
پچھلے مضمون میں ہم نے دیکھا کہ الحسن ابن الہیثم نے بصریات کو فلسفیانہ قیاس آرائی سے نکال کر تجرباتی سائنس میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ کسی سائنسی نظریے کی سچائی کا فیصلہ کسی عظیم فلسفی یا قدیم کتاب سے نہیں بلکہ تجربے سے ہوتا ہے۔ یہی وہ فکر تھی جس نے بعد میں جدید سائنس کی بنیاد رکھی۔
لیکن ابن الہیثم کے بعد بھی دنیا فوراً سائنسی انقلاب میں داخل نہیں ہوئی۔
کئی صدیاں گزر گئیں۔
یورپ میں جنگیں ہوئیں، سلطنتیں بدلتی رہیں، اور علمی مراکز بھی بار بار تباہ ہوئے۔ لیکن اس دوران ایک خاموش انقلاب جاری تھا۔ مسلمان علماء کی کتابیں عربی سے لاطینی زبان میں ترجمہ ہو رہی تھیں۔ قرطبہ، طلیطلہ (Toledo) اور سسلی جیسے مراکز کے ذریعے ریاضی، فلکیات، طب اور بصریات کا وہ سرمایہ یورپ پہنچ رہا تھا جو کئی صدیوں میں اسلامی دنیا میں جمع ہوا تھا۔
یورپی علماء نے ان کتابوں کو صرف پڑھا ہی نہیں بلکہ ان پر مزید تحقیق بھی شروع کی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے سائنس کی ایک نئی داستان شروع ہوتی ہے۔
یہ داستان صرف چند عظیم سائنس دانوں کی نہیں بلکہ انسانی فکر کی آزادی کی داستان ہے۔ اور اس داستان کا پہلا بڑا کردار نکولس کوپرنیکس تھے۔
آج ہر شخص جانتا ہے کہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔ لیکن پانچ سو سال پہلے یہ خیال اتنا انقلابی تھا کہ اسے قبول کرنا آسان نہیں تھا۔ اس زمانے میں تقریباً پوری دنیا بطلیموس کے اس نظریے پر یقین رکھتی تھی کہ زمین کائنات کا ساکن مرکز ہے اور سورج، چاند، سیارے اور ستارے اس کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ نظریہ صرف فلکیات کا مسئلہ نہیں تھا۔ یہ انسان کے اپنے مقام کا مسئلہ بھی تھا۔ اگر زمین مرکزِ کائنات ہے تو گویا انسان بھی تخلیق کا مرکز ہے۔
لیکن 1543 ء میں پولینڈ کے ایک راہب، نکولس کوپرنیکس، نے اپنی مشہور کتاب De Revolutionibus Orbium Coelestium شائع کی اور ایک ایسا نظریہ پیش کیا جس نے صدیوں پرانے تصور کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہاکہمرکز میں زمین نہیں، سورج ہے۔ زمین بھی دوسرے سیاروں کی طرح سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔
یہ محض ایک فلکیاتی تبدیلی نہیں تھی۔ یہ انسانی سوچ کی تاریخ میں ایک عظیم انقلاب تھا۔
زمین سورج کے گرد کن قوانین کے تحت گھومتی ہے؟ اس میں سب سے پہلی پیش رفت ایک نوجوان جرمن ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات کے حصے میں آئی۔ ان کا نام یوانس کیپلر تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ کیپلر کو ہم آج سیاروں کی حرکت کے قوانین کی وجہ سے جانتے ہیں، لیکن بصریات کی تاریخ میں بھی ان کا مقام نہایت بلند ہے۔ انہوں نے پہلی مرتبہ انسانی آنکھ کے کام کرنے کے طریقے کو صحیح سائنسی بنیادوں پر سمجھایا۔
کیپلر نے ابن الہیثم کی کتاب کتاب المناظر کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اگر آنکھ واقعی روشنی وصول کرتی ہے تو اس کے اندر ضرور کوئی ایسا مقام ہو گا جہاں اشیاء کی تصویر بنتی ہوگی۔ اس زمانے تک یہ معلوم نہیں تھا کہ آنکھ کے اندر تصویر کہاں بنتی ہے اور دماغ تک کیسے پہنچتی ہے۔ بہت سے سائنسدان اب بھی یہی سمجھتے تھے کہ آنکھ کے عدسے (Lens) میں ہی بصارت کا راز پوشیدہ ہے۔ کیپلر نے نہایت حساس مشاہدات اور جیومیٹری کی مدد سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آنکھ ایک نہایت پیچیدہ مگر انتہائی خوبصورت بصری آلہ ہے، جس میں قرنیہ (Cornea) اور عدسہ مل کر آنے والی روشنی کو موڑتے ہیں اور اسے آنکھ کے پچھلے حصے پر موجود ایک باریک پردے، یعنیretina، پر مرکوز کر دیتے ہیں۔
