بلاگ

وجاہت مسعود: فکر، قلم اور 60 ناٹ آؤٹ

yousaf benjamin

معروف دانشور، صاحبِ اسلوب کالم نگار اور انسانی وقار و فروغِ امن کے بے باک علمبردار عالی وقار وجاہت مسعود صاحب کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر ”60 ناٹ آؤٹ“ کا عنوان محض عمر کی طنابیں کھینچنے کا نام نہیں، بلکہ حریتِ فکر، عدلِ اجتماعی، فروغِ امن اور شائستگیِ اظہار پر محیط ایک درخشاں عزم کا دلنشین جشن ہے۔

ان دنوں ہم چند ماہ قبل ہی پشاور سے ہجرت کر کے لاہور کے تاریخی اور فکری شہر میں وارد ہوئے تھے، اس لیے اس وقت تک وجاہت مسعود صاحب کی بارگاہ میں بالمشافہ حاضر ہونے یا ان سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوا تھا۔

وجاہت مسعود صاحب سے میری پہلی ملاقات کا درخشندہ واقعہ فروری 2005 کا مرہونِ منت ہے۔ اس سال ہم نے وارث روڈ پر واقع لائیولا ہال (مسیحی تعلیم و تربیت کا ادارہ) میں انسانی حقوق اور فروغِ امن کی نسبت سے ایک تربیتی ورکشاپ سجائی۔ فکری رہنماؤں کی ہدایت و رہنمائی میں، راقم نے وجاہت صاحب کو بحیثیتِ مہمانِ خاص زحمتِ تشریف آوری دی۔ وہ دن میری فکری زندگی کا ایک تابناک موڑ ثابت ہوا۔ وہ گوجرانوالہ کی مردم خیز مٹی کا وہ فکری اور زرخیز عطیہ ہیں جس کی سوندھی خوشبو، علمی آب و تاب اور روایت داری ان کے حرف و صوت میں رچی بسی ہے۔

ان کے اندازِ تکلم کا دلنشین آغاز اور ان کا وہ نہایت عاجزانہ اسلوب دل کو موہ گیا، وہاں موجود 30 کے لگ بھگ تمام جوانِ رعنا کو بے پناہ شفقت سے مخاطب کرنا، اور پھر اپنے موقف کو اتنی وسعت اور مدلل حلاوت سے پیش کرنا کہ لائیولا ہال کی اس فکری نشست میں موجود تمام حاضری سحر زدہ ہو کر رہ گئی۔ ان کے حرف و صوت کا سحر یہ تھا کہ وہ تاریخ کے تاریک اور عمیق گوشوں سے نایاب گہر ہائے گراں مایہ تلاش کر لاتے، حالاتِ حاضرہ کے بکھرے ہوئے بادلوں کو آسمان کی وسعتوں پر ستاروں کی مانند عیاں کرتے، اور پھر اپنے شاندار منطقی استدلال سے ان تمام نکات کو ایک مٹھی بھر ریت کی طرح نہایت شائستگی سے سمیٹ کر سامنے رکھ دیتے۔ گفتگو کی وہ معطر فضا اور فکری گہرائی آج بھی ذہن کی بساط پر نقش ہے اور دل و دماغ پر ثبت ہے۔

حال ہی میں ”ہم سب“ کے صفحے پر شگفتہ ہونے والے اپنے سوانحی کالم ”بہار گزشت“ میں انہوں نے اپنے اس ساٹھ سالہ سفرِ زیست اور 1983 ء کے موسمِ خزاں کی اس یادگار صبح کا تذکرہ نہایت سحر انگیز اور شاعرانہ قلم سے کیا۔ انہوں نے لکھا کہ 1983 ء میں گورنمنٹ کالج لاہور کے ایمفی تھیٹر کے زینوں پر بیٹھے گوجرانوالہ کے ایک قصباتی طالب علم نے جب انگلیوں پر حساب لگایا تھا کہ اگست 2026 ء میں وہ ساٹھ برس کا ہو جائے گا، تو وہ وقت امکانات کی دھند میں بہت دور معلوم ہوتا تھا؛ اور آج وہ 43 برس پہلے کا دور افتادہ اگست سر پر آ کھڑا ہوا ہے۔

ان کا یہ کالم عجز و انکسار اور اعترافِ نعمت کا ایک شفاف مرقع ہے۔ انہوں نے رقم فرمایا کہ

زندگی بذاتِ خود ایک احسان ہے، ایک نعمت جو بغیر کسی استحقاق یا کوشش کے ہمارے حصے میں آئی۔ انہوں نے بچھائی ہوئی حیات بریدہ اور سچا محاسبہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ

عمر بھر کی بے اعتدالیوں، تمباکو نوشی کی پختہ عادت اور اپنی کاہلی کے باوجود وہ ہر طرح کے حوادثِ روزگار سے محفوظ رہے، جو قدرت کا ایک ان دیکھا معجزہ ہے۔ قدرت نے انہیں دستِ شفقت سے منجدھار سے اٹھایا اور ساحلِ عافیت پر متمکن رکھا۔ اپنے ذات کے اس تشکر کے ساتھ ساتھ، انہوں نے دنیا میں بکھری بے گھری، نا انصافی، ماحولیاتی و ایٹمی اندیشوں اور مظلوم انسانوں کی محرومیوں پر جو دردمندانہ کسک ظاہر کی، وہ ان کی عمیق انسان دوستی اور وسیع المشربی کا محکم ثبوت ہے۔

