ریلوے حادثات اور اجتماعی غفلت ایک پکارِ بیداری

بندن میاں آج پھر ریلوے اسٹیشن پر بیٹھے تھے مگر آج ان کے چہرے پر وہ مسکراہٹ نہیں تھی جو عام دنوں میں ان کی پہچان ہوا کرتی تھی ان کی آنکھوں میں عجیب سی اداسی تھی اور چہرے پر ایسے سوالات تھے جن کے جواب شاید کسی دفتر کی فائل میں بھی موجود نہیں تھے سامنے سے ایک ٹرین آہستہ آہستہ پلیٹ فارم پر داخل ہوئی تو بندن میاں نے اسے غور سے دیکھا اور پھر ایک گہری سانس لے کر بولے یہ لوہے کی پٹریوں پر چلنے والی صرف ایک ٹرین نہیں ہے اس میں سیکڑوں نہیں تو درجنوں خاندانوں کی امیدیں سفر کر رہی ہیں کسی کا بیٹا گھر واپس جا رہا ہے کسی کی بیٹی ماں سے ملنے جا رہی ہے کوئی مزدور روزگار کے بعد اپنے بچوں کے پاس لوٹ رہا ہے کوئی طالب علم اپنے خوابوں کی طرف جا رہا ہے کوئی مریض علاج کے لیے سفر کر رہا ہے اور کوئی بوڑھا شخص برسوں بعد اپنے کسی عزیز سے ملنے نکل پڑا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان سب کو محفوظ منزل تک پہنچانا بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے یا ہم نے حادثات کو بھی زندگی کا معمول سمجھ لیا ہے۔
بندن میاں نے سر اٹھایا اور کہا یہ اب کوئی نئی بات نہیں رہی کہ آئے روز کوئی نہ کوئی ٹرین پٹری سے اتر جاتی ہے کہیں بوگی پٹری سے اترتی ہے کہیں انجن جواب دیتا ہے کہیں سگنلنگ نظام سوال بن جاتا ہے کہیں پٹری کی حالت تشویش پیدا کرتی ہے اور کہیں کسی پل کی مضبوطی پر سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر حادثے کے بعد ہمیں حیرت ضرور ہوتی ہے جیسے یہ حادثہ پہلی مرتبہ ہوا ہو جیسے کسی کو پہلے سے معلوم ہی نہ ہو کہ ریلوے کے نظام میں خامیاں موجود ہیں جیسے کسی نے کبھی یہ بتایا ہی نہ ہو کہ پٹریاں پرانی ہیں بوگیاں خستہ حال ہیں سگنلنگ نظام کو جدید بنانے کی ضرورت ہے تکنیکی عملے کی کمی ہے اور کئی مقامات پر حفاظتی انتظامات سوالیہ نشان بن چکے ہیں بندن میاں نے قدرے طنزیہ انداز میں کہا شاید ہمارے ہاں حادثہ بھی اس وقت تک حادثہ نہیں بنتا جب تک وہ خبر نہ بن جائے اور خبر اس وقت تک اہم نہیں بنتی جب تک اس میں زخمیوں اور ہلاکتوں کی تعداد نہ لکھی جائے اور پھر جب خبر چند گھنٹوں بعد پرانی ہوجاتی ہے تو سب کچھ پھر معمول پر آ جاتا ہے مگر جس گھر میں کسی حادثے کا جنازہ پہنچتا ہے وہاں کچھ بھی معمول پر نہیں آتا وہاں ایک دروازہ ہمیشہ کسی کے انتظار میں کھلا رہتا ہے وہاں ایک ماں کی آنکھیں عمر بھر اپنے بیٹے کو تلاش کرتی رہتی ہیں وہاں ایک بیوی کی زندگی سے ہنسی رخصت ہوجاتی ہے وہاں بچے بڑے ہو جاتے ہیں مگر ان کے دل میں ایک خلا ہمیشہ موجود رہتا ہے اور کسی سرکاری رپورٹ میں اس خلا کی پیمائش نہیں کی جا سکتی۔