یہ دریافت غیر معمولی تھی، کیونکہ پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ آنکھ کے اندر واقعی ایک تصویر بنتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ یہ تصویر سیدھی نہیں بلکہ الٹی ہوتی ہے۔ درخت کی چوٹیretinaکے نچلے حصے پر بنتی ہے، جبکہ اس کا تنا اوپر کی طرف تصویر بناتا ہے۔ پہلی نظر میں یہ نتیجہ عجیب معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر ہم ایک چھوٹا سا سوراخ بنا کر اس سے روشنی کو کسی سفید پردے پر گزرنے دیں تو یہی الٹی تصویر ہمیں صاف نظر آتی ہے۔ کیپلر نے سمجھ لیا کہ انسانی آنکھ بھی بنیادی طور پر اسی اصول پر کام کرتی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں سوراخ کی جگہ ایک شفاف عدسہ موجود ہے جو روشنی کو زیادہ موثر انداز میں جمع کرتا ہے۔
اس دریافت نے بصریات میں ایک نیا باب کھول دیا۔ اب پہلی مرتبہ آنکھ کو ایک حیاتیاتی عضو کے ساتھ ساتھ ایک آپٹیکل آلے کے طور پر بھی سمجھا جانے لگا۔ بعد کے زمانے میں یہی تصور کیمرے کی ایجاد، خوردبین، دوربین اور جدید بصری آلات کی ترقی کی بنیاد بنا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج جب ہم کسی ڈیجیٹل کیمرے یا موبائل فون کے کیمرے کی ساخت کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں بھی ہمیں تقریباً وہی بنیادی اجزاء نظر آتے ہیں جو انسانی آنکھ میں موجود ہیں : سامنے عدسہ، پیچھے تصویر وصول کرنے والی سطح، اور پھر اس تصویر کو سمجھنے والا ایک نظام۔ فرق صرف یہ ہے کہ آنکھ میں یہ کام دماغ کرتا ہے، جبکہ کیمرے میں الیکٹرانک سینسر اور کمپیوٹر۔
سترہویں صدی کے وسط تک بصریات ایک نئی منزل میں داخل ہو چکی تھی۔ ابن الہیثم نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ روشنی آنکھ سے نہیں بلکہ اشیاء سے آتی ہے۔ کیپلر نے سمجھا دیا تھا کہ آنکھ ایک پیچیدہ بصری آلہ ہے، جبکہ ڈیکارٹ اور فرما روشنی کے انعطاف کو ریاضی کی زبان میں بیان کر چکے تھے۔ اب سائنس دان یہ جاننے لگے تھے کہ روشنی کیسے سفر کرتی ہے، کس طرح منعکس ہوتی ہے اور مختلف مادّوں میں داخل ہو کر اپنا راستہ کیوں بدلتی ہے۔ لیکن ایک بنیادی سوال اب بھی اپنی جگہ موجود تھا، اور شاید یہی بصریات کا سب سے اہم سوال تھا۔
آخر روشنی خود ہے کیا؟
کیا روشنی نہایت چھوٹے ذرات پر مشتمل ہے، یا پھر وہ پانی کی لہروں کی طرح ایک موج ہے؟ یہ سوال بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن آنے والی تقریباً ڈیڑھ صدی تک طبیعیات دان اسی ایک مسئلے پر تقسیم رہے۔ اس بحث کے دو مرکزی کردار تھے : انگلستان کے آئزک نیوٹن اور ہالینڈ کے کرسچیان ہیوگنز۔ دونوں اپنے زمانے کے عظیم ترین سائنس دان تھے، دونوں غیر معمولی ذہانت رکھتے تھے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں اپنے اپنے دلائل کے لحاظ سے کافی حد تک درست بھی تھے۔
1666 ء میں انگلستان میں طاعون کی وبا پھیل گئی۔ کیمبرج یونیورسٹی بند ہو گئی اور ایک نوجوان طالب علم، آئزک نیوٹن، اپنے آبائی گاؤں وولس تھورپ واپس چلے گئے۔ یہی وہ دو سال تھے جنہیں مؤرخین نیوٹن کی زندگی کا ”معجزاتی دور“ (Annus Mirabilis) کہتے ہیں، کیونکہ اسی عرصے میں انہوں نے کششِ ثقل، Calculus اور روشنی کے بارے میں اپنی بنیادی تحقیقات شروع کیں۔
