منٹو شناسوں کے نام: تہذیب کا مقدمہ

عزیزانِ منٹو شناس!
ہر بڑا افسانہ اپنے زمانے سے زیادہ اپنے قاری کا امتحان لیتا ہے۔ بعض متون اپنے کرداروں کو کٹہرے میں نہیں کھڑا کرتے بلکہ اپنے پڑھنے والوں کو عدالت میں طلب کر لیتے ہیں۔ سعادت حسن منٹو کا ”سڑک کے کنارے“ بھی ایسا ہی ایک افسانہ ہے۔ برسوں سے ہم اس کے کرداروں پر گفتگو کرتے رہے، ان کے اخلاق پر فیصلے سناتے رہے، ان کے گناہوں اور معصومیت کا حساب لگاتے رہے لیکن شاید ہم اس بنیادی حقیقت سے غافل رہے کہ منٹو نے عدالت میں نہ عورت کو پیش کیا نہ مرد کو اور نہ ہی اس نومولود بچی کو، اس نے کٹہرے میں پوری تہذیب کو لا کھڑا کیا۔
اسی لیے میں اس خط کا عنوان ”تہذیب کا مقدمہ“ رکھتا ہوں۔
میں اس افسانے کو ایک عورت، ایک مرد یا ایک نومولود بچی کی داستان نہیں سمجھتا۔ یہ دراصل تہذیب کا مقدمہ ہے جہاں مدعی انسانیت ہے، گواہ ایک نومولود بچی ہے، ثبوت عورت کی خاموش زچگی ہے اور ملزم وہ معاشرہ ہے جو تخلیق تو قبول کرتا ہے لیکن اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔
میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ یہی منٹو کی واحد قرات ہے لیکن میرا اس بات پر اصرار ضرور ہے کہ اگر ہم ”سڑک کے کنارے“ کو صرف ایک ناجائز حمل، ایک مظلوم عورت یا ایک بے رحم معاشرے کی کہانی سمجھتے رہیں گے تو ہم اس افسانے کے سب سے بڑے سوال کو کبھی نہیں سن سکیں گے۔ میری قرات میں منٹو کا بنیادی سوال اخلاق نہیں، وجود ہے، جرم نہیں، ذمہ داری ہے اور فرد نہیں، تہذیب ہے۔
تہذیب آخر ہے کیا؟
کیا بلند عمارتوں، نفیس لباس، قانون کی کتابوں اور مذہبی خطبوں کا نام تہذیب ہے؟ یا تہذیب وہ لمحہ ہے جب ایک معاشرہ اپنے سب سے کمزور، بے آسرا اور خاموش انسان کے ساتھ اپنا رویہ طے کرتا ہے؟ مگر یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے : کیا تہذیب انسان کو جنم دیتی ہے یا انسان اپنی قبولیت سے تہذیب کو جنم دیتا ہے؟ اگر تہذیب کی حقیقت قبولیت میں مضمر ہے تو پھر انسان ہی اپنی اخلاقی قبولیت کے ذریعے تہذیب کو وجود بخشتا ہے۔
آخر کار تہذیب کی اصل شناخت اس کے مینار نہیں، اس کی آغوش ہوتی ہے۔
اگر دوسرا جواب درست ہے تو پھر ”سڑک کے کنارے“ ایک افسانہ نہیں، تہذیب کی فردِ جرم ہے۔
منٹو نے کسی فلسفی کی طرح تعریفوں کے انبار نہیں لگائے۔ اس نے صرف ایک منظر دکھایا، ایک عورت، ایک مرد، ایک حمل اور ایک نومولود بچی۔ بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ ہے تاہم منٹو جانتا تھا کہ بعض اوقات پوری تہذیب ایک ہی منظر میں سمٹ آتی ہے۔ وہ بچی سڑک کے کنارے نہیں ملی بلکہ ہماری اجتماعی اخلاقیات کے کنارے ملی تھی۔ اس کے جسم پر مٹی ضرور تھی لیکن اصل گرد تو ہماری تہذیبی خود فریبی پر جمی ہوئی تھی۔ اس ماں کو مرگ تک اور اس بچی کو سڑک کے کنارے تک ہمارے مغالطے زدہ اور بے حس سماجی بیانیوں اور ہماری اجتماعی بے حسی نے پہنچایا۔ بالائے ستم یہ کہ اسی پر ہم اپنی نام نہاد تہذیب کی آرائش بھی کرتے ہیں۔
