نئے صوبے یا نیا طرزِ حکمرانی؟

پاکستان میں ایک بار پھر نئے صوبوں کے قیام کی بحث زور پکڑ رہی ہے۔ اس بحث کے حامیوں کا موقف ہے کہ موجودہ صوبے آبادی، رقبے اور انتظامی بوجھ کے اعتبار سے اس قدر بڑے ہو چکے ہیں کہ ان کا موثر انتظام ممکن نہیں رہا۔ ان کے نزدیک نئے صوبوں کا قیام نہ صرف انتظامی صلاحیت میں اضافہ کرے گا بلکہ عوام تک ریاستی خدمات کی فراہمی کو بھی بہتر بنائے گا۔ دوسری طرف اس تجویز کی شدید مخالفت بھی موجود ہے۔ مخالفین اسے لسانی، نسلی اور سیاسی تقسیم کو بڑھانے کی سازش قرار دیتے ہیں اور خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس سے نئے تنازعات جنم لیں گے۔
اگر موجودہ جمہوری ڈھانچے کو دیکھا جائے جو ہمیں ہچکولے کھاتا نظر آتا ہے تو یہ ساری بحث بظاہر بے وقت کی راگنی لگتی ہے۔ صوبوں کی تقسیم، ان میں رد و بدل یا نئے صوبوں کا قیام آئین کی شق 239 ( 4 ) کے تحت ہی ممکن ہے۔ اس شق کے مطابق صوبوں کی تقسیم یا ان کی حدود میں ترمیم کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری چاہیے۔ یہ منظوری اسمبلی کے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت کی محتاج ہو گی۔ چوں کہ کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہے اس لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کے بعد آئینی ترمیمی بل کو پارلیمان سے بھی منظور کرانا ہو گا اور پارلیمان سے مطلوبہ اکثریت حاصل ہونے کے بعد ہی بل صدرِ مملکت کی منظوری کے لیے بھجوایا جا سکتا ہے۔ یہ آئینی مراحل موجودہ صورت حال میں مشکل سے ہی طے ہو پا سکتے ہیں۔ تاہم سیاست دانوں اور انہیں موم کی ناک بنا کر اپنی منشا کے رخ پر پھیر لینے والوں کے غیر جمہوری اور غیر آئینی رویوں کو دیکھا جائے تو اسی ڈھلمل جمہوری ڈھانچے سے ناممکن کو ممکن بنانا بھی انہونا عمل نہیں رہے گا۔ کون نہیں جانتا کہ ہم آئینی تقاضوں کو غیر آئینی ہیلوں سے پورا کرنے کی اپنی ’سنہری تاریخ‘ رکھتے ہیں۔
خیر، اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں۔ حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ اس بحث کا تعلق صرف نئے صوبوں کے قیام سے نہیں بلکہ پاکستان کے پورے نظامِ حکمرانی سے ہے۔ اگر بنیادی آئینی اور سیاسی مسائل جوں کے توں رہیں تو پاکستان کے نقشے پر صرف نئی لکیریں کھینچ دینے اور صوبوں کو کتُر کاٹ کر چھوٹا کر دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ بجا کہ انتظامی اعتبار سے دنیا کے کئی ممالک نے بڑے انتظامی یونٹوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے بہتر نتائج حاصل کیے ہیں۔ چھوٹے انتظامی یونٹس میں عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ کم ہوتا ہے، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی بہتر ہو سکتی ہے، وسائل کی تقسیم نسبتاً متوازن ہو سکتی ہے اور مقامی ضروریات کے مطابق پالیسیاں بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، اس دلیل میں ایک حد تک وزن موجود ہے۔ اگرچہ کل رقبے کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں 33 ویں نمبر پر آتا ہے مگر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی اور حالیہ شماریاتی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا مسئلہ صرف صوبوں کے بڑے یا چھوٹے ہونے کا نہیں ہے۔ اصل بحران ریاستی اداروں کی کارکردگی، آئینی بالادستی اور جمہوری تسلسل کا ہے۔ ملک میں کئی دہائیوں سے یہ شکایت موجود رہی ہے کہ ادارے اپنے اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں کام نہیں کرتے۔ جب آئین میں طے شدہ اختیارات کی تقسیم پر مکمل عمل نہ ہو تو محض انتظامی تقسیم موثر نتائج پیدا نہیں کر سکتی بلکہ خدشہ یہ ہے کہ صوبائی حکومتوں کے دفاتر کی تعداد زیادہ ہونے سے انتظامی اخراجات بڑھ جائیں گے اور ملک مزید معاشی دباؤ میں آ جائے گا۔