ایک دن نیوٹن نے اپنے کمرے کو تقریباً تاریک کر دیا۔ کھڑکی میں ایک چھوٹا سا سوراخ بنایا تاکہ سورج کی صرف ایک باریک شعاع اندر داخل ہو۔ اس شعاع کے سامنے انہوں نے شیشے کا ایک منشور (Prism) رکھا۔ اچانک سفید روشنی سرخ، نارنجی، زرد، سبز، نیلے اور بنفشی رنگوں کی ایک خوبصورت پٹی میں تبدیل ہو گئی۔
یہ منظر اس سے پہلے بھی لوگوں نے دیکھا تھا، لیکن نیوٹن نے وہ سوال پوچھا جو کسی اور نے نہیں پوچھا تھا۔
کیا منشور سفید روشنی میں رنگ پیدا کرتا ہے، یا یہ رنگ پہلے ہی سفید روشنی کے اندر موجود ہوتے ہیں؟
یہ سوال معمولی نہیں تھا، کیونکہ اس زمانے میں اکثر سائنس دانوں کا خیال تھا کہ شیشہ کسی طرح روشنی کو رنگین بنا دیتا ہے۔
نیوٹن نے اس مسئلے کو صرف قیاس آرائی سے حل نہیں کیا بلکہ ایک اور تجربہ کیا۔ انہوں نے پہلے منشور سے نکلنے والے صرف ایک رنگ، مثلاً سرخ شعاع، کو الگ کیا اور اسے دوسرے منشور سے گزارا۔ اگر رنگ منشور پیدا کر رہا ہوتا تو دوسرے منشور سے گزرنے کے بعد سرخ شعاع کو مزید مختلف رنگوں میں تقسیم ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سرخ شعاع سرخ ہی رہی۔ اس کے بعد نیوٹن نے تمام رنگوں کو دوبارہ ایک دوسرے پر جمع کیا۔ حیرت انگیز طور پر ان سب کے ملنے سے پھر سفید روشنی بن گئی۔
یہ تجربہ فیصلہ کن تھا۔
انہوں نے ثابت کر دیا کہ سفید روشنی خالص نہیں بلکہ مختلف رنگوں کا مجموعہ ہے، اور منشور کوئی نیا رنگ پیدا نہیں کرتا بلکہ پہلے سے موجود رنگوں کو الگ الگ کر دیتا ہے۔ یہ دریافت صرف بصریات ہی نہیں بلکہ پوری طبیعیات کی تاریخ میں ایک سنگِ میل تھی۔
لیکن ایک اہم سوال ابھی تک جواب طلب تھا۔ روشنی خود کیا ہے؟ روشنی ذرات پر مشتمل ہے، یا موج کی شکل میں ہے؟
یہ انسانی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ روشنی کی ساخت پر سوال اٹھ رہے تھے۔
روزمرہ زندگی میں روشنی سیدھی لائن میں سفر کرتی ہے۔ اگر آپ ایک چھوٹا سا سوراخ بنائیں تو روشنی اس سے گزر کر سیدھی لکیر میں آگے بڑھتی ہے۔ دیوار کے پیچھے واضح سایہ بنتا ہے۔ اگر روشنی پانی کی لہروں کی طرح ہوتی تو اسے رکاوٹوں کے گرد مڑ جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا عام حالات میں نظر نہیں آتا۔ اس کے علاوہ انعکاس کا قانون بھی چھوٹے چھوٹے گیند نما ذرات سے آسانی سے سمجھایا جا سکتا تھا۔
نیوٹن نے تصور کیا کہ روشنی نہایت باریک ذرات پر مشتمل ہے جو مختلف مادّوں سے ٹکرا کر منعکس یا منحرف ہو جاتے ہیں۔
نیوٹن کی غیر معمولی سائنسی شہرت بھی اس نظریے کے حق میں ایک بڑی قوت بن گئی۔ اس زمانے میں شاید ہی کوئی سائنس دان ایسا ہو جو ان کی رائے کو آسانی سے چیلنج کر سکے۔
اسی دوران ہالینڈ میں ایک اور عظیم سائنس دان، کرسچیان ہیوگنز، روشنی کے بارے میں بالکل مختلف انداز میں سوچ رہے تھے۔ انہوں نے سمندر کی لہروں کو دیکھا، پانی میں پھیلتے دائروں کو دیکھا، اور آواز کے سفر پر غور کیا۔ ان کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید روشنی بھی اسی قسم کی ایک موج ہو۔
ہیوگنز نے کہا کہ جب روشنی آگے بڑھتی ہے تو اس کی موج کے ہر نقطے سے چھوٹی چھوٹی نئی موجیں پیدا ہوتی ہیں، اور یہی سب موجیں مل کر اگلے لمحے روشنی کی نئی موج تشکیل دیتی ہیں جیسا کہ قوپر دی گئی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ آج اس تصور کو ہیوگنز کا اصول (Huygens ’Principle) کہا جاتا ہے۔
