھے۔ کیا ہمارا اجتماعی نظام واقعی نظم، عدل اور قانون کی بنیاد پر قائم ہے؟ کیا ہم اپنے رویوں کو ان اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے تیار ہیں؟
یہ معاملہ صرف ابن خلدون تک محدود نہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح، محمد اقبال اور دیگر عظیم رہنماؤں کے ساتھ بھی ہمارا رویہ اکثر یہی رہا ہے۔ ہم شخصیات کو بلند ترین مقام دیتے ہیں، ان کے ناموں کا احترام کرتے ہیں، مگر ان کے افکار کو اپنے اجتماعی کردار، اداروں اور روزمرہ فیصلوں کا حصہ بنانے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
شاید یہی انسانی فطرت کا ایک بڑا تضاد ہے کہ انسان تبدیلی کے خواب تو دیکھتا ہے، مگر اکثر ایسی تبدیلی چاہتا ہے جو اسے خود تبدیل نہ کرے۔ وہ دنیا کو ”میرے مطابق“ ڈھالنا چاہتا ہے، لیکن اپنے آپ کو کسی اعلیٰ اصول کے مطابق ڈھالنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
قوموں کا سفر نعروں سے نہیں بدلتیں۔ حقیقی تبدیلی اس وقت آتی ہے جب خیالات کتابوں سے نکل کر کردار کا حصہ بن جاتے ہیں۔ نظم، انصاف اور قانون محض حکومتی اصطلاحات نہیں بلکہ تہذیبی عادات ہیں۔ یہ وہ رویے ہیں جو خاندانوں، اداروں اور معاشروں میں پروان چڑھتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ دنیا ”میرے مطابق“ کیوں نہیں چلتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ”میں“ خود کو کسی بلند تر اصول، کسی بہتر نظم اور کسی اجتماعی مقصد کے مطابق ڈھالنے کے لیے تیار ہوں۔
تاریخ قوموں کا فیصلہ ان کے دعووں سے نہیں بلکہ ان کے کردار سے کرتی ہے۔ آنے والی نسلیں یہی دیکھیں گی کہ ہم نے اپنے عظیم مفکرین کو صرف عقیدت کے پھول پیش کیے تھے یا ان کے خیالات کو اپنی زندگی کا راستہ بھی بنایا تھا۔