اسی لمحے سے مقدمہ شروع ہو جاتا ہے۔
اگر یہ مقدمہ واقعی تہذیب کا ہے تو پھر سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ اس کا اصل ملزم کون ہے۔
کیا وہ مرد جس نے ایک لمحۂ لذت کے بعد اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ لیا؟
کیا وہ عورت جس کے حصے میں تنہائی، حمل اور سماجی ذلت آئی؟
یا وہ نومولود بچی جس نے ابھی آنکھ بھی نہ کھولی تھی؟
میرا خیال ہے کہ منٹو کا جواب ان تینوں سے مختلف ہے۔ وہ فرد کے جرم سے زیادہ اس نظامِ فکر کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتا ہے جہاں وہ اپنی ہی تخلیق سے انکار کرنے لگتا ہے۔ یہی تہذیب کی سب سے بڑی ستم ظریفی ہے کہ وہ انسان کو پیدا تو کرتی ہے لیکن ہر انسان کو قبول نہیں کرتی۔ جب قبولیت انتخاب بن جائے تو تہذیب رفتہ رفتہ قبولیت کی تہذیب نہیں بلکہ انکار کی تہذیب میں بدلنے لگتی ہے۔ گویا تہذیب کی آغوش بھی انتخاب کرتی ہے، کچھ وجود اس کے لیے باعثِ فخر ہوتے ہیں اور کچھ باعثِ شرمندگی۔ منٹو اسی انتخاب پر اعتراض کرتا ہے اور ایک سوالیہ نشان قائم کرتا ہے۔
سوچیے، ایک نومولود بچی پیدا ہوتی ہے۔ اس نے ابھی کوئی جرم نہیں کیا، کوئی قانون نہیں توڑا، کوئی اخلاقی حد پار نہیں کی۔ اس کا واحد ”قصور“ یہ ہے کہ اس کی پیدائش نے معاشرے کی خود ساختہ اخلاقیات کو بے نقاب کر دیا۔ چنانچہ معاشرہ بچی کو نہیں، اپنے خوف کو سڑک کے کنارے پھینکتا ہے۔ منٹو ہمیں دکھاتا ہے کہ بعض اوقات لاوارث بچے نہیں ہوتے بلکہ لاوارث ضمیر ہوتے ہیں۔ اور یہی لاوارث ضمیر اجتماعی بے حسی کا چیختا ہوا ثبوت ہوتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں افسانہ سماجی حقیقت نگاری سے نکل کر فلسفۂ وجود میں داخل ہو جاتا ہے۔
وجود کبھی اپنے پیدا ہونے کا انتخاب نہیں کرتا۔ ہر انسان اس دنیا میں بغیر اپنی مرضی کے آتا ہے۔ مگر دنیا میں آنے کے بعد اسے سب سے پہلے قبولیت یا انکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں منٹو کا سوال یہی ہے کہ کیا انسان کی قدر اس کے وجود سے طے ہو گی یا اس کے نسب سے؟ اگر نسب معیار ہے تو انسانیت ہمیشہ تقسیم ہوتی رہے گی اور اگر وجود معیار ہے تو ہر پیدا ہونے والا انسان اپنی ذات میں احترام اور قبولیت کا ادھیکاری ہے۔
کسی بھی معاشرے کے سماجی اصول وہاں کے افراد طے کرتے ہیں، اگر ہم اس نومولود بچی پر سماجی اصولوں کے برخلاف کوئی فتویٰ صادر کرتے ہیں تو آخر وہ بچی کس خمیازے کی سزا ہوئی اور دوسرا اس فعل میں اس بچی کی پیدائش کا کیا قصور ہے؟ اگر سماجی اصول کو توڑا تو اس مرد نے توڑا یا بچی کی ماں نے، سوال تو یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی سماجی اصول ایسا بھی ہے جسے توڑا نا جا سکے۔ اگر اس مرد نے اس اصول کو توڑ بھی دیا تھا تو کیا اس نے اپنی انسانی سرشت کے برخلاف کوئی قدم اٹھایا تھا؟ ہاں بات کو گھما پھرا کر جہاں مرضی لے جائیں، اصل سوال ذمہ داری کا ہے جو یہاں پوری ہوتی نظر نہیں آئی۔