اس اصول کی مدد سے انہوں نے نہ صرف انعکاس بلکہ انعطاف کو بھی بڑی خوبصورتی سے سمجھایا۔ مزید یہ کہ اگر روشنی مختلف مادّوں میں مختلف رفتار سے سفر کرتی ہے تو موجی نظریہ اس کی فطری وضاحت پیش کرتا ہے۔ اس اعتبار سے ہیوگنز کا نظریہ کئی معاملات میں نیوٹن کے نظریے سے زیادہ سادہ اور زیادہ خوبصورت تھا۔
لیکن ایک مشکل باقی تھی۔
اگر روشنی واقعی موج ہے، تو پھر وہ رکاوٹوں کے پیچھے مڑتی ہوئی عام طور پر کیوں نظر نہیں آتی؟ اس سوال کا کوئی واضح تجرباتی جواب اس زمانے میں موجود نہیں تھا۔ اسی لیے اگرچہ ہیوگنز کا نظریہ نہایت دلکش تھا، لیکن زیادہ تر سائنس دان پھر بھی نیوٹن کے ذرّاتی نظریے کو ترجیح دیتے رہے۔
یوں سترہویں صدی کے اختتام تک طبیعیات ایک عجیب دوراہے پر کھڑی تھی۔ ایک طرف نیوٹن کا ذرّاتی نظریہ تھا، جس کی پشت پر دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کی غیر معمولی ساکھ موجود تھی۔ دوسری طرف ہیوگنز کا موجی نظریہ تھا، جو کئی مظاہر کو زیادہ فطری انداز میں سمجھاتا تھا، لیکن اس کے حق میں فیصلہ کن تجرباتی ثبوت ابھی دستیاب نہیں تھے۔
یہ بحث تقریباً ایک سو سال تک جاری رہی۔ آخرکار انیسویں صدی کے آغاز میں ایک نوجوان انگریز طبیب نے ایک ایسا سادہ تجربہ کیا جس نے اس پرانی بحث کو نئی زندگی دے دی۔ انہوں نے صرف ایک پردہ، دو باریک شگاف اور روشنی کی ایک شعاع استعمال کی، مگر اس کے نتیجے نے روشنی کے بارے میں انسانی تصور کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
اس نوجوان کا نام تھا تھامس ینگ۔
سترہویں صدی کے اختتام تک ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نیوٹن کا ذرّاتی نظریہ فیصلہ کن کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ نیوٹن صرف بصریات ہی کا نہیں بلکہ کششِ ثقل، ریاضی اور میکانیات کا بھی سب سے بڑا نام بن چکے تھے۔ ان کی سائنسی عظمت کا ایسا سکہ بیٹھ چکا تھا کہ بہت سے سائنس دان ان کے نظریات پر سوال اٹھانے سے بھی ہچکچاتے تھے۔ اگر نیوٹن نے روشنی کو ذرّات قرار دیا تھا تو لوگوں کو یقین تھا کہ یقیناً یہی درست ہو گا۔
لیکن سائنس میں شخصیت سے زیادہ اہمیت تجربے کی ہوتی ہے۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں ایک نوجوان انگریز طبیب، تھامس ینگ، نے اس مسئلے پر دوبارہ غور کرنا شروع کیا۔ انہوں نے سوچا کہ اگر روشنی واقعی ذرّات پر مشتمل ہے تو اس کے رویّے کی ایک خاص پیش گوئی ہونی چاہیے، اور اگر وہ موج ہے تو نتیجہ بالکل مختلف نکلنا چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے ایک ایسا تجربہ ترتیب دیا جو بظاہر انتہائی سادہ تھا، مگر اس کے نتائج نے طبیعیات کی بنیادیں ہلا دیں۔
انہوں نے ایک تاریک کمرے میں روشنی کی ایک باریک شعاع حاصل کی اور اسے ایک ایسی سکرین پر ڈالا جس میں دو نہایت باریک اور ایک دوسرے کے قریب شگاف بنائے گئے تھے۔ اس کے پیچھے ایک سفید پردہ رکھا گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ روشنی وہاں کس شکل میں پہنچتی ہے۔ اب ذرا ہم خود اندازہ لگاتے ہیں کہ اگر روشنی واقعی چھوٹے چھوٹے ذرّات پر مشتمل ہو تو کیا ہونا چاہیے۔ ہر ذرّہ یا تو پہلے شگاف سے گزرے گا یا دوسرے سے۔ لہٰذا پردے پر دو روشن پٹیاں بننی چاہئیں، بالکل اسی طرح جیسے دو نلیوں سے پانی گزر کر سامنے دو الگ الگ دھاریاں بنا دیتا ہے۔ یہ پیش گوئی نہایت منطقی تھی، اور نیوٹن کے نظریے کے مطابق یہی نتیجہ نکلنا چاہیے تھا۔