بندن میاں کہتے ہیں کہ افسوس ہمیں حادثے پر کم اور حادثے کے معمول بن جانے پر زیادہ ہونا چاہیے کیونکہ جب ایک واقعہ بار بار ہونے لگے تو وہ محض اتفاق نہیں رہتا وہ نظام کی کمزوری بن جاتا ہے اور جب نظام کی کمزوری معلوم ہونے کے باوجود اسے دور نہ کیا جائے تو پھر سوال صرف نا اہلی کا نہیں بلکہ ذمہ داری اور جواب دہی کا بھی بنتا ہے بندن میاں نے اسٹیشن کی پٹریوں کی طرف دیکھا اور بولے کبھی کسی نے سوچا ہے کہ یہ پٹریاں کتنے برسوں سے لوگوں کو منزلوں تک پہنچا رہی ہیں کبھی کسی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان کی مکمل فنی جانچ کب ہوئی تھی کہیں ریل کی پٹری نیچے سے کمزور تو نہیں کہیں جوڑ اپنی عمر پوری تو نہیں کرچکے کہیں زمین بیٹھ تو نہیں رہی کہیں پل اپنی گنجائش سے زیادہ بوجھ تو نہیں اٹھا رہے کہیں سگنلنگ کا نظام وقت کے تقاضوں کے مطابق ہے یا نہیں کہیں بوگیوں کے پہیے اور بریک مکمل محفوظ حالت میں ہیں یا صرف اس لیے چل رہے ہیں کہ ابھی تک کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا بندن میاں نے کہا یہی سب سے خطرناک سوچ ہے کہ ابھی تک بڑا حادثہ نہیں ہوا اس لیے سب ٹھیک ہے نہیں جناب سب ٹھیک نہیں ہوتا بعض اوقات حادثہ نہ ہونا حفاظت کی دلیل نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ خطرہ ابھی تک اپنی آخری حد تک نہیں پہنچا۔
بندن میاں کی آواز میں تلخی آ گئی انہوں نے کہا دنیا بھر میں جدید ادارے حادثے کا انتظار نہیں کرتے وہ حادثے کے امکان کو ختم کرنے کے لیے کام کرتے ہیں وہاں خطرے کی نشاندہی ہوتی ہے تو اسے رپورٹ سمجھ کر الماری میں نہیں رکھا جاتا بلکہ اس پر فوری کارروائی ہوتی ہے وہاں ایک معمولی فنی خرابی کو بھی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے کیونکہ ماہرین جانتے ہیں کہ بڑے حادثے اکثر چھوٹی چھوٹی غفلتوں سے جنم لیتے ہیں لیکن ہمارے ہاں عجیب روایت بن گئی ہے کہ پہلے نقصان ہو پھر اجلاس ہو پھر کمیٹی بنے پھر رپورٹ تیار ہو پھر ذمہ داروں کے تعین کی بات ہو اور پھر کچھ عرصے بعد عوام کو معلوم ہی نہ ہو کہ اس رپورٹ کا کیا بنا بندن میاں نے مسکرا کر کہا ہمارے ہاں کمیٹیاں بھی شاید ٹرینوں کی طرح ہیں چلتی بہت ہیں مگر منزل پر کم ہی پہنچتی ہیں ان کے اس جملے پر چند لوگ مسکرائے مگر بندن میاں فوراً سنجیدہ ہو گئے اور بولے نہیں یہ مذاق کا موضوع نہیں ہے یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم کسی کی زندگی کو انتظامی سستی کا شکار بنا دیں۔
