اگر تیسری عالمی جنگ چھڑ گئی تو

پہلی عالمی جنگ ایک قتل سے شروع ہوئی، دوسری عالمی جنگ ایک حملے سے، لیکن اگر تیسری عالمی جنگ ہوئی تو شاید تاریخ یہ فیصلہ ہی نہ کر سکے کہ اس کا پہلا گولہ کہاں داغا گیا تھا۔ ممکن ہے مورخ لکھیں کہ یہ جنگ اس دن شروع ہوئی جب معیشت کو ہتھیار بنایا گیا، جب پابندیاں بارود سے زیادہ مہلک ثابت ہوئیں، جب مصنوعی ذہانت نے رائے عامہ کو نشانہ بنایا، جب سمندر، خلاء اور سائبر دنیا میدانِ جنگ بن گئے، یا شاید اس وقت جب مختلف علاقائی جنگیں ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایک عالمی تصادم میں تبدیل ہو گئیں۔
آج دنیا اسی موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔
یوکرین اور روس کی جنگ اب صرف یورپ کی جنگ نہیں رہی۔ ایران، مشرقِ وسطیٰ، بحیرہ اسود، بحیرہ خزر، بحیرہ احمر، جنوبی بحیرہ چین اور تائیوان کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک دوسرے سے الگ الگ واقعات نہیں رہے بلکہ ایک ہی عالمی شطرنج کے مختلف خانے بنتے جا رہے ہیں۔ ہر نئی جھڑپ کے بعد سوال یہ نہیں رہتا کہ جنگ کہاں ہوئی، بلکہ یہ کہ اس کا اثر کہاں تک جائے گا۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق یوکرین نے ایران کے ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا جس دو ملاح جان بحق ہو گئے، یوکرین کا موقف ہے کہ ایران روس کی جنگی مشین کو سہارا دے رہا ہے۔ اگر یہ تصادم مزید بڑھتا ہے تو یوکرین اور ایران پہلی مرتبہ براہِ راست ایک دوسرے کے خلاف محاذ پر کھڑے ہو سکتے ہیں، اور اس کے اثرات روس سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک محسوس ہوں گے۔
ایسے میں اگر دنیا ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھتی ہے تو ممکنہ اتحاد کیا ہوں گے؟
اس جنگ کو پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے روایتی اتحادوں کے تناظر میں سمجھنا غلطی ہو گی۔ اس مرتبہ اتحاد نظریات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مفادات کی بنیاد پر تشکیل پائیں گے۔
امریکہ اپنی روایتی اتحادی قوتوں کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ یورپ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیٹو کے بیشتر ارکان فطری طور پر واشنگٹن کے قریب ہوں گے۔ ان کے لیے یہ جنگ صرف ایران یا روس کے خلاف نہیں بلکہ موجودہ عالمی نظام کے تحفظ کی جنگ قرار دی جائے گی۔
دوسری طرف ایران تنہا نہیں ہو گا۔ روس اس کا اہم تزویراتی شریک بن سکتا ہے، کیونکہ ماسکو پہلے ہی مغرب کے ساتھ براہِ راست تصادم میں ہے۔ چین غالباً کھلے میدان میں فوج بھیجنے سے گریز کرے، لیکن اقتصادی، سفارتی اور تکنیکی سطح پر ایران اور روس کو سہارا دے سکتا ہے۔ شمالی کوریا بھی اسی محور کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے، اگرچہ اس کا کردار محدود رہنے کا امکان زیادہ ہے۔
لیکن اس پوری تصویر کا سب سے دلچسپ اور پیچیدہ کردار عرب دنیا ہو گی۔
ایک زمانہ تھا جب اسرائیل اور عرب ریاستیں ایک دوسرے کی مخالف سمجھی جاتی تھیں۔ آج صورتِ حال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ خلیجی عرب ممالک کے لیے سب سے بڑا سوال فلسطین نہیں بلکہ اپنی ریاستوں کی سلامتی، تیل کی برآمدات، بحری راستوں کا تحفظ اور علاقائی استحکام ہے۔ ایران کے ساتھ ان کے اختلافات محض نظریاتی نہیں بلکہ جغرافیائی، سیاسی اور معاشی بھی ہیں۔
اسی لیے اگر ایران اور مغربی اتحاد کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑتی ہے تو امکان ہے کہ متعدد عرب حکومتیں کھل کر یا پس پردہ امریکہ اور مغربی اتحاد کی حمایت کریں۔ ان کی فضائی حدود، بندرگاہیں، انٹیلی جنس تعاون اور لاجسٹک سہولتیں اس جنگ کا اہم حصہ بن سکتی ہیں، اگرچہ وہ اپنے عوامی ردِعمل کے خوف سے براہِ راست جنگی کردار سے گریز کریں۔
ترکی بھی آسان فیصلے کی پوزیشن میں نہیں ہو گا۔
وہ نیٹو کا رکن ہے، مگر روس کے ساتھ اس کے مفادات بھی ہیں۔ ایران اس کا ہمسایہ ہے، شام اس کی سلامتی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کی اپنی علاقائی خواہشات ہیں۔ اگر جنگ ترکی کی سرحدوں تک پہنچتی ہے تو انقرہ غیر جانب داری برقرار نہیں رکھ سکے گا، لیکن وہ آخری لمحے تک کسی ایک بلاک کا مکمل حصہ بننے سے بچنے کی کوشش کرے گا۔
اور اب بات بھارت کی۔