لیکن جب تجربہ کیا گیا تو منظر بالکل مختلف تھا۔ پردے پر صرف دو روشن دھبے ظاہر نہیں ہوئے بلکہ ان کے درمیان روشن اور تاریک پٹیوں کی ایک پوری قطار نمودار ہو گئی جیسا کہ اوپر دی گئی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ ایک روشن پٹی، پھر ایک تاریک، پھر دوبارہ روشن، پھر تاریک، اور یہ سلسلہ دونوں طرف جاری رہا۔ یہ نتیجہ کسی کے لیے بھی غیر متوقع تھا۔ اگر روشنی صرف ذرّات پر مشتمل ہوتی تو تاریک پٹیاں آخر کہاں سے آ گئیں؟ وہاں تو دونوں شگافوں سے روشنی پہنچ رہی تھی، اس لیے ہر جگہ روشنی ہونی چاہیے تھی۔
ینگ نے اس معمہ کا حل پانی کی لہروں میں تلاش کیا۔ اگر آپ کسی پرسکون تالاب میں ایک ہی وقت میں دو کنکریاں پھینکیں تو دونوں جگہوں سے گول گول لہریں نکلتی ہیں۔ جہاں دونوں لہروں کی چوٹیاں ایک دوسرے سے ملتی ہیں وہاں پانی کی لہر اور زیادہ بلند ہو جاتی ہے، لیکن جہاں ایک لہر کی چوٹی دوسری لہر کی گہرائی سے ملتی ہے وہاں دونوں ایک دوسرے کو تقریباً ختم کر دیتی ہیں اور پانی نسبتاً پرسکون ہو جاتا ہے۔ اس عمل کو تداخل (Interference) کہتے ہیں۔ ینگ نے کہا کہ روشنی بھی بالکل یہی کرتی ہے۔ دونوں شگاف دراصل روشنی کے دو نئے ذرائع بن جاتے ہیں۔ جہاں دونوں موجیں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں وہاں روشن پٹی بنتی ہے، اور جہاں ایک موج دوسری کو ختم کر دیتی ہے وہاں تاریکی پیدا ہو جاتی ہے۔
یہ وضاحت اس قدر خوبصورت اور منطقی تھی کہ پہلی مرتبہ موجی نظریہ ایک مضبوط تجرباتی بنیاد پر کھڑا ہو گیا۔ اب روشنی صرف ایک فلسفیانہ تصور کے طور پر موج نہیں تھی، بلکہ تجربہ خود یہ گواہی دے رہا تھا کہ روشنی میں ایسی خصوصیات موجود ہیں جو صرف موجوں میں پائی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود سائنسی دنیا نے فوراً نیوٹن کا نظریہ ترک نہیں کیا۔ نیوٹن کی غیر معمولی شہرت ابھی بھی اس کے نظریے کو مضبوط سہارا فراہم کر رہی تھی، اور بعض سائنس دانوں کا خیال تھا کہ شاید اس تجربے کی کوئی اور وضاحت بھی ممکن ہو۔
تاہم ایک حقیقت اب واضح ہو چکی تھی۔ روشنی کے بارے میں انسانی علم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ پہلی مرتبہ ایک ایسا تجربہ سامنے آیا تھا جسے محض قیاس آرائی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آنے والے برسوں میں ایک فرانسیسی انجینئر اور طبیعیات دان اس تجربے کو مزید آگے لے گیا، اور انہوں نے ایسے دلائل پیش کیے کہ بالآخر پوری سائنسی دنیا کو ماننا پڑا کہ روشنی واقعی موجی خصوصیات رکھتی ہے۔ اس سائنس دان کا نام اوگسٹن ژاں فریسنل تھا، اور ان کی تحقیقات نے موجی نظریے کو ایک عارضی مفروضے سے اٹھا کر جدید بصریات کی مضبوط بنیاد بنا دیا۔
تھامس ینگ کے دو شگافوں والے تجربے نے پہلی مرتبہ مضبوط اشارہ دیا تھا کہ روشنی موجوں کی طرح برتاؤ کرتی ہے، لیکن سائنس میں ایک ہی تجربہ ہمیشہ کافی نہیں سمجھا جاتا۔ خاص طور پر اس وقت جب اس کے مقابلے میں نیوٹن جیسے عظیم سائنس دان کا نظریہ موجود ہو۔ بہت سے طبیعیات دانوں نے ینگ کے نتائج کو دلچسپی سے ضرور دیکھا، مگر وہ ابھی تک پوری طرح قائل نہیں ہوئے تھے۔ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ شاید اس عجیب تجربے کی کوئی اور تشریح بھی ممکن ہو۔