بندن میاں کہتے ہیں کہ ریلوے کے ہر افسر کو ایک دن اپنے دفتر سے نکل کر کسی ریلوے اسٹیشن پر عام مسافروں کے درمیان بیٹھنا چاہیے اور ان کے چہروں کو غور سے دیکھنا چاہیے اسے دیکھنا چاہیے کہ ایک ماں اپنے بیٹے کو رخصت کرتے وقت کتنی دعائیں دیتی ہے اسے دیکھنا چاہیے کہ ایک بوڑھا باپ اپنے سامان کے ساتھ کتنی مشکل سے چل رہا ہے اسے دیکھنا چاہیے کہ ایک بچہ ٹرین کو دیکھ کر کتنی خوشی سے اچھلتا ہے اور پھر اسے اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا میں ان لوگوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے اپنی پوری ذمہ داری ادا کر رہا ہوں اگر جواب ہاں میں ہے تو اسے اپنے کام پر فخر ہونا چاہیے لیکن اگر دل کے کسی کونے سے جواب آئے کہ شاید کچھ کمی رہ گئی ہے تو اسے اسی لمحے اپنی اصلاح شروع کر دینی چاہیے بندن میاں کہتے ہیں کہ عہدہ صرف کرسی پر بیٹھنے کا نام نہیں عہدہ ایک امانت ہے اور اختیار ایک ذمہ داری ہے فائل پر کیے گئے دستخط کبھی کبھی صرف سیاہی کے نشان نہیں ہوتے بلکہ کسی انسان کی زندگی اور موت کے درمیان فیصلہ بن سکتے ہیں اگر کسی پٹری کی مرمت ضروری ہو اور اسے نظر انداز کر دیا جائے اگر کسی پل کی فنی جانچ ضروری ہو اور اسے مؤخر کر دیا جائے اگر کسی بوگی کو استعمال کے قابل نہ ہونے کے باوجود چلا دیا جائے اگر کسی سگنل کی خرابی کو معمولی سمجھ لیا جائے تو یہ سب معمولی فیصلے نہیں رہتے ان کے نتائج کبھی کبھی بہت بڑے ہوسکتے ہیں۔
بندن میاں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ ریلوے صرف ٹکٹ بیچنے اور مسافروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل فنی نظام ہے جس کی بنیاد تربیت یافتہ انسانوں مضبوط پٹریوں محفوظ پلوں جدید سگنلنگ موثر نگرانی بروقت مرمت اور مسلسل فنی معائنوں پر قائم ہوتی ہے اگر ان میں سے کسی ایک ستون کو نظر انداز کر دیا جائے تو پوری عمارت خطرے میں پڑ سکتی ہے مگر افسوس کہ ہم اکثر بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے عارضی مرمت اور وقتی انتظامات پر اکتفا کرتے ہیں کہیں پٹری کی مرمت ہوئی تو کچھ عرصے بعد پھر وہی مسئلہ سامنے آ جاتا ہے کہیں بوگی کو رنگ و روغن کر کے دوبارہ چلا دیا جاتا ہے مگر اس کے اندر چھپی فنی کمزوری پر توجہ نہیں دی جاتی کہیں سگنل درست کر دیا جاتا ہے مگر پورا نظام جدید بنانے کی ضرورت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور پھر جب حادثہ ہوجاتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی بندن میاں کہتے ہیں کہ تحقیقات ضرور ہونی چاہیے لیکن اصل تحقیق تو حادثے سے پہلے ہونی چاہیے تھی اصل سوال یہ نہیں کہ ٹرین پٹری سے کیوں اتری اصل سوال یہ ہے کہ پٹری کو اس حالت تک پہنچنے ہی کیوں دیا گیا اصل سوال یہ نہیں کہ بوگی کیوں الٹی اصل سوال یہ ہے کہ اس بوگی کی فنی جانچ وقت پر کیوں نہیں ہوئی اصل سوال یہ نہیں کہ سگنل کیوں ناکام ہوا اصل سوال یہ ہے کہ حفاظتی نظام