آخر تخلیق کا سب سے پہلا حق قبولیت ہے اور قبولیت ہی تہذیب کا پہلا امتحان۔
شاید اسی لیے منٹو پورے افسانے میں کسی خطیب کی طرح وعظ نہیں جھاڑتا۔ وہ صرف ایک منظر ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے اور خاموش ہو جاتا ہے۔ اس کی خاموشی دراصل اس کی سب سے بلند آواز ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بعض سوالوں کے جواب مصنف نہیں دیتا بلکہ قاری دیتا ہے۔ لیکن جواب دینے سے پہلے قاری کو اپنی تہذیب کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنا پڑتا ہے۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر اس افسانے کی وہ بچی جوان ہو کر اپنی تہذیب کے سامنے کھڑی ہو جاتی تو شاید وہ یہ نہ پوچھتی کہ میرا باپ کون تھا، وہ یہ پوچھتی کہ تمھاری تہذیب کا باپ کون تھا؟ وہ کون سا اخلاقی نظام تھا جس نے مجھے پیدا ہونے کے بعد قبول نہ کیا؟ وہ کون سی شرافت تھی جس نے میرے وجود سے زیادہ اپنی عزت کو عزیز جانا؟ وہ کون سا قانون تھا جو زندگی سے زیادہ بدنامی کی حفاظت کرتا رہا؟
یہ سوال صرف افسانے کا نہیں، ہر عہد کا سوال ہے۔
ہر تہذیب اپنے بارے میں یہی گمان رکھتی ہے کہ وہ عادل ہے، مہذب ہے، انسان دوست ہے۔ لیکن اس کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب اس کے سامنے ایک ایسا انسان آ کھڑا ہو جسے قبول کرنے سے اس کی ساری اخلاقی عمارت لرزنے لگے۔ اگر وہ اس انسان کو رد کر دیتی ہے تو دراصل وہ اپنے ہی دعووں کی تردید کرتی ہے۔
اسی لیے میرے نزدیک ”سڑک کے کنارے“ کسی عورت کے کردار کا مقدمہ نہیں، تہذیب کے کردار کا مقدمہ ہے۔ منٹو نے عدالت میں ایک بچی کو بطورِ ثبوت پیش کیا ہے اور ہم سب کو بطورِ گواہ طلب کیا ہے۔
لیکن یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے اور شاید یہی اس مقدمے کا سب سے نازک سوال ہے۔
آخر تہذیب کی ابتدا کہاں سے ہوتی ہے؟
ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ تہذیب کا فلسفہ سماجی اخلاقیات میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ کبھی کبھار میں یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ شاید تہذیب عدالتوں میں جنم لیتی ہو، پارلیمانوں میں پروان چڑھتی ہو، جامعات میں شعور حاصل کرتی ہو اور کتابوں میں محفوظ ہو جاتی ہو لیکن منٹو کا افسانہ اس پورے تصور کو الٹ دیتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ تہذیب کا پہلا سبق نہ سماجی اخلاقیات میں لکھا جاتا ہے نہ عدالت میں لکھا جاتا ہے اور نہ ہی کسی دستور میں، اس کا پہلا حرف ایک ماں کی کوکھ میں رقم ہوتا ہے۔ اسی لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ تہذیب کی پہلی اینٹ کسی سماج، پارلیمان، عدالت یا درس گاہ میں نہیں رکھی جاتی بلکہ ماں کی کوکھ میں رکھی جاتی ہے۔ دستور انسان کے پیدا ہونے کے بعد لکھے جاتے ہیں تاہم قبولیت کا پہلا قانون اس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی وجود میں آ جاتا ہے۔ کوکھ محض گوشت و پوست کی آماج گاہ نہیں، تہذیب کی پہلی درس گاہ، وقت کی پہلی تجربہ گاہ اور امید کی پہلی امانت گاہ ہے۔ وہیں انسان پہلی بار اپنی تہذیب نہیں طے کرتا بلکہ یہ سیکھتا ہے کہ دنیا اسے قبول کرے گی یا رد۔ اگر ایک تہذیب اپنی کوکھ کے احترام کو محفوظ نہ رکھ سکے تو اس کے آئین، اس کی عدالتیں اور اس کے مینار بھی اس کی انسانیت کو محفوظ نہیں رکھ سکتے کیونکہ تہذیب کی بنیاد پتھر پر نہیں، قبولیت پر استوار ہوتی ہے۔ اسی لیے کسی بھی تہذیب کی پہلی آزمائش عدالتوں، پارلیمانوں یا دستوروں میں نہیں ہوتی بلکہ ماں کی کوکھ میں ہوتی ہے جہاں وہ یہ طے کرتی ہے کہ تخلیق کو قبول کیا جائے گا یا رسوا۔
اگر واقعی کوکھ تخلیق کا پہلا مندر ہے تو پھر تہذیب اس کی پہلی محافظ کیوں نہ بن سکی؟ آخر وہ کون سا تہذیبی شعور تھا جس نے زندگی کے مقدس ترین سرچشمے کو بھی سماجی رسوائی کے سپرد کر دیا؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ”سڑک کے کنارے“ ایک سماجی افسانہ نہیں رہتا بلکہ تخلیق کے فلسفے میں داخل ہو جاتا ہے۔
غور کیجیے، ایک عورت اپنے جسم میں صرف ایک بچہ نہیں پالتی وہ وقت کو پالتی ہے۔ اس کے خون میں آنے والی نسلوں کی دھڑکن شامل ہو جاتی ہے۔ اس کی نیند صرف اس کی اپنی نہیں رہتی، اس کے ہر جاگنے کے ساتھ مستقبل بھی آنکھیں کھولنے لگتا ہے۔ گویا زچگی ایک حیاتیاتی واقعہ نہیں بلکہ وقت کی تخلیقی ریاضت ہے۔ یہی کوکھ کی حکمت ہے کہ وہ صرف جسم نہیں مستقبل بھی تخلیق کرتی ہے۔
اس کے برعکس مرد کم از کم اس افسانے میں تخلیق کے لمحے سے تو وابستہ رہتا ہے بہ ایں ہمہ تخلیق کے تسلسل سے کٹ جاتا ہے اور اسی کٹنے کو میں اس کا غیر ذمہ دارانہ رویہ سمجھتا ہوں۔ وہ اپنے وجود کا ایک حصہ عورت کے سپرد کر کے رخصت ہو جاتا ہے لیکن عورت اسی ایک لمحے کو مہینوں کی مشقت، درد، خوف، امید اور انتظار میں تبدیل کر دیتی ہے۔ منٹو اسی فرق کو کسی نعرے یا اعلان کے بغیر دکھا دیتا ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ منٹو مرد کے خلاف مقدمہ چلا رہا ہے۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ وہ غیر ذمہ داری کے خلاف مقدمہ چلا رہا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کا سب سے بڑا جرم خواہش نہیں بلکہ اپنی خواہش کے نتائج سے فرار ہے۔ لمحاتی لذت کبھی تہذیب کو تباہ نہیں کرتی، ذمہ داری سے انکار تہذیب کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ذمہ داری سے انکار کے اضرار صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری تہذیب کے وجود میں سرایت کر جاتے ہیں۔
اسی لیے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس افسانے میں ماں صرف ایک کردار نہیں بلکہ تہذیب کا پہلا استعارہ ہے۔ ایک تہذیب اپنی ماؤں کے ساتھ جو سلوک کرتی ہے دراصل اپنے مستقبل کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہے۔ اگر ایک ماں کو اس کی تخلیق کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا جائے تو درحقیقت پوری تہذیب اپنے آنے والے کل کو تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