اسی زمانے میں فرانس کے ایک نوجوان انجینئر اوگسٹن ژاں فریسنل (Augustin Jean Fresnel) نے اس مسئلے پر کام شروع کیا۔ فریسنل پیشے کے اعتبار سے سڑکوں اور پلوں کے انجینئر تھے، لیکن ان کی اصل دلچسپی روشنی میں تھی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر روشنی واقعی موج ہے تو اس کے تمام رویّے کو صرف ایک ہی اصول کے ذریعے سمجھایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ہیوگنز کے نظریے کو مزید آگے بڑھایا اور اس میں ریاضی کی مدد سے ایسی جان ڈال دی کہ پہلی مرتبہ موجی نظریہ ایک مکمل سائنسی نظریے کی صورت اختیار کر گیا۔
فریسنل نے بتایا کہ روشنی کی ہر موج اپنے اردگرد نئی موجیں پیدا کرتی ہے، اور یہی بے شمار چھوٹی چھوٹی موجیں آپس میں مل کر روشنی کے اگلے سفر کا تعین کرتی ہیں۔ اس خیال کی مدد سے انہوں نے نہ صرف تداخل (Interference) بلکہ انعراج (Diffraction) جیسے مظاہر کی بھی وضاحت کر دی۔ انعراج وہ عمل ہے جس میں روشنی کسی باریک رکاوٹ یا سوراخ کے کنارے سے گزر کر معمولی سا مڑ جاتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں یہ اثر اس لیے نمایاں نظر نہیں آتا کہ روشنی کی طولِ موج بہت چھوٹی ہوتی ہے، لیکن حساس تجربات میں اسے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی وہ مظہر تھا جسے نیوٹن کا ذرّاتی نظریہ پوری طرح سمجھانے سے قاصر تھا۔
سائنس کی تاریخ میں بعض اوقات کسی نظریے کی سب سے بڑی دلیل اس کے مخالفین فراہم کر دیتے ہیں، اور فریسنل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
1818 ء میں فرانس کی اکیڈمی آف سائنسز نے روشنی پر ایک مقابلے کا اعلان کیا۔ فریسنل نے اپنا موجی نظریہ پیش کیا، لیکن ججوں میں شامل ممتاز ریاضی دان سیمون پوآساں (Simeon Denis Poisson) موجی نظریے کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے فریسنل کی مساوات کا بغور جائزہ لیا اور اس میں سے ایک ایسا نتیجہ نکالا جسے وہ مضحکہ خیز سمجھتے تھے۔ ان کے مطابق اگر فریسنل کا نظریہ درست ہے تو ایک گول دھاتی قرص کے عین پیچھے، جہاں مکمل سایہ ہونا چاہیے، وہاں ایک روشن نقطہ نظر آنا چاہیے۔
پوآساں کو یقین تھا کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ آخر سایہ تو اندھیرا ہوتا ہے ؛ پھر اس کے بالکل درمیان روشنی کا نقطہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ انہیں امید تھی کہ یہی عجیب پیش گوئی فریسنل کے نظریے کو غلط ثابت کر دے گی۔
لیکن سائنس میں فیصلے دلائل سے نہیں، تجربات سے ہوتے ہیں۔
اکیڈمی کے ایک اور رکن فرانسوا آراگو (Francois Jean Arago) نے یہ تجربہ خود کیا۔ ایک چھوٹی گول دھاتی قرص کو روشنی کے سامنے رکھا گیا اور اس کے پیچھے پردہ لگایا گیا۔ سب کی حیرت کے لیے پردے پر بالکل وہی منظر نمودار ہوا جس کی پیش گوئی فریسنل نے کی تھی۔ مکمل سائے کے عین وسط میں ایک باریک مگر واضح روشن نقطہ موجود تھا۔ یہ اوپر دی گئی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
آج اس روشن نقطے کو پوآساں اسپاٹ یا آراگو اسپاٹ کہا جاتا ہے۔
یہ صرف ایک روشن دھبہ نہیں تھا، یہ اس بات کا اعلان تھا کہ روشنی واقعی موجی خصوصیات رکھتی ہے۔
پوآساں اسپاٹ کی دریافت نے سائنسی دنیا پر گہرا اثر ڈالا۔ پہلی مرتبہ ایک ایسا مظہر دیکھا گیا جس کی پیش گوئی صرف موجی نظریہ کرتا تھا اور جس کی ذرّاتی نظریہ کوئی اطمینان بخش وضاحت پیش نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ بیشتر سائنس دانوں نے یہ تسلیم کرنا شروع کر دیا کہ روشنی بنیادی طور پر ایک موج ہے۔