میں ایسی خرابی کی گنجائش کیوں باقی رہی اور اصل سوال یہ نہیں کہ حادثے کے بعد کس کو معطل کیا جائے اصل سوال یہ ہے کہ حادثے سے پہلے کس نے خطرے کی نشاندہی کی تھی اور اس پر کیا کارروائی ہوئی تھی بندن میاں نے کہا کہ اگر کسی دفتر میں خطرے کی رپورٹ موجود تھی اور اسے نظر انداز کر دیا گیا تو صرف حادثے کے بعد کسی ایک ماتحت ملازم کو قربانی کا بکرا بنا دینا انصاف نہیں ہو گا ذمہ داری اس شخص تک بھی پہنچنی چاہیے جس کے پاس اختیار تھا مگر اس نے اختیار استعمال نہیں کیا جس کے پاس وسائل تھے مگر اس نے انہیں درست جگہ استعمال نہیں کیا جس کے پاس رپورٹ تھی مگر اس نے اسے سنجیدہ نہیں لیا کیونکہ احتساب کا مطلب صرف کسی ایک شخص کو سزا دینا نہیں بلکہ پورے نظام کی خامی کو تلاش کر کے اسے ختم کرنا ہے۔
بندن میاں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ ریلوے کے تکنیکی شعبے میں تجربہ کار اور ماہر افراد کی اہمیت کیا ہے ٹرین سیاست سے نہیں چلتی سفارش سے نہیں چلتی نعروں سے نہیں چلتی ٹرین فنی علم اور تجربے سے چلتی ہے پٹری تقریروں سے مضبوط نہیں ہوتی اسے انجینئر اور تکنیکی ماہر مضبوط بناتے ہیں سگنل وعدوں سے نہیں چلتے انہیں تربیت یافتہ عملہ چلاتا ہے بوگی تقریروں سے محفوظ نہیں ہوتی اسے باقاعدہ فنی معائنہ محفوظ بناتا ہے اور مسافر دعووں سے محفوظ نہیں ہوتے انہیں ایک مضبوط اور قابل اعتماد حفاظتی نظام محفوظ بناتا ہے بندن میاں نے کہا کہ اگر کسی ادارے میں میرٹ کے بجائے سفارش اہم ہو جائے اگر فنی عہدوں پر قابلیت کے بجائے تعلقات دیکھے جائیں اگر تجربے کے بجائے وقتی مفاد مقدم ہو جائے تو پھر حادثات کے امکانات بڑھتے جاتے ہیں اور کسی دن یہی چھوٹی چھوٹی کمزوریاں ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہو سکتی ہیں بندن میاں نے ایک لمحے کے لیے خاموش ہو کر کہا شاید ہم سب اس وقت تک سنجیدہ نہیں ہوتے جب تک حادثہ ہمارے اپنے گھر تک نہ پہنچ جائے ہم دوسروں کے نقصان کو چند لمحوں کا افسوس سمجھتے ہیں لیکن جب مصیبت اپنے دروازے پر دستک دیتی ہے تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ایک خبر میں لکھی ہوئی موت دراصل کسی خاندان کی پوری دنیا اجاڑ دیتی ہے آج اگر کسی دوسرے شہر میں ٹرین حادثے کا شکار ہوتی ہے تو ہم کہتے ہیں بہت افسوس ہوا اللہ رحم کرے لیکن اگر کل اسی ٹرین میں ہمارا بیٹا سفر کر رہا ہو تو یہی جملہ ہمارے لیے زندگی اور موت کا سوال بن جاتا ہے پھر ہمیں یاد آتا ہے کہ حفاظتی نظام مضبوط ہونا چاہیے تھا پھر ہمیں یاد آتا ہے کہ پٹری کی مرمت ہونی چاہیے تھی پھر ہمیں یاد آتا ہے کہ ذمہ داروں سے سوال ہونا چاہیے تھا مگر اس وقت شاید بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے بندن میاں کہتے ہیں کہ کسی بڑے سانحے کے بعد جاگنے سے بہتر ہے کہ آج ہی جاگ جائیں کیونکہ حادثے کے بعد کی بیداری صرف افسوس پیدا کرتی ہے جبکہ حادثے سے پہلے کی بیداری جانیں بچاتی ہے۔