وجاہت مسعود صاحب صرف ایک صحافی یا ادیب نہیں، بلکہ علم اور عالی شان کردار کی ایک توانا اور متحرک علامت ہیں۔ ان کا فکری و علمی دائرہ تاریخ، فلسفے اور سیاسیات کا احاطہ کرتا ہے۔ وقت کے حکمرانوں کے سامنے سچ بولنا، مگر اس علم سے بھی بلند ان کا کردار ہے اور زمانے کے سرد و گرم میں اپنے نظریات پر استقامت سے ڈٹ جانا ان کا شیوہ ہے۔

ان کے رویے کا دھیما پن، حلم اور شائستگی گفتگو کا حُسن ہے۔ ان کی تحریر و شخصیت کی سب سے بڑی رمز یہ ہے کہ وہ شدید ترین فکری اختلاف اور مخالف کے تلخ ترین موقف کا جواب بھی کبھی ترش روئی سے نہیں دیتے، بلکہ ہمیشہ عالی ظرفی، دلیل کے وزن اور تہذیب کے حُسن سے دیتے ہیں۔

پاکستان میں مذہبی اقلیتوں اور مظلوم طبقات کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں، امتیاز اور جبری تعصبات کے خلاف انہوں نے ہمیشہ ایک غیر متزلزل ڈھال کا کردار ادا کیا۔ اسی طرح خواتین کے مساوی وقار، آزادیِ فکر اور ان کی خودمختاری کا مقدمہ انہوں نے اپنے قلم کی تمام تر توانائیوں کے ساتھ لڑا ہے۔

ان کا یہی انقلابی اور اصلاحی جذبہ ان کے قلم سے نکلنے والی تصانیف اور تالیفات میں موجزن نظر آتا ہے۔ ”محاصرے کا روزنامچہ“ پاکستان کی سیاسی و سماجی تاریخ، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی کشمکش پر لکھی گئی ان کے کالموں کی ایک ایسی لافانی دستاویز ہے جو تاریخ کا مستند ترین حاشیہ ہے۔ ”جلا وطن کی مناجات“ ان کا مخصوص، شائستہ اور فکری چاشنی سے لبریز اسلوب ہے جس میں سچائی کی تپش اور معاشرتی درد کی خوشبو شامل ہے۔ جبکہ ”نصابِ گل“ ، ”جمہوریت کے 100 برس“ اور ”امن ممکن ہے“ ان کی وہ تحریریں ہیں جن میں بنیادی انسانی حقوق، سیکیولرازم، تنقیدی فکر اور بین المذاہب رواداری کی شمع روشن کی گئی ہے۔ اسی فکری تسلسل میں انہوں نے ”ہم سب“ جیسا آزاد اور بے باک آن لائن پورٹل قائم کر کے جدید دور میں آزادیِ اظہار اور نئے قلم کاروں کی تربیت کے لیے ایک توانا پلیٹ فارم مہیا کیا۔

وجاہت مسعود کی حیات کی ساٹھ بہاروں میں سے گزشتہ دو دہائیاں ان کی تابندہ رفاقت، فکری تربیت اور شفقتِ بے گراں کے سائے میں بسر ہونا ہمارے لیے سرمایۂ افتخار ہے۔ 20 سال قبل شروع ہونے والا سفر محض تقریب کی سرحدوں پر ختم نہیں ہوا، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ محبت، عقیدت، اور استاد و شاگردی کے ایک گہرے ادبی و روحانی تعلق میں ڈھل گیا۔

یہ ہماری فکری خوش قسمتی ہے کہ ہم اس عہد میں سانس لے رہے ہیں جو وجاہت مسعود کی دانش، فکر اور موجودگی سے منور ہے۔ ان کے عہدِ پُر نور میں زندہ رہنا، ان کی تحریروں کا رزق پانا اور ان کے فکری سائبان میں رہنا ہمارے لیے بلاشبہ ایک اعزاز اور مسرت کا باعث ہے۔

خداوندِ قدوس کی بارگاہِ عالی میں التجا ہے کہ وہ عالی وقار وجاہت مسعود کو مزید صحتِ کاملہ، فکری توانائی، اور خیر و عافیت سے لبریز طویل عمر عطا فرمائے۔ ان کی دانش، تدبر اور حرفِ صداقت کا یہ فروزاں چراغ صحافت، ادب، مساوات اور انسانی حقوق کے افق پر تا دیر پوری آب و تاب کے ساتھ نور بکھیرتا رہے۔ سالگرہ کے اس پرمسرت موقع پر ہماری جانب سے بالخیر اور بالصحت زندگی کے لیے انتہائی خلوص، عقیدت اور دل کی عمیق ترین گہرائیوں سے شاندار مبارکباد اور شبھ کامنائیں قبول فرمائیں۔ وہ اکثر فرماتے ہیں، بینجی! سلامت رہو، آج میں اُن کے لئے یہی دعا کرتا ہوں کہ وجاہت صاحب! سلامت رہیئے۔

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Naseem jalbani
Naseem jalbani
2 months ago

وجاهت صاحب کو هماري طرف سي جنم دن مبارک هو.
آپ کا کام بهت اڇا لگا.

Related Articles

Back to top button
✕
HumSub

FREE
VIEW