اس بحث کے تناظر میں میرا دھیان مقامی حکومتوں کے معاملے کی طرف جا رہا ہے جنہیں قصدا غیر فعال رکھا جا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ انتہائی اہم پہلو ہے۔ پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں مقامی حکومتیں دراصل عوام کے قریب ترین انتظامی اور جمہوری ادارے ہیں۔ مختلف ادوار میں بنیادی جمہوریتوں، بلدیاتی نظام اور مقامی حکومتوں کے مختلف ماڈل متعارف کرائے گئے، مگر انہیں کبھی مستقل آئینی اور سیاسی استحکام حاصل نہ ہو سکا۔ اکثر صوبائی حکومتوں نے سیاسی مصلحتوں کے تحت اختیارات، وسائل اور انتظامی طاقت نچلی سطح تک منتقل کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ نتیجتاً جو کام یونین کونسل، تحصیل یا ضلع کی سطح پر ہونا چاہیے تھا، وہ بھی صوبائی دارالحکومتوں کے رحم و کرم پر رہا۔
یہ سوال اہم ہے کہ اگر موجودہ صوبے اپنے اندر ضلعی اور مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات دینے پر آمادہ نہیں تو کیا مزید صوبے بنا دینے سے صورتحال خود بخود تبدیل ہو جائے گی؟ اگر اختیارات کی مرکزیت برقرار رہی تو ممکن ہے کہ آج کے بڑے صوبوں کی جگہ کل چھوٹے مگر اسی طرز کے مرکزی صوبے وجود میں آ جائیں۔ اس صورت میں مسئلہ اپنی اصل شکل میں برقرار رہے گا۔
پاکستان کے سیاسی نظام کا ایک اور بنیادی مسئلہ سیاسی جماعتوں کا کردار ہے۔ جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت عوام کے ووٹ سے حاصل ہوتی ہے، لیکن جب سیاسی قوتیں اپنی کامیابی کے لیے عوامی اعتماد کے بجائے مقتدر حلقوں کی حمایت کو زیادہ اہم سمجھنے لگیں تو پارلیمان، آئین اور عوامی نمائندگی کمزور پڑ جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں انتظامی اصلاحات بھی سیاسی استحکام پیدا نہیں کر سکتیں، کیونکہ اداروں کی اصل قوت عوامی مینڈیٹ اور آئینی عمل سے آتی ہے۔
اسی طرح آئین کی بالادستی بھی اس بحث کا مرکزی نکتہ ہے۔ اگر آئینی ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں، عدلیہ، مقننہ، دفاع، انتظامیہ اور دیگر ریاستی ادارے ایک دوسرے کے اختیارات کا احترام کریں اور فیصلے آئین کے مطابق ہوں تو موجودہ انتظامی ڈھانچہ بھی بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ لیکن اگر آئینی توازن ہی مسلسل متاثر رہے تو نئے صوبے بھی انہی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں جن کا سامنا آج کے صوبے کر رہے ہیں۔
ایک متوازن نقطۂ نظر یہی ہے کہ نئے صوبوں کی مخالفت یا حمایت کو قطعی موقف بنانے کے بجائے اسے وسیع تر آئینی اصلاحات کے تناظر میں دیکھا جائے اور مضبوط اور با اختیار مقامی حکومتیں، مالیاتی خودمختاری، شفاف احتساب، اداروں کی آئینی حدود کی پابندی اور سیاسی جماعتوں کا حقیقی جمہوری کردار بھی یقینی بنایا جائے۔ بصورت دیگر صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے عوامی مسائل میں بنیادی تبدیلی آنا مشکل ہے۔
آخر میں بس اتنا کہنا ہے کہ پاکستان کا بحران دراصل صوبائی حد بندیوں کا نہیں کچھ اداروں کی خود سری اور آئینی اداروں کی پسپائی کا ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ یہ نظامِ حکمرانی کا بحران ہے۔ نئے صوبے انتظامی بہتری کا ایک ذریعہ بن سکتے ہیں اور نہیں بھی۔ اصل ضرورت ایک ایسے آئینی و جمہوری نظام کو یقینی بنانے کی ہے جہاں اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی حقیقت بنے، ادارے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں کام کریں، سیاسی جماعتیں اپنے اندر شفاف جمہوری عمل سے تنظیم سازی کریں، عوام کے ووٹ پر اعتماد کیا جائے اور ریاست کی تمام قوتیں آئین کی بالادستی کو تسلیم کر لیں اور اپنے اپنے دائرہ عمل میں واپس ہو لیں۔ اگر یہ اصلاحات نہ ہوئیں تو نئے صوبے بھی پرانے مسائل ہی کے شکنجے میں رہیں گے، لیکن اگر یہ اصلاحات نافذ ہو گئیں تو خواہ صوبوں کی تعداد یہی رہے یا زیادہ ہو جائے، ریاستی نظام زیادہ مستحکم، موثر اور عوام دوست بن سکتا ہے۔

بہت عمدہ اور مبنی بر حقیقت تبصرہ ہے جناب
سب سے پہلا مرحلہ لوگوں کو ان کا حق حکمرانی واپس کرنا اور انتخابی عمل کو شفاف بنانا ہے۔انتظامی یونٹ ،نئے صوبے،بلدیاتی انتخابات یا کوئ اور بھی تبدیلی،سب کا حلآئین میں درج ہے۔ترقیاتی بجٹ کی کمی،وفاقی وزارتوں کی زیادتی اور دفاعی اخراجات کا آپریشنل بجٹ ہی اصل مسائل ہیں۔وفاقی آئیں میں نئے صوبوں کے قیام کا اختیار صوبائی اسمبلی کے پاس ہے۔اس کے علاوہ سب کہانیاں ہیں جو اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے ہیں