بندن میاں کا سوال بہت سادہ مگر انتہائی کڑوا تھا کیا ریلوے انتظامیہ کسی بڑے حادثے کا انتظار کر رہی ہے اگر نہیں تو پھر مسلسل سامنے آنے والے خطرات پر فوری اور مستقل کارروائی کیوں نہیں ہوتی اگر واقعی انسانی جان سب سے زیادہ قیمتی ہے تو پھر ہر پٹری ہر پل ہر سگنل ہر بوگی ہر انجن اور ہر حفاظتی نظام کو غیر معمولی سنجیدگی سے کیوں نہیں پرکھا جاتا اگر وسائل کی کمی ہے تو اس کمی کو دور کرنے کے لیے آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی اگر عملہ کم ہے تو بھرتی کیوں نہیں کی جاتی اگر پرانی پٹریاں خطرناک ہیں تو انہیں مرحلہ وار تبدیل کیوں نہیں کیا جاتا اگر فنی آلات پرانے ہیں تو انہیں جدید کیوں نہیں بنایا جاتا اور اگر کسی افسر یا اہلکار کی غفلت سامنے آتی ہے تو اس کا احتساب صرف کاغذ پر کیوں ہوتا ہے بندن میاں کہتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ریلوے کے معاملات کو محض انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے انسانی زندگی کا مسئلہ سمجھا جائے کیونکہ ایک محفوظ ریلوے صرف ایک بہتر سفری سہولت نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری کا اظہار ہے ایک ایسا ادارہ جس پر لاکھوں لوگ اعتماد کر کے سفر کرتے ہیں اسے عوام کے اعتماد کا پاس رکھنا ہو گا بندن میاں نے کہا کہ مسافر صرف ٹکٹ نہیں خریدتا وہ اپنی جان کا اعتماد خریدتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ جس ٹرین میں وہ بیٹھ رہا ہے وہ محفوظ ہے جس پٹری پر وہ سفر کر رہا ہے وہ قابل اعتماد ہے جس پل سے ٹرین گزرے گی وہ مضبوط ہے جس سگنل پر انحصار کیا جا رہا ہے وہ درست ہے اور جس ادارے کے حوالے اس نے اپنی زندگی کی ہے وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہے اگر یہ اعتماد ٹوٹ جائے تو صرف ایک ٹرین کا حادثہ نہیں ہوتا بلکہ پورے ادارے کی ساکھ زخمی ہوجاتی ہے۔ بندن میاں نے کہا کہ ریلوے کو اب حادثات کے بعد وضاحتیں دینے کی پالیسی سے نکل کر حادثات سے پہلے خطرات ختم کرنے کی پالیسی اختیار کرنا ہو گی ہر بڑے حادثے سے پہلے موجود چھوٹے چھوٹے اشاروں کو پڑھنا ہو گا ہر فنی خرابی کو سنجیدگی سے لینا ہو گا ہر شکایت کو ریکارڈ کرنا ہو گا ہر خطرناک مقام کی نگرانی کرنی ہوگی اور ہر ذمہ دار افسر کو معلوم ہونا چاہیے کہ غفلت کی قیمت کسی فائل میں درج نہیں ہوگی بلکہ کسی انسان کی زندگی ہو سکتی ہے۔