فریسنل نے اس پر اکتفا نہیں کیا۔ انہوں نے قطبیت (Polarization) کے مظاہر کا بھی مطالعہ کیا۔ یہاں انہیں ایک اور حیرت انگیز حقیقت معلوم ہوئی۔ اگر روشنی پانی کی سطح پر بننے والی لہروں کی طرح طولی (Longitudinal) موج ہوتی تو قطبیت کا مظہر پیدا ہی نہ ہوتا۔ اس لیے فریسنل نے یہ جرات مندانہ نتیجہ اخذ کیا کہ روشنی عرضی موج (Transverse Wave) ہے، یعنی اس کی ارتعاش کی سمت اس کے سفر کی سمت کے عمود پر ہوتی ہے۔
یہ نتیجہ اپنے زمانے میں نہایت انقلابی تھا، کیونکہ اس نے روشنی کی ماہیت کے بارے میں ایک بالکل نئی تصویر پیش کی۔ اب روشنی کو محض ایک مبہم موج نہیں بلکہ ایک خاص قسم کی موج سمجھا جانے لگا، جس کے اپنے باقاعدہ ریاضیاتی قوانین تھے۔
انیسویں صدی کے وسط تک سائنس دان تقریباً اس بات پر متفق ہو چکے تھے کہ روشنی موج ہے۔ لیکن ایک بنیادی سوال ابھی بھی جواب طلب تھا۔
اگر روشنی موج ہے تو آخر کس چیز کی موج ہے؟
آواز ہوا کی موج ہے۔
سمندر کی لہریں پانی کی موج ہیں۔
زلزلے زمین کی موجیں ہیں۔
تو پھر روشنی کس میڈیم میں سفر کرتی ہے؟
کیا پوری کائنات میں کوئی ایسا نہایت لطیف مادہ موجود ہے جس میں روشنی ارتعاش کرتی ہے؟
اس مفروضہ مادے کو ایتھر (Ether) کا نام دیا گیا، اور تقریباً تمام سائنس دان اس کے وجود پر یقین رکھتے تھے۔ لیکن کوئی اسے دیکھ نہیں سکتا تھا، نہ چھو سکتا تھا، نہ اس کی پیمائش کر سکتا تھا۔
یہ معمہ کئی دہائیوں تک طبیعیات دانوں کو پریشان کرتا رہا، حتیٰ کہ اسکاٹ لینڈ کے ایک غیر معمولی ذہین سائنس دان نے بجلی، مقناطیسیت اور روشنی کو ایک ہی نظریے میں سمو دیا۔
اس سائنس دان کا نام تھا جیمز کلرک میکسویل (James Clerk Maxwell) ۔
ان کی دریافت نے نہ صرف روشنی کی اصل حقیقت واضح کی بلکہ پوری طبیعیات کو ایک نئی وحدت عطا کی۔
ایتھر کا تصور کئی دہائیوں تک طبیعیات کا ایک بنیادی حصہ رہا، لیکن ایک مشکل یہ تھی کہ کوئی بھی شخص اسے نہ دیکھ سکتا تھا، نہ چھو سکتا تھا اور نہ ہی اس کی کسی خاصیت کو براہِ راست ناپ سکتا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ طبیعیات کی سب سے بنیادی چیز کا وجود صرف ایک مفروضے پر قائم ہے۔ اسی دوران سائنس کے ایک دوسرے میدان میں بھی خاموشی سے ایک انقلاب برپا ہو رہا تھا، اور کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہی انقلاب روشنی کے اس معمہ کو بھی حل کر دے گا۔
صدیوں تک لوگ بجلی اور مقناطیسیت کو دو بالکل مختلف مظاہر سمجھتے رہے۔ بجلی جامد برقی بار سے پیدا ہوتی تھی، جبکہ مقناطیس لوہے کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔ دونوں کے درمیان کسی تعلق کا تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن انیسویں صدی کے آغاز میں تجربات نے ایک حیرت انگیز حقیقت آشکار کرنا شروع کی۔ معلوم ہوا کہ اگر کسی تار میں برقی رو گزاری جائے تو اس کے گرد مقناطیسی فیلڈ پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر مائیکل فیراڈے نے دکھایا کہ اگر مقناطیسی فیلڈکو تبدیل کیا جائے تو اس سے بجلی بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔
یہ دریافتیں غیر معمولی تھیں۔ پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ بجلی اور مقناطیسیت دو الگ الگ قوتیں نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف پہلو ہیں۔ لیکن ان تمام تجربات کے پیچھے کوئی جامع ریاضیاتی نظریہ موجود نہیں تھا۔ مختلف قوانین الگ الگ معلوم تھے، مگر ان کے درمیان ربط واضح نہیں تھا۔