یہاں مجھے اپنے بیان میں ایک اضراب کرنا پڑتا ہے۔
ہائے منٹو،
نہیں نہیں یہ میں نے ہائے کیوں کیا؟
یہاں تو مجھے فلک شگاف نعرہ بلند کرنا چاہیے۔
زندہ باد منٹو زندہ باد،
زندہ باد زندہ باد منٹو زندہ باد،
آپ نے عورت کی اصل تخلیقی کائنات کو کس قدر انہماک اور سب سے بڑھ کر اسے عورت کی سطح پر جا کر رقم کیا۔
میں ملک پاکستان میں بیٹھ کر آپ کے رقم کردہ متون اور کرداروں سے ہر روز مکالمے کرتا ہوں۔
اور انہی مکالموں کو پھر لکھنے بیٹھ جاتا ہوں۔
منٹو صاحب، آپ مجھے بہت تڑپاتے ہیں، رلاتے ہیں، اتنا رلاتے ہیں کہ میری آنکھوں سے دو دریا بہہ نکلتے ہیں۔
خیر، اب اپنے تجزیے کی طرف واپس آتا ہوں۔
یہاں منٹو کی خاموشی بہت معنی خیز ہے۔ وہ عورت کی زبان سے کوئی طویل تقریر نہیں کراتا کیونکہ بعض اوقات درد اپنی سب سے بڑی دلیل خاموشی سے دیتا ہے۔ اس عورت کی خاموشی میں نو ماہ کی اذیت بھی ہے، سماجی اسارت بھی، معاشرے کی تحقیر بھی اور اس تہذیب کی شکست بھی جو ماں بننے کے عمل کو عزت دینے کے بجائے رسوائی کے پیمانے سے ناپتی ہے۔
یہاں میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ”سڑک کے کنارے“ میں اصل سوال یہ نہیں کہ ایک بچی کیوں پیدا ہوئی، اصل سوال یہ ہے کہ ایک تہذیب اپنی ہی تخلیق سے خوف زدہ کیوں ہو گئی؟ وہ کون سا تمدنی شعور ہے جو زندگی کے ظہور سے پہلے اس کی سماجی حیثیت کا فیصلہ سنا دیتا ہے؟ کیا تہذیب کا کام زندگی کو قبول کرنا ہے یا اس کی درجہ بندی کرنا؟
میں یہاں یہ کہنے میں بھی کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہو سکتا کہ جو تہذیب انسان کے وجود کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کر دے، میں اس نام نہاد تہذیب پر تین حرف بھیجتا ہوں۔
یہ سوال منٹو نے نہیں خود زندگی نے ہمارے سامنے رکھا ہے۔ منٹو نے محض اتنا کیا کہ اس سوال کو ایک نومولود بچی کی صورت میں ہمارے دروازے پر رکھ دیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ کون سنائے گا؟
کیا قانون؟
قانون ثبوت مانگتا ہے جب کہ منٹو کے پاس ایک منظر ہے۔
کیا اخلاق؟
اخلاق ہر عہد میں اپنے معنی بدل لیتا ہے البتہ انسان کی تنہائی ہر زمانے میں ایک ہی جیسی رہتی ہے۔
کیا مذہب؟
منٹو مذہب سے مناظرہ نہیں کرتا، وہ اس مقام پر کھڑا ہے جہاں ہر مذہب انسان کو خدا کی تخلیق مان کر اس کی حرمت کا اقرار کرتا ہے لیکن انسان اپنی بنائی ہوئی سماجی تقسیموں میں اسی تخلیق کی قدر گھٹا دیتا ہے۔
اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ”سڑک کے کنارے“ میں کوئی بیرونی عدالت موجود نہیں، پوری عدالت قاری کے باطن میں قائم ہوتی ہے۔ منصف بھی وہی ہے، گواہ بھی وہی اور ملزم بھی وہی۔
یہی بڑے ادب کا کمال ہے۔
وہ ہمیں دوسروں پر فیصلہ سنانے کا اختیار نہیں دیتا بلکہ اپنے ہی فیصلوں پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