بندن میاں نے اپنی چھڑی اٹھائی اور آہستہ آہستہ اسٹیشن سے باہر نکلنے لگے مگر جاتے جاتے پلٹ کر بولے میں ریلوے کے خلاف نہیں ہوں میں تو چاہتا ہوں کہ ریلوے مضبوط ہو محفوظ ہو باوقار ہو اور عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرے میں چاہتا ہوں کہ پاکستان ریلوے کی ٹرین جب اسٹیشن سے روانہ ہو تو مسافر کے دل میں خوف نہیں اعتماد ہو جب ماں اپنے بیٹے کو ٹرین پر بٹھائے تو اس کے دل میں یہ وسوسہ نہ ہو کہ پتا نہیں واپس آئے گا یا نہیں جب بیوی اپنے شوہر کو سفر پر رخصت کرے تو اسے یہ سوچ کر آنسو نہ آئیں کہ کہیں یہ آخری ملاقات نہ ہو جب بچے اپنے والد کے استقبال کے لیے اسٹیشن پہنچیں تو ان کے ہاتھ میں پھول ہوں کسی حادثے کی خبر نہیں بندن میاں نے کہا کہ ریلوے کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ کتنی ٹرینیں روز چلتی ہیں اصل کامیابی یہ ہے کہ کتنے مسافر محفوظ اپنے گھروں تک پہنچتے ہیں اصل کارکردگی یہ نہیں کہ کتنی فائلیں مکمل ہوئیں اصل کارکردگی یہ ہے کہ کتنے حادثات روکے گئے اصل کامیابی یہ نہیں کہ حادثے کے بعد کتنے افسر موقع پر پہنچے اصل کامیابی یہ ہے کہ حادثہ ہونے سے پہلے کتنے خطرات ختم کیے گئے بندن میاں نے آخری بار ریلوے کی پٹریوں کی طرف دیکھا اور کہا یاد رکھنا پٹری سے اترنے والی ٹرین شاید دوبارہ پٹری پر چڑھائی جا سکتی ہے بوگی دوبارہ بنائی جا سکتی ہے انجن دوبارہ مرمت ہو سکتا ہے پل دوبارہ تعمیر ہو سکتا ہے پٹری دوبارہ بچھائی جا سکتی ہے مگر جو انسان چلا جائے وہ واپس نہیں آتا جو ماں اپنا بیٹا کھو دے اس کا غم واپس نہیں جاتا جو بچہ باپ سے محروم ہو جائے اس کا بچپن دوبارہ نہیں آتا جو بیوی اپنا شوہر کھو دے اس کی زندگی کا وہ خلا کبھی پُر نہیں ہوتا۔
اس لیے خدارا کسی بڑے حادثے کا انتظار نہ کیجیے حادثات کو معمول سمجھنے کی روش ختم کیجیے تحقیقات کے نام پر وقت گزارنے کے بجائے نتائج پر عمل کیجیے پٹریوں کو محفوظ بنائیے بوگیوں کی مکمل فنی جانچ کیجیے سگنلنگ نظام کو جدید بنائیے پلوں اور ریلوے تنصیبات کی مسلسل نگرانی کیجیے تکنیکی عملے کی کمی پوری کیجیے میرٹ کو ترجیح دیجیے اور سب سے بڑھ کر انسانی جان کو ہر مفاد سے مقدم رکھیے کیونکہ اگر آج بھی ہم نہ جاگے تو کل تاریخ ہم سے صرف یہ نہیں پوچھے گی کہ حادثہ کیوں ہوا بلکہ یہ بھی پوچھے گی کہ جب خطرے کی گھنٹی بار بار بج رہی تھی جب پٹریاں اپنی حالت کی گواہی دے رہی تھیں جب مسافر اپنی جانوں کا اعتماد ادارے کے حوالے کر رہے تھے اور جب حادثات ایک کے بعد ایک ہمارے سامنے آرہے تھے تو پھر ذمہ دار لوگ خاموش کیوں رہے اور بندن میاں کا یہی سوال شاید ہمارے اجتماعی ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے کہ کیا ہم کسی بڑے سانحے کا انتظار کر رہے ہیں یا ابھی بھی وقت ہے کہ ہم جاگ جائیں۔