یہ کام اسکاٹ لینڈ کے ایک نوجوان طبیعیات دان جیمز کلرک میکسویل نے انجام دیا۔
میکسویل نے فیراڈے کے خیالات کو ریاضی کی زبان دی۔ انہوں نے چند مساوات کی مدد سے یہ دکھایا کہ برقی فیلڈ اور مقناطیسی فیلڈ ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ اگر برقی فیلڈ وقت کے ساتھ تبدیل ہو تو وہ مقناطیسی فیلڈ پیدا کرتی ہے، اور اگر مقناطیسی فیلڈ تبدیل ہو تو وہ دوبارہ برقی فیلڈپیدا کر دیتی ہے۔
یہ خیال بظاہر سادہ تھا، لیکن اس کا نتیجہ حیران کن تھا۔
میکسویل نے سوچا کہ اگر بدلتی ہوئی برقی فیلڈ مقناطیسی فیلڈ پیدا کرتی ہے، اور بدلتی ہوئی مقناطیسی فیلڈ پھر نئی برقی فیلڈ پیدا کرتی ہے، تو یہ سلسلہ بار بار جاری رہ سکتا ہے۔ اس صورت میں دونوں فیلڈ ایک دوسرے کو جنم دیتے ہوئے خلا میں آگے بڑھتے رہیں گی۔
گویا فطرت میں ایک نئی قسم کی موج پیدا ہو سکتی ہے، جسے گزرنے کے لیے نہ پانی کی ضرورت ہے، نہ ہوا کی اور نہ کسی اور مادی واسطے کی۔ یہ برقی مقناطیسی موج (Electromagnetic Wave) تھی۔
میکسویل نے اپنی مساوات سے اس نئی موج کی رفتار بھی معلوم کی۔ جب انہوں نے حساب مکمل کیا تو ایک حیرت انگیز نتیجہ سامنے آیا۔ اس موج کی رفتار تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ نکلی۔ یہ بالکل وہی رفتار تھی جو کئی برس پہلے روشنی کے لیے تجرباتی طور پر ناپی جا چکی تھی۔
یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا تھا۔
میکسویل نے فوراً یہ عظیم نتیجہ اخذ کیا کہ روشنی خود ایک برقی مقناطیسی موج ہے۔
یہ انیسویں صدی کی سب سے عظیم سائنسی دریافتوں میں سے ایک تھی۔ پہلی مرتبہ روشنی کو کسی الگ اور پراسرار شے کے طور پر نہیں بلکہ بجلی اور مقناطیسیت کے ساتھ ایک ہی نظریے میں سمجھا گیا۔ صدیوں سے جن تین مظاہر کو الگ الگ سمجھا جاتا تھا، وہ درحقیقت ایک ہی فطری حقیقت کے مختلف روپ نکلے۔
میکسویل کی دریافت صرف ایک نظریاتی کامیابی نہیں تھی۔ اس نے جدید ٹیکنالوجی کی پوری دنیا کی بنیاد رکھ دی۔ اگر روشنی برقی مقناطیسی موج ہے تو پھر ضروری نہیں کہ ہماری آنکھ صرف اسی قسم کی موجوں کو دیکھ سکے۔ ممکن ہے اس کے علاوہ بھی مختلف طولِ موج رکھنے والی برقی مقناطیسی لہریں موجود ہوں۔
بعد کے تجربات نے یہی ثابت کیا۔
انسانی آنکھ جن لہروں کو دیکھ سکتی ہے، وہ اس وسیع برقی مقناطیسی سپیکٹرم (Electromagnetic Spectrum) کا صرف ایک نہایت چھوٹا سا حصہ ہیں۔ ان کے علاوہ ریڈیو لہریں، مائیکروویوز، تحتِ سرخ (Infrared) شعاعیں، بالائے بنفشی (Ultraviolet) شعاعیں، ایکس ریز اور گاما شعاعیں بھی اسی خاندان کے مختلف افراد ہیں۔ فرق صرف ان کی طولِ موج اور تعدد کا ہے۔
آج ریڈیو، ٹیلی ویژن، موبائل فون، وائی فائی، ریڈار، سیٹلائٹ مواصلات، ایکسرے، ایم آر آئی، فائبر آپٹکس اور لیزر جیسی بے شمار ٹیکنالوجیاں اسی ایک نظریے کی عملی شکلیں ہیں۔ شاید ہی جدید زندگی کا کوئی شعبہ ہو جو کسی نہ کسی صورت میکسویل کی دریافت سے متاثر نہ ہو۔
لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
فطرت ابھی اپنا سب سے بڑا راز ظاہر کرنے والی تھی۔ ایسا راز جس نے فزکس کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
یہ راز کیا تھا؟ یہی اس سلسلے کی اگلی اور آخری قسط کا موضوع ہو گا۔