ممکنہ عالمی جنگ میں شاید سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش بھارت کرے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں نئی دہلی نے اپنی خارجہ پالیسی کو ایک اصول پر استوار کیا ہے : ہر طاقت سے تعلق، کسی طاقت کا تابع نہیں۔ بھارت امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون بھی بڑھا رہا ہے، کواڈ کا رکن بھی ہے، یورپ کے ساتھ معاشی تعلقات بھی مضبوط کر رہا ہے، لیکن اسی دوران روس سے اسلحہ بھی خریدتا ہے، روسی تیل بھی لیتا ہے اور ایران کی بندرگاہ چابہار پر بھی حریصانہ نظر جمائے ہوئے ہے۔ یہی بھارت کی سب سے بڑی سفارتی طاقت ہے۔
اگر عالمی جنگ چھڑتی ہے تو بھارت غالباً مغربی اتحاد کے قریب رہے گا، کیونکہ اس کی سب سے بڑی تزویراتی تشویش چین ہے۔ امریکہ بھی چین کے مقابلے میں بھارت کو ایک قدرتی توازن سمجھتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود نئی دہلی روس کے ساتھ اپنے تعلقات مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا، کیونکہ اس کی فوجی صلاحیت کا ایک بڑا حصہ اب بھی روسی ٹیکنالوجی پر منحصر ہے۔
بھارت اس جنگ میں ایک سپاہی سے زیادہ ایک موقع شناس ریاست کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ وہ مغرب سے سرمایہ کاری لے گا، روس سے توانائی حاصل کرے گا، مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تجارت بڑھائے گا اور اگر عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی تو خود کو متبادل پیداواری مرکز کے طور پر پیش کرے گا۔ مختصر یہ کہ بھارت کی کوشش ہو گی کہ جنگ دوسروں کی ہو اور فائدہ اس کی معیشت اٹھائے۔
پاکستان کی صورتِ حال اس سے بالکل مختلف ہو گی۔
پاکستان کے لیے یہ جنگ صرف خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال ہو گی۔ ایک طرف چین اس کا سب سے اہم تزویراتی شراکت دار ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک پاکستان کی معیشت اور لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار سے جڑے ہوئے ہیں۔ تیسری طرف ایران اس کا ہمسایہ ہے، جہاں کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات براہِ راست بلوچستان تک پہنچ سکتے ہیں۔
اسلام آباد کے لیے شاید سب سے دانشمندانہ راستہ یہی ہو گا کہ وہ کسی عسکری اتحاد کا حصہ بننے کے بجائے سفارتی توازن برقرار رکھے، اپنی سرحدوں کی حفاظت کرے، داخلی استحکام کو اولین ترجیح دے اور جہاں ممکن ہو، تنازعات میں ثالثی کی کوشش کرے۔ پاکستان کے لیے یہ رسی پر چلنے کا کھیل نہیں ہو گا بلکہ تلوار کی دھار پر ننگے پاؤں چلنے کے مترادف ہو گا۔
اس پوری کشمکش میں ایک اور حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔
ہم اکثر مشرق کے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہیں، اور بجا کرتے ہیں۔ عرب دنیا میں آمریت، ایران میں داخلی پابندیاں، کئی مسلم ممالک میں بدعنوانی، کمزور ادارے اور محدود سیاسی آزادی ایک حقیقت ہیں۔ لیکن دوسری طرف مغرب بھی اخلاقی معصومیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ جمہوریت، انسانی حقوق، آزادیِ اظہار اور بین الاقوامی قانون کے اصول اکثر طاقتور ریاستوں کے مفادات کے تابع دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں مفاد اجازت دے وہاں یہی اصول بلند آواز سے سنائی دیتے ہیں، اور جہاں مفاد آڑے آ جائے وہاں ان کی تشریح بدل جاتی ہے۔
بین الاقوامی عدالتیں بھی اسی آزمائش سے گزر رہی ہیں۔ اگر عالمی ادارے طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ معیار اختیار کریں تو ان پر اعتماد کمزور ہونا ناگزیر ہے۔ انصاف صرف ہونا کافی نہیں، انصاف ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے۔ شاید یہی موجودہ عالمی نظام کا سب سے بڑا بحران ہے۔
اس لیے اگر تیسری عالمی جنگ ہوئی تو وہ صرف ٹینکوں، میزائلوں اور جنگی جہازوں کی جنگ نہیں ہو گی۔ یہ معیشتوں کی جنگ ہوگی، مصنوعی ذہانت کی جنگ ہو گی، اطلاعات کی جنگ ہو گی، پابندیوں کی جنگ ہو گی، توانائی کی جنگ ہو گی، سمندری راستوں اور خلائی نظام کی جنگ ہو گی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بیانیوں کی جنگ ہو گی، جہاں ہر فریق خود کو مظلوم اور دوسرے کو ظالم ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔
لیکن تاریخ کا المیہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔
فیصلے دارالحکومتوں میں ہوتے ہیں، نقشے جرنیل بناتے ہیں، نظریات دانشور گھڑتے ہیں، مگر قبرستان ہمیشہ عام آدمی سے آباد ہوتے ہیں۔ شاید اسی لیے تیسری عالمی جنگ کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہو گا کہ کون جیتا۔
اس وقت سوال یہ ہے کہ کیا عالمی سیاست ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں طاقت نے قانون کو، مفاد نے اخلاقیات کو اور خوف نے عقل کو شکست دے دی ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر دنیا جنگ کے دہانے پر نہیں، بلکہ اس کے اندر کھڑی ہے۔