میں جب اس افسانے کو بند کرتا ہوں تو میرے ذہن میں وہ بچی نہیں رہتی بلکہ ایک سوال رہ جاتا ہے، آخر لاوارث کون تھا؟
وہ نومولود؟
وہ عورت؟
وہ مرد؟
یا وہ تہذیب جس نے اپنی ہی تخلیق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا؟
میں جتنا اس سوال پر غور کرتا ہوں اتنا ہی محسوس کرتا ہوں کہ سڑک کے کنارے پڑی ہوئی بچی دراصل تہذیب کی لاوارث اولاد نہیں تھی، تہذیب خود اپنی انسانیت سے لاوارث ہو چکی تھی۔ یہی اس افسانے کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
تہذیب کی شکست اس وقت نہیں ہوتی جب شہر جلتے ہیں یا سلطنتیں ٹوٹتی ہیں۔ تہذیب کی اصل شکست اس لمحے ہوتی ہے جب تعقل کی بنیاد پر نیائے نہ ہو اور جب ایک نوزائیدہ وجود اپنی پہلی سانس لینے سے پہلے ہی سماجی فیصلوں کے بوجھ تلے دب جائے۔ جب زندگی کو اس کے وجود کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی پیدائش کے حالات کی بنیاد پر پرکھا جانے لگے تو سمجھ لیجیے کہ تہذیب نے اپنی بنیاد کو خود کھوکھلا کر دیا ہے۔ یہاں ایک سوال پھر سر اٹھاتا ہے : کیا ہر وہ تہذیب جو اپنی تخلیق کو قبول نہیں کرتی دراصل اپنی نفی خود لکھ رہی ہوتی ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو تہذیب کا زوال باہر سے نہیں، اس کے اپنے باطن سے شروع ہوتا ہے۔
میں اس افسانے کو عورت کے دکھ سے آگے بڑھ کر انسانی وقار کی جمالیات اور انسانی ذمہ داری کے فلسفے کا افسانہ سمجھتا ہوں۔ منٹو ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ کس سے نفرت کرنی ہے وہ یہ سکھاتا ہے کہ ذمہ داری سے فرار کی قیمت ہمیشہ آنے والی نسلیں ادا کرتی ہیں۔ ایک لمحے کی بے پروائی کئی زندگیوں کا مقدر بن جاتی ہے۔
میں اس مقدمے کا فیصلہ نہیں سناتا کیونکہ بڑے افسانوں کے فیصلے کبھی آخری نہیں ہوتے۔ ہر عہد ان کی دوبارہ سماعت برپا کرتا ہے، ہر نسل نئی شہادتیں پیش کرتی ہے اور ہر حساس قاری اپنے ضمیر میں ایک نئی عدالت قائم کرتا ہے۔
میری نظر میں ”سڑک کے کنارے“ کا اصل سوال یہ نہیں کہ ایک عورت نے کیا کیا، ایک مرد نے کیا کیا یا ایک نومولود بچی کے ساتھ کیا ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کوئی تہذیب اپنی ہی تخلیق سے انکار کرنے کے بعد بھی مہذب رہ سکتی ہے؟
اگر اس سوال کا جواب ہمارے پاس نہیں تو مقدمہ ابھی ختم نہیں ہوا، سماعت ابھی جاری ہے، گواہ اب بھی بول رہا ہے اور قاری اب بھی کٹہرے میں کھڑا ہے۔
شاید اسی لیے بڑے افسانے کبھی ختم نہیں ہوتے، وہ ہر نئے قاری کے ضمیر میں دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ منٹو نے ایک بچی کی کہانی نہیں لکھی، اس نے تہذیب کے ضمیر پر ایسا سوال لکھ دیا تھا جسے وقت بھی مٹا نہیں سکا۔
یہ مقدمہ کسی فیصلے کا اعلان نہیں بلکہ تہذیب کے ضمیر میں قائم ایک ایسی عدالت ہے جس میں ہر نیا عہد، ہر نیا قاری اور ہر نیا انسان دوبارہ کٹہرے میں آ کھڑا ہوتا ہے۔
خاکسار
منٹو کے متون کا عاشقِ صادق
گورش
